پہچان

شیریں بہن یہ خط جس وقت تمہیں ملے گا، تو میں اپنی زندگی کی کتاب کا ایک نیا ورق بدل چکی ہوں گی، شیریں، تم اب میرے حال اور مستقبل کا تصور بھی نہیں کرسکتیں، اس لیے کہ تمہاری نظروں میںاگر میں کچھ تھی تو ایک سیاہ بخت اورمنحوس شمو تھی، جو اپنے ماں باپ اور اپنی زندگی کے ساتھی کو چاٹ گئی۔ یہ میری زندگی کا وہ ساتھی تھا، جس کے ساتھ میں نے زندگی کے میدان میں ابھی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا تھا۔ اور جو میری سیاہ بختی سے پہلے ہی جوانی کے تاریک اندھیروں میں اتر گیا۔ جس کے مرنے کے ساتھ ہی میں تمہارے اور تمہاری دنیا کے دوسرے لوگوں کی نظر میں منحوس قرار دی گئی… اور پھر؟ پھر مجھ سے میرے ماں باپ بھی یکے بعد دیگرے روٹھ گئے۔ میں دنیا میں یکہ و تنہا، چچا اور چچی کے رحم و کرم پر رہ گئی۔ میں نے ہر حال میں صبر و شکر کیا، لیکن میں چچی کے طعنے، چبھتی باتوں اور چچا کی سرخ قہر آلود اور غضبناک آنکھوں کا مقابلہ نہ کرسکی۔ اسی لیے میں نے تمہارے گھر پناہ لینے کی کوشش کی۔ لیکن شیریں، تمہیں اپنا وہ جواب یاد ہے، وہ جواب جو تم نے مجھے دیا تھا۔ تم پہلے تو اپنے گھر میں مجھے پناہ دینے کی بات پر کچھ خاموش سی ہوگئی تھیں اور پھر ایک ٹھنڈی آہ تمہارے منہ سے نکلی تھی۔ اور اپنی مجبوری کا اظہار تم نے ان الفاظ میں کیا تھا:

’’شمو تم میری بچپن کی سہیلی ہو، لیکن اب تم پر ایک ایسا وقت آن پڑا ہے جو تم سے تمہاری قربانی مانگتا ہے تم چچا ہی کے گھر میں رہو،جوان لڑکی ہو، میرا خاوند اگر کچھ نہ کہے گا تو دنیا کے منہ پر کون ہاتھ رکھے گا؟‘‘

تمہاری یہ بات سن کر، میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے …… اور میں نے روتے ہوئے تم سے کہا:’’شیریں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ میری جوانی اب اس قابل بھی نہیں رہ گئی کہ میں کہیں حیا اور پردے میں رہ کر زندگی بسر کرسکوں…؟‘‘

اور تم نے مجھے بڑی فراخ دلی سے جواب دیا تھا کہ ’’ہاں، تم اب اس قابل نہیں رہیں، اس لیے کہ قسمت تمہارے ساتھ کھیل رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے ساتھ میری آئندہ زندگی بھی خاک میں مل جائے، تم چچا ہی کے گھر رہو، تمہاری اپنی زمین ہے۔ اگر تمہارا چچا تمہارے لیے ظالم بن گیا ہے تو کیا … تمہیں یہ تو تسلی ہے کہ تم اپنی ہی زمین سے کھاتی ہو۔‘‘

لیکن شیریں، تم میرے احساسات کو سمجھ ہی نہ سکیں۔ قسمت سچ مچ میرے ساتھ کھیل رہی تھی، میں قسمت کے ہاتھوں میں کھلونا تھی۔ شیریں تمہیں تو میری وہ پہلی والی قسمت یاد ہوگی نا، جو میرے ہاتھوں میں کھیلتی تھی۔ میری جب چچا زاد بھائی کے ساتھ منگنی ہوئی تھی تو اس سال وہ تین بار مسلسل فیل ہونے کے بعد فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا۔ اور پھر جب وہ کالج میں داخل ہوا تواچھے نمبرحاصل کرکے جلد از جلد یونیورسٹی تک پہنچ گیا تھا۔ اور پھر اس کے ایم اے کے نتیجے سے پہلے ہی اسے ایک اعلیٰ سرکاری عہدہ دے دیا گیا تھا۔ وہ بھی میری قسمت تھی نا، اور میری چچی اور چچا کیسے میری بلائیں لیتے تھے، قربان ہوتے تھے اور تو بھی تو مجھے قابلِ تعریف نظروں سے دیکھتی تھی اور کہا کرتی تھی:

’’شمو، یہ تمہاری ہی قسمت ہے کہ اکرم نے اتنی جلدی ترقی کی ہے ورنہ تمہارا جب اس سے رشتہ نہیں ہوا تھا تو ہر جماعت میں ایک بار ضرور فیل ہوتا تھا اور اب …‘‘

اور میں نے تمہاری بات جلد پوری کردی ’’کہ اب میرے بخت یا قسمت کی بات نہیں، اب اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگیا ہے، اب وہ نیم مرد اور نیم لڑکا ہے۔ اور اب اسے معلوم ہے کہ بہت جلد گھر کی ذمہ داری سر پر آپڑے گی لہٰذا اب بیکار گھومنا پھرنا چھوڑ اور تعلیم کی طرف توجہ دے۔ اور … اور اب اس نے تعلیم کی طرف توجہ دی۔ تو دیکھ لو۔ زینہ پر زینہ طے کرتا ہوا اوپر چڑھ رہا ہے۔‘‘

تم نے پھر مجھے یہ کہا ہے کہ ’’دیکھو شمو تم نے اسکول میں ایک لفظ تک نہیں پڑھا، بس قرآن شریف اور کتابیں پڑھ سکتی ہو اور منگیتر کو دیکھو! کہ خیر سے…‘‘

اور پھر تم نے بات پوری نہ کی اور جلد ہی اپنی بدبختی کا ذکرچھیڑ دیا کہ ’’اپنے مقابلے میں مجھے دیکھو، میں نے ساری زندگی شہر میں گزاری ہے، ماں باپ نے مجھے دسویں جماعت تک تعلیم دلوائی، چاہیے تو یہ تھا کہ میں کسی بڑے افسر کی بیوی ہوتی لیکن میرا خاوند صرف میٹرک پاس ہے اور اپنی جائیداد کے سہارے بیٹھا اس کی آمدنی پر گزارا کررہا ہے۔ لیکن … یہ تو قسمت کی باتیں ہیں، شمو مان لو کہ تم قسمت کی دھنی ہو، پہلے تو اس قسمت کو دیکھونا کہ اتنی بڑی جائداد اور تو اس کی تنہا مالک ہے اور اگر اکرم کے ساتھ تمہاری شادی کے بعد یہ جائیداد اکرم کی ہوگئی تو وہ اسے کہاں لے جائے گا۔ اس کے باپ نے جوانی میں اگر اپنی جائیداد فضول کاموں میں اڑا دی ہے تو کیا ہوا۔ اس کے کون سے بچے ہیں بس یہی اکرم ہے … اور ایک سکینہ ہے۔ سکینہ کی کہیں شادی ہوجائے گی، اور پھر تمہارے مزے ہوں گے۔‘‘

شیریں، تم اس وقت کا اندازہ کیا لگاسکتی ہو، جب کہ تم نے ہی سب سے پہلے تیزی سے یہ بری خبر مجھ تک پہنچائی کہ اکرم پلنگ پر کسی ساتھی کے پستول کا شکار ہوگیا ہے اور … اور … اس کے بعد میں اور کچھ نہ سن سکی۔ اور دوڑتی ہوئی اس کے پلنگ تک پہنچی۔ اکرم کی زندگی کی شمع کسی ساتھی کے خوشی میں کیے گئے فائر کے ہاتھوں بجھ چکی تھی، اکرم کا مغز ٹکڑے ٹکڑے پڑاتھا۔ اور جب میں اس پر جھک رہی تھی تو چچی نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا… اور مجھے سرخ آنکھوں سے چیختے ہوئے کہا : ’’او منحوس! تجھ منحوس کے ساتھ اگر میں نے اس کا رشتہ نہ کیا ہوتا تو آج کیوں شادی کے پلنگ سے جنازہ بنتا… منحوس… منحوس۔‘‘

اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ تھوڑی دیر پہلے جو عورتیں خوشی کے گیت گارہی تھیں، وہ سب چیخ چیخ کر منحوس منحوس کی آوازیں لگا رہی ہیں اور رو رہی ہیں۔

