قانون (لاء) میں کیرئیر

ارسطو نے کہا تھا: ’’قانون کی حکمرانی کسی بھی دیگر انسان کی حکمرانی سے بدرجہا بہتر ہے۔‘‘

قانون یا لاء حکمرانی کے نظام کا نام ہے۔ جو مختلف سول اداروں کے ذریعہ نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ قانون، سیاست، سماج، معیشت اور معاشرت کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ عوام الناس کے درمیان اور عوام و سرکار و سرکاری نظام کے درمیان ایک واسطہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ جبکہ قانون داں یا لائیر اس قانون کا محافظ، مجدد اور نافذ کروانے والا ہونے کے ساتھ عوام اور نظام کا خادم اور ان کے مفادات کی وکالت کرنے والا ہوتا ہے۔ ایک قانون داں یا وکیل کا سماج میں کئی شکلوں میں اہم رول ہوتا ہے، لیکن کورٹ کچہری سے متعلق امور ومسائل میں ایک قانون داں کی ضرورت و اہمیت ہم سب پر واضح ہے۔

قانون کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ انسان کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کے مختلف شعبے اور جہات ہیں، جن میں لوگ مہارت حاصل کرکے اپنے خاص میدان میں شناخت حاصل کرتے ہیں۔ کنٹریکٹ لاء، کنزیومر لاء، بزنس لاء، پروپرٹی لاء، ٹرسٹ لاء، ٹورسٹ لاء، کرمنل لاء، کانسٹیٹیوشن لاء، ایڈمنسٹریٹیو لاء، اور انٹر نیشنل لاء وغیرہ معروف خاص میدان ہیں۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان میدانوں کے علاوہ بھی بہت سارے میدان اسی قانون کے اجزاء ہیں اور لوگ اسی میں مہارت حاصل کرکے اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔ مثلاً بعض وکلاء صرف ٹیکس سے متعلق امور ہی دیکھتے ہیں۔ بعض طلاق و شادی سے متعلق معاملات کی وکالت کرتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو مسلم پرسنل لا یا ہندو کوڈ سے متعلق معاملات ہی اپنے لیے منتخب کرتے ہیں۔ ان تمام شعبوں میں یہ بات خاص ہوتی ہے کہ ان کے پاس عام قانون کی ڈگری کے ساتھ ساتھ متعلقہ میدان کی بھی کوئی خاص ڈگری ہوتی ہے جو انہیں اس میدان کا ماہر قرار دیتی ہے۔

ذیل میں مختلف شعبوں کا مختصر تعارف دیا جاتا ہے:

— کنٹریکٹ لاء: یہ شعبہ بس کا ٹکٹ خریدنے سے لے کر مارکیٹ کی بڑی بڑی چیزیں خریدنے تک کو محیط ہے۔

—کنزیومر لاء: یہ قانون صارفین کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور مختلف اشیاء بنانے والی کمپنیوں کے خلاف صارفین کے ہاتھ میں مضبوط قوت دیتا ہے۔

—بزنس لاء: یہ قانون تجارتی امور سے متعلق ہے جس میں ایکسپورٹ امپورٹ اور کسٹم ڈیوٹی جیسے دیگر امور آتے ہیں۔

—پروپرٹی لاء: یہ جائداد سے متعلق حقوق وفرائض اور ان کی خریدوفروخت اور منتقلی سے متعلق ہے۔

—ٹرسٹ لاء: یہ سرمایہ کاری اور مالی تحفظ سے متعلق ہے۔

—ٹورٹ لاء: یہ معاوضہ سے متعلق قانون ہے جو جائداد کو نقصان لاحق ہونے یا ان کے ضیاع سے متعلق ہے۔ اگر انہیں نقصان کا سبب مجرمانہ سرگرمی ہے تو حکومت کا کرمنل پینل کوڈ مجرم کا محاکمہ کرتا ہے۔

—کرمنل لاء: یہ سماج میں ہونے والے مختلف النوع جرائم سے بحث کرتا ہے اور شہریوں کو انصاف دلانے کے لیے ہے۔

—کانسٹی ٹیوشنل لاء: یہ قانون سازی کے لیے وسیع دائرے فراہم کرتا ہے، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور انتخابی سیاست اس کے اہم اجزاء ہیں۔

—ایڈمنسٹریٹیو لاء: یہ وہ شعبہ ہے جو حکومت کے مختلف اداروں اور ایجنسیوں کی انتظامی سرگرمیوں سے متعلق امور و مسائل پر بحث کرتا ہے۔

—انٹرنیشنل لاء: مختلف حکومتوں کے درمیان واقع ہونے والے امور مسائل جیسے: تجارت، ماحولیات، فوجی اور سرحدی امور اور سائنس و ٹکنالوجی سے متعلق معاملات سے متعلق ہے۔

