6

سماجی فعالیت کی ایک مثال

[ستارہ بیگم کا تعلق امپھال (منی پور) کے Prompat علاقہ سے ہے۔ وہ ریاستی سطح پر ایک معروف سماجی کارکن اور فی الحال این جی او ’’یونائٹیڈ منی پور مسلم وومین ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘‘ کی سربراہ ہیں۔ بیگم نے ۱۹۸۰ء میں ۲۶؍سال کی عمر میں بی اے پاس کیا اور اس طرح انہیں منی پور کی دوسری مسلم خاتون گریجویٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ منی پور مسلم خواتین کو آگے لانے میں ان کی خدمات قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی خود اپنی زندگی ریاست میں مذہب اور سماجی بندش کے نام پر بنیادی حقوق سے محروم کی جانے والی ہزاروں مسلم عورتوں کے لیے سماجی کوشش کا محرک ہے]

س: آپ اپنے اہل خانہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟

ج: میرے والد مرحوم جناب عبدالوہاب تھے، اور امی کانام سونا ہمبی تھا۔ ہم دس بھائی بہن — سات بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ میں اپنے والدین کی چھٹی اولاد ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں۔میرے چار بچے- دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔

س: آپ نے سماج کے لیے کام کی ابتدا کیسے کی؟

ج: جب میں صرف چھ سال کی تھی تو عموماً علاقہ کے سارے بچوں کو اسکول لے جایا کرتی تھی۔ اس لیے گاؤں والے مجھے بہت پسند کرتے تھے اور میں اس کے لیے مشہور تھی۔ ۱۹۶۱ء میں میری پیدائش ہوئی۔ جب میں صرف ۱۴ سال کی تھی تو میری شادی ہوگئی۔ اس وقت میں نے صرف دسویں کلاس پاس کی تھی۔ مجھے زیادہ معلومات نہیں تھیں اور میری ذہنی سطح بھی پست تھی۔ جب میں ۲۰؍سال کی عمر کو پہنچی تو اس وقت میرے پانچ بچے تولد ہوچکے تھے، ایک دن میں تقریباً ہیجانی فکر میں مبتلا ہوگئی اور سوچا کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے۔ میں اپنی زندگی اس طرح نہیں گزار سکتی۔ میں نے گیارہویں کلاس میں داخلہ لے لیا اور ۲۶؍سال کی عمر میں ۱۹۸۰ء میں بی اے مکمل کرلیا۔ اس طرح مجھے منی پور کی مسلم خواتین میں دوسری گریجویٹ خاتون بننے کا شرف حاصل رہا۔ اسکول میں میرے ساتھ دس لڑکیوں کا ایک گروپ تھا، جو بڑا فعال تھا گو کہ ہمارے گھر اور سماج سے بندشیں بھی تھیں، مجھے کتابیں پڑھنا اچھا لگتا ہے۔

س: تب؟

ج:میں نے اپنے گھر پر ایک اسکول کھولا اور اپنی کمیونٹی کی بالغ عورتوں کو پڑھانا شروع کردیا۔

س: اس کام میں کیا آپ کی مخالفت بھی ہوئی؟

ج: ہاں گھر گرہستی میں منہمک اور عمر دراز عورتوں کو پڑھانے پر لوگ مجھ پر ہنستے تھے۔ لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، لیکن میں اس سے دل برداشتہ نہیں ہوئی۔ اب میں چاہتی ہوں کہ میرے علاقہ میں سروشکچھا ابھیان پروگرام شروع ہو۔ کل وزیرِ اعلیٰ کے آفس جاکر میںنے اس کی اجازت بھی حاصل کرلی ہے۔

س: کیا آپ کی طالبات خوش ہیں؟

ج: ہاں، وہ بہت خوش ہیں۔ بہت سی عورتیں روپیہ پیسہ گن لیتی ہیں اور خطوط اور اخبارات پڑھ لیتی ہیں۔

