نجات کی تلاش

سخت گرم ہوا چل رہی تھی۔ مسافروں کے چہروں پر گرم گردوغبار کے تھپیڑے لگ رہے تھے۔ قافلے کی گھنٹیاں اونٹوں کے ہر قدم کے ساتھ چیخ اٹھتیں۔ اونٹ تھوتھنی لٹکائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور صاف محسوس ہوتا تھا کہ گرمی کی شدت سے پریشان ہیں۔ حدِ نظر تک ریگستان ہی ریگستان نظر آتا تھا۔ کہیں کہیں ریت کے پہاڑی نما ٹیلے ضرور وسعتِ نظر کی مزاحمت کرتے تھے۔ میلوں نکل گئے لیکن ایک ببول کا درخت بھی نظر نہیں آیا۔اگر کہیں تھوڑا سا پانی نظر آتا تو انسانی آبادی کے دس پانچ خیمے بھی نظر آجاتے… گرمی کی شدت کی وجہ سے دم گھٹا جاتا تھا۔ چھبیس دن سے یہ قافلہ اس ریگ زار میں سفر کررہا تھا۔ منہ خشک ہوئے جارہے تھے، جسم لاغر ہوگئے تھے اور جیبیں بھی خالی ہوچلی تھیں۔

آخر کار شہر کربلا قریب آیا تو مزار شریف کے سنہرے کلس دور سے نظر آنے لگے اور تمام زائرین نے دردو دسلام پڑھنا شروع کردیے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر شخص کے تنِ مردہ میں دوبارہ جان پڑگئی ہے۔ خانم گلبن اور عزیز آغا قزوین سے کربلائے معلی تک گرد میں اٹی ہوئی کجاوے میں دھکے کھا رہی تھیں۔ ایک ایک دن ایک ایک سال کے برابر گزر رہا تھا۔ عزیز آغا کا اگرچہ کچومر نکل گیا تھا لیکن کہتی یہی تھیں کہ زیارت کی خاطر یہ سب تکلیفیں گوارا ہیں شکایت کا موقع نہیں ہے۔

اسی دوران خانم گلبن نے کجاوے کا پردہ ہٹا کر عزیز آغا کو مخاطب کرکے کہا: ’’میں نے دور سے مزار شریف کے گلدستے کو دیکھا تو وجد طاری ہوگیا لیکن افسوس کہ شاہ باجی کی قسمت میں یہ منظر دیکھنا نہ تھا اور خدا کو پیاری ہوگئیں۔‘‘

عزیز آغا پنکھا جھلتے ہوئے بولیں: ’’خدا اُس کو جنت نصیب کرے جو کچھ ہوا سو ہوا۔ لیکن یکایک موت کیسے واقع ہوئی۔ کیا فالج گر پڑا۔‘‘ خانم گلبن بولیں: ’’اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی۔ ایک دن بہت سا سرکہ کھا گئی۔ فالج کا اثر ہوگیا۔ جبھی سے آدھا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔ چلنے پھرنے سے معذور تھی ہر چند دوا دارو کی لیکن صحت نہ ہوئی۔ میں مجبوراً اپنے ساتھ لے آئی تھی کہ شاید حضرت کے دربار سے شفا عطا ہوجائے۔ لازمی سفر کی تکان برداشت نہ کرسکی۔ لیکن اس کی روح تو سیدھی جنت میں گئی ہوگی۔ اس لیے کہ زائر جس وقت زیارت کا ارادہ کرلے اور چل پڑے تو اس کی بخشش لازمی ہوجاتی ہے۔‘‘

عزیز آغا ’’میری نظر ان قبروں پر پڑتی ہے تو جسم لرز جاتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ حرم کے اندر جاکر اور ضریح امام علیہ السلام کے قریب پہنچ کی حضرت سے دردِ دل کو بیان کروں بعد میں ایک کربلائی کفن اپنے لیے خریدلوں پھر میرا دم نکلے۔‘‘

خانم گلبن: ’’کل رات میں نے شاہ باجی کو خواب میں دیکھا۔ تم میرے ساتھ تھیں، کیا دیکھتی ہوں کہ ہم ایک سرسبز و شاداب باغ میں گھوم رہے ہیں کہ ایک نورانی صورت سید سبز شال کاندھوں پرڈالے، سبز عبا پہنے، سبز عمامہ باندھے ہمارے سامنے آئے اور ایک سبز عمارت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: وہاں چلی جاؤ۔ تمہاری تھکان سب اتر جائے گی۔‘‘

