دل کا سکون

نادر خاں ہمارے پڑوس میں آکر کیا رہا، ہمارے گھریلو حالات اچھے خاصے کشیدہ رہنے لگے۔ ہماری بیگم نے جو پڑوس میں پیسے کی گنگا بہتی دیکھی تو آنکھیں چور بور ہوگئیں۔ آج گھر میں اے سی لگ رہا ہے، تو کل نیا صوفہ سیٹ آرہا ہے۔ ایک دن رکشہ سے پھلوں کے ٹوکرے آرہے ہیں تو دوسرے دن نادر خاں مٹھائی کی تھیلیوں سے لدے پھندے آرہے ہیں۔ اور جب پڑوسن نے زیوروں کا ڈبہ ہماری بیگم کو لاکر دکھایا اور کہا کہ یہ زیور خاں صاحب نے کھڑے کھڑے خریدے ہیں، کتنی محبت کرتے ہیں وہ مجھ سے — تو ہمارے گھر میں قریب قریب قیامت برپا ہوگئی۔ پڑوسن کے جانے کے بعد بیگم میری بیٹھک میں آدھمکیں اور شکوے کے انداز میں کہنے لگیں:

’’آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔‘‘

میں کتاب پڑھ رہا تھا، میں نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا:

’’کیوں؟ یہ تم نے کیا کہا! مجھے اور تم سے محبت نہ ہو۔‘‘

’’ہونہہ…‘‘ انھوں نے منہ پھیر لیا ’’محبت! اگر مجھ سے محبت ہوتی تو میرے لیے کبھی تو کوئی زیور بنتا۔ یہ لونگ اور بندے بھی ابا کے یہاں سے آگئے ہیں جو اب تک چل رہے ہیں ورنہ یہاں تو کبھی کسی کو ایسی توفیق ہی نہیں ہوئی۔‘‘

’’یہ تمہیں آج زیور کا کیا خیال پیدا ہوا؟‘‘

’’کیوں نہ ہو، پڑوس میں دیکھو، خاں صاحب ڈبے کا ڈبہ لے آئے ہیں، خرید کر۔ ایسے ہوتے ہیں محبت کرنے والے۔‘‘ بیگم غصے سے اٹھیں اور پاؤں پٹختی باہر چلی گئیں۔ میں انھیں دیکھتا رہ گیا۔

اگلے روز میں دفتر سے آیا تو مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں:

’’آگئے وہی خالی ہاتھ، نہ پھل، نہ مٹھائی۔ انسان باہر سے آئے تو کچھ تو لے کر آئے، اسے دیکھو، نادر خاں کو جب بھی آتا ہے یوں گمان گزرتا ہے جیسے باغ لوٹ لایا ہے یا حلوائی کی دکان کی دکان خرید لایا ہے۔‘‘ مجھے رنج ہوا کہ دیکھو اتنی سخت گرمی میں، ڈیڑھ میل پیدل چل کر دفتر سے آیا ہوں۔ مہینے کی اٹھائیس تاریخ ہے، پچاس روپے بھی جیب میں نہیں اور یہ بھی ہمت نہیں کہ رکشہ میں آجاتا اور آتے ہی یہ استقبال ہوا۔ لیکن میں نے ضبط سے کام لیا اور مسکراتے ہوئے کہا:

’’دو ہی دن تو رہ گئے ہیں تنخواہ میں ۔ ذراپیسے ملنے دو، اتنے پھل اور مٹھائیاں لاؤں گا کہ نیت بھر جائے گی۔‘‘

’’انشاء اللہ تنخواہ ملنے پر بھی پھل نصیب نہ ہوں گے۔‘‘ بیگم نے طعنہ دیتے ہوئے کہا: ’’تنخواہ ہی کتنی ہے۔ کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ آدھے پیسے قرض میں چلے جائیں گے۔ جو بچیں گے وہ نون تیل لکڑی کا خرچ ہے ہم تو اس دنیا سے ترستے ہی جائیں گے۔‘‘

میں بیگم کو بڑبڑاتا چھوڑ کر غسل خانے میں چلا گیا۔ واپس آیا تو کھانا میز پر لگ چکا تھا۔ بیگم ٹھنڈی پڑ چکی تھیںکہ اچانک پڑوس کی لڑکی برتن میں کچھ لائی۔ کھول کر دیکھا تو بھنے ہوئے مرغ کا ایک پیس تھا۔ لڑکی چلی گئی تو بیگم کو بڑبڑانے کا ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا:

