نرسنگ- خدمت خلق کا موثر ذریعہ

نرسنگ آج کے دور میں کیریر کا بہترین میدان ہے جس میں مسلم طلبہ و طالبات کی نمائندگی نا کے برابر ہے۔ اس میدان میں کیا مواقع ہیں اور کس طرح کامیابی ممکن ہے اس موضوع پر ہمارے نمائندے مہتاب عالم نے ملک کی معروف یونیورسٹی جامعہ ہمدرد کی نرسنگ کالج کی پرنسپل محترمہ بندرہ بھٹا چاریہ سے گفتگو کی۔[

س: نرسنگ کیا ؟ اور اس کا دائرے عمل کیا ہے؟

ج: دراصل یہ ایک خدمت خلق ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ کسی ایسے انسانی کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں جو یقینا خدمت کا حقدار ہے۔ جہاں تک ایک نرس کے دائرے عمل کا سوال ہے تو میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ نہ ہی بہت آسان کام ہے اور نہ بہت ہی مشکل۔ کیونکہ ظاہراً ایک بیمار کو ظاہراً دوائی وقت پر دینا نرسنگ ہے مگر ذمہ داری یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس بیمار کی نفسیات کو جان کر اس کو ایک ایسا ماحول دینا جہاں وہ یہ سمجھ سکے کہ وہ بیمار میں تن تنہا یا کمزوری سے معذور نہیں بلکہ یہ قدرت کا نظام ہے جس کا وہ وقتی طور پر شکار ہوگیا ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ایک انسان کی نفسیات کو پڑھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہی کام ہے جو نرسنگ کا پیشہ آپ کو سکھاتا ہے۔

س: یہ پیشہ یا میدان لڑکیوں ہی کے لیے کیونکر بہتر ہے؟

ج: یہ پروفیشن لڑکیوں کے لیے بہتر ہی نہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ یہ سب سے بہترین میدان ہے۔ جہاں وہ صرف سماج کی ہی بلکہ خود اپنے گھر کے لیے بھی کافی کام آتی ہیں۔ مثلاً وہ اگر ایک بیٹی ہے تو اپنے گھر کے تمام لوگوں کی دیکھ بھال خصوصاً صحت کے معاملے میں اچھی طرح کرسکتی ہے۔ اور وہی بیٹی کل کسی کے گھر کی بہو یا بیوی اور ماں بنے گی۔ اور ظاہر ہے یہ وہ زندگی کے مراحل ہیں جہاں انھیں اپنی کارکردگی کو دکھانے کا موقع ملے گا۔ اور وہ ایک عام عورت سے ہر طرح بہتر کار کردگی انجام دے گی۔

س: ایک اچھی نرس بننے کے لیے کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے؟

ج: سب سے زیادہ اگر کوئی چیز ضروری ہے تو یہ ہے کہ آپ کے اندر خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔ علاوہ ازیں حسن اخلاق، تادیر کام کرتے رہنے پر بھی چہرے میں شکن نہ آنے دیں۔ ہر طرح کے حالات کو سوجھ بوجھ کے ساتھ نمٹانے کی صلاحیت ضروری ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ جس میدان کو چن رہے ہیں اس کے بارے میں آپ کو بہت جانکاری ہونی چاہیے۔ اس کی باریکی کو جاننا نہایت ہی ضروری ہے ورنہ ایک اچھی نرس کبھی بھی نہیں بنا جاسکتا۔

س: نرسنگ کے میدان میں کون کون سے کورس کیے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے کیا اہلیت درکار ہے؟

ج: اس پروفیشن میں داخل ہونے کے لیے دسویں پاس ہونا ضروری ہے۔ مگر اس میدان کے سبھی کورسیز آپ صرف دسویں کے بعد ہی نہیں کرسکتے۔ جو کورس آپ دسویں کے بعد کرسکتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

