6

بالوں کی صحت و حفاظت

چمکدار، خوبصورت اور گھنے بال سب کو اچھے لگتے ہیں۔ عام طور پر ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ بال انسان کے سر پر پائے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی چمک ماند پڑجاتی ہے۔ ذہنی پریشانی، تناؤ، کام کی زیادتی اور ناقص غذا کی وجہ سے بھی بال گرنے لگتے ہیں اور ساری خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے۔

خواتین کے بال گرنے شروع ہوجائیں تو وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔ مرد تو پھر بھی بڑی فراخدلی سے بالوں کا گرنا برداشت کرتے ہیں مگر خواتین تو نت نئے شیمپو آزماتی ہیں۔پھر دواؤں کی نوبت آجاتی ہے۔ اصل میں حمل کے دوران مختلف دواؤں کے استعمال سے مادہ ہارمون بڑھ جاتے ہیں ان کی وجہ سے بال گھنے اور خوب صورت ہوجاتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے بعد بال گرنے لگتے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہارمون کم ہوتے ہی بالوں پر اثر پڑتا ہے جو خواتین ذہنی انتشار اور نیند کی کمی کا شکار ہوتی ہیں، ان کے بال بھی گرتے ہیں۔

ناقص غذا بھی بالوں کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ جو عورتیں نشے کی عادی ہوتی ہیں یا ایسی دوائیں استعمال کرتی ہیں جن سے نشہ ہو ان کے بال بھی جلدی چمک دمک کھو کر گرنے لگتے ہیں۔ آج کل اسمارٹ بننے کے چکر میں خواتین ڈائننگ کرتی ہیں۔ اس سے بھوک مرجاتی ہے اور بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

بالوں میں تیل نہ لگانے سے اوربالوں کو ہیئر ڈرائر سے روزانہ سکھانے سے بھی بال خشک ہوکر گرنے لگتے ہیں۔ بالوں کا ہیئر اسٹائل بھاپ سے بدلوانا، ان کو پرم کرنا، ان کو رنگ دینا بھی بالوں کو خراب کرتا ہے۔ تیل کی مالش کرنے سے بالوں کی جڑوں میں چکنائی جاتی ہے اور وہ مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں۔ تیل ڈالنے سے جلد کے نیچے کے غدود سرگرم ہوجاتے ہیں اور جلد میں چکنائی جذب ہونے لگتی ہے۔ تیل نہ لگانے سے بال خشک اور بے جان نظر آتے ہیں۔ بھربھرے ہوکر ٹوٹتے ہیں اور پھر باوجود کوشش کے ان کا قابو میں آنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ پھر گرتے ہی رہتے ہیں۔

وٹامن بی کی کمی سے بھی بال گرتے ہیں

کچھ لوگ زیادہ ہی حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، ذرا سی بات بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ خواتین چڑچڑی ہوجاتی ہیں، معمولی باتوں پر گھر میں شوہر، بچوں، سسرال والوں سے لڑنے لگتی ہیں۔ آخر میں یہ عادت ایسی پختہ ہوجاتی ہے کہ یہ پھر سڑک کا شور، بازار کا شور، بچوں کا شور، برداشت نہیں کرسکتیں۔ ایسے میں مرد ہو یا عورت اس کے بال گرنے لگتے ہیں اور گنجے پن کا آغاز ہوتا ہے۔

وٹامن بی (تھایتا مائن) ایسے لوگوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ مگر اس کا استعمال دس سے چودہ سال تک کرنا پڑتا ہے۔ آپ بجائے گولیاں کھانے کے قدرتی طور پر وٹامن بی غذا میں شامل کریں۔ خالص مونگ پھلی کا تیل نکلوائیں، اور ہر دوسرے روز اس کی مالش بالوں کی جڑوں میں کریں۔ سردی کاموسم ہو تو روزانہ مونگ پھلی کھائیں۔ آج کل ایسے کھانے پکائے جاتے ہیں جن میں مونگ پھلی ڈالی جاتی ہے۔

