ٹریجڈی

’’نہیں‘‘ ٹریجڈی کے لیے میرے خیال میں جو مناسب ترین لفظ ہمارے پاس ہے وہ ہے ’المیہ‘…‘‘ پروفیسر شارب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا:’’لفظ ’سانحہ‘ ٹریجڈی کا پورا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ ٹریجڈی ایک بہت طاقتور اور بڑا مضبوط لفظ ہے۔ لیکن اکثر ہی اس کا استعمال کسی بھی دردناک واقعہ کے لیے کردیا جاتا ہے۔ جو مناسب نہیں۔‘‘

ڈاکٹر ایم کریم نے سگریٹ کا ایک کش لیا اور بولے: ’’تو کیا ہوا؟ ٹریجڈی ہمیشہ ایک دردناک واقعہ ہوتا ہے۔‘‘

’’ٹریجڈی ہمیشہ ایک دردناک واقعہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر دردناک واقعہ کو ٹریجڈی نہیں کہا جاسکتا۔‘‘ پروفیسر شارب نے کہا۔

’’وضاحت کرو۔‘‘ کہہ کر ڈاکٹر کریم نے سگریٹ کا ٹکڑا ایش ٹرے میں مسل دیا۔

’’بہت آسان ہے۔‘‘ پروفیسر شارب لاپروائی سے بولے… مثلاً مرنا ایک واقعہ ہے… یہ واقعہ کسی کے لیے … مرنے والے کی بیوی کے لیے،اس کے بچوں کے لیے ایک دردناک واقعہ ہوسکتا ہے… ایک سانحہ ہوسکتا ہے لیکن اسے ہم ٹریجڈی نہیں کہہ سکتے… لوگ مرتے ہی رہتے ہیں… مرنا ایک حقیقت ہے … ایک واقعہ جو ہر انسان کی زندگی میں رونما ہوکے رہتا ہے … کسی نہ کسی بہانے اور کبھی نہ کبھی اس واقعہ سے سبھی کو دوچار ہونا پڑتا ہے… اس لیے عام موت ٹریجڈی نہیں ہوتی… صرف اُس موت کو ٹریجڈی کہا جاسکتا ہے، جس کی اطلاع ملتے ہی ہر شخص کچھ دیر کے لیے سکتے میں آجائے، حیرت میں پڑجائے، ہراس میں مبتلا ہوجائے۔ اس میں رحم اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوجائیں۔ تم نے اپنے دوست کے ساتھ پیش آنے والا جو واقعہ ابھی سنایا ہے وہ تمھارے دوست کے متعلقین کے لیے دردناک اور کچھ عرصے کے واسطے ایذا رساں ہوسکتا ہے۔ لیکن صرف اس کے متعلقین کے لیے… مگر اسے ٹریجڈی نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