عزیز آغا: ’’ماشاء اللہ بڑا مبارک خواب ہے۔ خدا راس لائے اور ہمارے سب کی دلی مرادیں پوری ہوں اور امام پاک کو ہماری طرف توجہ ہوتا کہ ان کی نظرِ کرم سے سارے گناہ دھل جائیں۔

قافلہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا کہ یکایک ایک چاؤش نے گانا شروع کردیا:

ہر کہ دارد ہوسِ کرب و بلا بسم اللہ

ہر کہ دارد سرِ ہمراہیٔ ما بسم اللہ

دوسرے چاؤش نے فوراً جواب دیا:

ہر کہ دارد ہوسِ کرب و بلا خوش باشد

ہر کہ دارد سرِ ہمراہیٔ ما خوش باشد

پہلے چاؤش نے اپنے سیدھے ہاتھ کی سبز جھنڈی ہوا میںلہرائی اور بڑے جوش سے یہ اشعار پڑھے:

بریدہ باد زبانے نگوید ایں کلمات

کہ برحبیبِ خدا ختم انبیاء صلوات

بیارئہ پسرانِ علی ابو طالب

بماہِ عارضِ ہر یک جدا جدا صلوات

ہر شعر کے آخر میں تمام زائرین مل کربلند آواز سے سلام پڑھتے۔ تھوڑی دیر کے بعد مقبرے کا سنہرا گنبدنہایت خوبصورت میناروں کے ساتھ نظر آنے لگا۔ مغرب کے قریب زائرین کا قافلہ آبادی میں داخل ہوا۔ آبادی زیادہ تر کچے مکانوں کی ہے۔ امام علیہ السلام کا مقبرہ ان کے کچے مکانوں کے درمیان ٹاٹ میں سنہری اطلس کا پیوند معلوم ہوتا تھا۔ مقبرے میں زائرین کا بڑا ہجوم تھا۔ کہیں کچھ لوگ گا گا کر مرثیے پڑھ رہے تھے۔ کچھ سینہ کوبی میں مصروف تھے۔ کچھ متبرک کفن اور تسبیح وغیرہ فروخت کررہے تھے۔ چند آدمی آسیب زدہ لوگوں کے جن اتارنے میں مصروف تھے۔ بعض بزرگ صورت حضرات تعویذ گنڈے لکھ لکھ کر فروخت کررہے تھے۔ غرض یہ کہ عجب گوناگوں مخلوق بھری پڑی تھی۔

جیسے ہی زائرین کا قافلہ ٹھہرا مشہدی رمضان اور حسین آقا نے آگے بڑھ کر زنانی سواریوں کی مدد کی اور خانم گلبن اور عزیز آغا کو کجاوے سے نیچے اتارا۔ سینکڑوں قلی سامان اٹھانے کے لیے دوڑ پڑے، جس کے ہاتھ جو کچھ آیا اٹھا کر لے چلا۔ اس افراتفری میں عزیز آغا کہیں غائب ہوگئیں۔ ہر چند تلاش کیا کہیں پتہ نہ چلا۔ آخر کار مجبور ہوکر صبر کرلیا اور خانم گلبن اور حسین آقا اور مشہدی رمضان نے ایک خراب و خستہ کوٹھڑی سات روپیہ یومیہ کرائے پر لے لی اور اسی میں تمام سامان رکھ دیا اور دوبارہ عزیز آغا کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ تمام شہر چھان مارا۔ جوتیوں کے محافظ اور زیارت نامہ سنانے والوں سے دریافت کیا۔ لیکن کہیں نشان نہ ملا۔ آخر کار مزار کے صحن میں ہجوم کچھ کم ہوا تو خانم گلبن ساتویں دفعہ حرم میں داخل ہوئیں اور دیکھا کہ ایک عورت ضریح مبارک کے دروازے کی زنجیر کو پکڑے کھڑی ہے۔ اس کو بوسہ دیتی ہے اور فریاد کرتی ہے۔ ’’یا امام حسین میری مدد فرمائیے۔ قبر کی تاریکی میں اور قیامت کے دن کیا خاک اپنے سر پر ڈالوں گی۔ میری فریاد سن لیجیے۔ میری توبہ ہے۔ میں نے بڑی غلطی کی ہے۔ بڑی گنہگار ہوں۔ مجھے بخش دیجیے۔ آپ نہ بخشیں گے تو مجھے کہاں ٹھکانا ملے گا۔ آپ سہارا نہ دیں گے تو مجھے کون سہارا دے گا۔‘‘

