معافی

اس نے انگلیوں پر حساب لگانا چاہا، مگر وہ پانچ تک ہی گن سکا تھا۔

اس کے اندر ایک ہلچل سی پیدا ہورہی تھی۔ دور دور تک ریگستان کے تند بگولوں کی زد میں اسے بڑے کارواں کی بکھری ہوئی دعاؤں کی چبھن محسوس ہورہی تھی ۔ نہ چاہنے کے باوجود وہ قریب بیٹھے ہوئے درویش کی دردبھری آواز میں خبریں پڑھنے کے انداز سے متاثر ہونے لگا تھا۔ اور دوریش کے پرلی طرف بیٹھے ہوئے معراج چھابڑی والے کی آہوں سے فضا میں بوجھل پن پیدا ہورہا تھا۔

کرامت علی رات کی آخری بس پر سوار ہوکر رات کے پچھلے پہر شہر پہنچ گیا تھا۔ اور سورج کے طلوع کے وقت وہ کچہری کے احاطہ میں خالی بینچ پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ کچہری کی دیوار کے پرلی طرف بیٹھے ہوئے حلیم اور نان بیچنے والے عبداللہ کے قریب بیٹھ کر اس نے ناشتہ کیا تھا۔ مٹکے میں سے پانی کے دو گلاس بھر کر غٹاغٹ پی گیا تھا اور اب غنودگی کی وجہ سے بینچ پر بیٹھے ہوئے اسے نیچے گرپڑنے کا ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔

اس نے ساری توجہ خبریں پڑھنے والے دوریش پر مرکوز کردی تھی۔ دو اور آدمی قریب آکر بیٹھ گئے تو ایک نے درویش کی پنڈلی پکڑلی، پھر اسے دبانے لگا۔ دوریش نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا اور زیرِ لب مسکرانے لگا۔

’’بادشاہو کیوں گنہگار کرتے ہو، ہم تو دنیا کے کتے ہیں، یہ چولا تو مانگ کر لیا ہے، اپنی پھب چھپانے کے لیے۔‘‘

’’نہیں بزرگو! ایسا مت کہو۔ ہم بھی کھرے کھوٹے کی پہچان رکھتے ہیں۔ بس ایک نظرکرم‘‘

’’ناں… ناں… ایسا مت کہو۔ نظر کرم تو مولائے کریم کی چاہیے۔ وہی سب کا بیڑا پار کرنے والا ہے سائیں بادشاہ… رب کریم کے نیک بندے بھی تو جب ہاتھ اٹھاتے ہیںتو مولائے کریم ان کے ہاتھوں کی لاج رکھ لیتے ہیں… ہاں…‘‘

’’ہاں کو لمبا کرکے اس نے دوسری پنڈلی دبانی شروع کردی۔

کرامت علی نے نظریں جما کر اپنا جائزہ لیا۔

’’تو کیا ہے۔ کیا دوریش ہے، کیا دنیادار ہے، کیا بہروپیا ہے!‘‘

وہ پھر انگلیوں پر گننے لگا۔ اور پانچ تک ہی گن سکا۔ اور اس کا انگوٹھا جیسے شکنجہ میں آگیا ہو۔ لمبی ’’سی‘‘ کے ساتھ اس نے انگوٹھا منہ میں ڈال لیا۔

’’یا اللہ… جب سلامت بھی قتل ہوا تو تاریخ پانچ تھی۔ جب چودھری غفار نے قتل کے ملزم کے طور پر جمیل کو تھانہ میں پیش کیا تو تاریخ پانچ تھی۔ جب مقدمہ سیشن کی عدالت میں آیا تو اس وقت بھی پانچ تاریخ ہی تھی، اور آج بھی تاریخ پانچ ہی ہے۔ فیصلہ کا دن ہے۔ سزائے موت تو یقینی ہے۔ گواہ مضبوط تھے۔ سارا گاؤں میری طرف ہے۔ چودھری غفار بھی اب دنیا میں نہیں رہا… جمیل کے سارے ضمانتی بھاگ گئے ہیں۔ اس کا وکیل بھی چھپنے لگا ہے۔ اس لیے … اس لیے!‘‘

