BOOST

کیمرہ چوک پر رکھا ہوا ہے

کیمرہ چوک پر رکھا ہوا ہے۔ لیکن ہر کوئی بغور دیکھتی آنکھوں سے بے خبر زندگی کے بازار کی رنگینی اور سنگینی میں کھویا ہوا ہے۔ کیمرے کی اسکرین پر کہیں بھاگتے قدموں کی دھول دکھائی دیتی ہے … اور کہیں رینگتے انسانوں کی خراشیں!

کیمرے میں نظر آنے والے ہر شخص کی پیشانی پر کمپیوٹر کی اسکرین نمودار ہے… کسی نے ماتھے پر ضرورت کا سائن بورڈ آویزاں کیا ہوا ہے … کسی کی چمکتی پیشانی پر سہولت کا فلک شگاف نعرہ درج ہے… اور کسی کی جلتی بجھتی کھردری جبیں پر سرخ حرفوں میں ’’مجبوری‘‘ لکھا ہے… انھی لوگوں کے بیچ ایسے دھول دھول چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں جن کی پیشانیاں بجھی ہوئی ہیں… ان بجھی پیشانی والوں کے جسم پر لباس کے نام پر چیتھڑے جھول رہے ہیں … وہ روشن پیشانی والوں کا دامن پکڑ کر ان کے قدموں میں سرجھکاتے ہیں… لیکن روشن پیشانیاں ان متروک پیشانیوں پر ٹھوکر رسید کرکے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

کیمرہ جھنجھلا کرادھر ادھر گھومتا ہے… اور پھر منہ اٹھا کر آسمان پر اڑتی چیلوں کو گھورنے لگتا ہے۔

کیمرہ نیچے آتا ہے تو مناظر میکرو سے مائیکرو ہوتے ہوئے پانی کی ایک دکان میں تبدیل ہوجاتے ہیں … جہاں خریداروں کا تانتا بندھا ہے…ہر کوئی دوسرے،تیسرے، گیارہویں بارہویں کو رگیدتے ہوئے دکان کی سلاخوں تک پہنچنے کی جستجو میں ہے۔ طاقت ور کمزور لوگوں کو گردن سے پکڑ کر مجمع کے کناروں پر بے دردی سے پھینک رہے ہیں۔ کمزور لوگ مزید ناتواں افراد کو گریبانوں سے گھسیٹ کر سڑک کے اس کنارے پر گھسیٹ رہے ہیں جہاں بجھی پیشانی والوں کا ڈھیر پڑا ہے۔ طاقت وروں سے زیادہ طاقت ور عوام کے سروں پر کیچڑ میں لتھڑے پیر رکھتے ہوئے دکان کی سلاخیں چھونے میں کامیاب ہورہے ہیں … ایک عجیب چیخ پکار کا عالم ہے… دکان کی سلاخیں تھامنے والے طاقت ور کمزور لہجوں میں پکار رہے ہیں۔

’’سو روپئے کا پانی … پانچ سو روپئے کا پانی… ان سارے سکوں کا پانی!!!‘‘

عوام کی آہ و پکار سے بے پرواہ تین چار ملازم چمچہ چمچہ گن کر بوتلوں میں پانی بھر رہے ہیں … اور پچیس تیس ملازم نوٹ گننے میں مصروف ہیں… دکان کا مالک لالچ بھری مسکراہٹ سے نوٹوں کے جلترنگ دیکھتا ہے… پھر بلکتے عوام پر رعونت بھری نظر ڈالتا ہے… اور سفاک ہونٹوں کے گوشوں پر مکارانہ مسکراہٹ کھینچتے ہوئے دکان کا شٹر گرادیتا ہے… دکاندار کی اس حرکت پر بوکھلائے ہوئے عوام تڑپ اٹھتے ہیں… ان کی فریادیں ٹریفک کے شور پر حاوی ہوجاتی ہیں… ہجوم کے کنارے مچھلی کی طرح تڑپتی کٹی جلتی بجھتی پیشانیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتی ہیں… دکاندار عوام کی تڑپ دیکھ کر دکان کے چبوترے پر آکر اعلان کرتا ہے۔

