چند تصویریں مختلف گھروں کی!

جون کی چمکتی دوپہر میں گرمی سے بے حال ثناء نے کالج سے واپس آکر جلدی جلدی اپنی کار عمارت کے حصے میں کھڑی کی اور تیزی سے اپنے فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

’’آج کافی دیر ہوگئی اور ابھی کھانا بھی پکانا ہے۔ اسد بھی آنے والے ہوں گے۔‘‘ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی اس نے گھنٹی بجائی۔

آیا نے دروازہ کھولا تو وہ دونوں بچوں، ردا اور اشعر کی خیریت پوچھ کر جھٹ سے اپنے کمرے میں گھس گئی۔ فائلیں اور پرس پلنگ پر پھینکا اور منہ ہاتھ دھو کر تیزی سے باورچی خانے کی راہ لی۔ اسد کے آن یسے پہلے اسے کھانا تیار کرنا تھا۔

کچھ ہی دیر کے بعد دفتر کی گاڑی نے اسد کو عمارت کے دروازے پر اتار دیا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، صحن میں کھیلتے ردا اور اشعر کو دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ردا کے بال یوں تھے جیسے صبح سے کنگھی کا چہرہ نہ دیکھا ہو اور میلے کپڑوں کے ساتھ جوتی ندارد… ادھر ننھے اشعر کی بہتی ہوئی ناک اور مٹی سے اٹے کپڑے اس کی نفیس طبیعت پر تازیانے برسا رہے تھے۔ برابر والی مسز احمد کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے وہ اس کے بچے لگ ہی نہیں رہے تھے۔

وہ بچوں کے پاس تیزی سے آیا، انھیں بازوؤں سے پکڑا اور جھٹ اپنے فلیٹ میں گھسا اور دروازے سے ہی ثناء کو آوازیں دینے لگا۔

’’ثناء… ثناء کہاں ہو تم؟ کیا کررہی ہو صبح سے؟ بچے کس قدر غلیظ اور گندے ہورہے ہیں۔ کچھ ان کا بھی خیال ہے؟

’’کیا بات ہے اسد! آپ نے آتے ہی شور مچانا شروع کردیا۔‘‘ بکھرے بالوں اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے ثناء باروچی خانے سے برآمد ہوئی۔ اسے دیکھ کر اسد کا غصہ اور بھی زیادہ ہوگیا۔

’’ذرا دیکھو تو بچوں کی طرف … اور اپنے حلیے کو بھی …‘‘ اس شکایتی انداز میں گویا ہوا۔

’’اسد! آج کالج سے آتے آتے دیر ہوگئی۔ راستے میں گوشت اور پھل وغیرہ بھی لینے تھے، بس آتے ہی باورچی خانے میں گھس گئی اس لیے بچوں کو نہ دیکھ سکی۔‘‘ ثناء نے صفائی پیش کی۔

’’خیر یہ آج کی بات تو نہیں، ہر روز کا یہی معمول ہے۔ ملازمت کرنے والی خواتین کے گھر تو بس خدا کے آسرے ہی پر چلتے ہیں۔‘‘

’’اسد! اب ایسے تو نہ کہیں، میں پوری کوشش تو کرتی ہوں کہ…‘‘ ثناء کے لہجے سے تھکن عیاں تھی۔

’’ہونہہ!… ذرا دیکھنا، نیچے والے فلیٹ کی مسز احمد کے بچے کیسے نکھرے نکھرے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے باہر کھیل رہے ہیں۔ انہیں بے اختیار پیار کرنے کو جی چاہتا ہے اور اپنے بچے…‘‘

