اس ہاتھ دے، اس ہاتھ لے

چودھری معراج دین نے اپنے مخصوص انداز میں کئی سیکنڈ نو عمر ملزم کے چہرے مہرے کا جائزہ لیا پھر اپنی بڑی بڑی مونچھیں سنوارتے ہوئے، اس بات پر غور کرنے لگے کہ گرفتار کرکے لانے والے سپاہی اور ملزم دونوں میں سے کس کا بیان سچا ہے۔ سپاہی کا بیان تھا یہ شخص چھٹا ہوا بدمعاش ہے اور اسے ایک مکان کا تالا توڑتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے، ملزم کہتا تھا یہ سب کچھ رشوت کی کرشمہ سازی ہے، میرے ایک امیر رشتہ دار نے جو پرانی خاندانی رنجش کی بنا پر مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے، سپاہی کو رشوت دے کر مجھے گرفتار کرادیا ہے۔ یہ دونوں ہی بیان سچ بھی ہوسکتے تھے اور جھوٹ بھی، جہاں یہ بات ممکن ہوسکتی تھی کہ رشوت نے ایک بے گناہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈلوادی ہوں وہاں یہ امکان بھی موجود تھا کہ بھولا بھالا نظر آنے والا یہ نوجوان واقعی چور ہو اور اسے عین موقعۂ واردات پر گرفتار کیا گیا ہو۔

چودھری صاحب کا چہرہ خاصا ڈراؤنا تھا۔ عادی شرابیوں کی سی مخمور آنکھیں اور دونوں گالوں پر پھیلی ہوئی بڑی بڑی مونچھیں دیکھ کر کوئی شخص بھی ان کے بارے میں اچھی رائے قائم نہ کرتا تھا لیکن حقیقتاً وہ بڑے صاف ستھرے کردار کے آدمی تھے۔ ان کی زندگی کا طویل حصہ پولیس کی ملازمت میں گزرا تھا، لیکن ہزار گنجائشیں پیدا ہونے کے باوجود ان کا ضمیر اب تک بے داغ تھا۔ خوا ہ بڑے سے بڑے افسر کا دباؤ پڑا۔ انھوں نے اب تک وہی کیا تھا جسے حق اور انصاف سمجھا تھا۔

اس وقت بھی وہ متضاد بیانات کے ملغوبے میں سے نقطۂ عدل تلاش کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ السلام علیکم کی بھاری بھرکم آواز نے انہیں چونکا دیا اور وہ ’’اخاہ آپ ہیں!‘‘ کہتے ہوئے آنے والے کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’کہیے چودھری صاحب کیا ہورہا ہے؟‘‘ نووارد نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔

’’ہو کیا رہا ہے شاہ جی، وہی قسمت میں لکھی ہوئی پریشانیاں بھگت رہے ہیں۔ جرم لوگ کرتے ہیں اور ان کے گناہ ثواب کی ذمہ داری ہم پر آپڑتی ہے۔‘‘

’’اور آپ بھی تو اس سلسلے میں ضرورت سے زیادہ ایماندار واقع ہوئے ہیں۔ دنیا تھانیداری کو بادشاہت سے کم نہیں سمجھتی لیکن آپ نے اسے اپنے اور اپنے عملے کے لیے مصیبت بنالیا ہے۔ سیدھی سی بات ہے جسے بھی پکڑکرلایا جائے چالان لکھ کر آگے دھکیلئے انصاف اور بے انصاف کی ذمہ داری منصف کے سر، آپ کیوں اس پھٹے میں ٹانگ اڑائیں۔‘‘

’’نہیں بھائی! یہ نوکری ایسی آسان نہیں، انصاف کی پہلی اینٹ تو ہمارے ہی محکمے کے لوگوں کو رکھنی پڑتی ہے، ہم جس دفعہ میں چالان کریں گے اسی کے مطابق مقدمہ قائم ہوگا۔‘‘

بہرحال اس وقت کی مصیبت کا حال بیان کیجیے۔ کیا اس غنڈے کے بارے میں اپنے دماغ کو تکلیف دے رہے تھے؟شاہ صاحب نے ملزم کی طرف اشارہ کرکے سوال کیا۔

’’ہاں سوچ تواسی کے بارے میں رہا تھا لیکن کیا آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘

