3

اپنے اندر قیادت کی صفات پیدا کیجیے!

کیا آپ قائد بننا چاہتی ہیں؟جی ہاں! اس میں تعجب اور خاکساری کی کیا بات ہے؟

لیڈر شپ یا قیادت سے قوت،عزت و احترام ملنے کے ساتھ ساتھ خدمت کرنے کا بھی زبردست موقع حاصل ہوتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ لیڈر شپ کی صلاحیتیں بڑی مشکل سے حاصل ہوتی ہیں ان کو محنت اور احتیاط سے سیکھنا اور برتنا پڑتا ہے۔

لوگوں کاخیال ہے کہ لیڈر بنتے نہیں،ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تاثر درست نہیں۔ مانا کہ بعض افراد فطری طور پر غیر معمولی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنی ان صلاحیتوں کو روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن موثر لیڈر بننے کے لیے بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے اور اکثر سیکھ کر ہی قیادت کا اہم کام انجام دیا جاتا ہے۔

آپ یہ صلاحیتیں کیسے اپنے اندر پیدا کریں؟ دوسروں کو اپنی اتباع پر کیوں کر آمادہ کرسکتی ہیں؟ اس سلسلے میں ہم آپ کو چند بنیادی نکات بتاتے ہیں۔ ان کو استعمال کرکے آپ یقینا فائدہ حاصل کرسکتی ہیں۔

دوسروں کا اعتراف کیجیے

دوسرے لوگوں سے کام لینے کا بہترین طریقہ ہرگز یہ نہیں کہ آپ ڈنڈا لے کر ان کے پیچھے پڑجائیں۔ وہ زمانے گزرگئے جب محض طاقت کے بل بوتے پر لوگ لیڈر بن جایا کرتے تھے۔ آج کا زمانہ مختلف ہے۔ اس کے تقاضے اور اس کے طور طریقے مختلف ہیں۔

دوسروں سے کام لینے کا بہترین طریقہ اصل میں یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہیروز جیسا سلوک کیا جائے۔ قیادت حاصل کرنے کا نسخہ ہی یہ ہے کہ جو کوئی اچھا کام کرے، اس کی تعریف کی جائے۔ اس کی کارکردگی کا اعتراف کیا جائے اور اس کے کام کو سراہا جائے۔ لوگوں کی موجودگی میں کسی کی تعریف کرنا ایسا احسان ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاتا۔

تعریف مثبت ترین تنقید سے بھی زیادہ مؤثر ہوا کرتی ہے۔ تنقید عام طور پر رنج ہی دیتی ہے۔ وہ حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔ ہمت کم کرتی ہے۔ کینتھ بلانچرڈ نے ایک زبردست کتاب لکھی ہے۔ اس کا عنوان ’’ایک منٹ کا منیجر‘‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کسی کو اچھا کام کرتے ہوئے پکڑلو۔ پھر سب کے سامنے اس کا چرچا کرو۔ وہ ہمیشہ کے لیے آپ کا وفادار بن جائے گا۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ لیڈر بننے کے لیے دوسروں کی وفاداریاں حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ وہ فرد کبھی لیڈر نہیں بن سکتا جس کو دوسروں کی وفاداریاں حاصل نہ ہوں اور جس کے ساتھی وفادار نہ ہوں۔‘‘

سوچا سمجھا خطرہ مول لیجیے

’’بہترین لیڈروں کو معلوم ہوتا ہے کہ خطرہ مول لینا حماقت نہیں۔‘‘ یہ بات انتظامی امور کی ایک مشیر نے کہی ہے۔ وہ یاد دلاتی ہے طیارے سے کودنے والے پہلے اپنا پیرا شوٹ چیک کرنا نہیں بھولتے۔‘‘

خطرہ مول لینے کا مطلب یہ احساس ہے کہ جو قدم آپ اٹھارہے ہیں، اس میں ناکامی بھی پیش آسکتی ہے۔ ایسے مواقع آئیں تو اکثر لوگ خود چھلانگ لگانے کے بجائے دوسروں کو پہلے کودنے پر اکساتے ہیں۔ لیکن آپ لیڈر بننا چاہتے ہیں تو ناکام ہونا سیکھئے۔ ٹھوکر لگے تو بیٹھے نہ رہیے۔ اٹھئے ، پھر سے کوشش کیجیے۔