٭٭٭

چلئے اب مسز احمد کے گھر میں بھی جھانک لیتے ہیں کہ وہاں اس وقت کیا ہورہا ہے۔ احمد نے فلیٹ کی گھنٹی بجائی تو خوبصورت لباس میں ملبوس اور تروتازہ چہرے کے ساتھ صبا نے دروازہ کھولا۔ نہلائے دھلائے، اچھے کپڑے پہنے ہوئے بچے تو باپ کو باہر ہی مل گئے تھے۔ ایک اچٹتی سی نظر صبا پر ڈال کر وہ گھر میں داخل ہوا۔ ڈرائنگ روم ابتری کا بدترین نمونہ پیش کررہا تھا۔ لگ رہا تھا جیسے ابھی یہاں پانی پت کی جنگ ختم ہوئی ہو۔ یہ بدنظمی دیکھتے ہوئے وہ اپنے کمرئہ استراحت میں داخل ہوا، تو الجھن اور بیزاری مزید بڑھ گئی۔

شن آلود مسلی ہوئی چادر، بغیر تہہ کیا ہوا کمبل، ادھر ادھر پڑے میلے کپڑوں اور جوتوں نے اچھے بھلے کمرے کو میدان کار زار بنا رکھا تھا۔

’’اف صبا… کہا ںہو، برائے مہربانی تم میرے آنے سے پہلے کم سے کم گھر تو صاف کرلیا کرو۔‘‘ احمد نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔

’’احمد! میں ابھی سو کر اٹھی تھی ، نہا دھوکر بچوں کو تیار کیا، پھر خود کپڑے بدلے۔ امی مصروفیات میں صفائی نہ کرسکی۔ پھر بچے بھی تو بہت گند مچاتے ہیں… بس ابھی کرتی ہوں صفائی …‘‘ صبا نے اپنی صفائی پیش کی۔

’’ہونہہ… اب کیا کرلوگی، بچوں کا تو بس بہانہ ہی ہے۔ تمہیں تو یہی آتا ہے کہ خود سج دھج کر بیٹھ گئیں۔ یا بچوں کو نہلا دھلا لیا، بس جی کام ختم … صفائی کیا باہر سے آکر کوئی جن کرے گا؟‘‘ احمد کے لہجے میں طنز گھلا ہوا تھا۔

’’اچھا، اب غصہ تو نہ دکھائیں… ‘‘ صبا نے ادا سے کہا۔

’’ذرا ساتھ والے فلیٹ کی مسز زبیر کو دیکھو! گھر ایسا چمچم کررہا ہوتا ہے کہ پوچھو مت۔ ان کے بھی تو بچے ہیں! کل رات اتفاق سے باہر چہل قدمی کرتے ہوئے زبیر صاحب چائے پلوانے مجھے اپنے گھر لے گئے۔ اس قدر حیران ہوا میں، اس وقت بھی گھر، فرش اور فرنیچر سب چمک رہے تھے اور ہمارا گھر … ذرا ادھر آؤ ناں دیکھو ہر شے پر کتنی گرد ہے… پرسوں زبیر صاحب اچانک کسی کام سے ہمارے گھر آئے تھے، سچ مانو میں بہت شرمندہ ہوا۔ ہمارا ڈرائنگ روم تو کشتی کا اکھاڑا لگ رہا تھا۔ اپنے آس پاس کے لوگوں سے کچھ سیکھو۔‘‘

٭٭٭

آئیے اب چلتے ہیں مسز زبیر کے گھر۔

’’صدف! بھئی ابھی تک کھانا کیوں نہیں بنا ہے… دفتر سے آتے ہوئے مجھے گھنٹہ ہوچلا ہے۔ زوروں کی بھوک لگی ہے…‘‘ زبیر نے جھنجھلائی ہوئی آواز میں اپنی بیوی صدف سے شکوہ کیا۔

’’بس زبیر تھوڑا سا انتظار کرلیں۔ آج مرغ بریانی بنا رہی ہوں اس لیے کچھ دیر ہوگئی۔‘‘ صدف نے جواب دیا۔

’’کتنی دیر اور … بھئی اگر کھانے کا لمبا چوڑا منصوبہ ہو تو ذرا وقت سے کچھ پہلے کام شروع کردیا کرو۔ پتا ہے میں بھوک کا کتنا کچا ہوں۔‘‘

