غیر مسلموں میں دعوتِ اسلام

غیر مسلموں کے سلسلہ میں ہماری جو ذمہ داری ہے وہ شہادتِ حق یا دعوت الی الاسلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک پوری طرح پہنچ جائے تاکہ آخرت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ ہم کو حقیقت کا علم نہیں تھا۔

یہ امت مسلمہ کی وہ اہم ترین ذمہ داری ہے جسے ہر اختلاف کو مٹا کر انجام دینا ہے۔ طبرانی نے حضرت مسور بن مخرمہ کے واسطے سے نقل کیا ہے:

خرج رسول اللّٰہ ﷺ علی اصحابہ فقال: ان اللّٰہ بعثنی رحمۃ للناس کافۃ فادوا عنی، رحمکم اللّٰہ، ولا تختلفوا کما اختلف الحواریون علی عیسیٰ علیہ السلام۔

’’نبی ﷺ اپنے اصحاب کے پاس آئے اور فرمایا، اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے، پس تم لوگ، اللہ تم پر رحم کرے، میری طرف سے اس فرض کو ادا کرو اوراختلاف نہ کرو جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اختلاف کیا۔‘‘

جس طرح نبی مبعوث ہوتا تھا، اسی طرح یہ امت گویا اس مقصد کے لیے دائمی طور پر مبعوث ہے۔ خلیفہ ثانی کے زمانے میں جب ربعی بن عامر سردارانِ فارس کے دربار میں اسلام کے سفیر بن کر گئے اس وقت جو گفتگو ہوئی اس کا ایک ٹکڑا یہ تھا:

’’سرداروں نے پوچھا: تم لوگ کس لیے یہاں آئے ہو؟ ربعی بن عامر نے جواب دیا: اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ جس کو وہ چاہے، اس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت میں لائیں۔ دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف لائیں اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ بس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس طرف بلائیں۔‘‘

یہ ذمہ داری ایک عالم گیر ذمہ داری ہے، جو کسی جغرافیائی حد پر نہیں رکتی۔ صاحب البدایہ نے کسریٰ کے دربار میں نعمان بن مقرن کی جو تفصیلی تقریر نقل کی ہے، اس میں انھوں نے کسریٰ کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا‘

’’عرب میں دین پھیل گیا تو ہمارے نبی نے ) ہم کو حکم دیا کہ ہم اپنے قریب کی قوموں میں جائیں اور ان کو عدل کی طرف بلائیں پس ہم تم لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلاتے ہیں جو اچھا ہے اس کو اس دین نے اچھا بتادیا ہے، جو برا ہے اس کو اس دین نے برا بتادیا ہے۔‘‘

صحابہ کرام کے سامنے یہ ذمہ داری انتہائی طور پر واضح تھی۔ خلافتِ فاروقی کے زمانہ میں عمرو بن العاص نے مصر کے مذہبی ذمہ دار کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور کہا کہ ہمارے پیغمبر کو خدا نے انسانیت کے نام ایک پیغام دے کر بھیجا تھا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری کو مکمل طور پر ادا فرمایا اور اپنے بعد ہمارے لیے ایک واضح طریقہ چھوڑ گئے ہیں۔ (وقد قضی الذی علیہ و ترکنا علی الواضحۃ، ابن جریر، ج۴، ص:۲۲۷)

اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ غیر اہلِ اسلام کے سامنے تدریجی دعوتی کام کیا جائے گا، اس میں ان کے سامنے بیک وقت سارا دین پیش کرنا ضروری نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ پہلے دین کی اصولی تعلیمات انہیں بتائی جائیں۔ خدا کا تصور، رسالت کا تصور، آخرت کا تصور، یہ وہ چیزیں ہیں جو اولاً غیر مسلم مخاطبین کے سامنے رکھی جاتی ہیں اور مسلسل مختلف پہلوؤں سے ان کے سامنے اس کی وضاحت کی جاتی ہے، جہاں جہاں ان کا ذہن اٹک رہا ہوتا ہے اس کو مضبوط استدلال کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے بعد جب وہ اسے مان لیتے ہیں تو انہیں ان احکام کی تعلیم دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ نبی ﷺ نے سن ۱۰ہجری میں حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف دعوتی مشن پر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب کے ایک گروہ سے ملوگے تو انہیں سب سے پہلے کلمہ توحید کی طرف بلانا (فلیکن اول ماتدعوہم الیہ شہادۃ ان لا الہ الا اللّٰہ) جب وہ اس کو مان لیں تو اس کے بعد انھیں بتدریج نماز اور دیگر اعمال شریعت کی تعلیم دینا:

’’عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں نبی ﷺ نے معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا: تم ایک ایسی قوم میں جارہے ہو جو اہلِ کتاب ہے۔ جب تم وہاں پہنچو تو اولاً انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ اسے مان لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء میں تقسیم کیا جائے گا۔ جب وہ اسے بھی مان لیں تو تم ان کے بہترین اموال سے بچنا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو ابتدائی دعوتی مرحلہ میں صرف بنیادی تعلیمات دی جاتی تھیں۔ وہ عرصہ دراز تک ان کی تبلیغ کرتے رہتے تھے، اس کے بعد جیسے جیسے حالات پیدا ہوتے تھے اس کے مطابق تفصیلی ہدایات نازل کی جاتی تھیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کسی قوم کے پاس آیا تو اس نے پہلے ہی مرحلہ میں ایک پورا سماجی اور تمدنی نظام مرتب کرکے لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہو اور ان سے مطالبہ کیا ہو کہ اسلامی اسٹیٹ قائم کرکے ان تمام قوانین کو زندگی کے سارے شعبوں میں جاری کرو۔ ——

شیئر کیجیے
Default image
ابوالفضل نور احمد

Leave a Reply