دوریش کہہ رہا تھا۔

’’دیکھ عیسیٰ خان، معاف کرنے والا، بدلہ لینے والے سے ہزار گنا زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔نیکی بھی تو اسی کا نام ہے۔ تم بدلہ لے سکتے ہو۔ حکم بھی یہی ہے کہ جان کا بدلہ جان۔ مگر … اس کے بعد نیکی کا میدان آتا ہے۔ اور حکم ہوتا ہے کہ تم معاف کردو تو یہ تمہارے لیے نفع بخش سودا ہے، ہاں… سمجھ گئے ہو!‘‘

’’جی… سائیں بادشاہ… بس پھونک ماردیں … وہ خاک سیاہ ہوجائے گا۔‘‘

’’ناں … ناں… خاک سیاہ کرنا۔ یہ کوئی بہادری تو نہیں ہے۔ جا۔ مقدمہ واپس لے لے۔ وہ تیرا اپنا خوف ہے۔ دو گز زمین بھی شاید نصیب نہ ہو۔ اور تو پندرہ ایکڑ کے لیے ہلکان ہورہا ہے۔‘‘

’’سگے بھائی کو شکست دینا چاہتا ہے۔ جا… جا۔‘‘

اور درویش نے ٹانگیں اور سکیڑ لیں… عیسیٰ خان اٹھتے ہوئے بولا:

’’میں تو بڑی امیدیں لے کر آیا تھا۔‘‘

’’میں نے بھی نقصان سے بچنے کا درس دیا ہے۔‘‘

’’لیکن!‘‘

’’جا اسے بھی ساتھ لے آ… دیکھتا ہوں۔ کیسے تمہاری عزت نہیں کرتا۔‘‘

پھر عیسیٰ خان کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد … درویش نے اخبار ایک طرف رکھ دیا، کرامت علی کو گھور کر دیکھا اور ملائم لہجہ میں پوچھا:

’’کیا گڑ بڑ ہے، بھائی صاحب کیسے آئے ہو؟‘‘

’’بس جی … بیٹا قتل ہوگیا تھا … آج فیصلہ کی تاریخ ہے۔‘‘

’’کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’فیصلہ ہمارے حق میں ہونا چاہیے۔‘‘

’’مقتول شادی شدہ تھا؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’کتنے بچے ہیں؟‘‘

’’تین… ایک بیٹا، دو بیٹیاں۔‘‘

’’ہائے … کتنے دکھ کی بات ہے جب ان یتیموں کو دیکھتے ہو تو کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔ کیوں ٹھیک ہے نا!‘‘

’’جی ہاں… یہ تو قدرتی بات ہے۔‘‘

’’اور قاتل؟‘‘

’’اس کے بھی تین بچے ہیں۔ دو بیٹے، اور ایک بیٹی۔‘‘

’’پھر ابھی ابھی میں نے اخبار میں لکھی ہوئی خبر سنائی ہے۔ تم نے بھی اس پر غور کیا ہے؟‘‘

’’میں تو پوری خبر نہیں سن سکا ہوں… البتہ اتنا معلوم ہوا ہے کہ بیس سال قید کاٹ کر جب قاتل باہر آیا تو قتل کردیا گیا۔‘‘

’’ہاں! یہی اہم نکتہ ہے… مقتول کے بیٹے نے باپ کے قاتل کو بیس سال بعد ڈھیر کردیا… تو کیا تمہارا پوتا…یا اس قاتل کا بیٹا… دشمنی کے اسباب مٹادیں گے؟ کیا انتقام کا شعلہ بجھ سکے گا؟‘‘

’’نہیں، ایسا نہیں ہوتا… میں نے اس پر گزشتہ رات ہی غور کیا تھا… اور اب بھی میرے اندر ایک بھٹی سی جل رہی ہے … اور مستقبل کا پودا… جڑ سے اکھڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے… اور ’’قاتل سے کیا دشمنی تھی؟‘‘