’’آج دراصل گھر کی صفائی کا کام بھی بڑھ گیا تھا۔ اچھی طرح سے جھاڑ پونچھ کی، چھتوں سے جالے وغیرہ صاف کیے، یہ کمبخت مکڑیاں دنوں میں جالے بن دیتی ہیں، سارے غسل خانے بھی دھوئے اسی لیے کچھ دیر ہوگئی۔ آپ جانے ہیں گندگی سے میں کتنا چڑتی ہوں۔‘‘

’’ہونہہ، تمہارے نزدیک تو بس گھر کی صفائی ہی سارا کام ہے۔ گھر چمکا لیا تو کام ختم! صحن اور کمرے ستاروں کی طرح دمک رہے ہیں، غسل خانے چمچمارہے ہیں مگر کھانا چاہے وقت پر بنے نہ بنے ہمیں کیا…‘‘ زبیر نے تکرار بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’آپ تو بات کا بتنگڑ بنالیتے ہیں۔ کیاہے جو تھوڑا سا صبر کرلیں۔ انسان ہوں، روبوٹ یا مافوق الفطرت عورت تو نہیں یا پھر میری ہتھیلی پر جادو کا چراغ دھرا ہے …‘‘ صدف نے جل کر کہا۔

’’تم نے ہر بات کا جواز ڈھونڈ رکھا ہے۔ کبھی اپنی غلطی بھی خاموشی سے مان لیا کرو۔ تم سے بات کرنا تو ایسے ہے جیسے بندہ اپنے سکون وآرام کی فاتحہ پڑھ لے… شادی سے پہلے پھوپھی اماں نے کہا تھا، لڑکی اللہ کی میاں گائے ہے، منہ میں تو زبان ہی نہیں۔ بس اعتبار کرلیا اور اسی کا مزہ چکھ رہا ہوں۔ ایک کہو اور دس سنو۔‘‘زبیر نے بھی جل کر کہا۔

’’تو کرلی ہوتی کسی گونگی سے شادی…‘‘ صدف نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

’’بس زیادہ باتیں نہ بناؤ، دیکھا ہے چار نمبر فلیٹ والی مسز حسن کو؟ کتنی خاموش طبیعت کی ہیں۔ اتنی سلجھی ہوئی ہیں کہ میں نے کبھی انہیں بے کار بات کرتے یا فضول میں قہقہے لگاتے نہیں دیکھا …‘‘

٭٭٭

چلئے حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے مسٹر حسن کے گھر کا چکر بھی لگا ہی لیں:

’’صائمہ… صائمہ کہاں ہو بھئی؟‘‘ حسن آوازیں لگاتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہوا۔

ٹی وی لاؤنچ میں صائمہ کو نہ پاکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا۔ دیکھ کر صائمہ سر تک چادر اوڑھے مزے سے سورہی ہے۔

’’توبہ ہے صائمہ، تم کتنا سوتی ہو… سو سو کر تھکتی نہیں؟ دوپہر کے دوبجے میں نے فون کیا تھا تب بھی تم سورہی تھیں، اب چھ بج رہے ہیں… میں آگیا ہوں، اب تو اٹھ جاؤ۔‘‘ حسن نے خفگی سے کہا۔

’’ارے چھ بج گئے… بس اٹھتی ہوں ابھی…‘‘ صائمہ نے خمار آلود آواز میں کہا۔

’’بھئی ذرا چائے کی پیالی تو بنادو۔ اگر بسکٹ وغیرہ ہیں تو وہ بھی رکھ دو۔ میں ذرا تازہ ہولوں۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کپڑے بدلنے کے لیے غسل خانے کی طرف چل پڑا۔ تقریباً پندرہ بیس منٹ کے بعد کپڑے بدل کر جب وہ باہر آیا تو صائمہ ابھی تک سو رہی تھی۔ اب اس کا موڈ خراب ہونا لازمی تھا۔ اس نے ذرا زور سے آواز دی تو صائمہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

’’اف اتنی نیند آرہی ہے مجھے …‘‘ صائمہ کے لہجے میں سستی ہی سستی تھی۔

’’صائمہ ہماری شادی کو چھ ماہ ہوگئے ہیں اور بہت کم ہی ایسا ہوا کہ میں نے تمہیں سوتا ہوا نہ پایا ہو۔‘‘

