ترقی کے ثمرات اور خواتین

مختلف ممالک میں ترقی کے عمل میں خواتین کے کردار پر اقوامِ متحدہ کے ادارے نے ایک بین الاقوامی سروے جاری کیا ہے۔ اس سروے کے اہم نکات خواتین اور دیگر قارئین کی عمومی دلچسپی او رتوجہ کے لیے یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔

معاشی فیصلہ سازی میں خواتین کا کردار

یورپ کے ممالک کی تنظیم برائے سلامتی اور تعاون (او ایس سی ای) کے رکن ممالک میں پارلیمانی خواتین ارکان کی تعداد کل ارکان کا ۳ء۲۱فیصد ہے۔ ترکی میں ۱ء۹ فیصد، سویڈن میں ۴۷ فیصد دو مختلف انتہائیں ہیں۔ براعظم امریکہ کے ممالک میں یہ شرح ۷ء۲۱ فیصد ، صحارا کے افریقی ممالک میں ۱ء۱۸ فیصد، ایشیا میں ۱۸ فیصد ، بحر الکاہل کے ممالک میں ۱۳ فیصد اور عرب ممالک میں ۷ء۹ فیصد ہے۔

امریکہ کی ۵۰۰ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خواتین چیف ایگزیکٹیو صرف ۲فیصد ہیں۔ یورپ میں یہ تعداد ۷ فیصد ہے۔ ۴۶ فیصد یورپی کمپنیوں کے بورڈز آف گورنرز یا ڈائریکٹرز میں ایک بھی خاتون رکن نہیں ہے۔ ۲۳ فیصد اداروں میں ایک سے زیادہ خواتین ارکان ہیں۔ امریکہ میں یہ تعداد ۱۳ فیصد سے کم اور کنیڈا میں ۱۱ فیصد ہے۔ یورپی یونین کے تمام مرکزی بینکوں کے سربراہ مرد ہیں۔ ان بینکوں میں فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی تعداد کل کا ۱۷ فیصد ہے۔

دنیا بھر کے ۷۰ ممالک کے اعداد و شمار کے مطابق صرف ۲۷ فیصد پوزیشنیں ایسی ہیں، جو قوت، اقتدار یا فیصلہ سازی کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔ کثیر قومی اداروں میں ۲۸ فیصد خواتین ترقی یافتہ ممالک میں ایسے اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ لاطینی امریکہ کے ممالک میں یہ شرح ۳۱ فیصد، ایشیامیں ۱۵ فیصد اور مشرقِ وسطیٰ میں ۹ فیصد ہے۔

امریکہ میں مالیاتی امور سے متعلقہ صنعت سے وابستہ ملازمین میں خواتین کی تعداد ۷۵ فیصد ہے۔ کمرشیل بینکوں میں ایگزیکٹیو عہدوں پر ۶ء۱۲ فیصد خواتین ہیں اور یہ تعداد ۵۰ بڑے بینکوں میں ہے۔ ایک امریکی کمرشیل بینک کی چیف ایگزیکٹیو ایک خاتون ہے۔ سو بڑے کریڈٹ یونین اداروں میں صرف ۸ میں عورت سربراہ ہے۔ امریکہ میں کاروباری فیصلہ سازی میں عورتوں کی تعداد صرف ۶ء۸ فیصد ہے۔

کاروباری خواتین کی مالیاتی خدمات تک رسائی

جنوبی افریقہ میں خواتین کو مالیاتی خدمات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ایک بڑے کمرشیل بینک کا گزشتہ دو سال کا بزنس بتاتا ہے کہ اس عرصے میں سیاہ فام خواتین اکاؤنٹ ہولڈرز کی تعداد صرف ۵ فیصد رہی ہے۔ یوگنڈا میں خواتین قرضوں کا صرف ۹ فیصد پاتی ہیں، ۹۱ فیصد مرد لے جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح ایک فیصد رہ جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کے بینکنگ سیکٹر میں بھی خواتین کی برائے نام تعداد ہے۔ خواتین بینک ڈیپازٹ کے ۲۷ فیصد کے برابر رقوم جمع کراتی ہیں جبکہ ان میں سے صرف ۸ء۱ فیصد کو کوئی قرضہ مل پاتا ہے۔ ان اداروں میں سے خواتین کے چھوٹے کاروبار کو صرف ۲ فیصد قرضہ مل پاتا ہے۔

غیر رسمی ذرائع سے قرض لینے والی خواتین کی تعداد گزشتہ سال ۱۵ کروڑ ۴۸ لاکھ تک جا پہنچی۔ یہ وہ خواتین ہیں جو خراب شرائط پر اور بڑے سود پر قرض لینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے ۱۰ کروڑ ۶۶ لاکھ خواتین انتہائی غریب ہیں۔ یہ تعداد ۴ء۸۳ فیصد بن جاتی ہے۔ چھوٹے قرض دینے والے ۱۴۷ بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ۶۴ فیصد خواتین انفرادی طور پر ۷۳ فیصد خواتین گروپ کی صورت میں قرض لیتی ہیں۔ ۸۹ فیصد خواتین ’’دیہی بینکوں‘‘ سے قرض کے لیے رجوع کرتی ہیں۔ یہ دیہی بینک خود ساختہ ہوتے ہیں اور ان کے چنگل سے نکلنا خوش قسمتی ہی کہی جاسکتی ہے۔

ملازمتیں، معاوضے او رکام کی نوعیت

خواتین نے بڑی تعداد میں گزشتہ برسوں میں زراعت کو بطور پیشہ خیر باد کہا ہے۔ اس کے باوجود ان کی غالب تعداد بھی زراعت پیشہ ہی ہے۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں زراعت پیشہ خواتین کی تعداد کل زرعی کارکنوں کی تعدا کا ۴ء۳۵ فیصد ہے۔ مرد حضرات ۲ء۳۲ فیصد ہیں۔ صحارا کے افریقی ممالک میں یہ شرح خواتین میں ۶۰ فیصد سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔

خصوصی مہارتوں کے معاملے میں خواتین بہت پیچھے ہیں۔ چین، فرانس، جرمنی، کوریا اور امریکہ میں صرف ۲۰ سے ۳۰ فیصد خواتین کمپیوٹر پروگرامنگ اور سسٹم اینالسٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ انفارمیشن اور کمیونی کیشن کے شعبہ میں گھانا میں خواتین ۷۰ فیصد ہیں۔

خواتین دنیا بھر میں مردوں سے ۵ء۱۶ فیصد کم معاوضہ لے رہی ہیں۔ان کی بڑی تعداد گورنس یا آیا کے طور پر کام کررہی ہے۔ افرادی قوت میں ان کی تعداد ترقی یافتہ ممالک میں ۳۲ اور ۵۴ فیصد کے درمیان ہے۔

ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت کے لیے جس بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ ہوتا ہے، انھیں اس کا عشر عشیر بھی مل جائے تو ان کی تعداد میں ہر جگہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے معاوضے مردوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ اس لیے انھیں کم اہمیت کی ملازمتیں زیادہ ملتی ہیں۔ ان میں مشقت زیادہ اور آمدنی کم ہی رہتی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
مرزا محمد الیاس

Leave a Reply