’’کوئی نہیں … ہم تو اسے جانتے بھی نہ تھے … یہ تو چودھری غفار کی شہ پر قاتل بنا تھا۔ ورنہ … ‘‘

’’ہاں ایسا ہوتا ہے ۔ مالدار لوگ … سچائی سے ڈرنے والے بیوپاری… جھوٹ کے پروردہ ٹھیکیدار۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے جرائم کے راز فاش نہ کرسکے… اور جو اللہ کا بندہ ان سے آنکھیں ملا کر بات کرتا ہے، یہ اسے سڑک کے پتھر کی طرح راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔‘‘

’’ہاں … ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ میرا بیٹا کرامت، چودھری غفار کی مکارانہ دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ اس کے ناجائز کاروبار کو سرِ عام برا ثابت کرتا تھا۔ اس لیے جمیل کے ہاتھوں اسے قتل کرادیا گیا جب تک چودھری غفار زندہ رہا، مقدمہ کی پیروی کرتا رہا… مگر اس کی موت کے بعد ہوا کا رخ بدل گیا ہے۔ ‘‘

’’تو کیا چودھری غفار بھی …؟‘‘

’’جی ہاں، … یہ بڑے بیٹے کے ہاتھوں اگلی دنیا میں پہنچ گیا ہے… اور تینوں بھائیوں میں اب جائیداد کے مقدمے شروع ہوگئے ہیں۔‘‘

’’لیکن … ایسا کیسے ہوا؟ یقین نہیں آرہا۔‘‘

’’ایسا ہوا ہے۔ بڑے بیٹے غفور نے باپ کو قبضہ گروپ کا سرغنہ بننے سے باز رکھنے کی خاطر مخالفانہ محاذ قائم کرلیا تھا۔ اور چودھری غفار چھوٹے بیٹوں کو بڑے بیٹے کے خلا ف بھڑکاتا رہتا تھا۔ جب اس نے غفور کو جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی… تو اگلے دن اس کی لاش پلنگ سے نیچے خون میں لت پت ملی تھی۔ غفور اگرچہ پکڑا گیا ہے۔ مگر ٹھوس ثبوت نہیں مل رہے ہیں۔‘‘

’’بس… اسی نکتہ پر غور کرکے خود فیصلہ کرو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔‘‘

قیدیوں کو لانے والی گاڑی بڑے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو کرامت علی اٹھ کھڑا ہوا۔ پولیس کی گاڑی اندر بنے ایک اور گیٹ کے سامنے رک گئی۔ اور کرامت علی دوسری طرف تحصیل کے برآمدہ میں آکر ستون سے پشت لگا کر کھڑا ہوگیا۔ چند گز آگے جمیل کی بیوی بچے کھڑے تھے۔ اس کی بیوی نے یوں ہاتھ ہلایا جیسے جمیل کو اس نے پہچان لیا ہو۔

قیدیوں کو گاڑی میں سے نکال کر حوالات میں بند کردیا گیا تھا۔

جمیل کی بیوی ستون سے پرلی طرف اپنے بچوں کو سمیٹ کر بیٹھ گئی۔ ایک بیٹا ذرا کھیلنے لگا تو اس نے اس کا بازو کھینچ کر قریب کرلیا۔

’’ہمارا تو سب کچھ لٹ جائے گا۔ کوئی مددگار نہیں رہا ہے۔ بے سہارا ہوگئے ہیں۔‘‘

پرلی طرف بیٹھی ہوئی ایک ادھیڑ عمر خستہ حال عورت اس کے قریب آئی۔ زینب نے آنسو پونچھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور گردن جھکالی۔ وہ عورت اور قریب آئی۔

’’مت رو بیٹی، اس طرح سے مقدمہ تو نہیں بدل سکتا۔ ہم سب کے زخم لگے ہیں۔ کچھ اپنوں نے لگائے ہیں، کچھ غیروں سے بھی لگے ہیں، لیکن … قصور تو پھر بھی ہمارا ہی ہے،ہماری کون سنتا ہے۔‘‘