پھر صائمہ کی نیند سے آلودہ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا: ملکہ صاحبہ! بندہ چائے پینے کے لیے درخواست پیش کرتا ہے۔‘‘

’’جی اچھا… صائمہ نے جیسے اس کا مذاق سنا ہی نہیں اور بستر سے اٹھ کر سست قدموں سے باورچی خانے کی طرف چل دی۔ حسن بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا اور صائمہ کو چائے بناتے ہوئے بغور دیکھتا رہا۔ دھیرے دھیرے اٹھتے ہوئے قدم اور سست روی سے چلتے ہوئے ہاتھ حسن کی کوفت میں اضافہ کررہے تھے۔

’’صائمہ… تم بہت کم بولتی ہو اور اگر برا نہ لگے تو تم زیادہ چست بھی نہیں ہو۔ ہر کام اس رفتار سے کرتی ہو جیسے اس کام کے لیے تمہارے پاس پورا دن ہو! بھئی دیکھو اب میں پچھلے دس منٹ سے باورچی خانے میں چائے کے انتظار میں سڑ رہا ہوں اور ابھی تک ایک پیالی چائے نہیں مل سکی۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں دفتر سے آؤں تو تمہارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کروں۔ مگر تم اکثر سوئی ملتی ہو اور بات کرنے پر جی اچھا اور جی نہیں سے آگے ہی نہیں بڑھتیں…‘‘ حسن نے شکوہ آمیز لہجے میں کہا۔

’’جی اچھا…‘‘ ادھر مرغے کی وہی ایک ٹانگ تھی ’’عجیب حماقت ہے…‘‘ حسن نے جھنجھلا کر کہا۔

کبھی دیکھا ہے ’’ایک نمبر والی مسز اسد کو‘‘ کو کتنی چست چالاک ہیں، کالج میں پڑھاتی ہیں۔ کار بھی خود چلاتی ہیں۔ سارا سودا سلف بھی خود ہی لاتی ہیں اور اوپر سے گھر بھی سنبھالی ہیں، خوش قسمت ہیں اسد صاحب بھی …

٭٭٭

اب ذرا مسز اسد کے گھر بھی چلتے ہیں۔ مگر رکئے مسٹر اسد تو پہلے ہی انہیں ناکام بیوی کی سند دے چکے ہیں۔ وہ تو خود ہی شکایت کررہی تھیں اپنے شوہر کی۔ کہہ رہی تھیں کہ میں کالج میں پڑھاؤں بھی، گھر کا کام بھی کروں سودا سلف بھی لاؤں اور پھر بھی اسد صاحب ہیں کہ ہمیشہ مجھ پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نہیں ہوا، وہ نہیں ہوا۔

اب تو آپ نے دیکھ لیا سب کا حال اور معلوم ہوگیا کون کتنے پانی میں ہے۔ مگر اس میں بھی آپ کے لیے سبق ہے۔ کسی نے حکیم لقمان سے پوچھا کہ ’’آپ نے ادب کس سے سیکھا۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’ بے ادبوں سے‘‘ ارے ایسا کیسے ممکن ہے؟ حکیم لقمان نے جواب دیا کہ ہاں یہ ممکن ہے مگر اس کے لیے کچھ عقلمندی کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ ’’جو برائی یا بے ادبی دیکھی اس سے اپنے آپ کو بچالیا۔‘‘

حقیقت میں زندگی کا گر یہ ہے کہ ہم توازن قائم رکھنا سیکھ لیں۔ گھریلو ازدواجی زندگی میں تو اس کی خاص اہمیت ہے۔ بس ان تصویروں کو غور سے دیکھئے جو مختلف گھرانوں سے لی گئی ہیں اور اپنی زندگی کو ’’با ادب بنائیے‘‘ آپ کا میاب ہوجائیں گی۔

——

شیئر کیجیے
Default image
اسماء عدیل

Leave a Reply