’’لیجیے قریشی صاحب! مرغ کھائیے تاکہ کچھ ذائقہ تبدیل ہو اور یہ اپنے شاہی باورچی خانے کی پکی ہوئی مسور کی دال رہنے دیجیے۔‘‘

مجھے غصہ آگیا۔ آخر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ میں نے مرغ کی پلیٹ زمین پر دے ماری اور کھانا اسی طرح چھوڑ کر اپنی بیٹھک میں آگیا۔ میں نے کواڑ بند کرلیے اور چارپائی پر دراز ہوگیا۔ میرا دماغ پریشان خیالیوں کا گھونسلا بنا ہوا تھا جس میں کبھی غصے کے انڈے پیداہوتے کبھی پچھتاوے کے بچے جنم لیتے! میرے اس غصے کا یہ اثر ہوا کہ پانچ سات دن کے لیے فقرہ بازی اور نوک جھونک ختم ہوگئی لیکن اس کی صورت بالکل ایسی تھی جیسے دھواں دیتی ہوئی لکڑی پر راکھ کا ڈھیر پڑجائے۔ جونہی راکھ کی تہ کم ہوئی دھواں پھر اٹھنے لگتا ہے۔

ایک دن بیگم نے بڑے پھیر سے بات شروع کی:’’تمہاری پوسٹ کا کیا نام ہے قریشی صاحب؟‘‘

’’میں دفتر میں کلرک ہوں اور کیا ہوتا۔‘‘

’’کلرک … یعنی عہدہ کیا ہوا؟‘‘

’’کلر ک کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا، کلرک ہر رنگ میں اور ہر کرسی پر کلرک ہی ہوتا ہے۔‘‘

’’تنخواہ کتنی ہے تمہاری؟‘‘

’’نو ہزار آٹھ سو۔‘‘

’’اور ان کی، ہمارے پڑوسی کی تنخواہ؟ یہ تو کہیں افسر لگے ہو ںگے؟‘‘

’’نہیں یہ بھی کلرک ہے ایک اور دفتر میں۔‘‘

’’توکیا اس کی تنخواہ بھی نو ہزار آٹھ سو ہے؟‘‘

’’نہیں آٹھ ہزار چھ سو۔‘‘

’’یعنی تم سے بھی کم؟ بالکل جھوٹ، اگر یوں ہے تو پھر یہ اللّے تللّے کہاں سے ہوتے ہیں؟‘‘

’’کوئی اور ذریعہ ہوگا تم چھوڑو اس بات کو، ممکن ہے کوئی زمین ومین ہو!‘‘

اس بات پر گفتگو ختم ہوگئی۔ بیگم باورچی خانے میں چلی گئیں اور میں سوچنے لگا، اب انھیں کیا بتاؤں، نادر خاں صوفہ سیٹ کیسے خریدلیتے ہیں۔ زیور کیسے بنوالیتے ہیں اور امیرانہ ٹھاٹ سے کیسے بسر کرلیتے ہیں۔ یہ بھولی بیگم کیا جانیں کہ یہ سب رشوت کی ریل پیل ہے۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ بیگم کے دل میں میری وقعت کم ہونے لگی ہے۔ وہ مجھے نکما سست، بلکہ کچھ کچھ منحوس سمجھنے لگی ہیں۔ وہ صرف یہ سوچتی ہیںکہ نادر خاں اور اُن کا شوہر دونوں کلرک ہیں۔اور یہ منطق اُن کی سمجھ میں نہیں آتی کہ پڑوس میں یہ رنگ رلیاں کیوں ہیں اور اگر وہاں ہیں تو ہمارے یہاں کیوں نہیں۔ اور اگر نہیں تو اُن کا یقین ہے کہ یہ اُن کے شوہر کا نکما پن بلکہ بدھوپن ہے۔ میں نے بارہا سوچا، میں اپنا یہ مکان چھوڑدوں، لیکن شہر میں کرائے پر مکان آسانی سے کہاں ملتے ہیں۔ میں نے بڑی دعائیں مانگیں، ان نادر خاں کا تبادلہ کہیں اور ہوجائے۔ لیکن ایسی دعائیں کہاں قبول ہوتی ہیں۔ ایک دن بیگم ہانپتی کانپتی میرے کمرے میں آئیں:

’’میں نے پتہ چلا لیا ہے کہاں سے آتا ہے پیسہ ان کے پاس۔ رشوت لیتے ہیں منہ مانگی!‘‘

