میانہ روی

افراط و تفریط، انتہا پسندی، شدت اور بے اعتدالی ان خصوصیات میں شامل ہیں، جن کو کبھی مفید اور پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ دیا جاتا رہے گا۔ افراط و تفریط چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہوں اور کسی کام میں بھی اس کا مظاہرہ کیا جائے، نتائج و اثرات کے لحاظ سے نقصان دہ اور مایوس کن ہوتی ہے۔ برے اعمال تو ایک طرف رہے اچھے اعمال اور نیک افعال میں بھی انتہا پسندی اچھی اور مستحسن نہیں ہے۔

اسلام دینِ فطرت ہے اور اسی لیے اس کا دیا ہوا نظامِ حیات مکمل، متوازن اور معتدل نظام ہے۔ افراط و تفریط کی اس نے کسی شعبہ میں بھی اجازت نہیں دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط (میانہ روی اختیار کرنے والا گروہ) بنایا تاکہ تم لوگوںپر گواہ رہو۔‘‘ (البقرۃ:۱۴۳)

رسول کریم ﷺ جب منصبِ نبوت پر فائز ہوئے تھے اور آپﷺ کو دعوتِ حق کے اعلان کا حکم دیا گیا تو آپؐ نے اس حکم کی تعمیل میں لوگو ںکو دینِ حق کی جانب بلانا شروع کیا۔ لیکن ان کی بے حسی نے ان کو اس اعلانِ حق پر بھی کان دھرنے نہ دیا۔ رحمتِ عالم ﷺ کو معلوم تھا کہ دین حق کی یہ آخری دعوت فیصلہ کن ہے، جو اس دعوت کو قبول کرے گا، وہ رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو اس سرچشمہ بیض سے منہ موڑے گا، وہ ذلت و رسوائی کے غار میں دھکیل دیا جائے گا اور خدا کے قہر سے نہ بچ سکے گا۔ اپنی قوم کی غفلت دیکھ کر حضورﷺ کا دل دکھتا اور آپؐ ملول ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپﷺ کو دینِ اسلام کے لیے اس قدر پریشان اور ہلکان دیکھا تو فرمایا:

’’ہم نے آپؐ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپؐ اس طرح اپنے آپ کو ہلکان کریں۔‘‘ (طٰہٰ:۲)

اس ارشادِ ربانی پر غور فرمائیے۔ دینِ حق کا معاملہ ہے، اس کی دعوت عام کا مسئلہ درپیش ہے۔ خدا کا آخری پیغمبر ﷺ اپنی قوم کی حالت پر غمگین ہے۔ لیکن اس میں بھی شدت پر ٹوکا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس کتاب کے نزول کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدا کا رسول ﷺ اپنا جی ہلکان کرے۔ توازن و اعتدال کی اہمیت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ قیام حق میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ میانہ روی کی تاکید صرف اسی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسلام کی امتیازی خصوصیات میں توازن و اعتدال اور میانہ روی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کو الکتاب کے علاوہ المیزان بھی کہا گیا ہے اور مسلمانوں کو امتِ وسط کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔

مسلمانوں کو امتِ وسط کہہ کر واضح کردیا گیا ہے کہ درمیان کا راستہ اور اعتدال کا طریقہ ان کے نمایاں اوصاف میں شامل ہونا چاہیے چنانچہ غلو سے پرہیز، انتہا پسندی سے گریز اور میانہ روی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کو صاف بتادیا گیا ہے کہ:

’’نہ اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے باندھے رکھو، نہ اس کو بالکل ہی کھول دو کہ بعد میں حسرت زدہ بن کر بیٹھے رہ جاؤ۔‘‘ (بنی اسرائیل:۲۹)

اس آیت پاک کا منشا یہ ہے کہ نہ تو آدمی اتنا کنجوس بن جائے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی دولت کو کسی چیز میں خرچ ہی نہ کرے اور اپنی، اپنے خاندان کی اور اپنے اعزا کی جائز ضروریات بھی پوری نہ کرے اور اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو بلاوجہ تکلیف میں مبتلا رکھے اور نہ اتنا فراخ دست اور فضول خرچ ہو کہ جا اور بے جا خرچ کرے، نمود و نمائش میں پیسہ خرچ کرے اور آمدنی کا لحاظ کیے بغیر مصارف کو بڑھالے۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں اور میانہ روی کے خلاف ہیں۔ دونوں صورتوں میں تکلیف ہے اور دونوں کا نتیجہ مایوسی اور تباہی ہے۔

بخل کی عادت انسان کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہونے دیتی اور فضول خرچی سے بالآخر انسان تنگ دست ہوکر دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے، اسی لیے اعتدال اور میانہ روی کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ سورہ الفرقان میں ارشاد ہوتا ہے:

’’اللہ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل برتتے ہیں، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل رہتے ہیں۔‘‘

(الفرقان:۶۷)

دیکھئے کتنی صاف ہدایت ہے اور کس قدر وضاحت سے سمجھا دیا گیا ہے کہ میانہ روی مومن کی صفت ہے۔ مومن نہ ضرورت سے زیادہ خرچ کرتا ہے اور نہ ضروری خرچ کے موقع پر ہاتھ روکتا ہے، بلکہ معتدل رہتا ہے اور میانہ روی کو اپنا کر اپنی زندگی کو حسنِ خوبی سے گزارتا ہے۔

سرکارِ دوعالم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور توازن واعتدال کی اعلیٰ ترین مثال بھی ہے۔ بعض صحابہ کرامؓ عبادت میں غلو برتنے لگے تھے اور پیروی حق کے جوش میں اعتدال کو نظر انداز فرمانے لگے تھے۔ آپؐ نے ان کو ٹوکا اور میانہ روی کی تلقین کی۔ایک حدیث میں ہے کہ:

’’اعتدال، یعنی ہر کام کو افراط و تفریط کے بغیر کرنا نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔‘‘

اسی طرح سرکار ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے:

’’لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا ہے، مگر تم تھک جاتے ہو۔‘‘

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو وہ عمل پسند ہے جو مسلسل اور ہمیشہ جاری رہے چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارا دن رات کا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اورشدت و انتہا پسندی کو اختیار کرلیتے ہیں، ان کی زندگی سے اعتدال کے ساتھ ساتھ امن و سکون بھی رخصت ہوجاتا ہے اور ان کے معاملات اتنے الجھ جاتے ہیں کہ ان کی ساری قوتیں اور وقت کا بیشتر حصہ ان معاملات کو سلجھانے میںہی صرف ہوجاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ راحت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی زندگی میں میانہ روی کو ملحوظ رکھتے ہیں وہ مصائب میں مبتلا نہیں ہوتے اور ان کے متعلقین اور احباب بھی ان سے شاکی نہیں ہوتے۔ میانہ رو افراد خود بھی پرسکون زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کے بھی کام آتے ہیں۔
میانہ روی سب کے لیے ضروری ہے اور ہر کام میں ضروری ہے۔ صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں ہے، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور ایک مکمل نظام ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بے اعتدالی سے، جو ایک غیر فطری کیفیت ہے، بچنا چاہیے اور اس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے کہ جس میں حقوق اور فرائض کے درمیان توازن ہو۔ نہ اپنے فرائض کو فراموش کرنا چاہیے اور نہ ان سے غفلت برتنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سختی پسند نہیں فرماتا۔ اس نے اپنے دن کو آسان بنایا ہے ، تاکہ لوگ سختی اور شدت سے گھبرا کر ترکِ دین پر مائل نہ ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
فرمان طٰہٰ

Leave a Reply