اس سے ہر چند دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہوا، لیکن وہ کچھ جواب نہیں دیتی۔ آخر بڑے اصرار کے بعد بولی: ’’میں نے ایک ایسا کام کیا ہے کہ سید الشہداء مجھے کبھی نہیں بخشیں گے۔‘‘ یہ جملہ دہراتی رہی اور آنکھوں سے آنسو جاری رہے۔ خانم گلبن نے عزیز آغا کی آواز پہچان لی۔ آگے بڑھ کر ہاتھ پکڑ لیا اور صحن میں لے آئیں۔ حسین آقا بھی آگئے اور دونوں مل کر زبردستی قیام گاہ پر لانے میں کام یاب ہوگئے وہاں لاکر پوچھا کہ عزیز آغا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ بولیں کہ مرد چلے جائیں تو سب حال سنادوں گی حسین آقا وغیرہ باہر چلے گئے تو اپنی روداد اس طرح شروع کی:

’’گلبن خانم تمہیں یہ تو معلوم ہی ہے کہ میری شادی گدا علی سے ہوئی تو تین سال تک کوئی بچہ نہیں ہوا۔ اس دوران میں گدا علی مجھ پر قربان ہوتا تھا اور سر آنکھوں پر بٹھاتا تھا۔ لیکن جب بچہ ہونے میں دیر ہوئی تو پریشان رہنے لگا کہا کرتا کہ میرا گھر بے چراغ ہے بغیربچے کے کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ زندگی برباد ہے۔میں نے سینکڑوں تعویذ گنڈے کرائے۔منتیں مانیں دعائیں کیں لیکن بچہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ ایک دن آنکھوں میں آنسو بھر کر مجھ سے کہنے لگا کہ اگرمیرا بھی کوئی بچہ ہو تو میرا گھر بھی آباد ہوجائے گا۔ میں فریب میں آگئی اور کہا کہ اس میں تو کوئی ہرج نہیں۔ اس شرط پر تو یہ کام میں خود کرادوں گی تو فکر نہ کر۔ چنانچہ دوسرے ہی دن میں حسن حلوائی کی لڑکی خدیجہ کے لیے پیغام دے آئی۔ خدیجہ بدصورت چیچک رواور سیاہ تھی۔ میں نے سوچا گدا علی خدا اسے جنت نصیب کرے اس کل موئی پر عاشق ہونے سے رہا۔ بچہ پیدا ہونے پر یقینی طلاق دے دے گا۔ کچھ عرصہ تک خدیجہ باندیوں کی طرح میری خدمت کرتی رہی۔ میں مالکہ بنی آرام سے بیٹھی رہتی۔

کچھ ہی عرصے کے بعد خدیجہ امید سے ہوگئی۔ اب تو اس کے مزاج آسمانوںسے باتیں کرنے لگے اور مرحوم گدا علی بھی اس کی خدمت غلاموں کی طرح کرنے لگا۔ مٹھائی، حلوہ، آلو بخارا وغیرہ روزانہ رومال میں باندھ کر لاتا اور چپکے سے اس کو کھلا دیتا۔ میری بات بھی نہ پوچھتا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ میں دھوکہ کھاگئی اور خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارلی۔

میں گدا علی اور خدیجہ سے خوب لڑتی۔ جب گدا علی باہر جاتا تو میں خدیجہ کو خوب برا بھلا کہتی۔گدا علی سے اس کی برائیاں کرتی اور کہتی کہ یہ بچہ تیرا نہیں مشہدی تقی قاشق تراش کا ہے۔ خدیجہ تجھے دھوکہ دیتی ہے۔ خدیجہ بھی مجھ پر الزام لگانے میں کسر نہ اٹھا رکھتی تھی۔ غرض یہ کہ کیا کہوں کہ گھر جہنم کا نمونہ بن گیا تھا۔ دن رات لڑائی۔ صبح شام جنگ ، میں نے ہزاروں جتن کیے، جادو کرایا ٹوٹکے کیے، منتیں مانیں کہ کسی طرح خدیجہ کے اولاد نہ ہو، لیکن وہ کم بخت بڑی سخت جان نکلی اور پہلی دفعہ میں ہی ایک جیتا جاگتا لڑکا جنا، لڑکا پیدا ہوتے ہی اس کا دماغ اور بھی عرشِ معلی پر چڑھ گیا۔ ایک دن کہنے لگی کہ بچے کے گندے کپڑے دھوڈالو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے اسے خوب ملاحیاں سنائیں اور مرحوم گدا علی سے بھی خوب لڑی اور اس سے مطالبہ کیا کہ مجھے طلاق دے دے۔ گدا علی پریشان ہوگیا، ہاتھ جوڑکر کہنے لگا: ’’اتنا ظلم نہ کربچے کا دودھ چھوٹے گا تو خدیجہ کو طلاق دے دوں گا۔ پھر تجھے اطمینان ہوجائے گا۔‘‘