’’پھر بیگم صاحب! اس اطلاع سے مجھے کیا فائدہ پہنچے گا؟‘‘

’’تم کیوں رشوت نہیں لیتے؟ ایک آدمی کا کام اٹکا ہوا ہے، تم اُس پرخاص توجہ دیتے ہو۔ اس بے چارے کی مشکل حل ہوجاتی ہے وہ تمہیں اس خاص توجہ کا بدلہ دے دیتا ہے۔ اس میں کیا برائی ہے؟ یہ تو حقِ محنت ہے۔‘‘

’’ہمیں ہماری محنت کا حق تنخواہ کی شکل میں مل جاتا ہے، ہم اور پیسہ لینے کے حق دار نہیں۔‘‘

معاف کرنا قریشی صاحب! تم بدھو ہو۔ تنخواہ محنت کا صلہ ہے اور یہ کسی کے ساتھ خاص ہمدردی برتنے کا صلہ ہے۔‘‘

’’ہمیں سبھی کے ساتھ ہمدردی برتنی چاہیے، کسی کی تخصیص کیوں ہو؟‘‘

’’تم نہیں سمجھو گے، یہ تو کنواں کھودنا اور پانی پینا ہے۔ دماغ لڑاؤ۔ ہیرا پھیری کرو۔ کاغذات میں ادلا بدلی کرو، کیا اس سب میں محنت نہیں ہوتی؟ دماغ نہیں لڑتا؟ پھر کسی سے کچھ معاملہ طے ہوگیا تو اس میں تمہیں کیا اعتراض ہے؟‘‘

’’آج تم بڑی چبا چبا کر باتیں کررہی ہو۔ اس سے پہلے تو تم ایسی عقل مند نہ تھیں۔ یہ کہاں سے اچانک علم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا؟‘‘

’’پڑوسن کہہ رہی تھی، بلکہ یوں بھی کہتی تھی کہ تمہارے خاوند سیدھے ہیں، بے چارے پرانے وقتوں کے آدمی ہیں۔ زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں جانتے۔‘‘

میرے بارے میں پڑوسن کے یہ ارشادات سناکر بیگم میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں: ’’آخر اپنی عادت میں تم ذرا سی تبدیلی کیوںنہیں کرلیتے؟ دیکھونا ! حالات بالکل بدل جائیں گے۔ گھر میں خوش حالی نظر آئے گی۔ میرے پاس بھی گہنا ہوگا۔ تمہارے بھی پانچ دس سوٹ سل جائیں گے۔ بچے سوکھ کر کانٹا ہوگئے ہیں ان میں بھی جان سی پڑ جائے گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں پڑوسن سے آنکھ ملانے کے قابل ہوجاؤں گی۔‘‘

میں بیگم کی اِس بے کیف تقریر سے جھلا گیا۔ میں نے سوچا اِس عورت کو سمجھاؤں کہ یہ رشوت ہے کھلی رشوت ۔ الفاظ کے خوش نما پردے ڈالنے سے اس حقیقت کے مکروہ چہرے کی بدنمائی دور نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں جانتا تھا کہ میری ایسی باتیں اُن کے پلّے نہیں پڑسکیں گی۔ میں نے مختصرجواب دیا:

’’بیگم! یہ رشوت نہ سہی، آرٹ سہی، فن کاری سہی، استادی سہی، کچھ سہی، یہ میری طبیعت کے خلاف ہے۔ میں مرجاؤں گا لیکن کسی سے ایک پیسہ ناجائز نہ لوں گا۔‘‘

بیگم نے کہا: ’’وہ دن میری زندگی کا منحوس ترین دن تھا جب میں تم جیسے الو سے بندھی تھی، کاش میرا باپ آنکھوں دیکھتے مکھی نہ نگلتا۔‘‘

میں نے طنزاً کہا:’’شاید اُس وقت تک تو نادر خاں بھی کنوارے رہے ہوں گے۔ اُن کا کھوج لگا کر اُن کو پیغام دے دیا ہوتا۔ ساری زندگی عیش و راحت میں گزرتی۔‘‘

