5

گمشدہ چیزیں کیسے ڈھونڈی جائیں؟

چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک اخباری رپورٹر خبروں کی تلاش میں نیویارک شہر کے ریلوے اسٹیشن کے گمشدہ اشیاء کے مرکز میں پہنچ گیا۔ وہاں اس کو ایک ہزار چابیاں، تین سو چھتریاں، چار سو چھڑیاں، پانچ سو چشمے اور مصنوعی دانتوں کے آٹھ جوڑے دکھائی دیے۔ ان کے علاوہ بے شمار دوسری چیزیں بھی اس مرکز میں محفوظ تھیں۔ مثلاً کئی درجن جوتے، کتابیں، اوور کوٹ، ایک مصنوعی ٹانگ، شادی کا ایک گاؤن اور یہاں تک کہ ایک خاک دان بھی وہاں محفوظ تھا۔

چند سال پہلے تک ہمارے ریلوے اسٹیشنوں پر بھی اس قسم کے مرکز ہوا کرتے تھے، جن میں مسافروں کی بھولی ہوئی اشیاء رکھی جاتی تھیں تاکہ جب ان کو یاد آئے تو وہ وہاں آکرلے جائیں۔ بڑے اسٹیشنوں پر مراکز تو خیر اب بھی ہیں۔ مگر اب جس کو کوئی شے ملتی ہے وہ اس کو ان مراکز میں جمع کروانے کے بجائے خود استعمال کرنا زیادہ مناسب خیال کرتا ہے۔ اس لیے گمشدہ اشیاء کے یہ مراکز عموماً خالی ہی رہتے ہیں۔

بہرحال چیز یں بھولنا لوگوں کی عام سی عادت ہے۔ ہم سب وقتاً فوقتاً اپنی چیزیں بھول جاتے ہیں۔ اگر وہ قیمتی یا ضروری ہوں تو پریشان بھی ہوتے ہیں۔

خواتین زیادہ تر گھر میں رہتی اور گھر سنبھالتی ہیں اس لیے وہ اس سے زیادہ متاثرہوتی ہیں۔ اور اگر کسی کو بھولنے کی عادت ہو تو بس خدا خیر کرے!

خوش قسمتی سے ہم اس عادت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ ایک امریکی مصنف سموئیل اے سچرنر نے اس سلسلے میں پانچ اصول وضع کیے ہیں۔ یہ اصول آپ کی مدد کرسکتے ہیں:

(۱) جگہ کا تعین کیجیے

پہلی بات یہ ہے کہ اگر ہم چیزوں کو ان کی مناسب جگہ پر رکھنے کا اصول اپنا لیں تو چیزیں بھولنے سے پیدا ہونے والی آدھی پریشانی فوراً ہی ختم ہوسکتی ہے۔ خود سے پوچھئے کہ میں اس چیز کو کہاں استعمال کرتا ہوں، پھر جہاں کسی چیز کو استعمال کیا جاتا ہو اس کے رکھنے کی جگہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔ یوں اس کے گم ہونے کا امکان بہت کم رہ جائے گا۔

ہمارے ایک بزرگ استاد تھے کوئی اسّی سال کے۔ مدرسے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہتے تھے۔ بڑے منظم انداز کی زندگی تھی ان کی۔ وہ گھپ اندھیرے میں بھی اپنے استعمال کی چیز ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیا کرتے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا جب ہم لوگ کمرے میں ہوتے اور بجلی اچانک غائب ہوجاتی۔ بس وہ کہتے سب لوگ اپنی اپنی جگہ رہیں، ایک طرف ہاتھ بڑھاتے اور موم بتی اور ماچس نکال کر منٹ کے اندر اندر روشنی کرلیتے تھے۔ اس کا راز یہی تھا کہ ان کی ہر چیز قرینے سے اور مناسب جگہ ہوتی اور ضرورت کے وقت ان کا ہاتھ اندھیرے میں بھی اسے اٹھا لیتا تھا۔

