قربانی

یوں تو زیبو کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا مگر ایک ارمان اُس کے دل میں نہ معلوم کب سے بسا ہوا تھا۔ فیروزہ کا طلائی سیٹ۔ تین سال پہلے چھوٹی بہن گڑیا کی شادی پر جب اماں کے ساتھ بازارگئی تو زیوارت کی خریداری کے وقت اسے وہ سیٹ نظر آیا۔ بڑے بڑے جھمکے اور گول پھیلاؤ والا گلوبند۔ جب سے دل کو وہیں اٹکا کر آگئی۔ گھر آکر ہر وقت اسی سوچ میں رہتی کہ اس تمنا کو کیسے پورا کروں۔ رشید کی محدود تنخواہ میں گھر کے اخراجات، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بچوں کے اسکول کی فیسیں… کہیں سے بھی تو گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔ جب بھی شیشے کے آگے کھڑی ہوتی تو چشمِ تصور سے اسے پہنے دیکھتی۔ پھر اسے اس کی سہیلی نیلوفر نے مشورہ دیا کہ کمیٹی ڈال لی جائے۔ یوں زیبو نے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر کمیٹی ڈال لی۔ تین سال گزرگئے۔ بڑی مشکل سے قطرہ قطرہ دریا بن رہا تھا۔ کچھ ہی دن میں زیبو کے بھائی کی شادی قریب آنے لگی۔ زیبو نے ساری جمع پونجی نکالی، اپنی تین انگوٹھیاں اور ایک بالی کاجوڑا وہ پہلے ہی بیچ کر رقم جمع کرچکی تھی۔

آج زیبو کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، کل اماں سے پروگرام طے ہوگیا تھا کہ آج وہ ان کے ساتھ بازار جائے گی تاکہ وہ سیٹ خریدلے۔ ان تین برسوں میں جب بھی وہ ادھر سے گزری اسے فیروزے کے سیٹ ہی خوبصورت لگے۔ صبح اٹھتے ہی سارے کام جلدی جلدی نمٹائے۔ جونہی بچے اسکول سے آئے ان کو کھانے سے فارغ کراکر سلادیا۔ پھر اماں کو اپنی آمد کی اطلاع دی۔ اماں نے فون اٹھایا تو جلدی میں تھیں، کہنے لگیں: ’’تم بس جلدی سے آجاؤ، مجھے پہلے درس میں جانا ہے وہاں سے واپسی پر تمہارے ساتھ چلوں گی۔‘‘ یہ سن کر زیبو کے ارمانوں پر اوس پڑگئی۔ کہاں تو اس سے ایک ایک منٹ کاٹنا مشکل ہورہا تھا اور کہاں اماں کے ساتھ درس پر رکنا۔ خیر کیا کیا جاسکتا تھا، صبر کی گھڑیاں کسی نہ کسی طرح گزارنی ہی تھیں۔

وہ سوچ رہی تھی اماں بھی خوب ہیں۔ کبھی یہاں درس قرآن اور درسِ حدیث کے پروگرام، کہیں یتیموں اور بیواؤں کے لیے کپڑے اور سلائی مشین کی فکر، کہیں غریب اور یتیم بچیوں کی شادی کرانے کے مسائل کہیں نادار بچوں اور بیوہ و بے سہارا عورتوں کا دوا علاج ہزاروں کام وہ اپنے سر پر لیے رہتی ہیں۔ کم از کم آج توسیدھے مجھے لے کر سونار کی دکان جانا ہی چاہیے تھا۔ مگر پھر یہ خیال آیا کہ یہ تو ان کا روزانہ کا معمول ہے۔ کوئی بات نہیں تھوڑی دیر ہی کا تو انتظار ہے، مشکل سے آدھا گھنٹہ اور بس۔