’’آپ کے سوا اسے کون نہیں جانتا، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو پورا شہر اس کی مجرمانہ سرگرمیوں سے نالاں ہے۔‘‘

’’اس قدر خطرناک آدمی ہے؟‘‘ چودھری صاحب نے حیران ہوکر ملزم کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے کی زردی زیادہ ہوگئی تھی اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ چودھری صاحب کے دل پراس بات کا بہت اثر ہوا، انھوں نے طنزیہ نظروں سے شاہ صاحب کی طرف دیکھا اور پھربے تکلفی کے انداز میں ہنستے ہوئے بولے:’’لیکن شاہ صاحب! آپ بھی تو کوئی معمولی ہستی نہیں ہیں۔آپ کے بارے میں بھی تو یہ شہر بہت کچھ جانتا ہے۔‘‘

’’گھر بٹھا کر گالیاں دینا اسی کو کہتے ہیں چودھری صاحب!‘‘ شاہ صاحب کی آواز میں واضح طور پر غصے کی جھنجھلاہٹ تھی۔ چودھری صاحب نے بھی محسوس کیا اس سلسلے میں واقعی کچھ زیادتی ہوگئی، اپنی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے زور سے قہقہہ مار کر بولے:’’معلوم ہوتا ہے کسی خاص موڈ میں ہیں اس وقت؟‘‘ اور اس موضوع کو قطعی طور پر ختم کرنے کے لیے سپاہی کی طرف دیکھ کر بولے: ’’اچھا خاں صاحب فی الحال اسے حوالات میں بٹھاؤ اور ہمارے لیے چائے بھیج دو۔ اس بات کا خیال رکھنا شاہ صاحب پیسٹری کے بغیر چائے نہیں پیاکرتے۔‘‘

اپنے افسر کا یہ حکم سن کر سپاہی ملزم کو لے کر ان کے کمرے سے نکل گیا، سپاہی کے جانے کے بعد چودھری صاحب نے سنجیدہ آواز میں سوال کیا۔’’کیا یہ شخص واقعی عادی مجرم ہے؟‘‘

’’ایسی بات نہ ہوتی تو کیا مجھے باولے کتے نے کاٹا تھا کہ ایک بے گناہ انسان کو الزام کا نشانہ بناتا۔ چودھری صاحب سچ پوچھئے تو اس وقت میرے یہاں آنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ اس شخص کی اصلیت سے آپ کو آگاہ کروں یہ تو ایسا خطرناک آدمی ہے کہ اس نے اپنے بے چارے شیخ صاحب کی زندگی اجیرن کررکھی ہے، بھرے بازار میں دھمکی دے چکا ہے اگر جڑ سے ناک نہ کاٹی ہو تو میرا نام بدل دینا۔وہ تو یوں کہیے شامتِ اعمال سے آج گرفتار ہوگیا اور اس شریف آدمی کی جان میں جان آئی ورنہ عین ممکن تھا، اس وقت آپ قاتلانہ حملے یا قتل عمد کی واردات کی رپورٹ لکھ رہے ہوتے؟

’’استغفراللہ! آخر یہ ہماری قوم کے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ کسی کے دل میں خدا کا خوف نہیں رہا۔‘‘ چودھری صاحب نے تاسف سے بھری ہوئی آواز میں کہا۔

چائے پیسٹری کے شغل میں اچھا خاصا آدھا گھنٹہ لگ گیا، شاہ صاحب نے چائے تو واجبی سی پی لیکن باتیں دل بھر کر کیں اور زیادہ تر اس ملزم کے بارے میں کہتے سنتے رہے۔

خود چودھری صاحب اس دوران میں بے بے حدکبیدہ خاطر رہے، ان کا دل چاہتا تھا یہ شخص پیچھا چھوڑے تو جمع شدہ کام نمٹاؤں، آخر خدا خدا کرکے شاہ صاحب رخصت ہوئے اور انھوں نے فراغت کے انداز میں انگڑائی لے کر چالانوں والے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن رجسٹر سے پہلے ان کا ہاتھ ایک شوخ رنگ کے ریشمی رومال سے ٹکرایا۔ یہ رومال انھوں نے چند ساعت پہلے شاہ صاحب کے ہاتھ میں دیکھاتھا اور یہ بھی دیکھا تھا کہ انھوں نے اٹھنے سے پہلے چٹ پر کچھ لکھ کر کسی اور چیز کے ساتھ یہ چٹ اس رومال میں لپٹی تھی۔