راہ دکھائیے

۱۹۶۵ء میں ایک امریکی شہری ہوم میکر کو معلوم ہوا کہ اس کابیٹا ذیابیطس کا مریض ہے۔ میکر نے اسی مرض میں مبتلا دوسرے بچوں کی ماؤں سے رابطہ کرنا چاہا، لیکن کوئی بھی زبان کھولنے پر آمادہ نہ تھی۔

زیادہ کوشش کرنے پر میکر صاحبہ کو تین ایسی مائیںمل گئیں جو اپنے تجربے میں دوسروں کو شریک کرنے پر آمادہ تھیں۔ ان کے تعاون سے میکر نے ذیابیطس کے نوجوان مریضوں کی فاؤنڈیشن بناڈالی۔

اب دنیا بھر میں اس فاؤنڈیشن کی ڈیڑھ سو سے زیادہ شاخیں ہیں۔ میکر نے اس سلسلے میں کئی تحقیقاتی مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ ساری دنیا اس کی ان خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔ میکر راز کیا ہے؟ بس یہی ناں کہ وہ خود نمونہ بن گئی۔ اس نے پہل کی۔

یہ ایک مثال ہے۔ خوش قسمتی سے ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔ مدر ٹریسا سے لے کر گاؤں اور دیہاتوں میں کام کرنے والی گھریلو خواتین تک ہزاروں ایسی روشن مثالیں آپ کو مل سکتی ہیں۔

میکر کہا کرتی ہے کہ ’’آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ دوسروں کو دیکھ کر مسکرائیں تو جواب میں وہ بھی مسکراتے ہیں۔ گویا آپ لوگوں کو کچھ دیں تو وہ بھی آپ کا دامن بھرنا چاہیں گے۔ آپ پراعتماد ہوں تو وہ آپ کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیں گے۔ آپ کسی مقصد کے بارے میں پکا یقین رکھتی ہیں تو دوسرے بھی اعتماد ظاہر کرتے ہیں اور مقصد کے حصول میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

بھروسہ کیجیے

اکثر کامیاب لیڈر اعتراف کرتے ہیں کہ اگر اچھی کارکردگی کے لیے دوسروں پر بھروسہ کریں تو وہ اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتے۔ دوسری طرف آپ کا خیال یہ ہو کہ آپ کے ساتھی نکمے ہیں تو پھر غالباً وہ آپ کو مایوس نہیں کرتے۔ خود کو نکما ہی ثابت کردیتے ہیں۔

ایک کامیاب تاجر کے پاس اس سلسلے میں ایک تجویز ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دوسروں پر اعتماد کا اظہار خط میں کیجیے۔ اگر کسی فرم کا سربراہ اپنے سیلزمین کو خط لکھ کر اس کے کام کی تعریف کرتا ہے اور اس پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے تو وہ سیلزمین ریکارڈ توڑ کارکردگی پر تیار ہوجائے گا۔کوئی استاد اپنے شاگردوں کو حوصلہ افزائی کے خطوط لکھتا ہے تو وہ ان میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔

بات یہ ہے کہ جب آپ کسی پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں تو اس کی خود اعتمادی اور عزت نفس بڑھ جاتی ہے۔ وہ خوش ہوتا ہے۔ اپنا کام زیادہ ولولے سے شروع کردیتا ہے۔ یہ عامیانہ سی بات لگتی ہے مگر ماہرین نفسیات اس طریقہ کار کی افادیت کے قائل ہیں۔

ہدف بنائیے

لوگ بے سمت لیڈروں کے پیچھے نہیں چلا کرتے۔ جیمز لاوڈ ایک کاسمیٹکس کمپنی کی بانی ہیں۔ انھوں نے ہزاروں ملازموں کو کامیابی سے ہمکنار کروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے جاننے والے تمام بزنس لیڈر اپنے اہداف کا واضح خاکہ ذہن میں رکھتے ہیں۔ ان کی نظریں اس خاکے پر جمی رہتی ہیں۔ لاوڈ صاحبہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’لوگ ان کو لیڈر مانتے ہیں جو کامیابی کے دعوے کرتے ہیں اور کچھ نہ کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔‘‘

سر اونچا رکھیے

اچھے لیڈروں نے یہ بات پلّے باندھ رکھی ہے کہ ان کو ہر حال میں فاتح نظر آنا ہے۔ کبھی کبھی شاید ان کے دل میں شکوک و شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں، لیکن وہ ان کی پرچھائیاں چہرے پر نہیں آنے دیتے۔ ان کا طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ جیسے ان کو اپنی راہ اور اپنی منزل کاپورا پورا علم ہے۔لیڈروں کو یہ بھی معلوم ہے کہ ظاہری صورت اور آداب بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں پر اثر ڈالتے ہیں۔ ان کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ گرم جوشی سے ملتے ہیں۔ ان کی چال ڈھال، ان کے رنگ ڈھنگ اور رکھ رکھاؤ متاثر کن ہوتا ہے۔

