ازدواجی تعلقات اور اسلام کی تعلیمات

مرد اور عورت کا ازدواجی تعلق درحقیقت انسان کے تمدن کا سنگِ بنیاد ہے، قرآن میں ارشاد ربانی ہے:

’’ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، پھر تمہارے قبیلے اور برادریاں بنائیں، اس لیے کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سے بہتر وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے بڑھ کر ہے۔‘‘ (الحجرات)

فرد معاشرے کی اکائی ہے، معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے لیے مرد اور عورت دونوں یکساں کردار ادا کرتے ہیں، تمام معاشرو ںمیں بہترین معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے، جہاں شوہر اور عورت کو یکساں نوعیت کے حقوق حاصل ہیں اور جس میں مرد کو ایک درجہ فوقیت صرف اس بناء پر حاصل ہے کہ وہ قوام ہے اور بیوی بچوں اور خاندان کی قیادت کاذریعہ ہے۔ ازدواجی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے اور بعد میں اسلام مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر صبر، شکر، ایثار، قربانی، جذبہ، ہمدردی اور باہم محبت سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ سورۃ النساء میں رب کا فرمان ہے:

’’اگر آپس میں موافقت سے رہو اور ایک دوسرے سے زیادتی کرنے سے بچو، تو بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے، اور (اگر یہ نہ ہوسکے) اور زوجین ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو اللہ اپنے وسیع خزانۂ غیب سے ہر ایک کی کفالت کرے گا۔‘‘ (النساء)

اس آیت میں یہ بات واضح ہے کہ جس طرح نکاح کی ایک حقیقت ہے اسی طرح ناچاقی و نااتفاقی کی صورت میں طلاق و خلع کی بھی اہمیت ہے، لیکن یہ ایک انتہائی قدم ہے اور صرف اسی صورت میں جائز ہے جب ساتھ رہنا بالکل ناممکن ہوجائے۔ علیحدگی کی صورت میں مرد کو نا انصافی کرنے سے منع کیا گیا ہے اور عورت سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مسلمان اسلام کے قانون سے بیگانہ ہوتے جارہے ہیں اور معاشرے کی اسلامی تعلیمات اور حقوق زوجین جن میں صبر، شکر، ایثار و محبت، جذبہ خدمت اور صلۂ رحمی صرف کتابوں تک محدود کردیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے آج کا معاشرہ بے انتہا انتشار اور بے چینی کا شکار ہے۔ آج کے مسلمان اسلام کے قانون ازدواج سے اس حد تک بیگانہ ہوگئے ہیں کہ اچھے اچھے تعلیم یافتہ افراد و خاندان اسلامی قانون ازدواج کے معمولی مسائل سے ناواقف ہیں۔

اسلامی تفصیلات تو سرے سے کوئی جانتا ہی نہیں، بلکہ اسلامی اصول کو جاننے اور سمجھنے والے مسلمان بہت کم ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اس معاشرے پر ہندو تہذیب کا اثر حاوی ہے۔ جس کے مندرجہ ذیل اثرات ہمارے سامنے ہیں:

(۱) ہندوانہ تہذیب کے اثرات کی بدولت بیوی کو پیر کی جوتی کی طرح کم تر تصور کیا جاتا ہے۔

(۲) طلاق اور خلع اس قدر معیوب ہوگئے ہیں کہ جہاں ان کی اشد ضرورت ہے وہاں بھی محض اس لیے پرہیز کیا جاتا ہے کہ معاشرے میں لوگ حقیرسمجھیں گے، معاشرے میں ناک کٹ جائے گی خواہ درپردہ وہ سب کچھ کیا جائے جو طلاق، خلع سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ اور اگر خدانخواستہ یہ حادثہ ہوجائے تو موردِ الزام عورت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے، خواہ عورت بے قصور ہو اور مرد نے ہی اس کے ساتھ زیادتی کی ہو۔

(۳) اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت اور جہالت کا عالم یہ ہے کہ طلاق کے خدائی مراحل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے طلاق طلاق طلاق کہہ کر خود بھی نادم ہوتے ہیں اور اللہ کے دین کے لیے بھی بدنامی کا سبب بنتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں نکاح اور ازدواج سے متعلق ہدایات دی ہیں وہیں واضح اور روشن ہدایات طلاق کے سلسلہ میں بھی ہیں۔

ایک طرف مسلم سماج کی اسلام سے عدمِ واقفیت اور جہالت ہے دوسری طرف مغربی تہذیب کا طلسم ہے، جس نے عورت کو آزادی اور مساوات کے نام پر کھلونا بنادیا اور اس کے جسم سے لباس، آنکھوں سے حیا اور دلوں سے سکون اور چین چھین لیا۔ اور وہ راندئہ درگاہ ہوئی۔ پوری مغرب کی دنیا اور اس کی تہذیب اس کی گواہ ہے۔

اسلام کا اپنا طرزِ فکر اور طرزِ معاشرت ہے، جس میں مرد کے فرائض بھی ہیں اور عورت کی ذمہ داریاں بھی۔ اور عورت کو بھی اسی طرح حسنِ سلوک حاصل کرنے کا حق ہے جس طرح مردوں کو اور اسی کی بنیاد پر اللہ نے فرمایا ہے کہ:

’’یا تو بھلے طریقے سے ان کو اپنے پاس رکھا جائے، یا احسان کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔‘‘

(البقرۃ)

’’یا تو بھلے مانسوں کی طرح ان کو رکھو یا بھلے مانسوں کی طرح رخصت کردو، محض ستانے کے لیے ان کو نہ روک رکھو، جو ایسا کرے گا وہ اپنے نفس پر خود ظلم کرے گا۔‘‘ (البقرۃ)

اور جب بات رخصت کرنے کی آتی ہے تو اس سے پہلے کے مراحل بھی قرآن میں واضح طور پر بیان کردیے گئے ہیں۔ اور ایسی صورت میں مرد و عورت کے خاندان کے افراد مل کر بیٹھیں اور معاملہ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اسلام کی تعلیمات تعلقات جوڑنے کی تاکید کرتی ہیں توڑنے کی نہیں۔ اور اگر جڑے رہنے کی شکل نہ نکل سکے تو پھر بھلے طریقے سے رخصت کردینا ہی اسلام کی تعلیم ہے اور اس میں فرد اور سماج و معاشرہ کی بھلائی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
قدسیہ ملک

Leave a Reply