درسِ قرآن اماں کے گھر سے دو گلی دور ہی تھا۔ راستے میں سے اماں کو لے کر درس والے گھر میں پہنچ گئی۔ درس شروع ہوچکا تھا مگر زیبو اپنے خیالوں میں گم تھی۔ اس نے چشمِ تصور میں خود کو اپنے سراپے میں گم کرلیا۔ زیبو نے بھائی کی شادی پر سفید غرارہ سلوایا تھا، جس پر فیروزی ریشم اور ستارے کے پھول اور بوٹیاں تھیں۔ زیبو اپنے آپ کو خیالوں میں سفید اور فیروزی غرارہ اور فیروزہ کے سیٹ میں پاکر کبھی مسکرارہی تھی، کبھی رشید کی نظروں کا خیال کرکے شرما رہی تھی۔ مگر اچانک اس کی نظر پاس بیٹھی ہوئی خاتون پر پڑی، جو رو رہی تھیں۔ زیبو نے چونک کر محفل پر نظر ڈالی تو اور بھی کئی آنکھیں اشک بار نظر آئیں۔ پھر اماں پر نظر پڑی تو وہ بھی اپنی آنکھیں دوپٹہ کے پلو سے پونچھ رہی تھیں۔ زیبو کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ پھر زیبو کی توجہ درس دینے والی خاتون کی طرف چلی گئی، وہ بڑی دلسوزی سے کہہ رہی تھیں کہ ’’قرآن نیکی کے معیار بلند کی بات نہیں کہہ رہا، وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ تم نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک تم اللہ کی راہ میں وہ چیز نہ قربان کرو جو تم کو محبوب ہے۔‘‘ زیبو پوری طرح درس کی طرف متوجہ ہوگئی۔ درس انفاق فی سبیل اللہ پر ہورہا تھا۔ زیبو کو پشیمانی تھی کہ وہ یہاں موجود ہوتے ہوئے بھی غیر موجود رہی۔ چوتھے پارے کی یہ ابتدائی آیات جن پر سے وہ زندگی میں بار ہار گزرچکی تھی، مگر جس انداز سے اس وقت اُس کے سامنے آرہی تھیں اس طرح پہلے کبھی نہیں آئیں۔ یہ آیت کی پہلی ضرب تھی جو اس کے دل پر لگی۔ اس کے بعد درس دینے والی خاتون نے ایک صحابی رسول کا واقعہ بھی بڑے جذبے کے ساتھ سنایا جس میں وہ اپنے غلام کو اپنی پسندیدہ اونٹنی اللہ کی راہ میں دینے کو کہہ دیتے ہیں، پھر غلام کے ایسا نہ کرنے پر اسے بتاتے ہیں کہ اس کے پسندیدہ اور قیمتی ہونے کی وجہ سے ہی اس اونٹنی کا انتخاب کیا ہے تاکہ آخرت میں یہ میرے لیے اس جہاں سے زیادہ مفید ثابت ہو۔ پھر ابو درداءؓ کیاآیا جنھوں نے اللہ کو قرض میں اپنا پورا باغ دے دیا۔

زیبو سوچوں میں گم تھی کہ اماں کی آواز آئی ’’اٹھو زیبو چلتے ہیں۔‘‘ زیبو نے کمرے میں نظر ڈالی تو دیکھا کہ دو تین خواتین کے سوا سب جاچکی تھیں۔ راستے میں بھی زیبو کھوئی کھوئی اور چپ تھی، اماں حیران تھیں کہ ہر وقت بولتی زیبو اتنی خاموش کیسے بیٹھی ہے! اچانک زیبو نے رکشہ والے سے رکشہ واپس گھر کی طرف موڑنے کو کہا۔ اماں نے کہا خیریت تو ہے زیبو؟ زیبو خاموش رہی۔ اماں کے گھر اتری تو خاموشی سے اندر جاکر لیٹ گئی۔ رات کورشید واپس لینے آئے تو بہت اطمینان کے ساتھ اماں کے پاس گئی اور وہ رقم جو اس نے فیروزہ کے سیٹ کے لیے جوڑ جوڑ کر جمع کی تھی اماں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ اپنی سرگرمیوں میں لگا دیجیے۔ فیروزہ کے سیٹ سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔ اماں کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ زیبو بولی ’’اماں! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان ان چیزوں کے ذریعے لیتا ہے جو بندہ کو محبوب ہوں، پس اس وقت مجھے اس فیروزہ کے سیٹ سے زیادہ کوئی چیز نظر نہ آئی۔‘‘ اماں کی آنکھیں بھر آئیں، انھوں نے زیبو کو بے اختیار گلے لگالیا۔ اماں کو معلوم تھا کہ زیبو کو وہ سیٹ کتنا پسند تھا۔ پھر یہ کہتی ہوئی زیبو باہر نکل گئی۔

’’تم نیکی کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اللہ کی راہ میں وہ چیز نہ قربان کرو جو تم کو محبوب ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
سیما جاوید

Leave a Reply