ظاہر ہے کہ برتنوں کی جگہ باورچی خانہ ہے تو تولئے غسل خانے میں ہونے چاہئیں۔ لیکن جوتوں کا برش کہاں رکھا جائے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ بیڈ روم میں جوتوں کی الماری یا کونے میں برش بھی رکھا جائے۔ لیکن کیا برش وہاں استعمال بھی ہوتا ہے؟

اگر آپ وہیں برش استعمال کرتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔ وگرنہ اس کے لیے مناسب جگہ آپ کی پسندیدہ کرسی کا قریبی دراز ہوسکتا ہے۔ الیگزنڈرا اسٹوڈاڈ نے اپنی کتاب ’’جینے کا اسٹائل‘‘ میں یہی تجویز پیش کی ہے۔ اس سلیقہ مند خاتون کا کہنا ہے کہ جوتوں کو اس وقت برش کرنا چاہیے جب آپ آرام سے بیٹھے ہوں۔

گھر میں بہت سی چھوٹی موٹی چیزیں ہوتی ہیں۔ ان کی ضرورت کبھی کبھی پیش آتی ہے۔ ان کا کیا کیا جائے؟ ان چیزوں میں دستانے، قلم، رسالے اور اوزار وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے لیے ایک ترکیب بیان کی ہے کہ گھر کے تمام کمروں میں ایک چھوٹا بکس رکھنا چاہیے اور یہ سب چیزیں اس میں ڈالی دینی چاہئیں۔

ممکن ہے کہ جب ان میں سے کسی چیز کی تلاش ہو تو آپ کو ایک سے زیادہ بکسوں میں جھانکنا پڑے۔ لیکن چیزوں کو بے ترتیب پھینک کر ان کو تلاش کرنے کے مقابلے میں یہ کام ہرگز زیادہ مشکل نہیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ مطلوبہ شے کہاں ہوسکتی ہے۔

(۲) عادت ڈالیے

’’زندگی کو منظم کیسے کیا جائے؟‘‘ یہ ایک مفید کتاب کا عنوان ہے۔ جو اسٹیفن ونسٹن نے لکھی ہے۔ وہ اپنی موٹر کی چابیاں دروازے کے قریب ایک میز پر رکھے ہوئے پیالے میں رکھتی ہیں۔ اور کہتی ہیں کہ ’’یہ پیالہ چابیوں کا گھر ہے۔‘‘ ایک روز وہ گھرمیں داخل ہورہی تھیں کہ فون کی گھنٹی سنائی دی۔ وہ بھاگ کر فون کے پاس پہنچیں۔ یہ ایک لمبی کال تھی جو دس بارہ منٹ تک جاری رہی۔ بعد میں ونسٹن صاحبہ نے دوبارہ باہر جانے کے لیے پیالے میں ہاتھ ڈالا تو چابیاں غائب تھیں۔ مسلسل ایک گھنٹے کی پریشان کن تلاش کے بعد چابیاں فون کے قرب رکھی ہوئی ملیں۔

اس واقعہ کی توجیہہ بیان کرتے ہوئے ونسٹن اعتراف کرتی ہیں کہ پیالے میں چابیاں رکھنے کی عادت پختہ نہ ہوئی تھی۔ اگر عادت پختہ ہوتی تو نہ ان کا ایک گھنٹہ ضائع ہوتا اور نہ ہی پریشان ہونا پڑتا۔

(۳) تعلق بنائیے

عموماً آپ کی گاڑی گیراج یا پارکنگ کی جگہ کھڑی رہتی ہے۔ لیکن جب ہوائی اڈے کے باہر یا کسی مصروف مارکیٹ کے کسی کونے میں موٹر کھڑی کرنی پڑے تو موٹروں کے سمندر میں اس کے گم ہوجانے کا امکان رہتا ہے۔

ایک مرتبہ ہمیں بیروت کے ایک ہوٹل کی پارکنگ میں اپنی گاڑی تلاش کرنے میں کافی مشقت اٹھانی پڑی۔

