جوانوں کو فروخت ہونے سے بچائیں

سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ذریعے نکسلیوں کو کارتوس سپلائی کرنے کے معاملے نے ایک بار پھر وردی کو داغ دار کیا ہے۔اس واقعہ نے ہماری سیکورٹی مشینری کی پول کھول دی ہے۔ ملک اور سماج کی سیکورٹی کی ذمہ داری جن کے کاندھوں پر ہے، وہ مشینری ہی کس قدر کمزور ہے؟ خالص ذاتی مفاد کے سبب ہمارے سیکورٹی نظام سے وابستہ جوان ہی اگر ایسی حرکتیں کرنے لگیں تو یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے۔ فطری طور پر کارتوس کی سپلائی اور ملک کے خلاف جاسوسی کے معاملے کا انکشاف ہماری وزارت داخلہ کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔

لیکن ممنوعہ کارتوس کی چوری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے ۲؍مئی ۲۰۰۷ء میں سیتاپور سے ممنوعہ کارتوس نکسلیوں کو سپلائی کرنے کا معاملہ روشنی میں آیا تھا۔ ’’آرمر‘‘ بھرت سنگھ کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے دس ہزار کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔ اس وقت اس نے ان کارتوسوں کو نکسلیوں کو فروخت کرنے کی اطلاع دی تھی۔ اس وقت بھی آج کی طرح طوفان کھڑا ہوا تھا۔ تفتیش بٹھائی گئی تھی، لیکن اس میں بڑے افسران کی گردن پھنستے دیکھ کر معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ آج رامپور سے جی آرپی ایف کا مرکزی اسلحہ اسٹور ہے، سے نکسلیوں کے تار جڑے ہونے کے واقعے نے حیرت زدہ کردیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پولیس – نیم فوجی دستوں کے مابین ان کا کتنا گہرا دخل ہے۔ جنگلوں میں رہنے والے یہ نکسلی انہی جوانوں سے کارتوس اور اسلحہ کی مرمت کا کام کراتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نکسلیوں کے پاس سیکورٹی فورسیز سے لوٹے گئے اسلحہ کی کافی بڑی مقدار ہے۔ پولیس افسران بھی دبی زبان سے اس سچائی کا اعتراف کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ۸۰-۱۹۸۲ء میں ڈاکو ملکھان سنگھ اور گھنشیام سنگھ گروہ کے قبضے سے پولیس نے گریڈ تھری اسلحہ برآمد کیا تھا۔ اس وقت ان ڈاکوؤں نے پولیس کو بتایا تھا کہ یہ جدید اسلحے انہیں بنگلہ دیش سے ملے ہیں، کیونکہ امریکہ نے یہ اسلحے پاکستان کو دیے تھے۔ ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کی خود سپردگی کے دوران بھی اسلحے کی بڑے پیمانے پر چوری ہوئی تھی۔ اس وقت بڑی مقدار میں یہ اسلحے ماؤ نوازوں کے ہاتھ لگے تھے۔

کارتوس کی چوری میں خالی کھوکھوں کا ہی کھیل ہے۔ اس منظم دھندے میں نیم فوجی دستے اور سول پولیس ملی ہوئی ہوتی ہے۔ حالانکہ اس واقعہ میں پولیس مئو سے آکاش نام کے ایک شخص کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کررہی ہے ،لیکن ابتدائی تفتیش میں ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ کا کردار بھی مشتبہ پایا گیا ہے۔ اس میں ’آرمر‘ فائرنگ اسٹیٹمنٹ میں سب کو فائر شدہ دکھاتا ہے، جی ڈی یعنی روزنامچے میں ان کی روانگی دکھائی جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کے عوض کھوکھوں کے لائسنس یافتہ کباڑی سے کھوکھے حاصل کیے جاتے ہیں اور انہیں ریکارڈ میں دکھا کر کارتوس فروخت کردیے جاتے ہیں۔ اس دھندے میں پولیس بھی شامل ہے۔ چونکہ کباڑی کے یہاں کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، اس لیے ہیرا پھیری آسانی سے ہوجاتی ہے۔ میرے اس قول کی بنیاد ۲۰۰۷ء کا وہ واقعہ ہے، جس میں سیتا پور کے ’آرمر‘ نے اپنے ریکارڈ میں سبھی کو فائر شدہ دکھایا تھا جبکہ کئی پولیس اہل کاروں کے روزنامچے میں روانگی تک درج نہیں تھی۔ اتنا ہی نہیں تھانے میں تعینات پولیس اہل کار کو بھی کاغذوں میں فائرنگ میں شامل ہونا دکھایا گیا تھا۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ذمہ دار اور افسر موقع پر جاتے ہی نہیں ہیں۔ یہ ’آرمر‘ ہی اعتماد شکنی کربیٹھتے ہیں، جس کے سبب ایسے ایسے واقعات ہوجاتے ہیں۔