قانون کے یہ مختلف شعبے ہیں جو کسی نہ کسی صورت سماج کے ہر فرد کی زندگی کاحصہ ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم اور عام شعبہ کرمنل لاء سے متعلق ہے جس سے ہم سب لوگ واقف ہیں۔ ہماری کورٹ کچہریوں میں جائداد، فوجداری اور جرائم سے متعلق معاملات کی ایک بھیڑ ہے جو دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کا گراف بڑھ رہا ہے۔ یہ جرائم، چوری، ڈکیتی، خواتین کے ساتھ زنا بالجبر، چھیڑ چھاڑ، گھریلو تشدد، نکاح و طلاق، جہیز اور جہیز کی خاطر قتل و ستایا جانا وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن کی دلدل میں ہندوستانی سماج کی خواتین روز بروز دھنستی جارہی ہیں۔ ایسے میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ خواتین بھی اس میدان میں اتریں اور سماج کی مجبور، مظلوم اور دبی کچلی خواتین کو حقوق و انصاف دلانے کی جدوجہد کریں۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب بھی خواتین سے متعلق خاص معاملات عدالت تک پہنچتے ہیں تو ان کی پیروی کے لیے خواتین وکیل اور قانون دان نظر نہیں آتیں اور انہیں مرد حضرات کی خدمات لینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ذہین، حوصلہ مند اور خدمت کا جذبہ رکھنے والی لڑکیاں میدان میں آئیں ، اس طرح یہ موجودہ معاشرہ کی ایک خدمت بھی ہوگی اور معاشی اعتبار سے اچھا کیرئیر بھی ہوگا۔

مسلم لڑکیوں کے لیے قانون کا میدان خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں مسلم قانون داں خواتین تقریباً نایاب ہیں۔ دوسرے میدان ہائے کیرئر کے مقابلے میں یہ میدان لڑکیوں کے لیے محفوظ ترین بھی ہے جہاں آپ کو عام تجارتی کمپنیوں کی طرح کام نہیں کرنا پڑتا۔ بلکہ آپ اپنے طور پر کام کرنے اور اپنے اقدار وآداب زندگی کو بہ حسن و خوبی بجالاتے ہوئے کام کرسکتی ہیں۔

قانون دان مرد و خواتین کے لیے آزادانہ روزگار کے بھی کھلے مواقع ہیں اور نوکریوں کے بھی پورے امکانات ہیں۔ اس میدان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں آزادانہ مشاورت فراہم کرنا زیادہ منافع بخش بھی ہے اور مسلم لڑکیوں کے مزاج اور سماجی و خاندانی روایات کو نقصان پہنچانے سے بھی بچاتا ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو جتنے مواقع خواتین قانون دانوں کے لیے آزادانہ کام کرنے کے ہیں اتنے نوکریوں میں نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ جاننا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قانون پڑھنے کے بعد روزگار کے کیا مواقع ہیں۔ ایک قانون داں کے لیے روزگار کے درج ذیل مواقع دستیاب ہیں۔

—مجسٹریٹ بن سکتا ہے۔

—پبلک ڈیفنڈر ہوسکتا ہے۔

—پبلک پروسیکیوٹر ہوسکتا ہے۔

— اٹارنی جنرل یا سولی سائٹر ہوجانا۔

— دفاعی شعبہ میں تقرر۔

—قانونی مشیر کی حیثیت۔

—عام وکیل۔

—قانون کا لیکچرر۔

قانون پڑھ لینے کے بعد آدمی اپنے مزاج، ذوق و شوق اور جذبے کے مطابق روزگار اختیار کرسکتا ہے۔

تعلیم

پہلے گریجویشن کے بعد سیدھےLL.B. (بیچلر آف لیجسلیٹیو لاء) میں داخلہ ہوتا تھا۔ اور ایل ایل بی کے بعد ایل ایل ایم (قانون کی ماسٹر ڈگری) لی جاتی تھی۔

اب بارہویں کے بعد سیدھے گریجویشن ان لاء کے لیے داخلہ ہوتا ہے۔ اور مزید قانون میں ماسٹر ڈگری کے بعد ریسرچ کے مواقع ہوتے ہیں۔ اب حکومت نے بارہویں کے بعد بیچلر ڈگری میں داخلہ کے لیے ایک کامن ٹیسٹ ’’کامن لاء ایڈمیشن ٹیسٹ‘‘ (سی ایل اے ٹی) کو ضروری قرار دے دیا ہے۔ اس ٹیسٹ کے تحت ہندوستان کے درج ذیل ادارے آتے ہیں:

—نیشنل لا اسکول آف انڈین یونیورسٹی، بنگلور— NALSARیونیورسٹی آف لاء، حیدرآباد —نیشنل لاء انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی، بھوپال —دی ویسٹ بنگال نیشنل یونیورسٹی آف جوڈیشیل سائنسز، کولکاتا —نیشنل لاء یونیورسٹی جودھپور —ہدایت اللہ نیشنل لاء یونیورسٹی، رائے پور —گجرات نیشنل لاء یونیورسٹی، گاندھی نگر —ڈاکٹر رام منوہرلوہیا نیشنل لا یونیورسٹی، لکھنؤ —راجیو گاندھی نیشنل یونیورسٹی آف لاء پٹیالہ — چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی پٹنہ —نیشنل یونیورسٹی آف ایڈوانسڈ لیگل اسٹڈیز، کوچی۔

ان اداروں کے علاوہ بہت سارے ادارے ایسے ہیں جو اپنے طور پر انٹرنس منعقد کرکے طلبہ کو داخلہ دیتے ہیں۔ ان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے علاوہ دہلی یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی ہے۔ ان یونیورسٹیوں کے علاوہ دیگر بہت سی ریاستی یونیورسٹیاں اور سرکاری و پرائیویٹ لاء کالجز ہیں جو قانون کی تعلیم دیتے ہیں۔

اگر آپ حق و انصاف کی لڑائی میں کمزوروں اور مظلوموں کی مدد کرنا چاہتی ہیں تو یہ میدان آپ کا استقبال کرے گا۔ آئیے اور ہر کسی کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کی جدوجہد کیجیے۔

(ڈاکٹر احمد علی لکچرر لاء کالج غازی آباد سے گفتگو پر مبنی)

——

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

Leave a Reply