خواہشِ نفس اور اس کا انجام

قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ’’ہدیً‘‘ قرار دیا ہے، جس کے معنیٰ لطف و کرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی اور رہبری کرنے کے ہیں اور انسان کو یہ رہنمائی خالقِ کائنات کی طرف سے ملی ہے اور یہ اُس کا انتہائی فضل اور کرم ہے کہ اُس نے انسان کو زندگی گزارنے کا منشور اور دستور ’’دینِ اسلام‘‘ عطا فرمایا ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے اس کی دنیا اور آخرت سنورتی ہے اور اسے ابدی حیات کی خوش خبری ملتی ہے۔ اس کے برعکس ’’ہویٰ‘‘ دوسرا راستہ ہے جس کا انجام تباہی وبربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

امام راغب اصفہانیؒ لکھتے ہیں:

’’الہویٰ‘‘ کے معنیٰ خواہشاتِ نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو شخص نفسانی خواہشات میں مبتلا ہوا اسے ہویً کہہ دیتے ہیں کیونکہ خواہشاتِ نفسانی انسان کو اس کے شرف و منزلت سے گرا کر مصائب و مشکلات میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخرت میں اس کا انجام ’’ہاویۃً‘‘ دوزخ ہے۔

ان آیاتِ مبارکہ پر توجہ دیجیے:

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗo فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ o وَمَا اَدْرٰکَ مَاہِیَۃo (القارعۃ: ۸-۱۱)

’’اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے (یعنی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی) اس کا ٹھکانا ہاویہ (دوزخ) ہے اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟ وہ تیز و تند آگ ہے۔‘‘

غور طلب بات یہ ہے کہ ’’ہاویۃ‘‘ کا مادہ بھی ’’ہویٰ‘‘ ہے۔ یعنی ’’ہویٰ‘‘ (خواہشات) کا انجام ’’ہاویۃ‘‘ دوزخ ہے اور ’’ہویٰ‘‘ اس طرح پیدا ہوتی ہیں کہ انسان راہ حق سے انحراف کرکے خواہشات اور شیاطین کے راستوں کو اپنالے۔

خواہشات نفس کے پجاری کا حال ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

أَرَئَ ْیتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہُ ہَوٰہُ اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً۔ (الفرقان: ۴۳)

’’ کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے، کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔‘‘

یہ گمراہی تو اُن لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حق بات پر غوروفکر نہیں کرتے، عقل و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں، آباء و اجداد کی غلط باتوں کی پیروی میں لکیر کے فقیر ہوجاتے ہیں، قرآن حکیم ان کی اس غلط روش کو اس طرح بیان کرتا ہے:

وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَا أَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْْنَا عَلَیْْہِ آبَائَ نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُوْنَo

(البقرۃ:۱۷۰)

’’ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟‘‘

اورجب افراد اور قومیں حق بات کی طرف کسی طرح بھی رخ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں تو انہیں ان کی ہٹ دھرمی اور سرکشی میں مزید مہلت دی جاتی ہے اور شیطان بھی ان کے برے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بناکر دکھاتا ہے اور بالآخر یہی بات ان کی تباہی و بربادی کا سامان بنتی ہے۔

سرکشوں اور باغیوں کا یہ انجام تو دنیا میں ہوتا ہے اور آخرت کے انجام کی خبر اس طرح دی گئی ہے:

فَأَمَّا مَنْ طَغَیٰo وَآثَرَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَاo فَإِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمَأْوَیٰo (النازعات:۳۷-۳۹)

’’تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہوگی۔‘‘

ہدیً (ہدایت)سے محرومی اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں،بصارت رکھنے کے باوجود بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں، ان آیات پر غور کیجیے، قوم ثمود کی رہبری کے لیے ان ہی میں سے سیدنا ہود علیہ السلام کو نبی بناکر بھیجا گیا۔ وہ اپنی قوم کو کس قدر درد بھرے لہجے میں سمجھاتے ہیں۔

إِذْ قَالَ لَہُمْ أَخُوْہُمْ ہُودٌ أَلَا تَتَّقُوْنَo إِنِّیْ لَکُمْ رَسُولٌ أَمِیْنٌo فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوْنَِ o وَمَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِیَ إِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَo أَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ آیَۃً تَبْعَثُوْنَo وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَo وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَo فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوْنِo وَاتَّقُوْا الَّذِیْ أَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَo أَمَدَّکُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِیْنَo وَجَنَّاتٍ وَعُیُوْنٍo إِنِّیْ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍo قَالُوْا سَوَاء عَلَیْْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَکُن مِّنَ الْوَاعِظِیْنَ o إِنْ ہَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِیْنَo وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَo فَکَذَّبُوْہُ فَأَہْلَکْنَاہُمْ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَۃً وَمَا کَانَ أَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَo

(الشعراء: ۱۲۴-۱۳۹)

’’یاد کرو جب کہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا: کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے، یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو (جو یقینا وسائل اور وقت کا ضیاع ہے) اور بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں (اسی عارضی دنیا میں) ہمیشہ رہنا ہے اور جس کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو (جو سراسر شرفِ انسانیت کے خلاف ہے) پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو( اس طرح زندگی بسر کرو جس طرح میں احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی گزار رہا ہوں) ڈرو اس (خالق و مالک) سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا، جس کی تمہیں خبر ہے، تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں، باغات اور چشمے دیے، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ انھوں نے جواب دیا: (اے ہود!) تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے سب یکساں ہے یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ آخر کار انھوں نے (سیدنا ہودؑ) کو جھٹلادیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔‘‘