ایک دن خدیجہ حمام کو گئی۔ مرحوم گدا علی بھی باہر تھا۔ مکان خالی اور بچہ تنہا تھا۔ شیطان نے ہمت افزائی کی۔ میں نے جلدی سے بچے کے حلق میں ایک چھوٹی سی سوئی اتاردی۔ بچے نے رونا شروع کیا تو میں سلائی کی مشین لے کر چھت پر جابیٹھی۔ دو دن تک بچہ مسلسل چیختا رہا۔ ماں باپ کا کلیجہ پھٹا جاتا تھا لیکن میں دل میں مطمئن تھی۔ بہتیرا علاج کرایا لیکن مرض ہی کسی کی سمجھ میں نہ آسکا اور تیسرے دن بچہ جب اللہ کو پیارا ہوگیا، تب کہیں جاکر میرے کلیجے میں ٹھنڈک پڑی۔ لیکن مرحوم کا اور خدیجہ کا روتے روتے برا حال ہوگیا۔ لیکن اس تدبیر سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا اس لیے کہ تھوڑی ہی مدت کے بعد خدیجہ پھر امید سے ہوگئی۔ میں حسد سے انگاروں پر لوٹتی رہی یہاں تک کہ نو ماہ کے بعد پھر ایک لڑکا پیدا ہوگیا اور خدیجہ پھر سے ملکہ بن گئی اور مرحوم گدا علی پھر سے اس کی جوتیوں کا غلام بن گیا۔ ہر وقت بچے کو گود میں لیے پھرتا۔ میرے کلیجے میں گویا پھر ایک تیر پیوست ہوگیا۔ کسی پہلو چین نہ پڑتا تھا۔ ایک دن مجھے پھر تنہائی کا موقع ملا اور میں نے پھر ایک سوئی بچے کے حلق سے نیچے اتاردی۔ دوسرے دن وہ بچہ بھی چیخ چیخ کر مرگیا۔ خانم میں اس وقت دراصل دیوانی ہوگئی تھی۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اس دفعہ میرے دل پر بھی اپنے ظلم کا بہت اثر ہوا۔ اور خدیجہ اور گدا علی کے ساتھ میں بھی بہت روئی یہاں تک کہ گدا علی اور خدیجہ میری تسلی کرنے میں لگ گئے اور اپنا غم بھول گئے اور انھیں تعجب ہوا کہ میں کس قدر ان کے بچے کو عزیز رکھتی تھی۔ لیکن میرا یہ رونا خدا کے خوف اور قبر کے عذاب کے خوف سے تھا ، اپنے ظلم پر پشیمانی کی وجہ سے نہیں۔ مجھے کسی سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔

تھوڑی سی مدت کے بعد خدیجہ کا پیر پھر بھاری ہوگیا اور تیسرا لڑکا پیدا ہوا۔ میری زندگی پھر تاریک ہوگئی اور خدیجہ پھر میری آقا اور مالکہ بن بیٹھی۔ چند ماہ کے بعد پھر مجھے موقع ملا اور میں نے ارادہ کیا کہ بچے کو ماردوں۔ سوئی لے کر اُس کے پالنے کے قریب پہنچی تو بچہ سوتے سے اٹھ بیٹھا اور مجھے دیکھ کر پیار سے مسکرانے لگا۔ میرے دل میں ماں کی مامتا جاگ اٹھی اور مجھے اس پر رحم آگیا اور میں نے سوچا کہ اس معصوم کی کیا خطا ہے۔ خدیجہ کو ہی کیوں نہ ختم کردیں۔ چنانچہ میں بچے کو پیار کرکے واپس آگئی۔ایک دن گدا علی سخت بیمار ہوگیا۔ مجھے موقع مل گیا۔ میں خود تو بازار جاکر کھانا کھا آئی۔ گھر آکر ہانڈی میں زہر ملا دیا۔ اور رات بھر گدا علی کی پٹی سے تیمار داری کے بہانے سے بیٹھی رہی۔ خدیجہ نے کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں بچے کو لے کر سوگئی۔ صبح کو بستر میں مردہ پائی گئی۔ لوگوںکو اس کی ناگہانی موت پر بڑا تعجب ہوا لیکن کسی کو مجھ پر شبہ نہیں ہوا گدا علی کو بھی کچھ میری طرف خیال نہ ہوا ، اس لیے کہ میں رات بھر اس کی پٹی سے بیٹھی رہی تھی۔ اب خدیجہ کی خلش تو دل سے دور ہوگئی تھی اس لیے میں نے اس کے بچے کو بڑی محنت سے پرورش کیا۔ اور یہ ارادہ کرلیا کہ کربلائے معلی جاکر گناہوں کو معاف کراؤںگی۔