اہلیت حاصل کیجیے

پرانے زمانوں سے یہ کہاوت مشہور چلی آرہی ہے کہ ’’علم قوت ہے‘‘۔ اچھے لیڈروں کو خبر ہوتی ہے کہ ان کی ذہانت، علم اور مہارت ان کی قائدانہ شخصیت کی کشش کا اہم حصہ ہیں۔ اہلیت لوگوں کو کھینچتی ہے۔ وہ دوسروں کو آپ سے رہنمائی حاصل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔لہٰذا آپ لیڈر بننے کی خواہاں ہوں، تو اپنی ذہانت اور علم بڑھائیے۔ اور اپنی صلاحیتوں کو نشوونمادیں۔

ولولہ پیدا کیجیے

میکر صاحبہ کا ابھی ہم نے ذکر کیا تھا۔ ان سے یہ بات بھی منسوب ہے کہ ’’لوگوں کو کسی کام کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے دل میں کسی کام کے بارے میں جوش و ولولہ پیدا کردیا جائے تو ان کی ساری توانائیاں اس کام کے لیے وقف ہوجاتی ہیں۔ وہ پہاڑوں کو ہٹا دیتے ہیں اور پرشور دریاؤں کے رخ بدل دیتے ہیں۔‘‘

ولولہ عظیم الشان قوت ہے۔ اس کو کام میں لائیے۔ مگر ولولہ کس طرح پیدا کیا جائے؟

اس کا ایک سیدھا سادھا طریقہ ہے۔ اپنے آپ میں جوش و ولولہ پیدا کیجیے۔ خود بخود وہ دوسروں تک منتقل ہونے لگے گا۔

دوسروں کو شامل کیجیے

لزی فلوریڈا کی ایک طلاق یافتہ ماں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس کا سارا وقت اپنی دیکھ بھال میں بسر ہوجاتا تھا۔ دوسروں کا اس کو کچھ خیال نہ تھا۔ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں کھوئی رہتی تھی۔ ایک روز اس نے محسوس کیا کہ شہر کے کئی لوگ اس قدر افلاس زدہ ہیں کہ ان کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔

لزی نے غریبوں کی مدد کا عزم کرلیا۔ شام کو وہ ایک سہیلی کے ساتھ بازار گئی اور بیس سینڈوچ لے آئی۔ دوسری شام اس نے زیادہ تعداد میں سینڈوچ خریدے۔ کافی اور سوپ بھی بنانا شروع کردیا۔

چند روزبعد اس نے دیکھا کہ یہ معاملہ اس کے اور اس کی سہیلی کے بس کا روگ نہیں رہا۔ کھانے کی تلاش میں شہر کے بہت سے غریب اس کے پاس آنے لگے تھے اور لزی کے پاس ان سب کی مدد کے لیے وسائل نہ تھے۔

لزی کہتی ہے کہ ’’پہلے میں نے کبھی لوگوں کو متحرک نہ کیا تھا، مگر اب مجبوری تھی۔ دوسرے لوگ مجھ پر انحصار کررہے تھے۔ چنانچہ مجھے ہاتھ بٹانے والوں کی ضرورت تھی۔‘‘ لزی کے کام کا شہر میں چرچا ہوچکا تھا۔ ایک مقامی اخبار اور ٹیلی ویژن نے اس پر پروگرام پیش کیے تھے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کئی نے لزی کے کام میں مدد ینے کی پیش کش کی۔ اس طرح کئی امیر لوگوں نے روپے پیسے سے مدد دینی شروع کردی۔ ایک اور بات یہ ہوئی کہ شہر کے ایک قابل شخص نے لزی کو تنظیمی مہارت مہیا کردی۔

فلوریڈا میں لزی کا مشن آج بھی جاری ہے۔ اس کے رضا کار غریبوں کے لیے نہ صرف کھانا تیار کرتے ہیں بلکہ ان کی دوسری ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ لزی کہتی ہیں کہ ’’یہ سارا کام میں نہیں کررہی، کئی لوگ اس میں شامل ہوگئے ہیں۔ میں اکیلی کچھ بھی نہ کرسکتی تھی۔‘‘یہ ہے قیادت! ——

شیئر کیجیے
Default image
قاضی جادید احمد

تبصرہ کیجیے