باورچی خانہ اور گھر کی صحت

کھانا پکانا

امورِ خانہ داری میں نہایت اہم کھانا پکانا ہے، جس کے ذریعہ خواتین کے ذوق اور سلیقہ کا پتا چلتا ہے۔ ایک سلیقے مند اور باذوق گھر کی مالکہ کم خرچ میں بہترین اور لذیذ غذائیں تیار کرتی ہے۔ لیکن ایک بدسلیقہ خاتون زیادہ خرچ کرکے بھی مزیدار کھانے تیار نہیں کرپاتی۔ خواتین لذیذ اور مزے دار کھانوں کے ذریعہ اپنے شوہر کو گھر کی طرف راغب کرسکتی ہیں، جو خواتین اس گُر سے واقف ہیں، ان کے شوہر خوش ذائقہ کھانوں کے شوق میں ہوٹلوں میں وقت اور روپیہ نہیں گنواتے۔

اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:

’’تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جو اپنے بدن میں خوشبو لگائے۔ کھانا پکانے کے فن میں ماہرہو اور زیادہ خرچ نہ کرے۔ ایسی عورت کا شمار خدا کے عمال میں ہوگا اور خدا کے عامل کو کبھی بھی شکست اور پشیمانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘

صحت بخش غذاؤں کے لیے اس موضوع پر ماہرین کی لکھی کتابوں اور اپنے ذاتی تجربہ و سلیقہ سے کام لے کر کھانے تیار کیے جاسکتے ہیں البتہ یہاں چند باتوں کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے:

۱- کھانا صرف لذت حاصل کرنے اور پیٹ بھرنے کی خاطر نہیں کھایا جاتا بلکہ کھانا کھانے کا مقصد صحت و سلامتی کا تحفظ اور بدن کے خلیوں کو زندہ رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو بہم پہنچانا ہے۔ لازمی اجزا، مختلف قسم کی غذاؤں، پھلوں، سبزیوں، دالوں اور گوشت وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر انھیں چھ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱- پانی

۲- معدنی مواد مثلاً کیلشیم، فاسفورس، لوہا، تانبا

۳- نشاستہ ( starch) والی چیزیں

۴- چربی

۵- پروٹین

۶- مختلف وٹامن مثلاً وٹامن بی، وٹامن سی، وٹامن ڈی وغیرہ۔

انسان کے بدن کا زیادہ تر وزن پانی کے ذریعے تشکیل پاتا ہے، پانی منجمد غذاؤں کو حل کرتا ہے تاکہ آنتوں کے ذریعہ جذب ہوجائیں۔ بدن کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔ معدنی مواد دانتوں اور ہڈیوں کی نشوونما اورعضلات کے کام کی تنظیم کے لیے بھی لازمی ہے۔

نشاستہ اور شکر والی چیزیں انرجی پیدا کرتی ہیں۔ چربی انرجی اور حرارت پیدا کرتی ہے۔ پروٹین بدن کی نشوو نما اور پرانے خلیات کی تجدید کے لیے ضروری ہے۔ وٹامن بدن کی نشوونما، ہڈیوں کی مضبوطی اور اعصاب کی تقویت اور بدن کی مشینری کو چلانے اور آنتوں میں غذاؤں کو جذب ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ مذکورہ مواد انسان کی صحت و سلامتی کے تحفظ اور زندہ رہنے کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا اہم رول ہے اور وہ جسم کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرتے ہیں، ان میں سے کسی کی بھی کمی یا زیادتی انسان کی زندگی و سلامتی کے لیے مضر ہے اور خطرناک امراض پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ سلامتی اور بیماری، عمر کی درازی اور کوتاہی، اعصاب کی سلامتی و نفسیاتی بیماریوں، خوشی و افسردگی، خوب صورتی و بدصورتی، غرض یہ کہ وہ تمام معاملات و اثرات جن سے انسان کا بدن دوچار ہوتا ہے، ان سب کا غذا کی کیفیت سے گہرا تعلق ہے۔

ہم جو کچھ کھاتے ہیں اسی سے ہماری نشوونما ہوتی ہے۔ اگر انسان جان لے کہ کیا چیز اور کتنی مقدار میں کھانی چاہیے تو کم بیمار پڑے گا۔ بدقسمتی تو یہی ہے کہ بدن کی غذائی ضروریات اور کھانے پینے کی چیزوں کی خاصیت پر توجہ دیے بغیر، انسان اپنے پیٹ کو مزے دار غذاؤں سے بھر لیتا ہے اور اپنی صحت وسلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور جب ہوش آتا ہے اس وقت پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے اور بدن کی نازک مشینری فرسودہ اور تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس وقت یہ طبیب اور وہ طبیب یہ دوا اور وہ دوا کی تلاش شروع ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ رنگ و روغن سے فرسودہ مشینری کی اب مرمت نہیں ہوسکتی۔ یہی سبب ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

