2

حاملہ خواتین پرموبائل فون کے اثرات

جوعورتیں دورانِ حمل موبائل استعمال کرتی ہیں۔ ان کے شکم میں پرورش پانے والے بچے کے لئے شدید خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مونٹ پلیئر یونیورسٹی کی پروفیسر میڈیلین بسٹائڈ(Pro. Madeleine Bastide) نے حال ہی میںدو سال کی تحقیق کے بعد اپنامقالہ شائع کیا ہے۔ اپنی تحقیق کے دوران انہوںنے مرغی کے بارآور انڈوں پر تجربہ کیا جن سے تین ہفتے کی مدت کے بعد چوزے نکلے اس تجربے کے دوران کچھ انڈے علیحدہ کرلئے گئے اور انہیں ایسی جگہ رکھاگیاجہاںوہ زیر استعمال موبائل فون کی زد میں رہے۔

تجربے کے اختتام پر جو نتائج سامنے آئے انہوںنے سائنس دانوں کو حیران بھی کیا اور پریشان بھی۔ ہو ا یہ کہ عام انڈوں سے نکلے ہوئے چوزوںمیںمرنے کی شرح دس فی صد تھی جب کہ موبائل فون کی تاب کاری کی زد میں رکھے ہوئے انڈوںسے جو چوزے نکلے ان میںساٹھ سے ستر فیصد مرگئے۔ دو سال کے عرصے میں یہ تجربہ بار بار کیاگیا اورہر بار کم و بیش یہی نتیجہ نکلا۔

پروفیسر بسٹائڈاور ان کے ساتھیوں کو امید ہے کہ انہیں مزید رقم فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے تجربات کا دائرہ وسیع کرکے اب انسانوں کے سلسلے میںمعلومات حاصل کریں یعنی یہ پتا چلائیںکہ ایک عورت کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر موبائل فون کی تابکاری کاکیا اثرہوتاہے۔

انسانی جنین کی طرح مرغی کا انڈا بھی ایک حفاظتی تھیلی میںرہتاہے۔ پروفیسر بسٹائڈ کاکہنا ہے کہ ان کے خیال میں خواتین کو دورانِ حمل موبائل فون استعمال کرنے کاخطرہ نہیں مول لینا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ابھی تک یقینی طورپر یہ بتانا ممکن نہیں کہ موبائل فون کی تابکاری سے نقصان کیوں پہنچتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں کے خیال میں اس نقصان کا انحصاراس بات پرہے کہ اس فون کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کتنی دیر استعمال کرتے ہیں اور استعمال کے بعد کہاں رکھتے ہیں۔

پروفیسر بسٹائڈ کی رائے ہے کہ موبائل فون جب زیر استعمال نہ ہوتو کسی بھی صورت میں اسے کوٹ کے اندر کی جیب میںنہ رکھیں کیوںکہ اس طرح یہ دل سے قریب رہے گا۔ انہوںنے یہ بھی مشورہ دیاکہ موبائل فون کے بارے میںمزید معلومات منظر عام پر آنے تک اسے موٹرکار اور بندجگہوں میںاستعمال نہ کیاجائے۔

تابکاری سے تعلق رکھنے والے برطانوی ادارے نے اس تحقیق کے بارے میں تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ پروفیسر بسٹائڈ کے تحقیقی مطالعے کا بغور جائزہ لے گا اوربرطانیہ کے متعلقہ سائنس دان بھی اس سلسلے میںکام کریںگے، کیوں کہ اس میدان میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم الیکٹرونکس کی صنعت کے ایک ترجمان نے جس کا تعلق برطانیہ سے ہے اس بات کی تردید کی ہے کہ موبائل فون سے انسانی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
؟؟

تبصرہ کیجیے