سوپ میں مونگ پھلی ڈالی جاسکتی ہے۔ فرائی چکن میں آپ مونگ پھلی کے دانے سجاسکتی ہیں، بسکٹ، کیک میں مونگ پھلی استعمال ہوتی ہے بینگن حیدرآبادی طریقے سے پکائیں تو اس میں آپ ناریل اور مونگ پھلی ڈال سکتی ہیں۔

آپ ڈاکٹر سے پوچھ کر وٹامن بی والی غذا زیادہ استعمال کریں۔ جو وٹامن غذا میں لیے جائیں ان کی کمی یا زیادتی سے ہمارے جسم کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، جسم کو جتنی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنے اندر جذب کرکے بقیہ کو ضائع کردیتا ہے۔ اسی لیے غذا میں آپ کو جسم کی ضرورت کے مطابق وٹامن لینے چاہئیں۔

وٹامن ڈی کی کمی

وٹامن ڈی کی کمی سے بھی بال گرنا شروع ہوتے ہیں اور گنج پن کا آغازہوجاتا ہے۔ بال اوائل عمر میں سفید ہونے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی کمزوری اور دوسری تکالیف بھی ہوجاتی ہیں۔ مثلاً دانت خراب ہوتے ہیں، معدہ متاثر ہوتا ہے، کھایا پیا ہضم نہیں ہوتا، کھل کر بھوک نہیں لگتی، طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے، کام کاج کو دل نہیں چاہتا۔

اگر یہ علامات ہوں تو آپ سمجھئے وٹامن ڈی کی کمی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بال بھی سفید ہورہے ہیں اور گر بھی رہے ہیں۔ مچھلی کا تیل تین گرام روزانہ پابندی سے پینے کی عادت ڈالئے، اس کی بو سے کچھ لوگ گھبراتے ہیں۔ پینے کے بعد دو چار دانے بھنے چنے کے کھانے سے منہ کا ذائقہ درست ہوجاتا ہے۔بھونی ہوئی سونف الائچی سے بھی منہ سے خوشبو آنے لگتی ہے۔ یہ تیل کم از کم چھ ماہ لیں۔ سردی کا موسم ہو تو ہفتے میں دو بار مچھلی کھائیں اور بالوں کو کھول کر سورج کے سامنے تیس سے پچاس منٹ تک بیٹھیں تاکہ سورج کی شعاعوں سے بال وٹامن ڈی حاصل کرسکیں۔ گرمی میں بھی پانچ سے آٹھ منٹ بالوں کو صبح دھوپ دینی ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔

یہ سب قدرتی اور فطری علاج ہے۔ آپ اپنے ڈاکٹر سے پوچھ کر وٹامن ڈی کی خوراک جو وہ تجویز کرے کھاسکتی ہیں۔ گولیوں کے بجائے آپ غذائیت پر زور دیں تاکہ آپ کے جسم کو نقصان نہ ہو، بلکہ بال گرنے کے ساتھ اور جو تکالیف ہیں وہ بھی درست ہوجائیں۔

مہندی بالوں کے لیے فائدہ مند ہے

مہندی قدرتی تحفوں میں سے ایک ہے۔ صرف رنگ ہی نہیں بلکہ تاثیر کے اعتبار سے بھی اس کے متعدد فائدے ہیں۔ اس سے بالوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ بالوں کی بیماریاں مثلاً بالچر، گنج، خشکی کو بھی ختم کرتی ہے۔ مہندی میں تھوڑا سا سرکہ ملا لینے سے رنگ بھی آتا ہے اور بالوں میں بھی زیادہ چمک دمک آجاتی ہے۔

مہندی : ۲۵۰ گرم

انڈا : ایک عدد

لونگ : ۳ عدد

لیموں کا رس : آدھا چمچہ

پانی : حسبِ ضرورت

ان سب کو ملا کر رکھ دیں اور بعد میں سر میں لگائیں۔ دو گھنٹے بعد سر دھولیں۔ بال ملائم نظر آئیں گے اور آپ اپنی مرضی سے سیٹ بھی کرسکیں گی۔

