سرکے اور سرسوں کا استعمال

سرکہ

سرکہ عام طور پر گنّے کے رس سے بنایا جاتا ہے۔ دیہاتوں میں تقریباً ہر گھر میں موجود رہتا ہے۔ یہ بڑے کام کی چیز ہے۔ غذا کو ہضم کرتا اور بھوگ لگاتا ہے۔ اگر جسم میں صفرا (پت) کی زیادتی ہو تو اس کو کم کرتا ہے، اس لیے گرمیوں اور برسات میں اس کو عام طور پر کھانے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں یا اس کی چٹنی بناکر کھاتے ہیں۔

ہیضہ، طاعون اور ملیریا بخار جیسے وبائی امراض کے زمانے میں اس کا استعمال ان بیماریوں سے بچاتا ہے۔ پیاز کو باریک باریک کاٹ کر سرکے میں ڈالیں اور تھوڑا نمک مرچ شامل کرکے کھانے کے ساتھ کھائیں تو غذا رغبت سے کھائی جائے گی اور ہضم بھی جلد ہوگی اور کھانے والا ساتھ ہی ان بیماریوں سے بھی بچا رہے گا۔

سرکہ گرمی کو تسکین دیتا اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے، اس لیے سرکے میں عرقِ گلاب ملاکر اس میں کپڑے کی گدّی بھگوکر پیشانی پر رکھنے سے گرمی سے پیدا ہونے والا دردِ سر جاتا رہتا ہے۔ اگر گرمی سے سرسام ہوجائے یا بخار کی وجہ سے مریض بکواس کرنے لگے تو سرکے اور گلاب میں کپڑے کی گدّی بار بار بھگو کر سر پر رکھنے سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

کان میں درد ہو یا کان میں کیڑے پڑجائیں، سرکہ کان میں ٹپکانے سے کان کا درد دور ہوجاتا ہے۔ اور کان کے کیڑے بھی مرجاتے ہیں۔

دانتوں میں گرمی سے درد ہو یا ان سے خون بہتاہو تو سرکے سے کلیاں کرنا مفید ہے۔

سرکہ آٹھ چھٹانک میں چینی ایک سیر ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔ یہاں تک کہ شربت کا قوام بن جائے۔ بس یہ سکنجبین بن گئی۔ صفراوی بخاروں میں دو تین تولے سکنجبین پانی میں ملاکر پلانے سے پیاس کم ہوجاتی ہے اور بخار کی حرارت گھٹ جاتی ہے۔ اگر قے آتی ہو، متلی ستاتی ہو تو یہ بھی دور ہوجاتی ہے۔

سرسوں

سرسوں مشہور چیز ہے۔ اس کے پتوں اور گاندل اورپتوں کا ساگ پکاکر کھاتے ہیں اور اسی کے بیجوں کا تیل نکال کر اس میں پکوان اور سالن پکاتے ہیں۔ سرسوں پیلی اور کا لی دو قسم کی ہوتی ہے۔

سرسوں زرد پانچ تولے کو باریک پیس کر شہد پندرہ تولے میں ملا کر چٹانے سے بلغمی کھانسی دور ہوجاتی ہے۔

سرسوں کو پانی میں پیس کر چہرے پر لگانے سے داغ دھبے اور جھائیاں دور ہوکر چہرہ نکھر آتا ہے۔

سرسوں کا تیل

سرسوں کے تیل کو روغنِ سیاہ، روغنِ تلخ اور کڑوا تیل بھی کہتے ہیں۔ یہ تیل بڑے کام کی چیز ہے۔ قصبوں اور دیہاتوں میں یہی تیل چراغ میں جلایا جاتا ہے، جس سے گھروں میں اجالا ہوتا ہے۔ اسی تیل میں سالن پکاتے ہیں اور قسم قسم کے پکوان تیار کرتے ہیں۔ بدن میں طاقت اور حرارت پیدا کرنے کے لیے یہ تیل مصنوعی گھی سے بہت بہتر ہے۔

بدن پر اس تیل کی مالش کرنے سے بدن میں تراوٹ پہنچتی ہے اور خشک کھجلی دور ہوجاتی ہے۔ اگر تندرست دبلا آدمی اس تیل کی برابر مالش کرتا رہے تو بدن موٹا ہوتا اور اس میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔

سرسوں کے تیل میں کافور ملا کر مالش کرنے سے گٹھیا اور عرق النسا کا درد کم ہوجاتا ہے۔ اگر کان میں کیڑے ہوں تو اس تیل کے ٹپکانے سے مرجاتے ہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
حکیم سعیدؒ

Leave a Reply