خواتین میں دل کا درد

ایک ۳۵؍برس کی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ کلینک میں داخل ہوئی۔اس خاتون کو دل کے مقام پر درد کی شکایت تھی۔ یہ درد بڑھتا رہتا تھا اور پھیل کر بائیں کندھے سے ہوتا ہوا نیچے ہاتھ تک پہنچ جاتا تھا۔ اسی طرح پیٹھ کے عین دل کے مقابل والے حصے میں بھی درد ہونے لگتا تھا۔ یہ درد اس وقت زیادہ تیز ہوجاتا تھا جب وہ مشتعل ہوکر بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کررہی ہوں یا دفتر اور گھر کے کسی مشکل کام سے پریشان ہوں۔ چلنے یا جسمانی محنت کرنے سے درد میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا، کھانے کے بعد بھی درد نہیں بڑھتا تھا۔ اسی طرح سانس لینے یا بائیں ہاتھ کو حرکت دینے سے بھی درد میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا۔ درد بڑھنے کی صورت میں بے ہوشی یا غفلت کی سی کیفیت بھی طاری نہیں ہوتی تھی۔ البتہ درد کی نوعیت بدلتی رہتی تھی۔ کبھی چبھن سی محسوس ہوتی اور کبھی ایسامحسوس ہوتا جیسے دل کے اوپر دباؤ بڑھ گیا ہو۔ درد کی شدت بھی کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ سینے کو دبانے سے بھی درد پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، نہ ہی کبھی نیند کی حالت میں اس قسم کا درد ہوا تھا۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ درد کی وجہ سے سونے میں دقت پیش آئی ہو، یا آنکھ کھل گئی ہو۔ اس درد کی ایک خاص علامت یہ بھی تھی کہ عورت کی ماہواری سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ دل کی ہر طرح کی روٹین جانچ کرائی گئیں، لیکن تمام رپورٹیں نارمل تھیں۔

سوال بالکل واضح تھا۔ ’’اگر میرے دل کی تمام طبّی جانچیں درست اور نارمل ہیں تو پھر اس درد کا سبب کیا ہے؟‘‘ اس سے پہلے کہ میں خاتون کے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا، اس کا شوہر بول پڑا: ’’دیکھیے ڈاکٹر صاحب! واقعی ان کو کوئی بیماری نہیں ہے… صرف وہم ہے۔‘‘ کسی بھی مریض کے تعلق سے اس کے بعض احباب کی جانب سے اس قسم کا تاثر کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ (اس قسم کا تاثر پیش کرنے والے دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں) یہ لوگ عورتوں میں دل کے درد کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے طبّی جانچ اور ضروری ٹیسٹ کا انتظار بھی نہیں کرتے، بلکہ اس سے پہلے ہی یہ فیصلہ صادر کردیتے ہیں کہ ’’ارے کوئی مرض نہیں ہے، بس وہم ہے تمہارا۔‘‘ حالاںکہ اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کو اطمینان اور تسلّی دے دی جائے، لیکن ایسے تاثر کی وجہ سے کبھی کبھی دل کے درد کے علاج میں بلاوجہ کی تاخیر ہوجاتی ہے، جب کہ اس وقت عورت کو فوری طبّی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ سینے میں اٹھنے والا ہر درد دل کا درد نہیں ہوتا اور نہ ہی دل کے مقام پر ہونے والے ہر درد کا مطلب ہوتا ہے کہ دل کی شریانوں میں خون جم کر اکٹھا ہوگیا ہے۔ پھر بھی دل کے مقام پر درد کیسا بھی ہو، اس پر فوری توجہ ضروری ہے تاکہ یہ اطمینان ہوجائے کہ مریض کسی خطرے میں تو نہیں ہے یا مستقبل میں یہ درد اس کے لیے خطرناک تو نہیں ہے۔ مریض کے اہلِ خانہ اور احباب کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ طبّی جانچ کرائے بغیر ہی مرض کے تعلق سے کوئی حکم صادر نہ کریں بلکہ یہ کام دل کے ڈاکٹر کے لیے چھوڑ دیں۔ میں نے دل کی شریانوں میں رکاوٹ یا خون کے جماؤ کے بعض کیس ایسے بھی دیکھے ہیں کہ مریضہ کو اس وقت لایا گیا جب حالت بگڑ گئی اور وجہ اس تاخیر کی صرف یہ تھی کہ مریضہ یا اس کے شوہر یا بھائی و دیگر احباب یہی سوچتے رہے کہ یہ توو ہی معمول کا درد ہے، جس کی شکایت وہ کئی ماہ سے کرتی آرہی ہے، لیکن ایک روز جب کہ وہ بالکل ٹھیک حالت میں اہلِ خانہ کے درمیان دستر خوان پر بیٹھی تھی کہ اس پر غشی طاری ہوگئی۔