’’یار تم زبان دانوں بلکہ زبان والوں کے ساتھ یہی مشکل ہے کہ لفظ کے پیچھے…‘‘

’’لفظ!‘‘ پروفیسر شارب نے اپنے دوست کی بات کاٹی: ’’لفظ بہت طاقتور ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب… لفظ کی طاقت ہی وجود اور تحرک کی بنیاد ہے۔ سنو… بائبل کھولو… نیا عہد نامہ … اس میں یوحنا (John) کی انجیل کا آغاز ہی یوں ہے۔ ’ابتدا میں لفظ تھا… اور لفظ خدا کے ساتھ تھا… اور لفظ خدا تھا… مطلب یہ کہ لفظ ہی مقدم ہے، لفظ ہی اہم ہے، کیونکہ ہر شے ایک لفظ ہے اور ہر لفظ ایک مفہوم ہے، ایک معنویت ہے… ایک منفرد مفہوم، ایک یگانہ معنویت… اس لیے لفظوں کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے… وضاحت طویل ہوجائے گی، اس لیے چھوڑو… بات ’ٹریجڈی‘ کی چل رہی تھی… یہ لفظ ’ٹریجڈی‘ جو ہے نا، یہ لاطینی زبان کے ’تریجیدیا‘ (Tragoedia) سے بنا ہے۔ اٹلی والوں نے یہ لفظ یونانی، ’تریجوائدیا‘ ( Tragoida) سے بنایا ہے۔ ارسطو نے اس لفظ پر خاصی بحث کی ہے … اسے المیہ ڈرامے سے جوڑا ہے ہر اس اور ترس کے جذبوں کو ٹریجڈی کے لیے لازمی قرار دیا ہے… سنو… میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں…‘‘ کہہ کر پروفیسر شارب ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے… ایک طویل سانس لی اور جیسے کہیں بہت دور چلے گئے… ’’کاظم میں بہت سی… واقعی بہت سی اچھائیاں تھیں… ہمدرد، غمگسار، مہربان، ملنسار، خوش مزاج، خوش طبع… وغیرہ وغیرہ۔ مگر کچھ خرابیاں بھی تھیں۔ حاسد نہیں تھا، کینہ پرور نہیں تھا، لیکن حسد کی حد تک Possessiveتھا۔ جو چیز اس کی تھی بس اسی کی تھی۔ اسے وہ نہ کسی کے ساتھ شیئر کرسکتا تھا نہ کسی کو دے سکتا تھا۔ ایک بار کسی نے اس کی ممی کو ’’ممی‘‘ کہہ دیا تھا۔ کاظم لڑنے مرنے پر اتر آیا تھا… ’’ممی‘‘ یہ صرف میری ہیں تم انہیں آنٹی کہو یا جو جی چاہے، لیکن اگر ممی کہا تو جبڑا باہر کردوں گا۔‘‘ … دوسری بہت بڑی خرابی اس میں یہ تھی کہ جب اسے غصہ آجاتا تو قریب قریب پاگل ہوجاتا تھا… اچھے برے، نیک وبد، مناسب و نامناسب، جائز و ناجائز کی تمیز کھودیتا تھا… بہت brilliantتھا… سارے امتحانات امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کرتا چلا گیا۔ یونیورسٹی سے نکلتے ہی ملازم ہوگیا۔ اپنے آفس کی دیکھ بھال اس طرح کرنے لگا جیسے یہ اس کا آفس نہ ہو، عبادت گاہ ہو… شادی ہوگئی۔ بے حد خوبصورت بیوی ملی’ دیکھو… آج سے تم میری ہو… صرف میری… مجھے تمہارے ماضی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، لیکن تمہارا حال اور تمہارا مستقبل پوری طرح سے میرا… اور صرف میرا ہے، اُس نے پہلی رات کو ہی بیوی سے کہا… ’مجھے تمہارے ماضی کے بارے میں کچھ علم نہیں… نہ تمہارے ماضی کے بارے میں کچھ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں… اکثر لڑکیوں کے افئیرز ہوجاتے ہیں ممکن ہے تمہارا بھی کوئی افیئر کبھی رہا ہو… ممکن ہے نہ رہا ہو… میں جاننا نہیں چاہتا، … ظاہر ہے یہ بات اُس کی بیوی شگوفہ کو بری لگی ہوگی۔ اس طرح دونوں کی ازدواجی زندگی کی ابتداء کشیدگی سے ہوئی۔ مگر پھر رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوگیا۔ کاظم محنتی انسان تھا… شگوفہ نارمل ہوگئی۔ وقت گزرنے لگا ۔‘‘ ایک لمحے کے لیے پروفیسر شارب خاموش ہوگئے۔