ایک اور مقام پر قوم ہود کی تباہی و بربادی کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ اس قوم نے ہدایت کا راستہ چھوڑ کر اندھا بنا رہنا پسند کیا:

وَأَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْْنَاہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْہُدَی فَأَخَذَتْہُمْ صَاعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُونِ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُونَo وَنَجَّیْْنَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ o

(حٰم السجدۃ:۱۷،۱۸)

’’(ربِ کریم کا ارشاد ہے) رہے ثمود، سو ہم نے ان کی رہبری کی، پھر بھی انھوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی، جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑ لیا اور (ہاں) اہلِ ایمان کو ہم نے (بال بال) بچالیا۔‘‘

قرآن حکیم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دل کا اندھا پن سب سے برا اندھا پن ہے، بصارت رکھتے ہوئے کوئی شخص بصیرت سے محروم ہوجائے تو اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ارشاد ہوتا ہے:

أَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِیْ الْأَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَعْقِلُوْنَ بِہَا أَوْ آذَانٌ یَسْمَعُوْنَ بِہَا فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ وَلٰکِن تَعْمَی الْقُلُْوبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُورِ o (الحج:۴۶)

’’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں (کہ انفس و آفاق کو دیکھ کر) ان کے دل سمجھنے والے ہوتے یا (صداقت کو پہچان کر) ان کے کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘

جب یہ دل حقیقت شناس نہ رہیں اور اپنے خالق و مالک کو نہ پہچانیں اور بصارت رکھتے ہوئے بصیرت سے تہی دامن ہوجائیں تو دنیا میں اضطراب اور پریشانی رہتی ہے اور روزِ قیامت فی الحقیقت بصارت سے بھی محرومی ہوجائے گی۔ قرآن اس طرح بیان کرتا ہے:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَیo قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ أَعْمَی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْراًo قَالَ کَذٰلِکَ أَتَتْکَ آیَاتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنسَیo

(طٰہٰ: ۱۲۴-۱۲۶)

’’(رب کریم کا ارشاد ہے) اورجو کوئی میرے ’ذکر‘ (درس نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی (سکون و سلامتی سے محروم ہوجائے گا) اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے… وہ کہے گا: اے رب! دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں، اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح آج تو بھی بھلایا جارہا ہے۔‘‘

جب انسان جس کا شرف اور مرتبہ فرشتوں سے بھی بلند ہے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت سے منہ موڑتا ہے اور خواہشاتِ نفس کا پجاری بن کر شیاطین کے بہکاوے میں آجاتا ہے تو وہ اپنے مقام سے گر کر حیوانات سے بھی بدتر ہوجاتا ہے اور بدترین انجام کو پہنچتا ہے، قرآن اس حقیقت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُوْنَ بِہَا أُوْلٰـئِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلٰـئِکَ ہُمُ الْغَافِلُوْنَo (الاعراف:۱۷۹)

’’(رب کریم کا ارشاد ہے) اور بہت سے جن اور انسان (اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے) دوزخ میں جانے والے ہیں، اُن کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں (دل و دماغ ہیں مگر غور نہیں کرتے) ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں (بصارت موجود ہے مگر بصیرت کو بروئے کار نہیںلاتے) ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں (حق بات سن کر غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں) وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں (کتنے جانور ہیں جو انسان کو نفع پہنچاتے ہیں جیسا کہ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری وغیرہ مگر بدبخت انسانوں کی زندگیاں بیکار ہوتی ہیں بلکہ موذی بن کر دوسرے انسانوں کو تکالیف اور دکھ دیتے ہیں) یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں (اور شرف انسانیت کو ضائع کرکے قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں)۔‘‘

قرآنِ حکیم بار بار لوگوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے:

أَفَلَا یَتَدَبَّرُوَنَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلٰی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا o (محمد: ۲۴)

’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر اُن کے قفل پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

وَہُوَ الَّذِیْ أَنشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (المؤمنون:۷۸)

’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں سوچنے اور سمجھنے کو دل دیے، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔‘‘

وَہُوَ الَّذِیْ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَلَہُ اخْتِلَافُ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(المؤمنون:۸۰)

’’اللہ ہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، گردشِ لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں بات نہیں آتی۔‘‘

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ الاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ (البقرۃ:۲۱۹)

’’اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے (کامیاب زندگی گزارنے کے لیے) صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ غوروفکر سے کام لو۔‘‘

غرض یہ کہ قرآن حکیم ان لوگوں کے لیے جو عقل و فکر سے کام لیتے ہیں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پھر انفس و آفاق میں ربِ کائنات کی قدرت و طاقت کی کتنی ہی نشانیاں بکھری پڑی ہیں، اس مہربان آقا نے ہر دور اور ہر زمانے میں ہر خطہ زمین میں اور ہر قوم اور ہر بستی میں اپنے رسول ہدایت کے ساتھ بھیجے اور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کو نسلِ انسانیت کے لیے مبعوث فرمایا اور سلامتی کا راستہ صرف اسلام ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں احکام الٰہی کو دل و جان سے ماننا ہے:

وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً۔ (الاحزاب:۷۱)

’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے یقینا بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘

——

شیئر کیجیے
Default image
شیخ عمر فاروق

Leave a Reply