اضطراری حالت میں انھوں نے جلدی سے یہ رومال اٹھالیا۔ اور اس کی گرہ کھول ڈالی، رومال کے اندر چٹ کے ساتھ سو سو روپے کے نئے نوٹوں کی ایک اچھی خاصی موٹی گڈی تھی۔ اتنے سارے کرنسی نوٹ دیکھ کر ان کا ہاتھ کانپ گیا۔ لیکن وہ فوراً ہی سنبھل گئے اور چٹ پر لکھی ہوئی عبارت پڑھنے لگے۔ بے ربط اور شکستہ حروف میں لکھ تھا:

’’آپ کے لیے ایک حقیر سی خدمت کا موقع پیدا ہوگیا ہے، امید ہے عقل سے کام لیں گے اور اللہ کی رحمت کو دھکے دے کر گھر سے نہ نکالیں گے۔

اس سلسلے میں زبانی بہت کچھ کہہ چکا ہوں موقع ملے گا تو باقی باتیں پھر گوش گزار کروں گا۔‘‘

رقعہ پڑھنے کے بعد چودھری صاحب نے جلدی جلدی نوٹ گنے پورے پچاس ہزار کے تھے۔ اتنی بڑی رقم دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے ان کا دماغ سن سا ہوگیا۔ غیر ارادی طور پر انھوں نے رقعہ ایک بار پھر پڑھا اور جب ان کی حالت معمول پر آئی تو اس رقم کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے۔ ایک ذہین اور تجربہ کار آدمی کے لیے یہ معاملہ الجھا ہوا نہ تھا۔ اتنی بڑی رقم کوئی بہت بڑا غرض مند کسی بہت بڑے مقصد ہی کے لیے پیش کرسکتا تھا اور کسی غنڈے کو قانون کی گرفت میں دے دینا اتنا بڑا مقصد ہرگز نہ ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب کا کردار بھی ان کے سامنے تھا، اس شخص کی پوری زندگی تقریباً اسی قسم کی ہیرا پھیری اور جعلسازی میں گزری تھی لیکن پھر بھی وہ کئی بار اس بات پر آمادہ ہوئے کہ نوٹ جیب میں رکھ کر ملزم کا چالان کردیں لیکن آخر ان کا ضمیر نفس کی اس ذلیل خواہش پر غالب آگیا۔ انھوں نے جھرجھری لے کر کئی بار لاحول پڑھی اور پھر نوٹوں کو اسی طرح رومال میں لپیٹ کر سپاہی کو پکارا۔

’’تم نے ملزم کو موقع واردات پر ارتکابِ جرم کرتے ہوئے خود گرفتار کیا تھا اور اس بات کے گواہ بھی ہیں۔‘‘چودھری صاحب نے طنزیہ انداز میں سوال کیا۔

’’جی جناب! اتفاق سے میں اس گلی سے گزر رہا تھا کہ مجھے یہ شخص مشتبہ حالت میں ایک مکان کے دروازے کے پاس بیٹھا ہوا ملا ۔ میں نے اسے للکارا تو حضوریہ اٹھ کر بھاگا، میں نے ہمت سے کام لے کر اسے گرفتار کرلیا۔‘‘

’’خوب، تم تو بہت بہادر آدمی ہو۔ اس مقدمے کا فیصلہ ہونے پر تمہاری ترقی کی سفارش کریں گے اور انعام بھی دلوائیں گے، لیکن ایک بات اور غور سے سن لو۔ اگر یہ شخص بے گناہ ثابت ہوا تو صرف یہی سزا کافی نہ ہوگی کہ تیری پیٹی اتروالی جائے بلکہ تجھے جیل خانے بھجوا کر دم لیں گے ہم۔ سمجھا!‘‘ چودھری صاحب کی آواز بتدریج بلند ہوتی گئی۔

’’بالکل سچا واقعہ ہے حضور!‘‘ سپاہی نے اعتماد بھرے لہجے میں ایک بار پھر یقین دلایا۔