ڈاکٹر کریم بڑی دلچسپی سے کہانی سن رہے تھے۔ پروفیسر شارب نے پھر آنکھیں بند کرلیں اور کہنا شروع کیا: ’’شگوفہ دہلی میں اپنے مائکے میں پردہ نہیں کرتی تھی۔ یہاں لکھنؤ میں کاظم نے اس سے پردہ کرایا۔وہ اسے لے کر بہت ہی کم گھر سے نکلتا تھا۔ شگوفہ بہت خوبصورت تھی اور بہت خوبصورت عورتوں کو گھورنے والے لکھنؤ میں بہت تھے۔ … ایک بار نظیر آباد میں کسی منچلے نوجوان نے شگوفہ پر کوئی جملہ اڑادیا۔ اگلے ہی لمحے وہ زمین پر چت پڑا تھا اور کاظم اس کے سینے پر سوار تھپڑوں اور گھونسوں سے اس کی تواضع کررہا تھا۔ بڑی مشکل سے لوگوں نے چھڑایا ورنہ وہ نوجوان شاید ختم ہوجاتا۔ کاظم بہت تندرست تھا۔ اسی طرح اُس نے ایک بار لال باغ میں ناولٹی سینما کے سامنے بڑی بیدردی سے ایک منچلے کی پٹائی کردی تھی، جس نے شگوفہ کو دیکھ کر ایک بھدا سا فقرہ کسا تھا۔ شگوفہ پہلے ہی گھر سے کم نکلتی تھی اس واقعہ کے بعد اس نے گھر سے نکلنا اور بھی کم کردیا۔ ان باتوں سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ کاظم کس نیچر کا آدمی تھا۔‘‘ کہہ کر پروفیسر شارب پھر خاموش ہوگئے۔

’’میں سمجھ رہا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر کریم نے کہا ’’Over Possessive‘‘ ہونا قطعی مناسب نہیں، ایسا آدمی ہمیشہ کڑھتا رہتا ہے۔‘‘

’’ضروری نہیں۔‘‘ پروفیسر شارب کچھ سوچتے ہوئے بولے: ’’عام طریقے سے کاظم قطعی نارمل تھا… نارمل زندگی گزار رہا تھا… ایک بار ایک فنکشن میں اسے اور شگوفہ کو شگوفہ کے گھر دہلی جانا پڑا۔ وہاں اس کی ملاقات پہلی بار شگوفہ کی بڑی بہن اور بہنوی سے ہوئی۔ وہ دونوں کئی برس سے دوبئی میں تھے، اس لیے شگوفہ کی شادی میں بھی شریک نہیں ہوسکے تھے۔ اب دہلی واپس آگئے تھے اور شگوفہ کے بہنوئی صمد نے دہلی میں ہی اپنا کاروبار شروع کرلیا تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی کاظم نے صمد کو ناپسند کیا… وجہ صرف یہ تھی کہ صمد شگوفہ سے بہت مانوس تھا… شگوفہ بھی اس سے بہت مانوس تھی۔ دونوں کا ہر وقت ہنسنا بولنا اور ہنسی مذاق کرنا کاظم کو بے حد گراں گزرتا اور پھر جب برداشت سے باہر ہوگیا تو وہ ایک دن پہلے ہی شگوفہ کو لے کر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوگیا۔ چلتے وقت روتی ہوئی شگوفہ کو صمد نے گلے لگالیا۔ کوئی غیبی طاقت ہی تھی جس نے کاظم کو صمد کا قتل کرنے سے روک دیا۔ اس کے بعد کاظم نے شگوفہ کے دہلی جانے پر مکمل پابندی عاید کردی۔‘‘