Auxaliry Nurse Midwife/ Multi Purpose Health Worker Course

اس کی مدت ۱۸ ماہ ہے۔ اور داخلہ دسویں میں حاصل کیے گئے نمبرات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جب کہ بارہویں کے بعد چار سالہ بی ایس سی (نرسنگ) میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے بارہویں میں انگلش، فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی مضامین کا ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ نے بارہویں آرٹس یا کامرس مضمون سے کی ہے تو آپ ڈپلوما ان جنرل نرسنگ اینڈ مڈوانفری ( ِD.G.N.M.) میں داخلہ لے سکتے ہیں اس کی مدت تین سال ہے۔ لیکن سائنس کے طلبا کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ڈپلوما کے بعد اگر آپ بی ایس سی (نرسنگ) کے برابر ہونا چاہتی ہیں تو آپ کو دو سالہ بی ایس سی (نرسنگ) پوسٹ بیسک /سر ٹیفکیٹ کورس کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ڈپلوما کے ساتھ ساتھ دو یا تین سال کا تجربہ بھی لازمی ہے۔ اس کے بعد اسی میدان میں ایم ایس سی، ایم فل، اور پی ایچ ڈی بھی کی جاسکتی ہے۔

س: انٹرنس ٹیسٹ میں کس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں؟

ج: بی ایس سی (نرسنگ) میں داخلہ کے لیے بارہویں کے معیار کی کیمسٹری، بائیولوجی اور فزکس کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ سے بھی سوالات کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح DGNMمیں داخلہ کے لیے ٹیسٹ میں جنرل سائنس کے علاوہ جنرل انگلش اور جنرل نالج سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایم ایس سی نرسنگ میں داخلہ کے لیے بی ایس سی نرسنگ پر منحصر سوالات کیے جاتے ہیں۔

س: ان کورسیز کو کرلینے کے بعد اسپتالوں کے علاوہ اور کہاں کہاں خدمت انجام دی جاسکتی ہیں؟

ج: ہسپتالوں کے علاوہ نرسیز کلینک میں، اسکولوں میں، ہیلتھ اڈوائزر کی حیثیت سے کمپنیز میں ہیلتھ کنسلٹنٹ اور خود اپنی کلینک بھی کھولی سکتی ہیں لیکن اس کے لیے نرسنگ کونسل سے رجسٹریشن کروانا ضروری ہے۔ اور جہاں تک مواقع کی بات ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہوسکتا ہے پہلے پہل کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑے لیکن بے روزگاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے ہندوستانی نرسیز کے روشن مستقبل صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی کافی مانگ ہے۔ اور ایک سروے کے مطابق دوسرے پروفیشن سے زیادہ کمائی اس میدان میں نرسیز کرلیتی ہیں۔ لیکن بیرون ممالک جانے کے لیے ایک امتحان جس کو C.G.F.N.S.کہتے ہیں پاس کرنا ضروری ہے۔ جو کہ بہت ہی آسان ہے۔

س: آپ کے ادارے کی خصوصیات کیا ہیں؟

ج: ہمارے یہاں صرف تھیوری پر ہی دھیان نہیں دیا جاتا بلکہ عملی کام پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بہترین ہاسٹل کے ساتھ DGNMکی طالبات کو مفت ہاسٹل اور 500/-روپے ماہانہ دئے جاتے ہیں۔ اور اقلیتی ادارہ ہونے اور مسلم تہذیب و ثقافت کی حامل یونیورسٹی ہونے کے سبب یہاں کا ماحول مثالی ہے جو دیگر اداروں سے اسے ممتاز کرتا ہے۔

س: ہمارے قارئین کے لیے آپ کا کوئی پیغام؟

ج: آپ کے قارئین میں مسلم عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لیے میں خصوصاً مسلم لڑکیوں کو یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ وہ اس میدان میں آئیں۔ کیونکہ آپ کے یہاں سے بہت کم تعداد میں لڑکیاں آتی ہیں۔ جو غلط فہمیاں ہیں انھیں دور کریں اور جب بھی ایڈمیشن لیں تو اس بات کا ضرور دھیان دیں کا وہ ادارہ انڈین نرسنگ کونسل اور اسٹیٹ نرسنگ کونسل سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔ شکریہ

——

شیئر کیجیے
Default image
مہتاب عالم

Leave a Reply