غزل

تصور میں آکر وہ جب مسکرائے

ستارے کئی میرے پلکوں پہ آئے

عجب ہے فسانہ غم زندگی کا

کہیں پر ہنسائے کہیں پر رلائے

دلوں کے سفر کی عجب ہے کہانی

ملے ہیں کئی اور کئی مل نہ پائے

کئی کارواں رہگزاروں میں بھٹکے

کئی کاروانوں نے رستے بنائے

سفر کی صعوبت کہاں تک سمیٹیں

سمٹتے کہاں ہیں یہ یادوں کے سائے

کہاں تک کوئی دل میں نقشِ تمنا

بناکر مٹائے مٹا کر بنائے

زمیں آسماں جب گلے مل رہے تھے

تو بچھڑے ہوئے کتنے دل یاد آئے

شیئر کیجیے
Default image
کرامت بخاری

Leave a Reply