’’پانی کی صرف ایک بوتل رہ گئی ہے… باقی پانی آنے میں دوگھنٹے لگیں گے!‘‘

دو گھنٹوں پر مجمع بلبلا اٹھتا ہے… آہ وفغاں کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ بھیڑ میں کھلبلی کی لہر دوڑتی ہے۔ اور پھر اچانک اس شور کو چیرتی ہوئی ایک جاں بہ لب فریاد بلند ہوتی ہے۔

’’دو گھنٹوں میں تو میں پیاسا مرجاؤں گا۔‘‘

دکاندار چمکتی ہوئی بوتل ہاتھ میں اٹھا کر چلاتا ہے:’’جس نے زیادہ دام دیے… یہ بوتل اس کی ہوئی۔‘‘

ایک بار پھر مجمع میں غم و غصے کا طوفان اٹھتا ہے … پیاس سے بلکتے عوام بپھر کر آتی جاتی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں … دکانوں کے شٹرز پر پتھر پھینکتے ہیں… اچانک ایک ماچس کی تیلی جلتی ہے…اور پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک گاڑی سے آگ کے بھڑکتے شعلے بلند ہوتے ہیں… شعلوں کے ساتھ ساتھ پیاس میں ڈوبی کئی بے قرار آوازیں بلند ہوتی ہیں۔

’’میں ایک ہزار دیتا ہوں، یہ بوتل مجھے دے دو… میں دو ہزار دیتا ہوں… دس ہزار … پچاس ہزار … ایک لاکھ… دس لاکھ۔‘‘

دس لاکھ کے نام پر بھیڑ کو سانپ سونگھ جاتا ہے … لوگ غش کھا کر گرتے ہیں اور سناٹا دور دور تک پھیل جاتا ہے… اس سناٹے کو بیک وقت کئی گاڑیوں کے بریک لگنے کی آواز توڑتی ہے… محافظ کار کا دروازہ کھولتے ہیں… دروازہ کھلتے ہی کوٹ پیس میں ملبوس شخص غرور سے گردن اکڑائے اترتے ہوئے بولی لگاتا ہے۔

’’بیس لاکھ!!!‘‘

دور تک طاری سکوت پر پیاس کے بھاری پتھر گرتے ہیں… دکاندار تڑپتے عوام کی آنکھوں کے سامنے بوتل لہراتے ہوئے چلاتا ہے۔

’’’بیس لاکھ ایک!!!… بیس لاکھ دو!!! … بیس لاکھ تین!!!‘‘

مجمع بے بسی کی تصویر بنا پیاسی آنکھوں سے ہوا میں لہراتے پانی کی بوتل میں بند سمندر کو دیکھے جاتا ہے۔ کار سے اترنے والا اپنی ٹائی کی ٹاٹ درست کرتے ہوئے تضحیک آمیز نظروں سے عوام کے پیاسے سمندر کو دیکھتا ہے… اور اپنے روبوٹ نما محافظوں کے جھرمٹ میں بھیڑ کو چیر کر لہراتی بوتل کی طرف بے تابانہ قدم بڑھا دیتا ہے۔

اتنے میں ایک تشنہ لبی سے پر صد اسماعتوں میں چھید کر ڈالتی ہے۔

’’یہ نا انصافی ہے … یہ ظلم ہے… حکومت کوہمارا کوئی احساس نہیں … میں بغاوت کرتا ہوں… مجھے اس شیطانی نظام سے چھٹکارا چاہیے۔‘‘