س: اس طرح آپ نے کب تک پڑھایا ہے؟

ج: یہ اسکول چھ مہینوں تک جاری رہا۔ تب میں نے ایک این جی او ’’یونائٹیڈ منی پور مسلم وومین ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘‘ قائم کی۔ مجھے اپنی تنظیم کے لیے فنڈ نہیں مل پایا۔ میں کبھی فنڈ کے پیچھے نہیں بھاگی۔ میں تمام کمیونٹی کی خواتین کو با اختیار دیکھنا چاہتی ہوں۔ آج لوگ مجھے منی پور کی مسلم خاتون کی حیثیت سے پہچانتے ہیں۔ لوگ میری اور میرے کام کی قدر کرتے ہیں۔ میں نے ہندوستان بھر کا سفر کیا ہے۔ اور اپنی کمیونٹی سے بات چیت کی ہے۔ ساری دنیا کے لوگ آئے ، میری جھونپڑی کو دیکھا اور مجھ سے بات کی یہی میرے لیے اطمینان کی بات ہے۔ اتحاد اور یکجہتی میں ایک قسم کی طاقت ہے اور ساتھ کام کرنا ایک دلچسپ مشغلہ ہے۔ میں جملہ طبقات کو متحد دیکھنا چاہتی ہوں۔

س: آپ کی تنظیم کا بنیادی کام کیا ہے؟

ج: ہم سلائی کڑھائی اور اس طرح کے دوسرے کاموں میں ووکیشنل ٹریننگ دیتے ہیں۔ تربیت کے بعد وہ خواتین اپنے علاقوں میں جاکر کام کرتی ہیں۔ ہم گھریلو عورتوں کے لیے اسکول چلاتے ہیں۔ ہم خانگی جھگڑوں اور سماج میں عورتوں کے خلاف فتنہ وفساد پر بیداری مہم بھی چلاتے ہیں۔

س: آپ کے علاقہ کی آبادی کیا ہے؟

ج: پورومپات علاقہ میں تقریباً ۳۰؍ہزار لوگ رہتے ہیں۔ مسلمان، ناگا، سومیٹی وغیرہ لوگ ہیں۔

س: لوگوں کا ذریعہ معاش کیا ہے؟

ج: بنیادی طور پر کاشت ہے، بہت سے لوگ یومیہ مزدور بھی ہیں۔

س:تعلیم کا معیا رکیسا ہے؟

ج: بہت معمولی ہے۔ گریجویٹ محض چند افراد ہیں۔ تعلیم یافتہ خواتین برائے نام ہیں۔ یہاں فقط سات عورتیں گریجویٹ ہیں۔

س: منی پور تشدد کے رویہ کے بارے میں آپ کیا سوچتی ہیں؟

ج: ۱۹۹۳ء میں بدقسمتی سے میٹی مسلم اور خود میٹیوں میں جھگڑا ہوا۔ میرے خیال میں اس فساد نے مسلمانوں میں تشدد کو جنم دیا، بعد ازاں ہمیں پتہ چلا کہ یہاں کچھ مسلم گروپ بھی سرگرم ہیں۔ حالات کشیدہ ہیں، روزانہ اخبارات میں قتل و خون کی خبروں کا ایک سیلاب نظر آتا ہے۔ لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں خوف کھاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن نہیں ہے۔ اس لیے انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ ہم خواتین کو حالات حاضرہ سے واقف کرانے کے لیے گھر گھر جاکر بیداری مہم چلاتے ہیں۔

س: اس تشدد کا علاج کیا ہے؟

ج: میرا ماننا ہے کہ قتل و خون سے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہمیں امن کے لیے مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں فرضی انکاؤنٹرس کے ذریعہ قتل کے سلسلہ کو بند کرنا پڑے گا۔ کوشش جاری رکھنی ہوگی۔

س: عوام کے ذہن میں خوف کی سطح کیا ہے؟

ج:ہم ۷؍بجے شام کے بعد باہر نہیں نکلتے۔ چھین جھپٹ اور لوٹ مار کافی پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ باہر آتے گھبراتے ہیں۔

س: آپ کے خیال میں اب سے دس سال بعد منی پور کا منظر نامہ کیسا ہوگا؟

ج: میرا خیال ہے کہ اب سے دس سال بعد تشدد کا مسئلہ حل ہوجانا چاہیے۔ بہ صورت دیگر خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔

(بہ شکریہ www.twocircles.net)

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: امتیاز وحید، ریسرچ اسکالر JNU

تبصرہ کیجیے