منجدھار

فراز بری طرح اسی ذہنی الجھن میں گرفتار تھا۔ وہ فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا کہ ’’کون سا قدم اٹھائے؟‘‘

ویسے تو اکثر ہی اس کی بیوی افشاں کی اس کی ماں سے نہیں بن پاتی تھی۔ لیکن آج اس کی عدم موجودگی میںبات اتنی بڑھ گئی کہ افشاں اپنے مائیکے چلے گئی۔ جب وہ آفس سے لوٹا تو ماں نے یہ خبر دی۔ وہ بہت اداس ہوگیا۔ لیکن اس نے اداسی ماں پر ظاہر نہ ہونے دی تاکہ اُن کے دل پر چوٹ نہ لگے۔

فراز نے زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی کو ٹوٹ کر چاہا اور پھر اسے اپنی دلہن بھی بنالیا۔ دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔ افشاں جب فراز کے گھر دلہن بن کر آئی تو فراز کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی۔ ماں بھی بہت خوش تھیں۔شادی کے دو تین ماہ بعد تک تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا مگر پھر افشاں نے ماں سے لڑنا شروع کردیا۔ روز ہی کسی نہ کسی بات پر وہ ماں سے لڑلیتی، جھڑک دیتی، اور ماں خاموشی سے سنتی اور برداشت کرتی رہتی۔

کبھی فراز سے شکایت تک نہ کرتی کہ دونوں میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔

فراز کی عادت تھی کہ روز صبح آفس جاتے وقت ماں سے اُن کے کمرے میں جاکر سر پر ہاتھ رکھواتا اور ڈھیر ساری دعائیں لیتا اور پھر آفس جاتا۔ یہی چیز افشاں کے لیے جلن کا باعث تھی۔ وہ دروازے تک فراز کو چھوڑنے آتی تھی لیکن دروازے کے پاس آکر وہ سیدھا ماں کے کمرے میں چلا جاتا۔ شروع شروع میں تو افشاں بھی ساتھ جاتی۔ مگر رفتہ رفتہ اس کے دل میں چنگاری سی بھڑکنے لگی۔ کیوں کہ فراز ماں کے کمرے میں داخل ہوکر افشاں کو لگ بھگ فراموش کردیتا۔ جس کے سبب افشاں ایک طرح سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگئی تھی۔ وہ شوہر کے حصے کا تمام تر پیار خود ہی چاہتی تھی۔ حالاںکہ فراز اس کی حق تلفی نہیں کرتاتھا، مگر افشاں…!

اکثر وہ ماں کی الٹی سیدھی شکایتیں بھی فراز سے کرتی رہتی تھی مگر وہ ہنس کر ٹال جاتا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ افشاں کو ماں کا ادب و احترام کرنے کی بھی تلقین کرتا، لیکن آج صبح…!

جانے سے پہلے وہ ٹیبل پر ایک پرچہ فراز کے لیے چھوڑ گئی تھی۔

’’فراز! میں گھر جارہی ہوں، یہ بات لکھتے ہوئے مجھے بہت شاک سا لگ رہا ہے کہ میرا اور تمہارا نباہ ہونا مشکل لگ رہا ہے اور اس کی ایک وجہ تمہاری ماں ہیں۔ میں تمہاری ماں کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہ سکتی اور رہ گئی تو گھٹن کا شکار رہوں گی۔ اس لیے تمہیں ماں اور بیوی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ تمہارے فیصلے کا انتظار رہے گا۔ ‘‘

تمہاری افشاں

پرچہ پڑھ لینے کے بعد اس نے ایک طویل سانس لی اور سوچنے بیٹھ گیا۔

’’افشاں! اس کی ہم سفر، اس کا پیار، جس کے حصول کے لیے اس نے بڑے جتن کیے تھے۔‘‘

’’ماں!‘‘ جس کا پیار اسے بچپن میں نہیں مل پایا تھا۔ کیوں کہ اس کے باپ نے ماں کو طلاق دے دی تھی۔ اور جس کے پیار کے لیے وہ لمحہ لمحہ تڑپتا رہا تھا۔

’’افشاں!‘‘ جس کے بارے میں شادی سے پہلے بھی وہ بہت سوچتا تھا اور شادی کے بعد بھی وہ اس کے حسین ترین خواب دیکھتا رہتا تھا۔

’’ماں!‘‘ جس کے بارے میں اُس نے بچپن، جوانی میں لگاتار سوچا تھا۔

’’افشاں!‘‘ جس کے قرب کی گرمی اس کے وجود میں ہر وقت بسی رہتی تھی۔ جس کے ساتھ کی لذت کا خمار گھنٹوں ذہن پر چھایا رہتا۔ جب وہ بانہوں میں آجاتی تو دنیا سے بیگانہ کردیتی۔

