لاشوں کا درخت

آج وہاں گولی چلی تھی، وہاں دھماکا ہوا تھا۔ اور آج نکسلی دہشت گردوں نے ٹرین اڑا دی۔ سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔

جب ٹی وی پر یہ خبر آئی تو میرا قلم لکھ رہا تھا، لکھتے لکھتے تھم گیا، دیر تک سوچ بچار میں ڈوبا رہا۔

اور پھر قلم نے کہا:

تاریخ کے ہزار ہا صدیوں لمبے چوڑے مرغزار میں جہاں علم وحکمت کے پھول کھلتے ہیں، جہاں تمدنی اداروں کی کیاریاں سجی ہیں، جہاں وحی و الہام کے نغموں کی گونج سنائی دیتی ہے، وہاں ایک منظر ایسا ہے جسے دیکھ کر اس تمام فرحت و انبساط کا خون ہوجاتا ہے جو مرغزار تاریخ کی گلگشت سے حاصل ہوتی ہے وہ ایک درخت ہے، جس سے لاشوں کا پھل اترتا ہے۔ اس درخت پر شعلوں کے پھول آتے ہیں جن سے کڑوا دھواں اٹھتا رہتا ہے۔ اس درخت کی ہر کونپل سے انسانی خون رستا ہے۔ بے شمار آدم خور اس کے سائے میں محفل جماتے ہیں۔ لاشوں کی بوٹیاں اڑاتے ہیں اور خون سے ساغر بھر بھر کر سرشار رہتے ہیں۔

قاتل کا جذبہ، خواہ وہ گولی کی شکل اختیار کرے یا بم دھماکہ کی یا خنجر کی نوک کا روپ دھار لے، اس شجرئہ خبیثہ کا بیج ہے۔

اس شجرئہ خبیثہ کے کاشتکاروں نے ہر دور اور ہر ملک میں لاشوں کے بے شمار درخت اگائے اور ایسے صدہا درختوں نے سارے چمن تاریخ کو مہیب جنگل بنا رکھا ہے۔ لالہ و گل کی کیاریوں کا حسن اور مہکتی بیلوں کی رنگینی و لطافت غارت ہوگئی ہے۔

٭٭٭

اور قلم نے کہا:

گولی کی فتح کے معنی ہیں، دلیل کی شکست۔ ایک فریق جس کی گولی کا نشانہ بن کر جسمانی موت مرتا ہے، دوسرا فریق اس کی دلیل سے چوٹ کھا کر اس سے پہلے ہی قلبی موت مرچکا ہوتا ہے۔ دلیل کی شکست کھانے والا پہلے گالی دیتا ہے اور پھر گولی چلاتا ہے۔ گالی دینے والے میں ٹھیک وہی ذہنیت پائی جاتی ہے، جو دلیل کے مقابلے پر گولی چلانے والے میں ہوتی ہے۔ گالی بزدلی کی ابتدا ہے اور گولی بزدلی کی انتہا۔

٭٭٭

انسانی زندگی کا بہت ہی بڑا روگ یہ ہے کہ وہ اختلاف کو سہار نہیں سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ جیسے وہ سوچتاہے … دوسرے بھی اسی طرح سوچیں اور جو کچھ وہ چاہتا ہے، دوسرے بھی وہی کچھ چاہیں۔ پھر وہ دعویٰ لے کر اٹھتا ہے کہ صرف اسی کا سوچنا برحق ہے اور صرف اسی کا نقطۂ نظر صحیح ہے۔ اسے دوسروں سے کچھ سیکھنا سمجھنا نہیں، دوسروں کو سکھانا اور سمجھانا ہے بلکہ ان سے لازماً کچھ منوانا ہے۔

یہی ذہنیت آخر کار گولی یا بم کا روپ اختیار کرتی ہے۔

٭٭٭

کوئی بات سمجھانے اور منوانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دلیل، دوسری کردار۔ کوئی شخص جب اپنی ذات اور اپنے مفاد کو درکنار رکھ کر محض صداقت کے مقام سے بولتا ہے تو دلیل اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے مفاد کو نصب العین بناکر بات کرتا ہے تو دلیل اس کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔

پھر جو شخص کسی ایسی سچائی کو لے کر اٹھتا ہے جس میں تمام انسانوں کی فلاحِ عامہ مضمر ہوتی ہے تو وہ پہلے قدم پر نفسانیت کی قربانی دے کر چلتا ہے۔ کردار اسی قربانی پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا ظرف وسیع ہوتا ہے، نگاہ بلند اور سخن دلنواز۔ وہ بے لوث طریق سے اپنی بات سامنے لاتا ہے تو وہ بے نیاز بھی ہوتا ہے۔ اس کا جذبہ بڑا ٹھنٹا اور اس کا منصوبہ بڑا طویل المیعاد ہوتا ہے۔ مگر نفسانیت کا مریض جب کوئی بات لے کر اٹھتا ہے تو اس کی طبیعت جلد باز ہوتی ہے۔ اس سے صبر نہیں ہوتا۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کی بات مانیں اور جلد مانیں۔ دیر ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس کا مفاد مارا گیا۔ مفاد کا تعلق تو محض آدمی کے دورِ عمر سے ہے۔

