موسمی امراض اور ان سے بچاؤ

برسات کا موسم آتے ہی کونوں کھدروں اور تالابوں میں پانی جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے جس کے سبب مچھروں اور دیگر جراثیم کی افزائش شروع ہوجاتی ہے اور لوگ مختلف قسم کے امراض کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ان امراض میں ملیریا اور ہیضہ خاص ہیں۔ ملیریا ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ جبکہ ہیضہ پانی کی آلودگی اور دیگر اقسام کی گندگیوں کے سبب ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہی وبائی امراض ہیں، اس لیے ان کے سلسلے میں ضروری جانکاری مفید اور مطلوب ہے۔

ملیریا

ملیریا بخار (جاڑا بخار) برسات کے آخر میں پھیلتا ہے، جس سال بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اس سال اس کا زور زیادہ ہوتا ہے۔ نشیبی سیلے علاقوں میں یہ بارہ مہینے رہتا ہے۔ اس بخار کو پھیلانے کا سبب خاص قسم کے جراثیم ہیں، جو خاص قسم کے مچھروں کے کاٹنے سے انسان کے بدن میں پہنچ کر اس کو اس بخار میں مبتلا کردیتے ہیں۔

ملیریا بخار باری سے آتا ہے، جس بخار کی باری روز آتی ہے، وہ ’’روزانہ بخار‘‘ کہلاتا ہے اور جس بخار کی باری تیسرے روز آتی ہے اس کو ’’تِیّا‘‘ اور چوتھے روز آنے والے کو ’’چوتھیا‘‘ کہتے ہیں۔

ملیریا بخار کبھی کبھی ہر وقت بھی چڑھا رہتا ہے، اس کو لازمی اور دائمی بخار کہا جاتا ہے۔ جب اس بخار کی باری آنے والی ہوتی ہے تو مریض کی طبیعت سست ہوجاتی ہے، انگڑائیاں اور جمائیاں آنے لگتی ہیں اور تمام بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ جاڑا لگتا ہے، دھوپ میں یا آگ کے پاس بیٹھنے کو جی چاہتا ہے، آخر کا ر جاڑا اتنا لگتا ہے کہ مریض لحاف اوڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اس کے دانت بجنے لگتے ہیں اور سارا جسم کانپنے لگتا ہے۔ کچھ دیر یہ حالت رہنے کے بعد گرمی سی لگتی ہے، لحاف یا جو کپڑا مریض اوڑھے ہوئے ہوتا ہے اس کو اتار پھینکتا ہے، بار بار پانی مانگتا ہے، متلی اور قے ہوتی ہے۔ تمام بدن گرمی سے جلتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ بعض مریض بکواس کرنے لگتے ہیں۔ یہ حالت چار پانچ گھنٹے رہنے کے بعد پہلے پیشانی پر پسینہ آتا ہے اور آہستہ آہستہ تمام جسم پسینے سے شرابور ہوکر بخار اترجاتا ہے۔ لیکن مریض نہایت کم زوری محسوس کرتا ہے۔

ملیریا بخار سے بچنے کی تدبیریں

٭ملیریا بخار سے بچنے کے لیے صفائی بڑی ضروری ہے۔ مکان کو صاف ستھرارکھیں، اس میں کوڑا کرکٹ اور گھاس پھونس جمع نہ ہونے دیں اور مکان کے صحن میں کسی طرح کی گندگی یا پانی نہ پھینکا جائے اور مکان میں یا مکان کے آس پاس پانی اکٹھا نہ ہونے دیں۔ مکان میں گندھک اور گوگل کی دھونی دیں یا اگر بتی جلائیں، لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو صحن میں نیم کے پتے جلائیں، اس کے دھوئیں سے مکان کے تمام مچھر بھاگ جائیں گے۔

٭جوہڑ، تالاب اور گڑھوں میں جہاں پانی رہتا ہو، مٹی کا تیل چھڑکوادیں۔ اس سے مچھروں کے انڈے بچے ختم ہوجائیں گے۔

٭رات کو سوتے وقت مچھر دانی لگا کر سوئیں، لیکن دیہات میں سب آدمی ایسا نہیں کرسکتے، اس لیے رات کو چھت پر سوئیں تو بہتر ہے۔

٭یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہضم کی خرابی اور قبض سے اس مرض میں مبتلا ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے ہاضمے کو درست رکھیں اور قبض نہ ہونے دیں۔ غذا ہضم کے مطابق کھائیں۔ قبض کرنے والے اور بادی کھانوں سے پرہیز کریں۔ غذا کے ساتھ لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کریں یا انار دانے اور املی کی چٹنی کھائیں۔

٭ اس بخار میں مبتلا ہوجائیں تو اس کو دور کرنے کے لیے نیچے لکھی ہوئی دواؤں میں سے کوئی دوا استعمال کریں۔

(۱) مریض کو پہلے ہلکا سا جلاب دیں۔ جب پیٹ صاف ہوجائے تو دوسرے دن بخار چڑھنے یا باری آنے سے پہلے کونین پانچ گرین کی ایک ایک ٹکیہ تین تین گھنٹے کے بعد دیں۔

(۲) کرنجوہ کے پتّے ایک تولہ، کالی مرچیں سات عدد پانی میں پیس چھان کر چند روز پلانے سے بھی ملیریا بخار دور ہوجاتا ہے۔

(۳) تلسی کے پتے ایک تولہ، کالی مرچیں سات عدد پانی میں پیس چھان کر چند روز پلانے سے جاڑا بخار جاتا رہتا ہے۔