بیگم نے غصہ بھری نظروں سے مجھے گھورا اور زور سے دروازہ بند کرکے چلتی بنیں—نادر خاں واقعی رشوت لیتا تھا۔ وہ ایسے محکمے میں تھا، جہاں رشوت موسلا دھار بارش کی طرح برس رہی تھی۔ پھر نادر خاں جیسی ذہنیت کے لوگ اس سودا بازی کے عادی ہوجاتے ہیں۔ صاف کہہ دیتے ہیں، اتنے دو تو دو منٹوں میں کام بنتا ہے ورنہ مہینوں چکر کاٹنے پڑیں گے اور ہوسکتا ہے آخر میںناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ بہرحال رشوت لینے کے لیے سینکڑوں گُر یہ جانتے ہیں۔— میرا ذہن، اس قسم کے لوگوں سے موافقت نہیں کرسکتا۔ کتنے مجبور اور غریب لوگ اپنی مشکلات میں الجھ کر نہ جانے کن کن دقتوں سے پیسہ حاصل کرتے ہیں اور ان کی جیبیں بھرتے ہیں۔ شاید کسی معصوم بچی کے کانوں کی بالیاں بک گئی ہوں۔

شاید کسی سے سود پر قرض لینا پڑا ہو۔ شاید چھوٹے بچوں کا پیٹ کاٹ کر یہ پیسہ ادا کیا ہو۔ کچھ بھی ہو میرا ذہن تویہ ہے کہ ایسے آدمیوں کو گولی مار دی جائے یا چوراہے پر کھڑا کرکے عبرت ناک سے عبرت ناک سزا دی جائے، بھلا مجھے بیگم کہتی ہیں: تم رشوت لو۔

نادر خاں میرا پڑوسی ہی تو ہے، اُس سے ملنا بھی ہوتا رہتا ہے۔ اس کی جیب میں ہر وقت نوٹوں کے گڈے کے گڈے ٹھنسے رہتے ہیں۔ اور میں ایک بات احتیاطاً چھپا رہا ہوں کہ وہ طوائفوں کے بازار بھی جانے لگا ہے۔ میں یہ اس لیے ظاہر نہیں کرتا کہ اپنی بیوی سے کہوں گا تو وہ لازماً پڑوسن سے کہے گی اور ایک عورت کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی حادثہ نہیں ہوتا کہ اُس کا خاوند اس کے سوا کسی اور کے بستر پر بھی لیٹا ہے اور اس کی محبت میں دوسروں کو بھی حصہ دار بنا چکا ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ نادر خاں جوا بھی کھیلنے لگا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ چوری چھپے شراب پینے کا بھی عادی ہوچکا ہے۔ وہ تیزی سے تباہی کی طرف جارہا ہے اور بظاہر اُس نے ایک گاڑی بھی خرید لی ہے۔ اُس کی ناجائز دولت نے اُسے بربادی کی دلدل میں دھنسا دیا ہے اور بظاہر اُس کے یہاں ایک قیمتی فریج اسی ہفتے آیا ہے۔ پرسوں نادر خاں کے یہاں بڑا بھاری میلاد تھا، اور اس نے محلے کی زیرِ تعمیر مسجد کے لیے بھی معقول چندہ دیا ہے یہ کہہ کر کہ گاؤں سے فصل کی رقم آئی ہے، حالانکہ اس کے پاس انچ بھر بھی زمین نہیں اور نمازیوں نے آپس میں کہا کہ آدمی ہو تو ایسا ہو راحت اور فراخی کے زمانے میں خدا کو نہ بھولے۔ اور کل رات نادر خاں ایک بڑے شہر کی طرف روانہ ہوگیا ہے اور میں جانتا ہوںکہ کیوں گیا ہے۔اور اس کی بیوی مطمئن ہے کہ نادر خاں نے رخصت ہوتے وقت محبت کے بھر پور جذبے کے ساتھ اُس کی پیشانی چومی اور کہا: فریدہ! دفتری کام سے جانا پڑ رہا ہے۔ لیکن تمہاری جدائی کا ایک ایک لمحہ دل پر پہاڑ بن جائے گا۔ اس کی بیوی نے سوچا، کتنی محبت کرتے ہیں خاں صاحب مجھ سے۔

میرا بچہ بیمار ہے۔ اسے ٹی بی ہوگئی ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر نے دوائیں اور انجکشن لکھے ہیں۔ پھر ڈاکٹر کی فیس ہے۔ پھر بچے کے لیے عمدہ غذا، دودھ اور پھل— یہ تمام خرچ منہ پھاڑے میرے سامنے کھڑے ہیں۔ مجھے فوری طور پر دس سے پندرہ ہزار کی ضرورت ہے اور آج صرف پندرہ تاریخ ہے اور پہلی تاریخ کو جو تنخواہ ملی تھی، اس میں سے نصف سے قرض ادا ہوگیا تھا، دو سو روپے بیگم نے اپنے ایک ضرورت مند رشتہ دار کو دے دیے۔ پھر میرے ایک رشہ دار کا انتقال ہوگیا، اس میں بھی کچھ اضافی خرچہ کرنا پڑا۔ اب میری جیب میں صرف دو ہزار روپے ہیں اور آج پندرہ تاریخ ہے اور میرا بچہ بری طرح کھانس رہا ہے اور بخار میں جل رہا ہے۔