سانپ سونگھے ہجوم میں ایک بار پھر سرگوشیوں کی مکھیاں بھنبھنا اٹھتی ہیں… محافظ اچانک حرکت میں آتے ہیں اور بغاوت کا نعرہ بلند کرنے والے پر ٹوٹ پڑتے ہیں… باغی کی روح میں شگاف ڈالتی فریادیں بلند ہوتی ہیں … لیکن خوفزدہ مجمع کے جوشیلے نعرے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں… کار والا چلتے ہوئے دکاندار کے پاس آتا ہے… ایک محافظ جھولی میں بھرے نوٹ دکاندار کے قدموں میں ڈھیر کرتا ہے… کار والا بے تابی سے دکاندار کے ہاتھ سے بوتل اچکتا ہے… ڈھکن میں پانی ڈال کر پیتا ہے… پھر ڈھکن بوتل پر مضبوطی سے بند کرکے عوام کی طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے بوتل لہراتا ہے۔ اور خبیثانہ مسکراہٹ کے تیر عوام پر پھینکتے ہوئے محافظوں کے ساتھ واپسی کے قدم بڑھا دیتا ہے۔

دم سادھے ہجوم میں پھر اضطراب جاگتا ہے … سرگوشیاں بلند ہوتے ہوتے چیخوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں… کار والے کو القابات سے نوازا جاتا ہے اور پھر!!!

ٹھائیں !… ٹھائیں!… ٹھائیں!!!

محافظ بپھرتے عوام کو کار والے سے دور رکھنے کے لیے ہوائی فائر کرتے ہیں۔ لیکن عوام کا تشنہ لب ریلا زندگی کے لیے موت کا خوف بھلا کر کار والے پر ٹوٹ پڑتا ہے… کار والا عجلت میں پانی کی بوتل کھول کر منھ سے لگاتا ہے… لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزرجاتا ہے… عوام کا خشک لب سیلاب ایک پانی کی بوتل کے لیے موت کے کنوئیں میں گود پڑتا ہے… محافظوں کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں… عوام بھوکے پیاسے درندے کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ہیں… ہر طرف آہ و پکار مچ جاتی ہے… ہر طرف خون ہی خون پھیل جاتا ہے۔

اتنے میں فضا کسی کتے کی خوفناک غراہٹ سے تھرتھرا اٹھتی ہے… ایک دوسرے کو نوچتے کھسوٹتے عوام بری طرح چونک جاتے ہیں… اور سب جھگڑے ادھورے چھوڑ کر گرتے پڑتے بھاگنے لگتے ہیں… جس کے جہاں سینگ سمائے وہیں نکل گیا… لڑکھڑاتے اور رینگتے افراد مدد کا ہاتھ پھیلاتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ بھاگتے قدموں تلے روندھ دیے جاتے ہیں… ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں ہے… کتے کی غراہٹ قریب آتی جارہی ہے… اور خوف زدہ عوام ایک دوسرے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر چھپ رہے ہیں۔

اچانک ایک دیوہیکل بلڈاگ نمودار ہوتا ہے … جس کے جسم پر سونے کا لباس چڑھا ہے… کتا منتشر ہوتے ہجوم کو دیکھ کر ایک بار پھر غراتا ہے … اور لوگ خوف کے عالم میں گرتے پڑتے کونوں کھدروں میں چھپنے کی کوشش کرتے ہیں… سڑک پر جابجا لاشیں پڑی ہیں … کتا ایک لاش کے قریب آکر سونگھتا ہے… پھر دوسری لاش… پھر تیسری لاش… پھر سونگھتے سونگھتے سبز نمبر پلیٹ والی کار سے برآمد ہونے والے شخص کی لاش کے پاس ٹھہر کر چاروں طرف دیکھتا ہے … اور لاش کو بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر کھانے لگتا ہے… کتے کے ماتھے پر زریں حرفوں میں ’’دولت کا کتا‘‘ لکھا ہے۔

کیمرے کی اسکرین پر خون کے چھینٹے اچھلتے ہیں اور پانی کی خالی بوتل لڑکھڑاتے ہوئے کیمرے کی رینج سے دور نکل جاتی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
عمرانہ شمشاد

تبصرہ کیجیے