موبائل فون تو اٹینڈ کریں…!

موبائل فون کے فوائد اور نقصانات تو بہت لکھے جاچکے ہیں اس پر کیا بحث چھیڑنا… چھیڑنے کی عمر بھی نہیں ہے، لیکن موبائل کے فون ہوتے ہوئے موبائل فون کا استعمال نہ کرنا یا اس کا استعمال ترک کردینے کا تجربہ کیسا ہوگا… اس پر ہم عرصہ سے سوچتے رہے تھے عموماً لوگوں سے یہ پوچھا بھی اگر موبائل فون ایجاد نہ ہوتا یا ہمارے پاس موبائل نہ ہوتا تو آپ مجھ سے رابطہ کیسے کرتے… بہت سوں کا کہنا تھا کہ جب آدمی کسی چیز کا محتاج ہوجائے تو اس کا عادی ہوجاتا ہے… کوئی کہتا ہے کہ اب موبائل فون کے بغیر بہت سے کام مشکل ہیں۔ لیکن کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔ آخر کار ہم نے فیصلہ کیا یہ تجربہ ہم خود کرکے دیکھیں گے۔ ہمارا حلقہ احباب اور کاروباری حلقہ کافی بڑا ہے۔ شہر سے باہر اور ملک سے باہر بھی لوگ ہیں جن سے رابطہ رہتا ہے۔ سماجی اور سیاسی روابط بھی ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے ہم نے موبائل فون آن رکھ کر اپنے آپ سے مکمل جدا کرلیا اور یہ بھی چیک نہیں کیا کس کی کال آرہی ہیں اور کس کا میسج آرہا ہے۔

اب شروعات گھر سے کرتے ہیں… عموماً ہماری بیگم کو آفس کی آمد سے کچھ قبل چیزیں یاد آتی ہیں اور وہ قناعت پسندی اختیار کرتے ہوئے ایک Miss Callبلکہ Mrs. Callدیتی ہیں اور ہم موبائل پر ان کی معصوم معصوم خواہشات پوچھ لیتے تھے۔ مثلاً واپسی پر pamper، بچوں کی دوائی،روٹیاں، ڈبل روٹی، انڈے، بچوں کا لنچ یا امی کی طرف سے ہوتے ہوئے آئیے گا، امی ایک تھیلاد یں گی وغیرہ۔ پہلے دن ان کو بہت تکلیف ہوئی اور گھر میں داخل ہوتے ہی کہا آپ فون کیو ںنہیں اٹھا رہے تھے۔اب جائیں اور فلاں فلاں چیز لے آئیں۔ ہم نے ان کو نہیں بتایا کہ ہمارے پاس موبائل نہیں ہے۔ پہلے دن گاڑی کا پٹرول خرچ ہوا اور گھر واپس آکر پھر نکلنا پڑا، دو دن بعد ہماری بیگم کو پھر کسی چیز کی ضرورت پڑی لیکن اس دفعہ انھوں نے ہمارے آفس فون کرکے اپنی ضروریات لکھوادیں۔ دلچسپ صورتحال اس وقت پیش آئی جب ایک صاحب کو ہمیں ادائیگی کرنی تھی اور وہ بہت بپھرے ہوئے آفس آئے اور آتے ہی تقریباً جارحانہ انداز سے کہا: ’’یار آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔‘‘ ہم نے کہا: ’’اگر موبائل فون نہ ہوتا تو آپ مجھ کو کیسے ڈھونڈتے۔‘‘ ان کا کہنا یہ تھا کہ آپ کے آفس فون کرکے۔ ہم نے کہا’’تو آپ نے آفس کیوں نہیں فون کیا۔‘‘

ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، مزید ہم نے سوال کیا: ’’آپ فون کر کیوں رہے تھے؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’بھائی payment کی confirmation لینی تھی۔‘‘ ہمارا کہنا تھا ادائیگی آپ کو آفس سے لینی تھی یا مجھ سے اور آپ کو جو وقت دیا گیا تھا آپ اس سے تین دن لیٹ صرف اس لیے آئے ہیں کہ میں فون نہیں اٹھا رہا تھا… بھائی جلنے بھننے سے بہتر تھا کہ آپ آفس فون کرلیتے یا مقررہ دن آجاتے۔‘‘ ان کو یہ پتا چل گیاکہ ہمارے پاس آج کل فون نہیں ہے۔