بیگم نے مجھ سے کہا: ’’ایسی مجبوری کے وقت ایک آدھ جگہ سے رشوت لینے میں کیا برائی ہے۔ تیسرے دن تو مردار بھی حلال ہوجاتا ہے۔ بچے کی حالت دیکھو۔ میرے لال کو کچھ ہوگیا تو میں جنم جلی کیا کروں گی۔‘‘

’’مجھ سے رشوت کی بات نہ کرو بیگم! میں بچے کی قربانی دے دوں گا لیکن نادر خاں کے نقشِ قدم پر نہ چلوں گا۔‘‘

’’تو کیا میں پڑوسن سے مانگ لوں؟‘‘

’’نہیں، رشوت کا روپیہ میں بچے کی بیماری پر نہ لگاؤں گا۔‘‘

’’لیکن ہم تو ادھار لے رہے ہیں۔‘‘

’’کچھ بھی ہو روپیہ رشوت کا ہے۔‘‘

’’تمہاری مت ماری گئی ہے۔ میںتو اپنے آپ ہی کو کوسنے دوں گی جس نے مجھے ایک مٹی کے مادھو، ایک پتھر کے بت کے پلّے باندھ دیا۔ تم کان کھول کر سن لو۔ اگر میرے بچے کو کچھ ہوگیا تو میں اپنا بچہ تم سے لے لوں گی۔‘‘

بچے کی تکلیف بڑھتی گئی۔ اُسے بلغم میں خون آنے لگا۔ ادھر گرمی بلا کی پڑ رہی تھی، ڈاکٹروں نے مشورہ دیا اسے فوراً سینی ٹوریم لے جاؤ، ورنہ یہ یہاں نہ بچ سکے گا۔ ڈاکٹروں کے اس فیصلے کو تین دن ہوچکے تھے۔ بیگم کی بات چیت مجھ سے ٹوٹ چکی تھی۔ چوتھے دن دفتر سے واپسی پر میں نے بیس ہزار کی گڈی بیگم کے سامنے ڈال دی، وہ چونکیں، انھوں نے جلدی جلدی نوٹ گنے، پھر انھوں نے اطمینان اور تشکر سے مجھے دیکھا۔

’’کیا قرض ملے ہیں؟‘‘ بیگم نے تجسس کے ساتھ سوال کیا۔

’’قرض کون دیتا!‘‘

’’اچھا، میں سمجھ گئی۔ آخر اس میں برائی ہی کیا ہے۔ یہ تو انسان کی محنت کا صلہ ہے۔ اُس کی خاص توجہ کی قیمت!‘‘

میں سر جھکائے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

ہم اگلے ہی روز بچے کو سینی ٹوریم لے کر روانہ ہوگئے اور اسے داخل کراکے تیسرے دن گھر لوٹ آئے۔ دو تین ہزار روپے میں گھر بار کو ٹھیک ٹھاک کیا گیا۔ بیگم کے لیے کپڑا لتّا خریدا گیا۔ انھوں نے میرے لیے ریڈی میڈ قمیص اور پتلونیں خریدیں۔ میرے لیے دھوپ کا چشمہ خریدا گیا۔ کہنے لگیں: یہ تحفہ ہے میری طرف سے۔ بیگم خوش رہنے لگیں۔ اگر بچہ بیمار نہ ہوتا اور اس کی تکلیف کا احساس دل میں نہ ہوتا تو شاید وہ آنگن میں کدکڑے لگاتی پھرتیں۔ مختصر یہ کہ بیس ہزار روپے نے گھر کانقشہ ہی بدل دیا۔

یہ روپیہ آئے ایک مہینہ ہوچکا تھا۔ پڑوسن چند دن ہوئے اپنے میکے چلی گئی تھی۔ نادر خاں گھر پر تنہا تھا۔ مجھے ایک دن کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ اگلے دن آیا۔گھر کے دروازے میں قدم رکھا تو بیوی نے کلیجہ تھامتے ہوئے کہا :