مہندی لگانے کی ہدایات

۱- مہندی کو بالوں کی جڑوں میں لگائیے،مہندی نہ پتلی ہو اور نہ گاڑھی تاکہ آسانی سے لگ جائے۔

۲- مہندی کا رنگ ہاتھوں پر آجاتاہے، آپ دستانے پہن کر یا پلاسٹک کے لفافے ہاتھ پر چڑھا کر مہندی لگاسکتی ہیں۔

۳- مہندی لگا کر سونا نہیں چاہیے۔

۴- مہندی کو اتار کر سر دھونے کے بعد آپ بال خشک کرکے جڑوں میں تیل ضرور لگائیے۔ مہندی سے بال خشک ہوتے ہیں۔ تیل کی مالش کرکے اگلے دن شیمپو کیجیے، آپ کے بال چمک جائیں گے۔

۵- مہندی میں لیموں کا رس بھی شامل کرلیں تو بہتر ہے۔

۶- بازار میں رنگیلی مہندی کہہ کر دکاندار جو مہندی دیتے ہیں اس میں ایک سفید سفوف ملادیتے ہیں۔ مہندی اس سے خوب پھول جاتی ہے۔ آپ خاص طور پر سادی سبز مہندی خریدیے۔ مہندی کارنگ بھورا نہ ہو بلکہ تیز سبز اور خوشبودار دیکھ کر لیجیے۔

۷- مہندی میں آپ تھوڑا تیل بھی ملا سکتی ہیں، معمولی سا تیل ملانے سے مہندی اچھی لگے گی۔ بچیاں اور کالج کی لڑکیاں مہندی لگائیں تو سو گرام مہندی کا لوشن پتلا سا بناکر ایک چمچہ تیل اور سرکہ ملا کر سر میں ڈیڑھ گھنٹے کے لیے لگائیں۔ لیکن سرکہ اصلی ہو، وہ میسر نہ ہو تو لیموںکا رس ملائیے۔

بال دھونے کے دیسی طریقے

پہلے زمانے میں ملتانی مٹی سے سر دھویا جاتا تھا۔ پھر سرسوں کی کھل بھگوکر اس سے سر صاف کیا جاتا تھا، اس سے کھوپڑی کی جلد صحیح رہتی تھی، میل کچیل صاف ہوجاتا تھا۔ سرسوں کی کھل کا پانی موٹی ململ میں چھان لیا جاتا تھا اور اس پانی سے سر دھوتے تھے۔ دیہات میں تازہ گاڑھی چھاچھ سے سر دھویا جاتا تھا۔ چھاچھ سے بال چمکیلے اور مضبوط ہوتے ہیں مگر اس کی بو ناخوشگوار محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں شیمپو کرلینا چاہیے۔

آملہ اور سیکا کائی خریدلیں، ایک پاؤ آملہ اور ایک چھٹانک سیکاکائی کی پھلیاں کوٹ کر رکھ لیں۔ دو بڑے چمچے سفوف کے پانی میں رات کو بھگودیں۔ صبح اس پانی سے سردھوئیں۔ بادام کی کھلی بازار سے لاکر رکھ لیں۔ تھوڑی سی پانی میں بھگوئیں اس سے سر دھونے سے بال نرم ہوجاتے ہیں۔

ماش کی دال آدھا کپ لے کر بھگودیں، اسے باریک پیس کر سردھوئیں بال لمبے اور گھنے ہوجائیں گے۔

چنے کی دال کا بیسن خود بنائیں۔ سر دھونے اور نہانے کے لیے بہتر رہتا ہے، بشرطیکہ چکنے بال اور چکنی جلد ہو۔

خشک بالوں کے لیے ایک کپ دہی میں دو بڑے چمچے سرسوں کا تیل ملا کر پھینٹ لیں۔ سر میں لگانے کے دس منٹ بعد شیمپو کرلیں شیمپو نہ کریں تو سر میں بو ہوجاتی ہے۔ انڈا توڑ کر اس میں زیتون کا تیل ایک چمچہ ملا کر سر میں لگائیں اور آدھے گھنٹے بعد سر دھولیں۔ بال خوبصورت وگھنے ہوں گے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
؟؟

تبصرہ کیجیے