ایک خاتون سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی درخواست مطلوبہ جگہ پر پہنچادیں گے، ان خاتون کا کہنا تھا کہ وہ دس پندرہ دن سے فون کررہی ہیں اور آپ سے رابطہ نہیں ہورہا … ہم نے ان سے کہا یہ درخواست آپ کو ہمارے آفس پہنچانی تھی، اس سے موبائل فون کا کیا تعلق ہے… ان خاتون کا بھی یہ کہنا تھا آپ سے confirmation لینی تھی کہ درخواست میں نے بنالی ہے، کیا میں آجاؤں؟ حالانکہ ہم نے ہی ان کو کہا تھا آپ درخواست لکھ کر اور اپنے این آئی سی کی کاپی اس پر لگا کر ہمارے آفس میں دے دیجیے گا، چاہے میں ہوں یا نہ ہوں… تو آپ نے پندرہ دن اس بات کا کیوں انتظار کیا کہ موبائل پر آپ سے بات کروں۔

کچھ اچھے جاننے والوں کے پیغامات بذریعہ بھائی ملے کہ فلاں فلاں تمہیں فون کررہے ہیں تو اٹھا نہیں رہے ہو۔ ان کو تم سے کوئی کام ہے۔ آپ یقین کریں ان لوگوں میں کوئی بھی گھر نہیں آیا اور کسی نے بھی آفس یا گھر فون نہیں کیا۔ یعنی ان کو کوئی ایسا ضروری کام نہیں تھا جس کی وجہ سے ہمارے فون نہ اٹھانے کی شکایت درج کرائی جارہی تھی۔

آفس کے لوگ یا ہمارے کلائنٹ زیادہ وقت پریشان نہیں رہے، ہاں ایک چیز ضرور نوٹ کی گئی کہ ہمارے آفس میں land lineپر آنے والے پیغام درج نہیں ہورہے تھے۔ لیکن وہ اب setہوگئے بلکہ یہ ہوا کہ ہم نے ایک آفس فون کیا کہ فلاں صاحب سے بات کرادیں تو ان کا کہنا تھا : ’’وہ نہیں ہیں۔‘‘ ہم نے کہا آپ ہمارے آفس کا نمبر لکھ لیں اور ہمارا نام ان کو بتادیں جب وہ آئیں تو ہمیں کال بیک کرادیں تو اس ادارے کی استقبالیہ پر جو بھی تنخواہ دار بیٹھی تھیں ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ ان کے موبائل پر رابطہ کرلیں۔‘‘ آپ یقین کریں شام ان صاحب سے ان کے آفس کے نمبر پر رابطہ ہوا تو انھوں نے کہا ’’مجھے کوئی پیغام نہیں ملا۔‘‘ یعنی اب آفس کے استقبالیہ یا ایکسچینج میں پیغامات درج کرنے کا اور آفس آکر یہ پوچھنے کا کہ میرا کوئی فون تو نہیں آیا تھا یا سر آپ کا فلاں فلاں فون آیا تھا… یا آپ سے فلاں فلاں صاحب ملنے آئے تھے کا کوئی رواج نہیں رہا۔ پہلے لوگ اپنے پاس ٹیلی فون نمبر باضابطہ حروفِ تہجی کے مطابق ڈائریوں میں لکھا کرتے تھے اب موبائل کے ہی فون بک میں فیڈ کرلیتے ہیں اور اگر کوئی شریف آدمی موبائل چھین لے یا چوری کرلے تو یہ سارے contactsنمبر بھی اس موبائل کے ساتھ چلے جاتے ہیں یعنی بھینس بھی گئی اور رسی بھی۔ پھر کہتے ہیں: ’’بھائی! بس آپ سے رابطہ کرنا چاہ رہا تھا لیکن میرا موبائل چھن گیا یا گم ہوگیا اور اس میں آپ کا نمبر بھی چلا گیا۔‘‘

سب سے اچھی چیز جو ہمیں محسوس ہوئی تھی ہمارے کنیڈا کے دوستوں نے گھر فون کیا وہاں سے آفس کا نمبر لیا اور دل کھول کر بات کی۔ ورنہ ہمیشہ یہ ہوتا تھا یا تو ہم ڈرائیونگ کررہے ہوتے تھے یا کسی میٹنگ میں یا نماز کے وقت سے تھوڑی دیر پہلے یا مارکیٹ میں ہوتے تھے۔ اور تفصیلی بات نہ ہوپاتی تھی۔ اس دوران ہم نے بھی کسی سے موبائل پر رابطہ نہیں کیا لیکن تھوڑی سی تگ و دو کے بعد سب ہی لوگ رابطے میں آگئے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ جو جو افراد موبائل فون استعمال کررہے ہیں وہ اس کو رابطے کا ایک آسان ذریعہ سمجھتے ہیں اور واقعی ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ موبائل فون کی سہولت اگر ختم ہوجائے، تو آپ رابطہ کیسے کریں گے۔ یہ بھی طے ہے جس کو آپ سے بہت ضروری کام ہے وہ آپ کو پاتال سے بھی ڈھونڈ لے گا۔ اور آپ کو جس سے ضروری کام ہے آپ اس کو غار میں بھی تلاش کرلیں گے۔ ——

شیئر کیجیے
Default image
صہیب جمال

Leave a Reply