’’نان سنس‘‘ ڈاکٹر کریم نے زیرِ لب تبصرہ کیا۔

ڈاکٹر کریم کے تبصرے پر کوئی تبصرہ کیے بغیر پروفیسر شارب نے کہانی جاری رکھی: ’’اُن کے ایک بیٹا ہوا، تندرست، خوبصورت، ناک، پیشانی، ہونٹ، آنکھیں، بال سبھی کچھ کاظم جیسا تھا۔ کاظم اور شگوفہ نے اس کا نام خورشید رکھا اور خورشید ان دونوں کی زندگی کا مرکز، محور اورمقصد بن گیا۔ ہر باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے، لیکن کاظم کی خورشید کے تئیں محبت اتنی شدید تھی کہ دوبارہ باپ بننے کی خواہش اس کے دل میں کبھی بیدار نہیں ہوئی۔ دوسرے بچے کی نہ اسے خواہش تھی نہ اس نے کوشش کی۔ وہ اپنی محبت کو تقسیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کاظم، شگوفہ، خورشید! کاظم نے ایک بار کہا کہ شادی سے قبل اس کی زندگی ایک مصرعہ تھی… شگوفہ سے شادی کے بعد ایک شعر ہوگئی تھی اور خورشید نے طلوع ہوکر اس شعر کو نظم کردیا تھا۔ مثلث… وقت گزرتا گیا۔ خورشید گہوارے سے نکل کر آنگن میں اور آنگن سے نکل کر گھر کے باہر تک پھیل گیا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی،بے حد وجیہہ اور حسین جوان نکلا تھا۔ ہر جگہ ہر شخص کی نگاہوں کا مرکز بن جاتا تھا۔ شگوفہ اورکاظم دونوں ہی اس کے عاشق تھے۔ وہ خود بھی اُن دونوں پر فریفتہ تھا۔ بہت اچھی صحت نکالی تھی، شاید ہی کبھی بیمار پڑا ہو۔ دودھ، گھی، پھل، عمدہ مقوی غذائیں، ہر چیز میسر تھی… غالباً یہی وجہ تھی کہ بیماریاں ہمیشہ دور رہیں… حالانکہ کاظم اور شگوفہ دونوں ہی دل کے مریض تھے مگر خورشید ہر بیماری سے دور تھا۔‘‘

پروفیسر شارب خاموش ہوکر چند لمحے کہانی میں پھر کہیں بھٹکتے رہے پھر بولے: ’’کاظم کی زندگی بیحد خوشگوار اور بیحد پرسکون گزررہی تھی، مگر پھر ٹھہرے ہوئے پانی میں اچانک تھر تھراہٹ پیدا ہوگئی۔ ایک دن طبیعت کچھ سست تھی، بلڈ پریشر lowتھا۔ ڈاکٹر نے آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ کاظم نے تین دن کی چھٹی لے لی اور اپنے کمرے میں لیٹ کر آرام کرنے لگا۔ دن میں گیارہ بجے فون کی گھنٹی بجی۔ کاظم نے ریسیور اٹھایا اور ’’ہیلو‘‘ کہا۔ دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ کاظم نے ریسیور رکھ دیا۔ ایک گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی پھر بجی۔ ویسی ہی مختلف گھنٹی جیسی ایک گھنٹے قبل بجی تھی۔ یقینا لکھنؤ کی لوکل کال نہیں تھی، کوئی لکھنؤ کے باہر سے فون کررہا تھا۔ کاظم نے ریسیور اٹھا کر ’’ہیلو‘‘ کہا۔ فوراً ہی دوسری طرف سے سلسلہ پھر منقطع کردیا گیا۔ دوسرے دن پھر گیارہ بجے گھنٹی بجی۔ کاظم اس دن بھی چھٹی پر تھا اور اپنے کمرے میں ہی تھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا مگر اس کے ’’ہیلو‘‘ کہتے ہی دوسری طرف سے ریسیور رکھ دیا گیا۔ کاظم کی پیشانی پر بل پڑگئے۔ تیسرے دن پھر گیارہ بجے ویسا ہی فون آیا۔ کاظم نے ریسیور اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر پھر کچھ سوچ کر شگوفہ کو آواز دی۔ شگوفہ کہیں نزدیک ہی تھی۔ فوراً کمرے میں آگئی: ’’تم اٹھاؤ۔‘‘ کاظم نے ریسیور کی طرف اشارہ کیا۔ شگوفہ نے ریسیور اٹھایا اور ’’ہیلو‘‘ کہا۔ فون دہلی سے آیا تھا۔ شگوفہ کے بہنوئی صمد بول رہے تھے۔ دو چار باتیں کرکے شگوفہ نے ریسیور رکھ دیا۔ ایک ہفتے بعد کاظم کو پھر پانچ دن کی چھٹی لینی پڑی۔ اس کا بی پی مسلسل لو چل رہا تھا۔ تیسرے دن پھر گیارہ بجے فون کی گھنٹی بجی۔ کاظم نے ریسیور اٹھایا’ ہیلو‘ کہتے ہی دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کردیا گیا تھا۔ اگلے دن پھر گیارہ بجے فون آیا۔ شگوفہ کمرے میں ہی تھی۔ کاظم نے اسے فون اٹھانے کا اشارہ کیا۔ شگوفہ نے ریسور اٹھایا، سلسلہ قائم ہوگیا۔ دہلی سے صمد صاحب بول رہے تھے۔کاظم نے شگوفہ کے ہاتھ سے ریسیور لے لیا اور ماؤتھ پیس میں غرایا’’آئندہ اگر تم نے یہاں فون کیا یا شگوفہ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو …‘‘ دوسری طرف سے سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ ایک ہفتے تک گھر کا ماحول بیحد کشیدہ نہیں بلکہ بیحد خراب رہا۔ کاظم بے حد مشتعل تھا۔ بڑی مشکل سے خورشید کی کوششوں سے ماحول نارمل ہوسکا۔ پھر کبھی صمد کا فون نہیں آیا۔ کم از کم کاظم کی موجودگی میں تو کبھی نہیں آیا۔‘‘ پروفیسر شارب خاموش ہوگئے۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر نے بیتابی سے پوچھا۔

