BOOST

غزل

جب نئی صبح مسکرائی ہے

تارے تارے کی موت آئی ہے

جس جگہ پر جلیں فرشتوں کے

عیدِ جلوہ وہاں منائی ہے

یہ کہاں آگیا ہوں اب کہ مجھے

آرزوئے شکستہ پائی ہے

اُن کو منزل سلام کیوں بھیجے

جن کو رستے میں نیند آئی ہے

آدمی ایک مشتِ خاک سہی

فرش سے عرش تک رسائی ہے

مرنے والوں نے تیرے کوچہ میں

زندگی کی ہنسی اڑائی ہے

میری منزل کا اک نشاں کہیے

مہر و مہ کی جہاں رسائی ہے

بارگاہِ جمال میں چپ ہوں

یہ رسائی بھی نارسائی ہے

جن کو نامِ غزل سے ضد تھی عروجؔ

اُن کو شوقِ غزل سرائی ہے

شیئر کیجیے
Default image
عروج زیدی، رامپور، یوپی

تبصرہ کیجیے