’’کچھ سنا تم نے، رات پولیس نادر خاں کو پکڑ کر لے گئی۔‘‘

’’کیوں؟ خیر تو ہے؟‘‘

’’وہ کوئی عورت لے آیا رات۔ ایک دو آدمی اور تھے۔ پولیس نے چھاپہ مارا، سب کو پکڑ کر لے گئی۔‘‘

میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں جانتا تھا، ایسا ہونا کوئی خلافِ توقع بات نہیں۔ پاپ کی نیا ضرور ڈوبتی ہے، چاہے بھر کر ہی سہی۔‘‘

اگلے دن اخباروں کی خبر سے پتہ چلا کہ نادرخاں نے مبینہ طور پر دو لاکھ روپے رشوت لی تھی۔ پولیس نے تلاشی کے خیال سے گھر پر چھاپہ مارا۔ وہاں نادر خاں رنگ رلیاں مناتا ہوا پکڑا گیا۔ پولیس نے ایک لاکھ کے قریب رشوت کی رقم بھی برآمد کرلی۔

یہ خبر پڑھ کر بیگم کے چھکے چھوٹ گئے، انھوں نے ہانتپے ہوئے کہا:’’تم بھی تو بیس ہزار روپیہ لائے تھے!‘‘

’’ہاں لایا تھا۔‘‘

’’رشوت کے تھے نا!‘‘

’’ہاں رشوت کے، اب میں بھی پکڑا جاؤں گا، شاید تین سال کے لیے جیل میں جانا پڑے۔ رسوائی الگ، نہ معلوم رہا ہوکر آؤں تو بچے کو زندہ پاسکوں یا نہیں۔ کاش میں تمہارے بہلاوے میں آکر یہ برائی نہ کرتا اور مطمئن ہوکر اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتا۔‘‘

’’کیا بچ نہیں سکتے کسی طرح؟‘‘

’’دو چار دن بچ گیا تو کیا ہو، قانون کی آنکھ سے زیادہ دیر کون چھپ سکتا ہے۔ اور اس بچنے اور چھپنے میں کیا مزا۔ ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اب پھنسے اب گرفتار ہوئے۔‘‘

بیگم نے کانپ کرمیرا ہاتھ تھام لیا: ’’قریشی صاحب! ہماری تو وہی زندگی اچھی تھی، جس میں کوئی کھٹکا، کوئی دھڑکا نہ تھا۔ روکھی سوکھی کھاکر آرام سے پاؤں پسار کر سوجاتے تھے۔ دل کو بھی سکون تھا اور ضمیر بھی مطمئن۔ اب تو چوروں اور مجرموں کی سی زندگی ہوگئی ہماری۔ لعنت ایسے حرام کے پیسے پر۔ ہاے اللہ کیا ہوگا اب!‘‘

بیگم پر کچھ ایسا صدمہ گزرا کہ وہ بے ہوش ہوگئیں۔ میں ان کی بے ہوشی پر مسکرا دیا۔ مجھے خوشی یہ تھی کہ حالات اور واقعات نے بیگم کے سامنے اچھائی اور برائی کا فرق واضح کردیا تھا اور اُن کو یقین ہوگیا تھا کہ ایک پاک زندگی چاہے افلاس اور تنگ دستی میں گزرے، خوشیوں، برکتوں اور راحتوں سے لبریز ہوتی ہے اور وہ زندگی جو حرص و ہوس، حرام خوری، حق تلفی اور گم راہی کے راستے پر چلتی ہے، ریت کا گھروندا ثابت ہوتی ہے۔

میں نے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے دئیے۔ انھوں نے آنکھیں کھول دیں اور چونک کر کہا: ’’کیا پولیس آگئی؟‘‘

’’نہیں! پولیس ہمارے یہاں نہیں آسکتی، ہم نے رشوت نہیں لی بیگم! وہ پراویڈنٹ فنڈ کا روپیہ تھا۔ میری جائز کمائی کاروپیہ۔ مجھے اچانک خیال آگیا کہ میرا اپنا پیسہ بھی تو حکومت کے پاس جمع ہے۔ بس میں نے اُس کا کچھ حصہ نکلوالیا۔‘‘

فرطِ مسرت سے بیگم کی چیخ نکل گئی۔ انھوں نے بے اختیار مجھے چومنا شروع کردیا۔ میری آنکھوں میں فخر اور اطمینان کی چمک تھی!!

اگلے دن سینی ٹوریم سے ڈاکٹر کا فون آیا۔ آپ کا بچہ تیزی سے صحت یاب ہورہا ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر عاصی کرنالی

Leave a Reply