’’کئی مہینے گزرگئے۔‘‘ پروفیسر شارب کی سنجیدہ آواز ابھری… ’’ایک دن خبر آئی کہ شگوفہ کا بھائی صادق بہت بیمار ہے … ایک ہی بھائی تھا اور ایک عرصے سے شگوفہ نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ تو دہلی جاتی ہی نہیں تھی، صادق ہی کبھی کبھار اپنی بیوی کے ساتھ لکھنؤ آجاتا تھا۔ بہرحال مارچ کی آخری تاریخیں تھیں، کاظم کو چھٹی نہ مل سکی۔ خورشید کے فائنل امتحان چل رہے تھے، ایک پیپر باقی تھا، اس لیے لکھنؤ میل میں کاظم نے شگوفہ کی برتھ ریزرو کروادی اور کاظم اور خورشید دونوں اسے سی آف کرنے اسٹیشن آئے… اے سی ٹو ٹیئر میں ریزرویشن تھا، تینوں کمپارٹمنٹ میں آگئے۔ نیچے کی سیٹ شگوفہ کی تھی۔ٹرین چھوٹنے میں ابھی دس منٹ باقی تھے۔ کاظم نے خورشید کے سامنے ہی شگوفہ سے کہا: ’’مجبوراً تمہیں اکیلے بھیج رہا ہوں… میری بات غور سے سنو۔ کچھ بھی ہوجائے، تم صمد کے گھر نہیں جاؤگی۔ پھر کہہ رہا ہوں، صمد کے گھر نہیں جاؤگی۔ میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔ اور اگر تم گئیں تو طلاق دینے سے پہلے تمہیں اتنی جگہ سے توڑدوں گا کہ دنیا کا کوئی ڈاکٹر تمہیں جوڑ نہیں سکے گا۔ آج تک میں نے تم پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہے… لیکن اگر تم نے میرے کہنے کے خلاف کیا اور صمد کے گھر گئیں یا اس سے ملیں تو پھر جو کچھ ہوگا اس کی ذمہ دار تم ہوگی۔‘‘ شگوفہ نے وعدہ کرلیا کہ وہ صمد کے گھر نہیںجائے گی، بہن کو صادق کے گھر بلوائے گی۔ کاظم اور خورشید کھڑے ہوگئے۔ خورشیدنے ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دھیرے سے کہا: ’’ممی مت جانا… نہ صمد انکل سے ملیں…‘‘ وہ اپنے باپ کی نیچر سے بھی واقف تھا، غصے سے بھی اور اس کی دل کی بیماری سے بھی۔ شگوفہ نے آنکھ کے اشارے سے سر کی ہلکی سی جنبش سے وعدہ کرلیا کہ وہ صمد کے گھر نہیں جائے گی، نہ ان سے ملے گی۔ کاظم اور خورشید کمپارٹمنٹ سے باہر آگئے۔ ٹرین چھوٹنے کا ٹائم ہوگیا تھا۔ شگوفہ چلی گئی۔ تیسرے دن کاظم بھی خورشید کے ساتھ دہلی کے لیے روانہ ہوگیا۔ مارچ ختم ہوگیا، اسے چھٹی مل گئی۔ خورشید کا امتحان بھی ختم ہوگیا تھا۔ صبح ٹھیک سات بجے لکھنؤ میل دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ پونے آٹھ بجے کاظم اور خورشید صادق کے گھر پہنچ گئے۔ گھر پر شگوفہ کی بھابھی تھیں، بھائی نہیں تھا۔ شگوفہ بھی نہیں تھی۔ شگوفہ کی بھابی کاظم کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ کاظم نے پوچھا ’’شگوفہ کہاں ہے؟‘‘ ، ’’وہ … یہیں پڑوس میں کہیں گئی ہوئی ہیں۔‘‘ بھابی نے حتی الامکان اپنی گھبراہٹ چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ’’پڑوس میں‘‘ کاظم نے دھیرے سے دہرایا۔ اس کی تیز نگاہ بھابی کے چہرے پر جمی تھی اور اس کی پلکیں سکڑگئیں۔ ’’ہاں… وہ… ‘‘ بھابی کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی کاظم گھر سے باہر آگیا۔ خورشید بھی اس کے پیچھے تیزی سے نکلا… وہ دونوں ابھی صمد کے مکان کے دروازے پر ہی پہنچے تھے کہ دورازہ کھلا اور شگوفہ باہر نکلی۔ اس کی نگاہ کاظم پر پڑی اور اس کا چہرہ سفید ہوگیا۔ کاظم کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ جامد ہوگئے تھے۔ دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے کے چہرے پر تھیں، خورشید کبھی ماں کو دیکھتا کبھی باپ کو۔‘‘

