کیرئیر کا انتخاب

یوں تو انسانی زندگی میں کیریر کے انتخاب کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے۔ لیکن جب وہ محض مالی مفادات کے لیے ہی نہیں بلکہ مقصد زندگی کی جدوجہد کا جذبہ بھی لیے ہو تو پھر اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں صبر و استقامت، دلچسپیوں کا خیال اور صلاحیتوں سے واقفیت لازمی ہوجاتی ہے ورنہ آپ کی پوری زندگی رحمت کے بجائے زحمت بن سکتی ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب کہ آپ اپنی دلچسپی، شخصیت کے میلان، اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے حالات و ضروریات سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ لہٰذا کیریر کے انتخاب کے وقت مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔

مواقع

آپ جو تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کی بنیاد پر کون کون سے میدانوں میں جاسکتے ہیں۔ آپ کو اس چیز کا پتہ ہونا چاہیے۔ آپ کو یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ ان سبھی متوقع مواقع کی ایک فہرست تیار کرلیں۔ فہرست تیار کرنے کے بعد اس سے متعلق دیگر معلومات جیسے کورس کی مدت، فیس، ادارے کی تفصیلات، داخلے کا وقت اورداخلے کا طریقہ وغیرہ ضرور معلوم کرلیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہمارا دھیان چند محدود اور معروف میدانوں تک ہی جاپاتا ہے۔ جبکہ ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔‘‘

کام کی نوعت

کسی فیلڈ کو چننے سے پہلے آپ یہ ضرور جان لیں کہ اس فیلڈ میں آپ کی کیا ذمہ داریاں ہوں گی۔ آپ کو کم از کم کتنا وقت دینا ہوگا، کام کی نوعیت جسمانی ہوگی یا ذہنی؟ کیا شریعت میں اس کام کی اجازت ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی وجہ سے اپنی اولین ذمہ داریوں کو خیر باد کہنا پڑے؟ یہ سب اس لیے کہ یہ چنددنوں یا سالوں کی بات نہیں بلکہ یہ آپ کی پوری زندگی سے متعلق ہے اور مسلم طالبات کے لیے یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی اہم ہے۔

دلچسپی و صلاحیت

محض مواقع اور کام کی نوعیت سے واقفیت ہوجانے پر ہی معاملہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ شاندار کیریر کے لیے مندرجہ بالا چیزوں کے ساتھ آپ کی دلچسپی اور اس میدان سے طبعی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ کامیاب افراد کی زندگی کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جلد کامیابی ملی جنھوں نے اپنی دلچسپی اور صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے میدان کار متعین کیا۔ اس کی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہمیشہ پریشان رہے جنھوں نے کسی کے دباؤ میں آکر یا پھر ہوا کے رخ کو دیکھ کر فیصلہ کیا۔ یا پھر اپنی صلاحیت، دلچسپی اور شخصیت سے بغاوت کی۔ افسوس کی بات ہے کہ ہماری امت اس مسئلے کا شکار ہے ہم ابھی تک اس کو ترک نہیں کرپائے ہیں۔ اس کی وجہ خود اپنی دلچسپی، صلاحیتوں اور پرسنالٹی سے ناواقفیت بھی ہے۔ اور کچھ والدین کا بیجا دباؤ کہ ہماری لڑکی یہی کرے گی۔ خواہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو یا نہ ہو یا پھر اس کی دلچسپی کا موضوع ہو یا نہیں۔ ہمیں اس رویے کو ترک کرنا ہوگا ۔ اور بچوں کو اس کے لیے آزادی دینی پڑے گی۔

پرسنالٹی (شخصیت)

کامیاب کیریر کے انتخاب میں پرسنالٹی کا بھی اہم کردار ہوتا ہے ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اسے نظر انداز کرنے کا مطلب ہے اپنے وقت مال اور صلاحیتوں کا ضیاع۔ آپ کی پرسنالٹی کیسی ہے یہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ایٹی چیوڈ ٹیسٹ کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ بازار میں ٹیسٹ کے سیٹس موجود ہیں۔ محترم امین الحسن صاحب نے بھی ایک سیٹ تیار کیا ہے، جس کا استعمال فائدہ مند ہوسکتا ہے اس کے علاوہ اس سے متعلق کئی ویب سائٹس جیسے www.compusmatter.com سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے یاد رہے آپ کو اپنی پرسنالٹی کے بارے میں صحیح معلومات آپ کو اوج ثریا پر پہنچا سکتی ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ملک و ملت کی ضرورت

یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی طرف کم ہی لوگوں کا دھیان جاتا ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ذاتی کیریر سے ملک و ملت کا کیا تعلق اور پھر یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ملک و ملت کا بھی ہم پر کچھ حق ہے اور اس کی ادائیگی بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح ماں باپ کے حقوق کی۔ بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اب امت مسلمہ کو کئی شعبوں میں بے شمار ماہرین کی ضرورت ہے اس میں سے اہم شعبہ خواتین کاہے۔ اور اس خلا کو حوصلہ مند، تعلیم یافتہ خواتین ہی پُر کرسکتی ہیں۔ آج امت کو قانون، سماجیات و نفسیات، صحافت، میڈیکل سائنس اور نرسنگ وغیرہ جیسے اہم شعبوں میں باشعور، بے دار مغز اور باصلاحیت خواتین کی ضرورت ہے۔ آپ کو کیریر کے انتخاب کے وقت ان چیزوں کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا۔ پیشہ وارانہ تعلیم کے بڑھتے رجحان اور مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کی سوچ نے ذہین طلبہ و طالبات کو فکر و تحقیق کے ان میدانوں سے دور کردیا جو سماج، معاشرہ اور لوگوں کے ذہن و فکر پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلاً سماجیات، تاریخ، نفسیات،مطالعہ ادیان و ثقافت، صحافت اور اس طرح کے دیگر مضامین۔

صورت حال اس وقت یہ ہے کہ یہ میدان علم و تحقیق باصلاحیت اور مخلص طلبہ کے انتظار میں ہیں۔ اور اس طرح کے مضامین کا انتخاب کرکے محفوظ و موثر کیریر بنایا جاسکتا ہے۔

روزگار کے مواقع

یہ چیز مسلم طالبات کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔ کیریر کے انتخاب کے وقت روزگار کے مواقع کے سلسلے میں جہاں ایک طرف اس کے معاشی پہلو کو سامنے رکھنا چاہیے، وہیں اس کے اسلامی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کوئی بھی ایسی فیلڈ نہ چنیں جو آپ کو دونوں میں سے کسی ایک ہی پہلو پر مصالحت کے لیے مجبور کرے۔ خصوصاً دوسرا پہلو۔ ہمارا خیال ہے کہ طالبات خود روزگاری (سیلف امپلائمنٹ) کو نوکری پر ترجیح دیں تاکہ وہ ان پریشانیوں سے بچ سکیں۔

خاص باتیں

٭ اپنی صلاحیتوں و دلچسپی کا خاص خیال رکھیں۔

٭ بھیڑ کے پیچھے بھاگنے سے بچیں۔

٭ اپنے کیرئر کے انتخاب میں ملک وملت اور سماج معاشرے کی ضرورت کا بھی لحاظ کریں۔

٭ وقتاً فوقتاً اخبار و رسائل میں آنے والے کیریر سے متعلق مضامین کا مطالعہ کرتی رہیں۔

٭ کیریر کاؤنسلنگ پروگرام اور میلوں میں ضرور جائیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
مہتاب عالم

Leave a Reply