(۴) پان میں کھانے کا چونا تین ماشے، پانچ تولے پانی میں گھولیں، اس کے بعد اس میں ایک لیموں نچوڑ دیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اوپر کا صاف نتھرا ہوا پانی لے کر اس وقت پلائیں جب جاڑا بخار آنے والا ہو۔ اگر پہلے روز کے استعمال سے جاڑا بخار نہ رکے تو دوسرے تیسرے روز پلائیں۔ چوتھیا بخار کے لیے یہ خاص طور پر مفید ہے۔

(۵) پھٹکری بھون کر باریک پیس کر رکھ چھوڑیں۔ جاڑا بخار سے چار گھنٹے پہلے چار چار رتّی پھٹکری تھوڑی کھانڈ ملا کر دو دو گھنٹے کے وقفے سے دوبار کھلائیں۔ جاڑا بخار نہیں آتا۔

(۶) تخمِ پلاس پاپڑہ (ڈھاک کے بیج) لے کر ان کا اوپری سرخ چھلکا دور کریں اور برابر وزن مغز کرنجوہ ملا کر باریک پیس چھان کر پانی میں گوندھیں اور چنے برابر گولیاں بناکر رکھیں۔ بخار خواہ روزانہ ہو یا تِیّا یا چوتھیا، اس کی آمد سے چار گھنٹے پہلے ایک ایک گولی دو دو گھنٹے کے وقفے سے دوبار دیں، بخار نہیں آئے گا۔ اگر آئے گا تو ہلکا ہلکا ہوگا۔ دو تین روز کے استعمال سے بالکل موقوف ہوجائے گا۔

اگر قبض ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے پہلے سنامکی سات ماشے، سونف پانچ ماشے پانی میں جوش دے کر پلائیں۔ اس کے بعد جاڑا بخار کی کوئی دوا دیں۔ جاڑا بخار سے پہلے کوئی غذا کھانے کے لیے نہ دیں۔

ہیضہ

ہیضہ ایک سخت چھوت دار مرض ہے جو عام طور پر برسات کے زمانے میں خراب پانی کے پینے سے اور خراب غذاؤں کے کھانے سے وبا کے طور پر پھیلتا ہے اور بہت جلد ہزاروں آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔

ہیضے سے محفوظ رہنے کی تدبیریں

(۱) ہیضے کے شروع ہوتے ہی گاؤں کے کنوؤں میں پانی صاف کرنے کے لیے پوٹاس پرمیگنیٹ ڈال دی جائے، اگر یہ نہ ہوسکے تو پانی ابال کر ٹھنڈا کرکے پیا جائے۔

(۲) ہمیشہ تازہ کھانا کھائیں۔ سڑی بسی غذاؤں کے کھانے سے بچا جائے۔

(۳) کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھک کر رکھا جائے۔ بازاری مٹھائیاں اورکھانے پینے کی دوسری چیزیں جن کو مکھیوں وغیرہ سے محفوظ نہیں رکھا جاتا، بالکل نہ کھائی جائیں۔

(۴) گلے سڑے، پھل اور خراب ترکاریاں ہرگز استعمال نہ کریں۔

(۵) کھانے کے برتنوں کو ہمیشہ گرم پانی سے دھوکر استعمال کریں۔

(۶) دودھ کو ہمیشہ ابال کر پئیں۔

(۷) کھانے پینے میں اعتدال سے کام لیں۔ بدہضمی نہ ہونے دیں۔

(۸) کھانے کے ساتھ لیمو، پیاز، مرچیں، سرکہ، پودینہ جیسی چیزیں ضرور استعمال کریں۔

(۹) ہیضے کے زمانے میں بنا کھائے خالی پیٹ گھر سے باہر نہ نکلیں۔

(۱۰) صفائی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ اپنے جسم، لباس اور مکان کی صفائی کے ساتھ گلی کوچوں بلکہ پوری آبادی کا خیال رکھا جائے۔

جب گھر کا کوئی آدمی ہیضے میں مبتلا ہوجائے تو اس کو تن درست آدمیوں سے الگ کمرے میں رکھیں۔ اس کے کھانے پینے کے برتن بھی الگ رکھیں۔ تیمار دار کو مریض کے کپڑے یا برتن چھوجانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے دھوڈالنا چاہیے۔ مریض کے قے دست کو کسی گڑھے میں ڈال کر دبا دینا چاہیے اور جب مریض اچھا ہوجائے تو اس کے کمرے میں سفیدی کرائی جائے اور اس کے بستر اور کپڑوں کو پانی میں جوش دے کر دھویا جائے یا ان کو جلا دیا جائے۔

علاج

ہیضے کے مریض کو جو قے دست آتے ہیں، اُن کو فوراً بند کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اگر کھل کر قے نہ آرہی ہو تو گرم پانی میں نمک ملاکر پلائیں اور حلق میں انگلی ڈال کر قے کرائیں اور ہیضے کے زہر کو دور کرنے والی دوائیں استعمال کرائیں۔

(۱) آکھ کی جڑ نکال کر مٹی سے صاف کرکے اس کا چھلکا اتاریں اور اس کے برابر کالی مرچیںملاکر ادرک کے رس میں کھرل کرکے چنے برابر گولیاں بنائیں۔ ایک ایک گولی دو دو گھنٹے کے بعد دیں۔ چھوٹی الائچی اور پودینے کو پانی میں جوش دے کر ٹھنڈا کرکے گھونٹ گھونٹ پلائیں۔

(۲) اگر ہیضے کا مریض قے اور دستوں کی زیادتی سے نڈھال ہوجائے تو افیون آدھی رتّی کو ایک رتّی چونے میں ملا کر کھلادیں ، فوراً دست بند ہوجائیں گے اور مریض کو نیند آجائے گی۔

(۳) لیموں کا بیچ عرقِ گلاب میں پیس کر پلانے سے بھی قے اور دست بند ہوجاتے ہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد سعیدؒ

Leave a Reply