پروفیسر شارب خاموش ہوگئے۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر کریم نے بڑی بیتابی سے پوچھا۔

پروفیسر شارب نے بھرائی ہوئی آواز سے کہا: ’’خورشید کا ہارٹ فیل ہوگیا۔‘‘

’’مائی گاڈ‘‘ ڈاکٹر کریم قریب قریب چیخ پڑے۔ ان کے چہرے پر دہشت پھیل گئی۔ سناٹے میں آئے ہوئے نہ جانے کتنے لمحے گزرگئے۔ پھر ڈاکٹر کریم نے حواس مجتمع کرکے کہا: ’’ٹریجڈی- بیشک یہ بڑی ٹریجڈی تھی۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ اپنے شوہر کی نیچر سے واقفیت رکھتے ہوئے اور اس کی اتنی سخت تنبیہ کے باوجود وہ عورت صمد کے گھر گئی کیوں؟‘‘

پروفیسر شارب نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا: ’’دو دن پہلے صمد کا انتقال ہوگیا تھا… بہن کو پرسہ دینے گئی تھی۔‘‘

کافی دیر بعد سکتے کے عالم میں ڈاکٹر کریم کے منھ سے نکلا: ’’ٹریجڈی تو یہ کہانی اب بنی ہے۔‘‘

——

شیئر کیجیے
Default image
اقبال انصاری، دہلی

Leave a Reply