بلیچ کریم کا نقصان

گورا رنگ ہمارے یہاں خوبصورتی اور حسن کی علامت ہے۔ اس لیے خواتین اس کے لیے کیا کچھ نہیں کرتیں۔ مختلف اقسام کی کریموں سے لے کر بلیچ کرانے تک ہر طریقہ اختیارکرتی ہیں۔ اس خواہش میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے چہرے کی جلد کے ساتھ کچھ ظلم بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اور اکثر خواتین تو بیشک گھر کے اخراجات پورے نہ ہوں مگر پارلر جاکر بلیچ یا فیشل ضرور کرتی ہیں تاکہ وہ گوری نظر آئیں۔

بلیچ کے فوراً بعد جہاں خواتین اپنے آپ کو ایک دم گورا محسوس کرتی ہیں وہاں اس کے نقصانات ہیں۔ شاید وہ ان سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات بازار میں دستیاب بلیچ کے علاوہ وہ گھریلو اور سستے ٹوٹکے آزماتی ہیں۔ چہرے کی جلد چونکہ بہت حساس ہوتی ہے اس لیے بعض اوقات خواتین چہرے کے روئیں کو بلیچ کرنے کے لیے گھریلو بلیچ استعمال کرتی ہیں۔ اس بلیچ کو بناتے وقت صابن کے کچھ ٹکڑے، ہائیڈروجن اور امونیا آکسائڈ استعمال کی جاتی ہے۔ ایک مرتبہ یہ بلیچ لگانے سے تو جلد پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ مگر بار بار استعمال کرنے سے چہرے کی جلد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جس سے جلد کا کالا ہونا، دانے نکلنا یا سرخ ہونا شامل ہیں۔ بعض اوقات جلد پر مرتب ہونے والے اس کے منفی اثرات علاج کروانے پر بھی ختم نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اس قسم کے بلیچ کرنے کے طریقے سے گریز کیا جائے۔ اگر آپ بازار کی بنی بلیچ استعمال کررہی ہیں تو حد سے زیادہ اور بار بار استعمال نہ کریں۔

کچھ خواتین ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد بلیچ کرتی ہیں ایسا کرنے سے جلد نہ صرف خراب ہوتی ہے بلکہ جلد کا کینسر بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے ان تمام مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی معیاری کمپنی کی بلیچ ہی استعمال کریں یا پھر دیسی طریقے یا قدرتی چیزوں کو اس کام کے لیے استعمال کریں۔ مثلاً اگر آپ بیسن سے منہ دھوئیں اور بیسن چہرے پر لگا کر بالوں کی مخالف سمت پر مساج کریں تو اس سے بھی بالوں میں نہ صرف خاطر خواہ کمی ہوجاتی ہے بلکہ جلد پر کوئی منفی اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔

چہرے کی جلد آپ کا سب سے اہم اور قیمتی حصہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو خصوصی توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ اچھی اور شفاف جلد کا دارومدار اچھی اور متوازن خوراک پر بھی ہے۔ آپ گوری اور شفاف جلد کے حصول کی خاطر جو روپیہ پیسہ کریموں پر خرچ کرتی ہیں آپ کو چاہیے کہ وہی پیسہ آپ اپنی متوازن خوراک پر خرچ کریں جوکہ جلد کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے بہت سارا پانی پینا چاہیے۔ ہمارے ہاں اکثر و بیشتر سردیاں آتے ہی خواتین پانی کا استعمال ترک کردیتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پانی جلد کو نمی کے ساتھ موائسچرائز کردینے کا بھی سبب بنتا ہے۔ کریموں اور بلیچوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اگر آپ اپنی خوراک پر توجہ دیں تو یہ متوازن خوراک آپ کی جلد کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ زیتون کا تیل بھی چہرے کے لیے بہت مفید ہے۔ کیونکہ اس تیل میں موجود اینٹی اوکسیڈنٹ آ پ کی جلد کے مساموں کو صاف شفاف رکھتا ہے۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو زیتون کا تیل استعمال کریں۔ اس کے نتائج چند ہفتوں میں ہی آپ کی جلد پر نمودار ہوں گے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
صائمہ نوید، دہلی

Leave a Reply