خیر کے کاموں میں سبقت

مومن کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اوقات کو حتی الامکان خیر اور بھلائی کے کاموں میں لگانے کی کوشش کرتاہے۔ اس سلسلے میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کی برابر کوشش کرتارہتا ہے۔ اپنے وقت کو کاہلی اور سستی سے ضائع نہیں کرتا ہے۔ وہ جانتاہے کہ زندگی محدود ہے معلوم نہیں کہ یہ مہلت جو مجھے آج ملی ہوئی ہے کب ختم ہوجائے۔ اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ نیکی اور بھلائی کے کاموں کو انجام دینے کی دُھن میں لگارہتا ہے۔

سب سے بڑا نیکی اور بھلائی کاکام یہ ہے کہ انسانوں کو دوزخ کی آگ سے بچایاجائے اور انہیں نعمت بھری جنّت کی طرف لایاجائے۔ اس لئے مومن کو شب و روز اسی کام میں لگے رہنا چاہئے۔ قرآن مجید خیر اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنے کا حکم دیتا ہے۔

قرآن میں فرمایاگیاہے: ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے، جس کی طرف وہ مُڑتا ہے پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔ جہاں بھی تم ہوگے اللہ تمہیں پالے گا۔ (سورہ البقرہ: ۱۴۸)

ایک اورجگہ فرمایاگیاہے: اگرتمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بناسکتاتھا، لیکن اُس نے یہ اس لئے کہاکہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا اس میںتمہاری آزمائش کرے، لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخرکار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کرجانا ہے۔ (سورہ المائدہ:۴۸)

سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۳ میںفرمایاگیا۔ دوڑکر چلو اس راہ پرجو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنّت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین جیسی ہے، جو خداترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایاگیاہے: ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنّت کی طرف جس کی وُسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔(سورہ حدید:۲۱)

اللہ تعالیٰ نے سورہ انبیاء آیت ۹۰ میں نبیوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایاہے: یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑدھوپ کرتے تھے اور ہمیںرغبت او ر خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے آگے جھُکے ہوئے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نیک اعمال میںجلدی کرنے کا حکم فرمایاہے۔ ایک بار نبی صلی اللہ علیہوسلم نے نیک اعمال میں تاخیر نہ کرنے اور اُنھیں جلدانجام دینے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: لگتاہے تم تو بس سرکش بنادینے والی مالداری کے منتظر ہو۔ یا سب کچھ بھُلادینے والی محتاجی کے، یا برباد کردینے والی بیماری کے یا سٹھیادینے والی عمررسیدگی کے، یا کام تمام کردینے والی موت کے، یا دجّال کے جوآنکھوں سے اوجھل ایک ایسی بُری چیز ہے جس کا انتظار کیاجارہا ہے یا پھر قیامت کے جو سب سے بڑی آفت ہے اور سب سے تلخ گھڑی ہے۔
(ترمذی)
ایک اورحدیث میںرسول اللہؐ نے فرمایا: جو شخص ڈرتاہے کہ وقت پر اپنی منزل نہ پاسکے گا وہ منھ اندھیرے ہی چل پڑتا ہے اورجو صبح تڑکے ہی چل دیتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ خبردار! اللہ کا سامان متاع بہت قیمتی ہے۔ آگاہ ہوجائو۔ اللہ کی متاع جنّت ہے۔ (ترمذی)
——

شیئر کیجیے
Default image
ابوصادقہ، کوٹہ (راجستھان)

Leave a Reply