بات جب مفاد کی ہو، دوسروں سے اسے منوانے کا رجحان ہو، پھر جلدی بھی ہو تو انسان پست سے پست حرکت کرگزرتا ہے۔

پہلی قسم کے آدمی میں لوگوں کے لیے سچی محبت ہوتی ہے اور وہ ان کی خدمت کے لیے نکلتا ہے۔ اس لیے اس کی بات شیریں ہوتی ہے اور وہ دل موہ لیتا ہے۔ دوسری قسم کے آدمی میں اپنے سوا تمام انسانوںکے لیے شدید نفرت ہوتی ہے۔ الا آنکہ کوئی اس کا آلۂ کار یا حصہ دار بن سکے۔ وہ ان سے اپنے مفاد کی خدمت لینے کے درپے ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر دل اس سے دور ہوتے ہیں۔

٭٭٭

انسانی معاشرے میں ایسے لوگ جو ابنائے نوع کے قلب و دماغ کو مسخر کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس کے لیے راستی و صداقت کا سرمایہ، فکر واستدلال کی قوت، صبر وحوصلہ اور ظرف عالی کی خصوصیت اور نوع انسانی کے لیے گہرا جذبۂ محبت نہیں رکھتے وہ جب اپنے مرض مرکب کی وجہ سے اپنا مقصود حاصل نہیں کرسکتے اور جلد حاصل نہیں کرسکتے اور بار بار کی ناکامی ان کو زچ کردیتی ہے تو ان کا حال اس طفلِ ناداں کا سا ہوجاتا ہے جو گردو پیش کی اشیاء کو اشاروں سے مسخر کرنا چاہتا ہے مگر نہیں کرپاتا اور پھر چیختا ہے، اپنے ہی محبوب کھلونوں کو توڑ پھوڑ ڈالتا ہے اور اپنی ہی مشفق ماں اور اپنے بھائی بہنوں کے منہ نوچنے لگتا ہے۔

دوسروں پر اثر انداز ہونے کی بے پناہ خواہش کے یہ مجنوں اپنی کمزوری اور نالائقی کا انتقام معاشرے سے لینے کے لیے قاتل، زانی، چور، ڈاکو، جعلسازاور غنڈے بن جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں جان مال اور آبرو کی تباہی ہوتی رہتی ہے۔ مگر وہ حقیقت میں کبھی نہ تو بااثر بن پاتے ہیں، نہ معزز۔ یہ انسانیت کے حق میں درندے ہوتے ہیں۔ کچھ بھیڑئیے اور اژدہا جن کو بدن آدمی کا نصیب ہوجاتا ہے، ان میں سے ایک مجسم ایک چھرا ہوتا ہے، ایک خنجر اور ایک پستول۔

اسی برادری کے کچھ لوگ کسی نہ کسی راستے سے انسانوں کی گلہ بانی کے مرتبے پر بھی پہنچتے رہے ہیں اور اس سطح پر یہ فرعون اور ہامان، نمرود اور شدّاد، چنگیز اور ہلاکو و حجاج کے پیکروں میں جلوہ گر ہوکر بڑے خونخوار کارنامے چھوڑجاتے ہیں اور ان کے ہاتھوں لاشوں کے شجرئہ خبیثہ کے جنگل کے جنگل کھڑے ہوجاتے ہیں اور صدیوں تک انسانیت خون کی دھاروں اور لاشوں کے انباروں سے دوچار رہتی ہے۔

ذرا اس سرزمین کو دیکھئے جس میں امام حسین کے خون کے قطرے بوئے گئے تھے، وہاں بار بار لاشوں کی فصل اگتی ہے، کٹ جاتی ہے اور پھر نئی فصل کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کی گولی اس کے سینے میں اور اُس کا خنجر اس کے جگر میں۔ یہ چکر جب چل پڑتا ہے تو کہیں ٹوٹتا نہیں۔ اس چکر میں ہر مقتول قاتل ہوتا ہے اور ہر قاتل مقتول بنتا ے۔ پستول کا ہر دھماکہ اور خنجر کا ہر وار اس چکر کا تسلسل قائم رکھتا ہے۔

٭٭٭

یہ عنصر جو مرغزارِ تاریخ میں لاشوں کے درختوں کا ہمیشہ سے مالی ہے۔ کاش کہ تجربوں سے گزری ہوئی اس حقیقت کو جان سکتا کہ دلیل کی شکست کی تلافی چھرے اور گولی کی فتح سے نہیں ہوسکتی۔

٭٭٭

اور قلم نے کہا:

میں دلیل کی قوت کی علامت ہوں اور مجھے دنیا کو چھرے اور گولی سے بچانا ہے قلم کی فتح کے معنی دلیل کی فتح کے ہیں۔

اور قلم پھر لکھنے میں محو ہوگیا۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ا۔ش۔

Leave a Reply