زہریلی اشیاء سے بچوں کا تحفظ

ہوشیار اور ذہین والدین اپنے گھر کا ماحول اس طرح کا رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زندگی اور صحت محفوظ رہے اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مثلاً تیز دھار والے آلات اور زہریلی اشیاء جن میں دوائیں بھی شامل ہیں، بچوں کی پہنچ سے دور کسی محفوظ جگہ پر مقفل رکھتے ہیں، سیڑھیوں اور سوئمنگ پول کے کناروں پر جنگلے لگاتے ہیں تاکہ بچے بے دھیانی میں نیچے نہ گرجائیں یا پانی میں نہ ڈوبیں، وہ پولی تھین کی تھیلیاں بھی بچوں کے قریب نہیں چھوڑتے کہ کہیں غلطی سے وہ اسے اپنے سر پر نہ چڑھا لیں جس سے ان کا دم گھٹنے لگے۔ چولہا اور اوون یا استری کو آن کرکے وہ دوسرے کاموں میں مشغول نہیں ہوتے یا بچوں کو اس جگہ چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ ہر ممکنہ گھریلو حادثات سے بچاؤ کے لیے تمام تر حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔

بعض اوقات بچے گھر میں زہریلی اشیاء کھا لیتے ہیں جس سے ان کی حالت بگڑنے لگتی ہے اور والدین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے کے پیٹ میں ایسی کیا چیز چلی گئی ہے، جس سے اس کی حالت بگڑ رہی ہے۔ ایسی صورت میں والدین کو چاہیے کہ اس وقت بچے کے آس پاس جو بھی چیزیں موجود ہوں، ان تمام اشیاء کے ساتھ بچے کو فوری اسپتال پہنچائیں۔ اس سے علاج کرنے والے ڈاکٹر کو صحیح صورتحال سمجھنے، تشخیص کرنے اور علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کبھی بچے کاسمیٹک مصنوعات لپ اسٹک، ٹیوب یا جار میں رکھی کریم وغیرہ بھی نگل لیتے ہیں اگر اس کریم یا دیگر کاسمیٹک مصنوعات کی پیکنگ پر اس کے اجزاء کی تفصیل درج نہ ہو تو متعلقہ کمپنی سے رابطہ کرکے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔کیونکہ ان میں بعض ایسے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جو اگر نگل لیے جائیں تو طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ بچوں کو زہر خورانی کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ماہرین طب نے کچھ مفید مشورے دیے ہیں جو درج ذیل ہیں:

(۱) گھریلو استعمال کی زہریلی اشیاء مثلاً بلیچنگ پاؤڈر، ڈیٹرجنٹ، فینائل وغیرہ ایسی پیکنگ میں خریدیں جنہیں آسانی سے کھولنا ممکن نہ ہو۔

(۲) فرش صاف کرنے، کپڑے دھونے کے محلول، دوائیں، گاڑیوں میں استعمال ہونے والے سیال مادے، کیڑے اور جراثیم کش ادویات بچوں کی پہنچ اور نظروں سے دور رکھیں بلکہ ان کو محفوظ خانوںمیں تالوں میں بند رکھیں، تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد یہ اندازہ لگاتے رہیں کہ بچے کی رسائی کہاں تک بڑھ چکی ہے، اس لحاظ سے ان خطرناک اشیاء کو ان سے دور کرتے رہیں۔

(۳) غذائی اشیاء اور صفائی ستھرائی کے لیے استعمال کی جانے والی چیزیں کبھی ایک ساتھ ایک جگہ نہ رکھیں۔ دوائیں اور کیمیکل ان کے اصل کنٹینر میں محفوظ رکھیں۔

(۴) بچوں کی موجودگی میں آپ کبھی دوا استعمال نہ کریں، بچے بہترین نقال ہوتے ہیں اور جو کچھ دیکھتے ہیں، اسے خود اپنے طور پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بچوں کو اگر دوا دینی ہو تو اس کے بارے میں بچوں کو یہ نہ کہیں کہ یہ دوا نہیں سوئٹ یا کینڈی ہے بلکہ اسے بتائیں کہ یہ دوا ہے۔

(۵)دوا کے لیبل پر جو حفاظتی ترکیبیں یا وارننگ درج ہوں، ان کو غیر ضروری نہ سمجھیں۔ کسی ایسی پیکنگ ڈبے یا بوتل میں رکھی دوا کبھی استعمال نہ کریں، جس پر کوئی لیبل نہ لگا ہو اور یقین کے ساتھ معلوم نہ ہو کہ یہ وہی دوا ہے جو استعمال کرنی ہے۔ اندھیرے میں شیشی سے کوئی گولی ہتھیلی پر یا کوئی سیال دوا کپ یا چمچے میں نہ انڈیلیں۔

(۶) اگر آپ کوئی دوا یا کیمیکل استعمال کررہے ہوں اور درمیان میں کوئی آجائے یا کسی اور کام سے وہاں سے ہٹنا پڑے تو دوا یا کیمیکل کو اپنے ساتھ لیتے جائیں کیونکہ آپ کی غیرموجودگی میں کسی بچے کو ان تک پہنچنے میں چند ہی سکینڈ لگیں گے۔

(۷) آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا بچہ جسمانی طور پر کیا کچھ کرسکتا ہے یا کہاں تک اس کی رسائی ہوسکتی ہے۔ اگر آپ کے بچے نے گھٹنے اور ہاتھ کے بل فرش پر رینگنا سیکھ لیا ہے تو کچن سنک کے نیچے فینائل اور اس قسم کے خطرناک کیمیکل محفوظ نہ کریں بلکہ اسے اتنا اوپر رکھیں کہ بچے کے ہاتھ وہاں تک نہ پہنچ سکیں۔

(۸) اپنے ڈاکٹر، اسپتال اور فائر بریگیڈ اور ابتدائی طبی امداد کے مراکز کے فون نمبرز اپنے فون سیٹ کے قریب رکھیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میںانہیں طلب کرنے میں تاخیر نہ ہو۔

(۹) بچے نے اگر کوئی زہریلی چیز نگل لی ہو تو اسے قے کرانے کے لیے بعض طبی ماہرین ۳؍چائے کے چمچے کی مقدار pecaesyrupپلانے کا مشورہ دیتے ہیں جس کے بعد پانی بھی پلایا جاتا ہے جس سے قے کے ذریعہ زہریلا محلول باہر آجاتا ہے۔

Activated Charocal بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لکڑی کے کوئے کے برادے میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ یہ زہریلے مادے کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے اور معدہ اسے جذب نہیں کرپاتا تاہم اگر بچے نے کوئی تیزابی محلول یا القلی نگل لی ہے تو اسے قے کرانے کی کوشش نہ کریں، ایسی صورت میں بچے کو تقریباً پاؤ بھر دودھ پلانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

(۱۰) اگر آنکھ میں کوئی زہریلی چیز چلی جائے یا غلطی سے ٹپکا دی جائے تو آنکھوں کے اندر سادہ پانی ڈال کر اسے اچھی طرح دھوئیں اور مریض کو فوراً اسپتال پہنچانے کی کوشش کریں۔

(۱۱) زہریلی گیس یا دھوئیں میں دم گھٹنے لگے تو متاثرہ فرد یا بچے کو اس جگہ سے ہٹا کر کھلی جگہ لے جائیں جہاں تازہ ہوا آرہی ہو۔ اس قسم کی زہریلی گیس سے بھرے کمرے میں حفاظتی انتظامات کے بغیر داخل نہ ہوں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
فائزہ اکرام

Leave a Reply