اسی دوران میں گدا علی کا انتقال ہوگیا اور ارادہ پورا نہ ہوسکا۔ آپ لوگوں کا اب سہارا ملا اس حسین آقا کو ہمراہ لے کر آگئی۔ یہ حسین خدیجہ کا ہی بچہ ہے اور اب مجھ کو اپنی ماں سمجھتا ہے۔ میں نے اسی وجہ سے اس کو باہر بھیج دیا کہ میری بات نہ سنے۔

عزیز آغا کی یہ کہانی سن کر ہر شخص حیران رہ گیا اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور بولی: ’’خدا جانے میری بخشش ہوگی یا نہیں۔ روزِ قیامت حضرت میری شفاعت فرمائیں گے یا نہیں۔ عرصے سے میرے دل پر ایک بار تھا اور سوچتی تھی کہ کسے اپنی داستان سنا کر اس بار کو ہلکا کروں۔ آج موقع ملا اور میرا دل ہلکا ہوا۔ لیکن روزِ قیامت کی داروگیر سے مجھے کون نجات دلائے گا۔‘‘

مشہدی رمضان نے چلم کی آگ صاف کرتے ہوئے کہا: ’’خدا تیرے حال پر رحم کرے اور ہم سب یہاں کیوں آئے ہیں؟ تین سال پہلے میں خراسان میںگاڑی بان تھا۔ ایک دفعہ راستے میں اتفاق سے گاڑی ٹوٹ گئی۔ گاڑی میں دو مالدار مسافر بھی بیٹھے تھے ان میں ایک مرگیا اور ایک سخت زخمی ہوگیا، لیکن مرنے کے قابل نہیں تھا۔ میں نے موقع پاکر اس کا بھی گلا دبا دیا اور دونوں کی دولت پر قبضہ کیا اور گھر آگیا۔ اب بڑھاپا آیاتو خیال ہوا کہ وہ دولت حرام کی تھی اس کو کس طرح حلال کرایا جائے۔اسی وجہ سے یہا ںآیا ہوں۔ ایک ملاَّ کو پانچ سو تومان نذر دیے اس نے وہ ساری دولت میرے لیے حلال کردی اور اب وہ میرے لیے شیرِ مادر ہے۔‘‘

خانم گلبن نے عزیز آغا کے ہاتھ سے حقہ لے کر ایک گہرا کش لگایا اور یوں گویا ہوئیں: ’’یہ شاہ باجی جو میرے ساتھ آئی تھیں۔ میں جانتی تھی کہ سفر کی تکان ان کے لیے مہلک ہے لیکن باوجود اس کے میں انھیں ہمراہ لے کر آئی محض اس وجہ سے کہ میں خود چاہتی تھی کہ ان کا جلد خاتمہ ہو۔ یہ میری سوتیلی بہن تھیں۔ ان کا شوہر مجھے چاہنے لگا ، میں بھی اس سے محبت کرتی ہوں۔ شاہ باجی پر فالج کا اثر ہوگیا تھا۔ میں نے راستے میں خود ہی گلا دبا کر ان کا کام تمام کردیا تاکہ میرے باپ کی املاک کی وارث نہ بن جائے اور میرے عشق پر مزید رکاوٹ نہ بنے۔ چپڑی اور دو دو اب کربلائے معلی کی حاضری اسی لیے ہے کہ امامِ زماں سے گناہ بخشوا لوں تاکہ روزِ محشر کوئی دامن گیر نہ ہوسکے۔‘‘

عزیز آغا کے خوشی سے آنسو نکل آئے اور بے اختیار ہنس کر کہنے لگیں: ’’اچھا اچھا تم بھی۔‘‘ خانم گلبن نے حقے کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے کہا: ’’کیا تم نے کبھی منبر سے یہ بات نہیں سنی کہ زائر جس وقت زیارت کی نیت کرلے اور چل پڑے تو اگر اس کے گناہ درخت کے پتوں سے بھی زیادہ ہوں تو پھر بھی اس کی بخشش ہوجاتی ہے اور گناہ سے بالکل پاک ہوجاتا ہے۔‘‘

(فارسی سے ترجمہ)

——

شیئر کیجیے
Default image
صادق ہدایت ترجمہ: اسرار احمد سہاوری

Leave a Reply