’’ماں!‘‘ جسے وہ دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتا تھا۔

بچپن میں اکثر اپنے دوستوں کے درمیان بیٹھ کر وہ کہا کرتا تھا کہ اگر میرے ایک طرف دنیا کی ساری دولت رکھ دی جائے اور دوسری طرف ماں، تو میں ماں کو قبول کرلوں گا۔ دولت کو ٹھکرادوں گا۔

اس نقطے پر آکر فراز کا ذہن رک گیا۔ آج اس قول کو سچ کرنے کا وقت آگیا تھا۔ اسے وہ وقت یاد آنے لگا جو اُس نے اپنی ماں کے بغیر گزارا تھا۔

اس کا ’’بچپن‘‘… ’’تڑپ‘‘! …’’کسک!‘‘ … ’’آنسو‘‘…!

’’سوتیلی ماں!‘‘

’’تکلیفیں!‘‘

’’اذیتیں!‘‘

اور یہ سب آفتیں، ایک ماں کے نہ ہونے سے تھیں۔ لیکن پھر فراز کا ذہن قلا بازی کھا کر افشاں کی طرف جاپہنچا۔ جس کا پیار ملتے ہی وہ ماں کے غم کو تھوڑا، تھوڑا بھلا چکا تھا۔

’’لیکن! ماں، ماں ہے!‘‘ اس نے سوچا۔

’’ماں کے حصول کے لیے اس نے زیادہ کوششیں کی ہیں۔اور غلطی تو زیادہ تر افشاں ہی کی ہے۔ وہ خود ہی تو ماں سے لڑتی ہے۔‘‘

کافی دیر کے سوچ و بچار کے بعد وہ فیصلہ کن انداز میں اٹھا۔

…٭…

کال بیل (Call Bell) بجی۔ تو دروازہ نوکر نے کھولا۔

’’سلام صاب!‘‘

’’افشاں کہاں ہے؟‘‘

اپنے کمرے میں ہیں صاب!‘‘

’’ٹھیک ہے! انہیں یہ پرچہ دے آؤ!‘‘ پرچہ دے کر وہ لوٹ آیا۔

’’کون ہے فخرو؟‘‘ کمرے میں سے افشاں نے پوچھا۔

’’صاحب تھے، میم صاحب!‘‘

’’کہاں ہیں؟‘‘ وہ کمرے سے نکل کر دوڑتی ہوئی آئی۔

’’جی وہ تو چلے گئے، یہ پرچہ دے گئے ہیں۔‘‘

افشاں نے نوکر کے ہاتھ سے پرچہ لے لیا ’’لکھا تھا۔‘‘

افشاں! تم گھر سے چلی آئیں اس بات کا مجھے بہت دکھ ہے۔ تم چاہتیں تو ہم، تم گھر بیٹھ کر بھی اس مسئلے پر غور کرسکتے تھے۔

میں نے کافی غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں ماں کے لیے تمہاری قربانی دے سکتا ہوں، حالاںکہ تم میری بیوی ہو۔ میری زندگی ہو۔ لیکن ماں میری جنت ہے۔ اور اس کے حصول کے لیے میری کوششیں تو تمہارے سامنے رہی ہیں۔ اس لیے افشاں! اب اگر تم ایک فرمانبردار بہو بن کر آنا چاہو تو گھر کا دروازہ تمہارے لیے کھلا ہے۔ ورنہ پھر …! مجھے بھی تمہارے جواب کا انتظار ہے۔‘‘

تمہارا فراز!

فراز اندر سے بہت دکھی تھا۔ لیکن وہ اپنی اداسی ماں پر ظاہرکرنا نہیں چاہتا تھا۔ آخر وہ اس کی شریکِ حیات تھی، وہ اسے بہت عزیز تھی مگر …!

آج اس نے آفس کی بھی چھٹی کرلی تھی۔

کال بیل بجی تو فراز نے جاکر دروازہ کھولا اور حیران رہ گیا۔ تھوڑی دیر تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

’’ماں کہا ںہیں؟‘‘ یکایک افشاں بولی

’’اپنے کمرے میں!‘‘ وہ ابھی تک متعجب تھا۔

وہ سیدھی ماں کے کمرے میں گئی۔ ماں اپنے پلنگ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔

’’امی! مجھے معاف کردیں۔‘‘ افشاں بولی: وہ ہاتھ جوڑ کر ماں کے سامنے کھڑی تھی ۔

’’ارے نہیں، نہیں، نہیں ۔ میری بچی! کیسی معافی، میرے چاند، میری بیٹی۔‘‘

اور پھر ماں نے افشاں کو گلے لگالیا۔ اور افشاں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

کمرے کے دروازے پر کھڑا فراز آنکھوں میں خوشی کے آنسو لیے مسکرا رہا تھا۔

——

شیئر کیجیے
Default image
عبداللہ خالد،رامپور

Leave a Reply