لیکن اصل تشویش کا موضوع یہ ہے کہ ہمارے جوان ایسا کرتے کیوں ہیں؟ یہ بات اکثر دھیرے سے اور کئی بار زوردار طریقے سے بھی سامنے آجاتی ہے کہ ہمارے جوانوں میں زبردست ناامیدی ہے۔ جوانوں کی تنخواہ، فیلڈ بھتہ، بودو باش وغیرہ کا معیار اس قدر خراب ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے لالچ میں پھنس جاتے ہیں۔ ایسے ہی جوان کارتوس فروخت کرنے، اطلاعات دینے اور ان کے اسلحہ درست کرانے کا کام کرتے ہیں، جب ان کا تقرر آسام ناگالینڈ، تریپورہ اور نکسل متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۳۹ء میں تشکیل ہوئی سینٹرل ریزروپولیش کا آج بھی ان کے کیڈر کا ڈی جی نہیں ہے۔ ان پر باہر سے ڈی جی مسلط کیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ۱۹۸۵ء میں پرموشن کے معاملے میں ایک ڈی آئی جی سطح کے افسر نے تو اپنے تمغے تک حکومت کو لوٹا دیے تھے۔ چھٹے پے کمیشن کی سفارشیں ان کے لیے آج بھی نافذ نہیں ہوسکی ہیں، اس لیے اس سروس کے افسروں میں ناامیدی گھر کرتی جارہی ہے۔

ہماری حکومتوں کو اس پہلو پر توجہ دینا ہوگی کہ ہمارے جوانوں کا خواہ وہ نیم فوجی دستے کے ہوں یا سول پولیس کے، معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کیا تدابیر ہونی چاہئیں۔ صرف کھوکھلی نصیحتوں اور تقریروں سے کام نہیں چلے گا۔ مہنگائی نے ملک کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور بازاروں نے بہت سے ایسے خواب دکھائے ہیں، جنھوں نے نچلے طبقے کے لوگوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ یہ جوان متوسط گھرانوں کے ہی ہوتے ہیں۔ ان کے معاشی پہلو اور خاص طور پر سول پولیس کے کام کے اوقات کو لے کر مختلف سطح پر کئی بار سوال تو اٹھائے گئے ہیں، لیکن اسے بدلنے کی سمت میں مؤثر پیش رفت نہیں کی گئی۔ اگر اس پہلو پر توجہ نہیں دی گئی تو دھیرے دھیرے حالات مزید دھماکہ خیز ہوں گے جو ملک اور سماج کی صحت کو مزید خستہ کرتے چلے جائیں گے اور یہی حالات ایک ناسور کی شکل لے لیں گے۔ اس لیے آج ضرورت اس حقیقت کو سمجھ کر ان خامیوں کو دور کرنے کی ہے، جن کے سبب ان کا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے اور اسی خامی کو محسوس کرکے غیر سماجی عناصر فائدہ اٹھانے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں۔

اسی طرح مادھوری گپتا کے جاسوسی معاملہ میں پوشیدہ حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا۔ حالانکہ یہ مختلف قسم کا معاملہ ہے اور ہمارے سیاسی ڈھانچے کے ڈھیلے ڈھالے اندرونی معاملے کی پول کھولتا ہے۔ پاکستان میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ میں ان کے تقرر کے وقت ان کے پس منظر کی تفتیش میں یقینا بے احتیاطی برتی گئی۔ نتیجے کے طور پر وہ ملک کی اہم معلومات پاکستانی خفیہ محکمے کو دینے لگی۔ اس معاملہ نے وزارتِ خارجہ اور دونوں خفیہ ایجنسیوں’را‘ اور ’’خفیہ بیورو‘ کے مابین جاری آپسی چپقلش منظر عام پر آگئی ہے۔ اس لیے سینئر افسروں کی جواب دہی متعین کی جانی چاہیے، کیوں کہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم اسلام آباد کے ہائی کمیشن میں دراندازی کی گئی، جس سے ہندوستان کے سیکورٹی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا۔ یہ سیکورٹی اور انفارمیشن سے وابستہ افراد کی زبردست کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے سسٹم سے وابستہ افراد کو بروقت اس کا حل تلاش کرنا ہوگا کیونکہ لالچ اور مفاد کے آگے ایمان ریت کی دیوار کی طرح منہدم ہوجاتا ہے، جو ملک کے وقار کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

(مضمون نگار راشٹریہ سہارا ہندی کے گروپ ایڈیٹر ہیں)

——

شیئر کیجیے
Default image
رن وجے سنگھ

Leave a Reply