’’اگر سچا واقعہ ہے تو اس شیخ کے بچے نے تیری مٹھی کیوں گرم کی ہے؟ ہمیں پٹی پڑھاتا ہے۔ ابھی ابھی شاہ صاحب کی زبانی سب کچھ معلوم ہوچکا ہے ہمیں۔ ہم کہتے ہیں اب بھی موقع ہے صاف بیانی سے کام لے کر سب کچھ سچ سچ بتادے، ورنہ غصہ آگیا تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا، ہاں…؟‘‘

سپاہی کا رنگ زرد ہوگیا اور وہ تھوڑی دیر ہکلانے کے بعد مجرموں کی طرح سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔ چودھری صاحب نے نفرت اور غصے سے بھری ہوئی نظروں سے اسے گھورا اور پھر تقریباً چیخنے کے انداز میں بولے: ’’تم ہی جیسی کالی بھیڑوں نے اس پورے محکمے کو بدنام کررکھا ہے، جرم تم کرتے ہو اور گالیاں سب کو کھانی پڑتی ہیں۔ جاؤ اس بے گناہ شخص کو آزاد کرو اور میرے پاس آکر مفصل بیان درج کراؤ کہ کتنی رقم رشوت کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ میں اس بے گناہ نوجوان کی جگہ اس مردود کا چالان کروں گا۔ ظالموں نے خدا کو بالکل ہی بھلا دیا ہے۔ سمجھتے ہیں بلیک میں کمائے ہوئے روپے سے جو چاہیں گے کرالیں گے۔‘‘

ڈانٹ سن کر سپاہی کانپتے ہوئے قدموں سے باہر نکل گیا اور چودھری صاحب تاسف بھری نظروں سے مشرقی افق کو تکنے لگے۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی ملگجی روشنی میں آسمان عجب بدہیئت نظر آرہا تھا اور فضا میں محو پرواز چیلیں اور کوے یوں معلوم ہورہے تھے جیسے بے گناہ سزا پاجانے والوں کی روحیں پھڑپھڑا رہی ہوں۔

چودھری صاحب کو اس حالت میں بیٹھے چند ساعتیں ہی گزری تھیں کہ اچانک تھانے کے احاطے میں ہلکا سا شور سنائی دیا۔ انھوں نے گھوم کر دیکھا۔ ایک سپاہی ان کے نوجوان بیٹے کو سہارا دیے انہی کے کمرے کی طرف لارہا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بلند آواز میں سوال کیا۔ ’’کیوں کیا ہوا یوسف؟‘‘

’’کچھ نہیں ابا جی معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوگیا، میں ایک کام سے آپ کی طرف آرہا تھا کہ چوک کراس کرتے ہوئے میری سائیکل ایک تانگے سے ٹکرا گئی۔ دوسری طرف سے ٹرک آرہا تھا وہ تو اللہ پاک نے اپنا فضل کیا کچھ معجزانہ طور پر ہی اس کا رخ مڑگیا، ورنہ میرے سر کے ٹکڑے اڑجاتے۔ یوں سمجھئے ٹرک کا اگلا پہیہ میرے بالوں کو چھوتا ہوا گزرا۔‘‘ یوسف نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ہاں چودھری صاحب! واقعی آج تو آپ کی کوئی بہت بڑی نیکی کام آگئی۔ اللہ پاک نے آپ کے بچے کی جان بچالی، ورنہ وہ منظر دیکھ کر میری تو چیخ نکل گئی تھی۔ دیوہیکل ٹرک بالکل ان کے سرپر پہنچ کر داہنی طرف مڑا اگر سکینڈ کے دسویں حصے کی تاخیر بھی ہوجاتی، ہینڈل گھمانے میں تو—!‘‘ ساتھ آنے والے سپاہی نے یوسف کی تائید کی اور ان دونوں کی باتیں سن کر چودھری صاحب کے ہاتھ بے اختیار دعا کے لیے اٹھ گئے۔

جس وقت وہ خلوصِ دل سے اللہ پاک کا شکریہ ادا کررہے تھے نو عمر ملزم حوالات سے نکل کر اپنے گھر کی طرف جارہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور ہونٹوں پر اس نیک دل افسر کے لیے دعائیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا بھی انعام کیا خوب ہے۔ بالکل ’’اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے‘‘ کی طرح۔

شیئر کیجیے
Default image
نظر زیدی

Leave a Reply