’’اماں … میں بھی کاکو کے ابا کو یہی کہتی تھی، ہم روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرلیں گے، چودھری کی نوکری چھوڑ دے، پروہ مانتا ہی نہ تھا، اور اب جیل میں توبہ کرتا ہے … نمازیں پڑھتا ہے، پر جن کا گبرو جوان قتل ہوا ہے، وہ کیسے معاف کرسکتے ہیں۔‘‘

’’ہاں… اگر اسے سزا نہ ہوئی … تو مقتول کا کوئی سگا… اسے جیل سے واپسی پر بھون ڈالے گا۔ ایسا ہورہا ہے … پھر … جب یہ تمہارے بیٹے جوان ہوں گے… تو یہ بھی آگ بن کر مخالفوں پر برس پڑیں گے … یہ سلسلہ … چلتا رہے گا… ہم اس لیے تو مارے جارہے ہیں… اللہ … رسول کو بھلا کر زخم کھاتے جارہے ہیں … یا اللہ میری توبہ۔‘‘

کرامت علی کو جھنجنی سے آگئی …

’’یہ سلسلہ دراز ہوجائے گا… قتل … پھر قتل … پھر قتل۔‘‘

وہ وہیں بیٹھ گیا… اگر وہ یکدم بیٹھ نہ جاتا تو توازن قائم نہ رکھتے ہوئے گرپڑتا… پھر وہ جمیل کے بچوں پر نظریں گھمانے لگا…

’’واقعی ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ جمیل کو پھانسی کی سزا ہوئی تو یہ سب تنکا تنکا ہوکر بکھر جائیں گے۔ پھر بیس برس بعد ان کے اندر دبی ہوئی آگ الاؤ کی شکل اختیار کرسکتی ہے … ہاں … میں دوسری طرح سے تصویر کو دیکھنے لگا ہوں۔ پہلے زندگی کی اس تصویر کے سارے رنگ سرخ تھے۔ اب نیلی اور سبزی مائل لہریں ابھرنے لگی ہیں۔ یہ کیوں ہے؟ یہ کیسے ہوا ہے؟‘‘

وہ یکم اٹھ کھڑا ہوا۔ جب وہ زینب کے سامنے آیا تو وہ لرزنے لگی۔ پھر ایک دم اس نے خود کو کرامت علی کے قدموں پر گرادیا۔ کرامت علی بے حس و حرکت کھڑا رہا… زینب خدا اور رسول کا واسطہ دے کر رحم کی بھیک مانگ رہی تھی … خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کرامت علی نے قدم آگے بڑھایا۔ اور زینب دونوں ہاتھ جوڑے بیٹھی رہی…

کرامت علی کا سانس تیز چلنے لگا تھا… وہ اپنے وکیل کے دفتر آنے کی بجائے مخالف وکیل کے کمرے کے دروازہ پر رک گیا۔ اند رجھانک کر دیکھا۔ اور زبردستی پاؤں گھسیٹتا ہوا اندر آکر بینچ پر یوں بیٹھ گیا جیسے کسی نے اس پر فائر کھول دیا ہو۔

مقبول حسین وکیل نے اس کی طرف دیکھ کر ایک دھچکا سا محسوس کیا۔ کرسی پر سے اٹھ کر وہ آگے آیا اور کرامت علی پر جھک گیا۔ کرامت علی کراہتے ہوئے کہنے لگا: ’’قریشی صاحب! اس کے سارے حمایتی ختم ہوگئے اس لیے اب میں اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘

’’کیا!کیا؟…‘‘

مقبول حسین نے اس کی نبض پکڑلی۔

’’سچ کہہ رہا ہوں… قریشی صاحب! میرا بیان لکھ لیں… میں آپ کے ساتھ ہی عدالت میں حاضر ہوں گا… ہاں… میں خدا کو حاضر ناظر جان کر… یہ بات کہہ رہا ہوں …‘‘ پھر وہ آنسوؤں کو نہ روک سکا، اور شدت جذبات سے مغلوب ہوکر اس نے یوں مقبول حسین قریشی کا با زو تھام لیا جیسے کسی کا کھویا ہوا بیٹا مل گیا ہو!

——

شیئر کیجیے
Default image
آثم میرزا

Leave a Reply