بچوں کیجسمانی تربیت کی ذمہ داری

بڑی ذمہ داریاں جو اسلام نے والدین اور اساتذہ کو سونپی ہیں ان میں ایک جسمانی تربیت کی ذمہ داری ہے۔ تاکہ بچے جسمانی قوت و سلامتی اور صحت و تندرستی کے مالک ہوں۔اب آپ اپنی اس ذمہ داری کے نکات کو سمجھ لیں جو اسلام نے آپ پر فرض کی ہے:

مالی کفالت

’’اورجس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمہ ہے ان (ماؤں) کا کھانا اور کپڑا قاعدے کے موافق۔‘‘

حضور ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل و عیال پر خرچ کرنے اور فراخی کرنے سے مزید اجر و ثواب ملتا ہے۔ اسی لیے اگر ان پر خرچ نہ کرے تو اسے گناہ ہوتا ہے۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’انسان کے گنہگار ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کردے، جن کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔‘‘ (ابوداؤد)

اہل وعیال پر نفقہ اور خرچ میں یہ بھی شامل ہے کہ شوہر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے صحیح غذا اور قابل رہائش مکان اور قابلِ استعمال لباس مہیا کرے تاکہ وہ لوگ بیمار نہ پڑجائیں اور ان کے جسم وباؤں اور بیماریوں کا نشانہ نہ بنیں۔

کھانے پینے اور سونے کے آداب سکھانا

کھانے کے سلسلے میں حضور اکرم ﷺ کی رہنمائی یہ ہے کہ پیٹ بھرنے سے بچا جائے اور ضرورت سے زائد کھانے پینے سے احتراز کیا جائے۔ پینے کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ تین سانس یا دو سانس میں پانی پینا چاہیے اور برتن میں سانس نہ لینا چاہیے اور کھڑے ہوکر پانی (یا چائے وغیرہ) نہیں پینا چاہیے۔

چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو بلکہ دو یا تین سانسوں میں پانی پیا کرو اور جب پانی پینا ہو تو بسم اللہ کہہ لیا کرو اور جب پی چکو تو الحمدللہ کہو۔‘‘ (ترمذی)

نیز حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی کھڑے ہوکر ہرگز پانی نہ پئے۔ اور جو بھول کر پی لے اسے چاہیے کہ قے کردے۔‘‘ (مسلم)

سونے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی یہ نصیحت ہے کہ انسان داہنی کروٹ پر لیٹے۔ اس لیے کہ بائیں کروٹ پر لیٹنا دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم اپنے بستر پر آؤ تو پہلے نماز والا وضو کرو۔ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاؤ اور دعا پڑھو۔

متعدی امراض سے بچانا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک صاحب جذام (کوڑھ) کے مرض میں گرفتار تھے تو حضور ﷺ نے ان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ:’’تم واپس چلے جاؤ۔ ہم نے تمہیں بیعت کرلیا ہے۔‘‘

نیز حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’تم جذامی سے ایسے دور بھاگو جیسے کہ تم شیر سے دور بھاگتے ہو۔‘‘

نیز حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بیمار (متعدی امراض میں مبتلا) آدمی تندرست کے پاس نہ جائے۔

اس لیے مربیوں خصوصاً ماؤں کو چاہیے کہ اگر ان کی اولاد میں سے کوئی بچہ کسی متعدی مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے دوسرے بچوں سے الگ تھلگ اور دور رکھیں تاکہ مرض پھیلنے نہ پائے۔ دیکھئے بدن کی نشوونما اور صحت کی حفاظت کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی یہ رہنمائی کس قدر اہم اور توجہ طلب ہے۔

مرض اور اس کا علاج

حضـور ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ہر بیماری کی ایک دوا ہوتی ہے، چنانچہ جب بیماری کے مطابق دوا پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفا حاصل ہوجاتی ہے۔‘‘

اس لیے والدین اور مربیوں کو چاہیے کہ بچوں کی بیماری کی صورت میں ان کے علاج معالجہ کا خیال رکھیں، اس لیے کہ اسباب وسائل اختیار کرنا فطری تقاضوں اور اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔

جسمانی ورزش کا عادی بنائیں

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’طاقتور مومن بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے بہ نسبت اس مومن کے جو کمزور ہو۔‘‘

اس لیے اسلام نے تیراکی اور تیر اندازی اور گھڑ سواری سیکھنے کی دعوت دی ہے۔چنانچہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’تم تیر اندازی سیکھو اس لیے کہ یہ تمہارے کھیل کود میں سے بہتر کھیل ہے۔‘‘

حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰکا یہ قول تلاوت فرمایا:

واعدوالہم ما استطعتم من قوۃ۔ (انفال:۶)

ثم قال الا ان القوۃالرمی الا ان القوۃ الرمی۔ (مسلم)

’’اور ان کافروں کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو۔ اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا : سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔‘‘

اسی طرح حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ریس، مسابقت اور مقابلہ سوائے اونٹوں اور گھوڑوں اور تیر اندازی کے اور کسی چیز میں جائز نہیں، اس لیے کہ جنگ وجہاد میں یہ مسابقت اور مقابلہ بے حد اثر انداز ہوتا ہے۔

عیش وعشرت سے باز رکھنا

امام احمد اور ابونعیم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:

ایاکم والتنعم فان عباد اللّٰہ لیسوا بالمتنعمین۔

’’تم ناز و نعمت میں پڑنے سے بچو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے (اچھے) بندے عیش پسند نہیں ہوتے۔‘‘

سادہ زندگی اختیار کرنے اور معمولی لباس استعمال کرنے میں نبی کریم ﷺ ہمارے لیے بہترین نمونہ اور اعلیٰ ترین معیار ہیں۔ آپ ﷺ نے کھانے پینے میں، رہائش میں، غرض کہ زندگی کے ہر شعبے میں سادگی کو پسند فرمایا ہے تاکہ مسلم معاشرہ اور امت آپﷺ کی اتباع کرکے بے جا نمود و نمائش سے چھٹکارا پاجائے۔ اور یہ بات تو صاف ہے کہ جب امت مسلمہ نعمتوں میں مست اور کھانے پینے میں مستغرق ہوجائے گی تو اپنے مقام سے گر جائے گی اور دشمن کے سامنے گردن جھکا دے گی اور اس کے نوجوانوں کے دلوں سے صبر اور جہاد فی سبیل اللہ کی روح ماند پڑجائے گی۔

ذمہ داری کا درس

حضور اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

احرص علی ما ینفعک واستعن باللّٰہ ولا تعجز۔ (مسلم)

’’ایسی چیز کے حریص بنو جو تمہیں فائدہ پہنچانے والی ہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو اور عاجز و کاہل نہ بنو۔‘‘

ایسی اور بھی بہت سی احادیث ہیں، جن سے عجز و کاہلی وغیرہ کی مذمت و قباحت ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے والدین کا فریضہ ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کی دیکھ بھال رکھیں اور ان میں مردانگی، خودداری، رفعت اور اخلاق کی برتری اور اہمیت پیدا کریں، اسی طرح یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو ہر اس چیز سے دور رکھیں جو ان کی مردانگی اور شخصیت کو تباہ کرنے والی ہوں۔

یہ خصوصیات ہم اپنے بچوں میں اسی وقت پیدا کرسکتے ہیں جب انہیں لاپرواہی، لاابالی پن کی برائیوں سے محفوظ رکھ کر ایک باشعور اور ذمہ دار انسان بنادیں۔ اس لیے عملی طور پر کم عمری سے ان کے سپرد چھوٹے چھوٹے کام کیے جائیں جن کو پابندی کے ساتھ انجام دینا ان کی ذمہ داری ہو۔ مثلاً: پالتو جانوروں کو چارہ ڈالنا، گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹانا یا بازار سے ضروری اشیاء کی خریداری وغیرہ۔

——

شیئر کیجیے
Default image
نور احمد

Leave a Reply