خیر! ہم اپنی اس مریضہ کی طرف لوٹتے ہیں جس کا ذکر ابھی کررہے تھے۔ ڈاکٹر اور مریض دونوں کو ہی اس بات پرحیرت تھی کہ پٹھوں اور ہڈیوں نیز نظامِ ہضم کی باریکی سے جانچ کرانے کے بعد بھی ہمیں درد کی وجہ کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔ ایسی صورت میں اس کے درد کی کیفیت کے اعتبار سے قرین قیاس تشخیص یہ ہوئی کہ یہ درد ’’دل کا اعصابی درد‘‘ ہے۔ جیسا کہ اب تک ہم یہی سمجھتے آئے تھے۔ اس قسم کے مریض دل کے اعصابی مرض Cardiac Neurosis میں مبتلا ہوتے ہیں، لیکن حال ہی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کے مریضوں کی بڑی تعداد کو یہ درد دل کی نفسیاتی مشقت اور تکلیف کی وجہ سے ہوتا ہے۔جس طرح دماغ کا درد فطری ہے، بالکل اسی طرح دل بھی مریض کو اپنے درد کا احساس دلاتا ہے۔ یہ درد بھی عین فطری ہے۔ اس درد کو ’’دل کا اعصابی درد‘‘ کہتے ہیں۔ جو بڑی آنت کے اعصابی درد سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ آنت کے اعصابی درد میں مریض درد اور خفقان کی شکایت تو کرتا ہے، لیکن تمام طبی جانچیں نارمل اور درست ہوتی ہیں۔ دل کا اعصابی درد Somatoform Cardiac Dysfunction یا Dacosta Syndrome کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس درد کا قدیم نام Soldier’s Heartبھی ہے۔ اس قسم کے درد کو یہ نام اس لیے دیا گیا تھا، کیونکہ قدیم زمانے میں بعض فوجیوں کو نفسیاتی صدمہ پہنچتا تھا، جس کی وجہ سے انھیں اس طرح کے درد کی شکایت ہونے لگتی تھی۔ لیکن آج جدید تحقیقات سے یہ بات ہمارے علم میں آچکی ہے کہ اس درد کا تعلق دل کے اعصابی مرض سے ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ ایسا مریض نفسیاتی مریض ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اسے ایسے درد کی شکایت ہے جس کا کوئی عضوی سبب نہیں ہے۔ یعنی کسی ایسے عضو کا درد نہیں ہے جس میں جزوی طور پر یا کلی طور پر غیر ارادی عصبیاتی نظام کام کرتا ہو، مثلاً پھیپھڑے، نظامِ ہضم، نظامِ بول، اور دل وغیرہ۔ دل میں ہونے والے اس قسم کے امراض دو قسم کے ہوتے ہیں:

۱- مریض کو یہ شکایت جسم کے غیر ارادی نظام کے حد سے زیادہ متحرک ہوجانے کی وجہ سے ہو اور اس کا مشاہدہ ممکن بھی ہو مثلاً: دل کی دھڑکن کا بڑھنا، پسینہ آنا، جسم کے اوپری حصے کا گرم ہوجانا، کپکپاہٹ یا اس بات کا خوف محسوس ہونا کہ دل میں ضرور کوئی خطرناک مرض ہوگیا ہے۔

۲- پہلی قسم سے نہ ہو، اور اس کا مشاہدہ بھی نہ کیا جاسکتا ہو۔ مثلاً درد، چبھن جو جسم میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہے۔ سانس لینے میں تنگی اوردشواری یعنی پھیپھڑوں میں کافی مقدار میں آکسیجن نہ داخل ہوپائے (Sigh Syndrome)۔ جب کبھی رنج و غم یا غصے اور جذبات کو دبانے کی وجہ سے جسم کا کوئی حساس عضو معطل ہوجائے (جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

وابیضّت عیناہ من الحزن فہو کظیم۔

ایسی صورت میں اشتعال سے جس طرح جسم کے دوسرے اعضا متاثر ہوتے ہیں دل بھی ان سے کم متاثر نہیں ہوتا۔ دل کے متاثر ہونے کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔ کبھی محض ہلکی چبھن یا معمولی درد ہوتا ہے، جو فوراً ہی یا تھوڑی دیر بعد ختم ہوجاتا ہے اور کبھی شدید درد کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو اس درد کے مشابہ ہوتا ہے جو دل کے شریانوں میں جمے ہوئے خون کے تھکوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کا اثر بھی یا تو قلب کے عضلات میں کمزوری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے (Stress Induced Cardiomyo- pathy) یا شدید دباؤ اور جھٹکے (Cardiogenic Shock) کی شکل میں۔

بعض ڈاکٹر اس قسم کے درد کی وجہ دل کے والو کے ڈھیلا یا سست پڑجانے کو بھی بتاتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی کو بھی اس کا سبب بتایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی کوئی محکم دلیل نہیں ہے۔

آخر میں اس بات کی طرف توجہ دلانا مناسب ہوگا کہ مریض کی تشخیص کرانے میں لاپروائی برتنا درست نہیں ہے، کیوں کہ ایک ہی شخص کے دل میں مختلف اوقات میں ہونے والے درد مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن درد کی طرف سے لا پروائی، خاص طور سے جب اس کا سبب دل کی شریانوں میں کوئی خرابی ہو، تو مریض چند گھنٹوں میں ختم ہوسکتا ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
خالد عبداللہ النمر ترجمہ: تنویر آفاقی

Leave a Reply