’’منحوس‘‘ یہ تو ہی تھی کہ نیلے آسمان کے غضب کی طرح تو نے آکر اکرم کی موت کا بتایا تھا۔ اور پھر تو ہی تھی کہ مجھے جلدی سے اس دھکم پیل اور ہلچل سے ایک طرف لے گئی۔ میرے راستے میں گری ہوئی بنارسی ساڑی اٹھائی اور میرے سر پر ڈال ہی رہی تھی کہ اتنے میں چچی دوڑی ہوئی آئی۔ بنارسی ساڑی میرے سر سے نوچ لی اور مجھے ننگے سر چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ اب میں بیوہ ہوگئی تھی نا… اور پھر … پھر؟ پھر؟ مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہوا۔ بس رات دن چارپائی پر پڑی ہوئی تھی۔ میرا دماغ شل ہوچکا تھا۔ نہ کچھ سمجھ سکتی تھی نہ سن سکتی تھی اور نہ کچھ کہتی تھی۔ اور شاید نہ ہی میں کچھ سوچ رہی تھی۔ خالی خالی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھتی اور تو مجھے تسلیاں دیتی۔ اور پھر میں اس قابل ہوگئی کہ ایک روز جواں مرگ اکرم کی تصویر کے سامنے چیخ چیخ کر روئی۔ میرے دل و دماغ کا بوجھ آنکھوں کے راستے آنسوؤں کے سیلاب میں کچھ کم تو ہوگیا… لیکن غموں کے سمندر کی گہرائی کم ہونے کے بجائے اور زیادہ ہوگئی۔ غموں کے بے پایاں سمندر سے نکلنے کی بجائے میں سیاہ بختی کے دلدل میں پھنس گئی۔ اور اب لوگوںکے منہ سے لفظ ’’منحوس‘‘ سے جو کہ میرے لیے ماں باپ کے مرنے کے وقت زاروقطار رونے اور سسکیوں کے ساتھ استعمال ہوا تھا۔ میں ایسی عادی ہوگئی کہ کوئی مجھے دیکھتا اور منحوس نہ کہتا تو مجھے یوں معلوم ہوتا کہ اس شخص نے میری بے عزتی کردی ہو۔ کئی بار تو میرے دل نے کہا کہ اپنے ساتھ باتیں کرنے والے سے کہہ دے کہ باتیں شروع کرنے سے پہلے تم نے مجھے ’’منحوس‘‘ کیوں نہیں کہا۔ لیکن شیریں، یہ تو دنیا ہے نا۔ یہاں تو بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم نہیں چاہتے، لیکن ہوجاتی ہیں اور بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن ہوتا نہیں۔

شیریں! ایسے وقت میں بھی تم نے مجھے سہارا دیا ورنہ ماں باپ کے مرنے کے بعدمیں دیوانی ہوگئی ہوتی۔ اس لیے تو تمہارے بھاری احسانات کی وجہ سے میں نے اس وقت جب میرے چچا چچی کے طعنے حد سے بڑھ گئے تھے میری زندگی ان کے سائے تلے بھڑکتی آگ سے بھرے تنور میں گزارے نہیں گزرتے تھے۔ میں نے ایک بار پھر تمہاری ضرورت محسوس کی۔ تو میں تمہارے در تک جاپہنچی۔ اور تم سے مدد مانگی لیکن تم نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔

شیریں! تمہارا جواب سننے کے بعد میں زندگی سے بیزار ہوگئی۔ لیکن میں نے حوصلہ نہ ہارا۔ میں گھر سے نکلی اور ویران اجڑے ہوئے گھروں کا راستہ لیا۔ ٹوٹے ہوئے دروازے کے ایک اجڑے ہوئے گھر میں داخل ہوئی۔ ایسے اجڑے ہوئے دیاروں میں ہی کھلے دل اور بلند حوصلوں کے مالک بستے ہیں۔ وہاں ایک بوڑھی عورت بیٹھی برتن دھورہی تھی۔ میں نے جلدی سے اس کے ہاتھوں سے برتن لیے اور خود دھونے بیٹھ گئی۔ وہ ایک ہمدرد عورت تھی۔ میں نے بلاخوف و خطر اسے اپنی ساری کہانی سنائی۔ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ آنسووں سے لبریز آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور مجھ سے کہا کہ ’’میں بھی تیری طرح ایک منحوس عورت سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے کہ میری شادی کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ میں بیوہ ہوگئی۔ اور جب تربوروں، میراث خوروں کے ہاتھوں تنگ آگئی، تو یہاں محنت مزدوری کے لیے چلی آئی۔ بیٹی کو بڑی مشکل سے میٹرک پاس کرایا۔ پھر وہ ٹریننگ کے بعد استانی ہوگئی۔ اس نے نوکری کرلی۔ اور میرے بڑھاپے کو راحت ملی۔ لیکن جمیلہ کو علم حاصل کرنے کا شوق تھا، اس لیے اس نے تعلیم نہ چھوڑی۔ پڑائیویٹ کوششیں جاری رکھیں اور آج خبر سے بی اے کی ڈگری لینے گئی ہے۔ ابھی تھوڑی دیر میں آجائے گی۔ میری دو بیٹیاں ہیں، شمع اور جمیلہ۔ جمیلہ کمائے گی اور شمع بڑھیا ماں کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹالے گی… اور … اور … شیریں ایسے ہی ہوا … جمیلہ ایک باہمت اور ہوشیار لڑکی تھی۔ اس نے مجھے گھر میں پڑھانا شروع کیا۔ رات دن میں نے ایک کردیا۔ چراغ کی روشنی میں آہستہ آہستہ پہلے مڈل اور پھر میٹرک کیا اور یہ سب کچھ دو سال کے عرصہ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد میری ٹریننگ ہوئی اور میں استانی ہوگئی۔ اب جمیلہ نے یونیورسٹی میں باقاعدہ داخلہ لے لیا تھا۔ رات کو ہم کھاتے پیتے لوگو ںکی بیٹیوں اور بچوں کو معقول پیسے لے کر پڑھاتیں۔ دن کو جمیلہ تعلیم کے لیے اور میں نوکری کے لیے جاتی رہیں اور فارغ وقت میں، میں مزید تعلیم کے لیے تیاری کرتی اور جب جمیلہ ایم اے پاس کررہی تھی، تو میں نے بی اے کرلیا تھا۔ اب جمیلہ کی نوکری کی باری تھی اور میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور جب میں نے ایم اے کرلیا تو جمیلہ کے کالج ہی میں مجھے جگہ مل گئی اور آج؟ آج میرے اعزاز میں کالج کے عملے نے میری استقبالیہ دعوت کی ہے۔

اب تیری اور تیری دنیا کی نظر میں وہ منحوس سیاہ بخت شمو… اپنی سیاہ بختی کا سیاہ لباس تار تار کردے گی اور ہمت کی روشن مشعل اپنے ہاتھ میں لیے مستقبل کی طرف بڑی تیزی سے روانہ ہوجائے گی۔ آج کے بعد شمو کی زندگی، اپنی طرح خدا جانے کتنے لڑکیوں کی زندگی بہتر کرنے کے لیے وقف رہے گی۔

شیریں! خط ختم کرنے سے پہلے میں تم سے ایک درخواست کرتی ہوں اور وہ یہ کہ تم نے مجھ پر بڑے احسان کیے ہیں۔ آج مجھ پر ایک آخری احسان اور کرو اور وہ یہ کہ میرے چچا چچی سے بس اتنا کہہ دو کہ شمو اب منحوس بدبخت اور سیاہ بخت نہیں ہے۔ اس نے اپنی قسمت اب خود بدل دی ہے۔ اس لیے کہ شمو کم ہمت نہیں ہے۔ شیریں، اگر تمہیں میری اس کہانی پر یقین نہیں آیا، تو میں اپنا پتہ لکھ رہی ہوں … تم آؤ… اور اپنی آنکھوں سے میری بدلی ہوئی حالت دیکھ لو۔ اور پھر لوگوں کو بتاؤ کہ جو ہمت کرتا ہے وہ کسی حد تک اپنے آپ کو پہچان سکتا ہے۔ اچھا اب میں تم سے اجازت چاہتی ہوں۔ خدا حافظ!

تمہاری قسمت والی بہن

’’شمو‘‘

——

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: زیتون بانو پشتوسے ترجمہ: فقیر حسین ساحر

Leave a Reply