’’پیٹ تمام بیماریوں کا مرکز ہے۔‘‘

عموماً غذا کا انتخاب کرنا عورتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ خاندان کی صحت و سلامتی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس بنا پر ایک خاتون خانہ کے کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اگر اس سلسلے میں ذرا سی بھی کوتاہی کی تو آپ کی، شوہر اور بچوں کی تندرستی سخت خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کھانا پکانے کے فن میں مہارت رکھنے والی کو ایک مکمل غذا شناس بلکہ ایک ماہر غذا بھی ہونا چاہیے، اس کا مقصد صرف گھر والوں کا پیٹ بھرنا ہی نہ ہو بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے مرحلے میں صحت وسلامتی کی حفاظت اور بدن کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جس مواد کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا دھیان رکھے اور اس بات سے واقف ہو کہ کھانے پینے کی چیزوں میں کون کون سے اجزا شامل کرنا لازم ہے، اور کتنی مقدار میں ہونا چاہیے۔ اس کے بعد بدن کی مختلف ضروریات کے مطابق، کھانے پینے کی چیزوں کا انتخاب کرے اور اسے خوراک کے پروگرام کا جزو قرار دے۔ اسی کے ساتھ کوشش کرے کہ ضروری اور مفید غذاؤں کو اس طرح تیار کرے کہ وہ خوش ذائقہ اور مزیدار بھی ہوں۔

ایک عورت نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: شوہر کے گھر میں عورت کے خدمت کرنے کی کیا فضیلت ہے؟ فرمایا: ’’گھر کو چلانے کے لیے جو بھی کام انجام دے، خدا اس پر لطف کی نظر فرمائے گا اور جو شخص خدا کامنظور نظر ہوگا، وہ آخرت کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

۲- انسان کی غذائی ضروریات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتیں بلکہ مختلف سن و سال اور حالات کے مطابق ان میں فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً چھوٹے بچے اور نوجوان چوںکہ نشو ونما کی حالت میں ہوتے ہیں، ان کو معدنی مواد خصوصاً کیلشیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی غذا میں ان چیزوں کو شامل کرنا چاہیے، جن میں معدنیاتی اجزا موجود ہوں، بچے اور نوجوان چونکہ زیادہ فعال ہوتے ہیں بھاگ دوڑ اور کھیل کود میں ان کی انرجی زیادہ صرف ہوتی ہے، اس لیے ان کو انرجی والی غذائیں مثلاً چربی، شکر اور نشاستہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی غذا میں ان چیزوںکا لحاظ رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ہر انسان کی غذائی ضرورت کا تعلق اس کے شغل اور کاموں کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، مثلاً ایک مزدور پیشہ انسان کو چربی، شکر اور نشاستہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس کے کام میں محنت و مشقت زیادہ ہے، لیکن جن لوگوں کے کام آسان ہیں زیادہ محنت طلب نہیں، ان کو ایک مزدور کی طرح مذکورہ غذاؤں کی ضرورت نہیں ہے۔ گرمی کے موسم اور جاڑے کے موسم کے غذائی پروگرام بھی یکساں نہیں ہوتے۔ ایک بیمار کا غذائی پروگرام بھی صحت مند افراد کے غذائی پروگرام سے مختلف ہوتا ہے۔ عموماً بیمار آدمی کے لیے ہلکی اورمقوی غذائیں تیار کرنی چاہئیں، اس کے کھانے کے متعلق ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔ بہرحال ایک خانہ دار خاتون کو ان تمام باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے اور اپنے گھر کے ہر فرد کی ضرورت کے مطابق اس کے لیے غذا تیار کرنی چاہیے۔

۳- ایک قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ جب انسان کی عمر چالیں سے تجاوز کرجاتی ہے تو وہ عموماً موٹاپے کا شکار ہونے لگتا ہے۔ بعض لوگ موٹاپے کو صحت کی علامت سمجھتے ہیں، لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے۔ موٹاپا خود تو کوئی بیماری نہیں ہے، لیکن اس کے نتیجے میں کئی امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً دل کے امراض، بلڈ پریشر، رگوں کا سخت ہوجانا، نیز گردے اور جگر کی بیماریاں، ذیابیطس جیسے امراض پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے تجربے اور بیمہ کمپنیوں کے اعداد و شمار سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دبلے آدمیوں کی عمر موٹے آدمیوں سے زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ چالیس سال کے بعد انسان کے بدن کی چستی میں کمی آجاتی ہے جس کے سبب اس کی فعالیت بھی گھٹ جاتی ہے، اس لیے اسے چربی، نشاستہ اور شکر والے اجزا کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمر میں بدن میں طاقت پیدا کرنے والی مشینری، جو کہ کیلریز کو انرجی میں تبدیل کرتی ہے، اپنا کام سست کردیتی ہے جس کی وجہ سے کیلریز تبدیل نہیں ہوتی اور کمر اور شریانوں کے اطراف اور بدن کے اعضا میں جمع ہوکر موٹاپا پیدا کردیتی ہیں۔ موٹاپے کا بہترین علاج کم خوری ہے، خصوصاً چربی اور شکر و نشاستہ والی غذاؤں میں کمی کردینی چاہیے۔

