حمد

مشتِ گل کو آدمِ زندہ بنا دیتا ہے کون؟

دل میں احساسات کی شمعیں جلا دیتا ہے کون؟

ہاتھ کس کا شب کی زلفوں میں پروتا ہے نجوم؟

صبح کے رخسار پر سورج سجا دیتا ہے کون؟

ننھی ننھی بوندیوں میں کون بھردیتا ہے راگ؟

پارہ پارہ ابر کے آنچل اڑا دیتا ہے کون؟

آتی ہے دشت و چمن سے سانس لینے کی صدا

دفعتاً خوابیدہ مٹی کو جگا دیتا ہے کون؟

آدمی تو دانا بوتا ہے بطونِ کشت میں

لیکن اس کو خوشۂ زریں بنادیتا ہے کون؟

کس کا دستِ نقش گر مٹی پہ کرتا ہے عمل؟

فرش پر خوش رنگ تصویریں بچھا دیتا ہے کون؟

کون رکھ دیتا ہے شب کو نطقِ بلبل میں غزل؟

صبح دم کلیوں میں چھپ کر مسکرا دیتا ہے کون؟

جب مسافر کے قدم رک جائیں، ہمت ٹوٹ جائے

منزلِ امید پر آکر صدا دیتا ہے کون؟

کس کا پاکر حکم، پھر جاتے ہیں طوفانوں کے رخ؟

ڈوبتی کشتی کو ساحل پر لگا دیتا ہے کون؟

جب حجابِ روبرو چھونے کو ہوتی ہے نظر

دیدئہ تحقیق پر پردے گرا دیتا ہے کون؟

جس کے دریا میں سفینوں کی طرح بہتے ہیں ہم

ہاں اسی نادیدہ قوت کو خدا کہتے ہیں ہم

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسرعاصی کرنالی

Leave a Reply