ماہرین نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ اپنی چیز کا ارد گرد کی چیزوں سے رشتہ جوڑ لیجیے۔ چنانچہ موٹر چھوڑنے سے پہلے گردوپیش کی کسی جامد شے کے ساتھ اس کا تعلق بنائیے۔ مثال کے طور پر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا سکتے تھے کہ ہماری گاڑی پارکنگ کے درمیانی گیٹ سے سیدھے اس جگہ جہاں UCOبینک کا ہورڈنگ لگا ہے، کھڑی ہے۔ تو پھر ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔

ذہنی رشتے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ عینک ٹی وی سیٹ کے پاس رکھ رہے ہیں تو ذہن میں یوں تصویر بنائیے کہ جیسے عینک کے شیشے میں ٹی وی کی جھلک نظر آرہی ہے۔ ایسا کرنے سے کئی گھنٹوں بعد بھی آپ کو یاد رہے گا کہ عینک کہاں رکھی گئی ہے۔

(۴) غور کیجیے

اگر آپ اپنے افعال کا ذہنی جائزہ لیتے ہوئے قدم بہ قدم پیچھے کی طرف جائیں تو آپ گمشدہ شے تک پہنچ سکتے ہیں۔

انتظار حسین صاحب کا ناول ’’آگے سمندر ہے‘‘ شائع ہوا تو میں بڑے اشتیاق سے خرید کرلایا۔ شام کو جب پڑھنے کے لیے ناول ڈھونڈنے لگا تو اس کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ کتابوں کی کئی الماریوں، میز اور دراز چھان مارے، مگروہ کہیں نہ ملا۔ تب میں آرام سے لیٹ کر سوچنے لگا کہ گھر واپسی پر میں نے کیا کچھ کیا تھا۔ تب ذہنی طور پر قدم بہ قدم پیچھے جاتے ہوئے مجھے یاد آگیا کہ ناول میں نے کپڑوں کی الماری میں رکھ دیا تھا۔

آپ بھی اس ترکیب سے کام لے سکتے ہیں۔ یہ کام نہ آئے تو ماہرین نفسیات کی تجویزکردہ ایک اور ترکیب آزمائیے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کو سونے سے پہلے اپنے ذہن میں دہرائیے کہ آپ کیا شے ڈھونڈتے رہے ہیں۔ اس کا تصور ذہن میں لائیے اور خود سے اصرار کیجیے کہ صبح تک یہ شے مل جانی چاہیے۔ اس طرح آپ کا لاشعوری ذہن زیادہ فعال ہوجائے گا اور مطلوبہ شے تک پہنچ جائے گا۔

(۵)نقل تیار کیجیے

بلاشبہ کئی چیزیں گم ہوجاتی ہیں اور ہزار جتن کرنے پر بھی نہیں ملتیں۔ لہٰذا ممکن ہو تو اہم چیزوں کی نقل بنوا کر رکھیے۔

قیمتی دستاویزات کی نقل خاص طور پر رکھنی چاہیے۔ لیکن اصل دستاویزات کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر کسی ایسی پراسرار جگہ مت رکھئے۔ جہاں سے وہ آپ کو بھی، بھول جانے کی صورت میں نہ ملیں۔ ایسی جگہوں پر چیزیں رکھنے سے وہ چوروں سے تو محفوظ ہوجاتی ہیں، مگر کبھی کبھی جب آپ وہ جگہ بھول جاتے ہیں تو پھر آپ کے ہاتھوں سے بھی نکل جاتی ہیں۔

کوئی گمشدہ شے نہ مل رہی ہو تو تلاش کے بعد وقتی طور پر اس کو بھول جائیے۔ اس کا خیال ذہن سے نکال دیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کو خود بخود یاد آجائے گا کہ آپ نے اس کو کہاں رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا لاشعور مسلسل مطلوبہ شے کا پیچھا کرتا رہتا ہے اور آخر کار اس کو جاپکڑتا ہے۔

آخر میں یہ بات بھی یاد رکھئے کہ اگر کوئی شے ہمیشہ کے لیے گم ہوگئی ہے اور بہت سی تلاش کے باوجود نہیں مل رہی تو اس کے لیے پریشان مت رہئے۔ اس کو بھول جائیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر احمد جاوید

تبصرہ کیجیے