جن خواتین کو اپنے شوہر سے محبت ہے، انھیں چاہیے کہ جونہی اپنے شوہر میں موٹاپے کے آثار دیکھیں فوراً اس کے غذائی پروگرام پر توجہ کریں، دھیان رکھیں کہ وہ پرخوری نہ کرے۔ چکنائی، مٹھائی، ملائی وغیرہ کے استعمال پر پابندی لگادیں۔ شکر اور نشاستہ والی غذائیں مثلاً روٹی، چاول موٹاپا پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ ایسی صورت اختیارکریں کہ مرد ان کا استعمال کم کریں اور اس کی جگہ پروٹین والی غذائیں مثلاً: انڈا،کلیجی، گائے اور بکری اور چڑیوں کا گوشت، مچھلی اور پنیر کا زیادہ استعمال کریں۔ کیونکہ ان غذاؤں سے بھوک بھی مٹ جائے گی اور ان میں کیلریز بھی کم پائی جاتی ہے۔ اس عمر میں دودھ سے بنی چیزوں کا استعمال بھی مناسب ہے۔ اگر ڈاکٹر نے پرہیز نہ بتایا ہو تو پھل اور سبزیاں بھی مناسب ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر سے بھی مشورہ لے لیجیے۔ جو خواتین اپنے شوہر اور اہلِ خانہ سے محبت کرتی ہیں ان کو ان تمام نکات کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔

درحقیقت اہلِ خانہ کی زندگی اور سلامتی ان کے ہاتھ میں ہے، وہ جو کچھ بھی پکا کے سامنے رکھ دیں گی وہ اسے کھانے پر مجبور ہیں۔ البتہ اگر شوہر سے دل بھرگیا ہے اور بیوہ ہونا چاہتی ہیں کہ اس کو اس طرح قتل کردیں کہ کسی کو بھی ان کے جرم کا پتا نہ چلے تو ان کے لیے یہ بہت آسان نسخہ ہے کہ گھی سے تر تلی ہوئی مزیدار غذائیں اورمٹھائیاں تیار کرکے شوہر کو کھلائیں اور اصرار کرکے اس کو خوب ڈٹ کر کھانے پر آمادہ کریں۔ اس کے کھانے میں روٹی اور چاول کا استعمال کرانے کے لیے اس کے سامنے لذیذ اور مرغن کھانوں سے بھرا دستر خوان سجائیں تاکہ وہ ان غذاؤں سے اپنا پیٹ خوب بھرلیا کرے ، اگر ا س پروگرام پر عمل کیا تو بیوہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، جلد ہی اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔ مزید برآں بیوی کی خدمات اور خاطر تواضع کے سبب اس سے خوش بھی رہے گا۔

ممکن ہے قارئین گرامی کہیں کہ مذکورہ غذائی پروگرام دولت مند طبقے کے لیے تو اچھا ہے، جو انواع و اقسام کی لذیذاور مہنگی غذائیں تیار کرنے پر قادر ہیں لیکن نچلے طبقے کے لیے، جو اکثریت پر مشتمل ہے، اور شب و روز کی محنت و مشقت کے بعد دو لقموں سے اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور ہے، اس کے لیے یہ پروگرام قابلِ عمل نہیں ہے۔ اس طبقے کے لوگ بدن کی ضروریات کو پورا کرنے والے غذائی پروگرام پر کس طرح عمل کرسکتے ہیں؟

یہاں اہم بات یہ ہے کہ وہ اس بات کو مدِ نظر رکھیںکہ خوش قسمتی سے بدن کے لیے لازمی مواد، انہی سادہ اور فطری غذاؤں میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اگر خاتونِ خانہ مقوی اور صحت بخش غذاؤں سے آشنا ہو اور کھانا پکانے کے فن میں بھی مہارت رکھتی ہو تو معمولی پھلیوں، ترکاریوں مثلاً چنے، ماش اور مسور کی دالوں، گیہوں، جو، آلو، پیاز، ٹماٹر، گاجر اور مختلف سبزیوں سے اس طرح کھانا تیار کرسکتی ہیں کہ مزیدار بھی ہو اور صحت و سلامتی کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔ البتہ سلیقہ اور ہوشیاری شرط ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ابوالفضل نور احمد

Leave a Reply