جہیز کی حقیقت

زندگی کے شب و روز کے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کی مکمل اطاعت کانام اسلام ہے۔ اللہ کی نازل کردہ ہدایات اور محمدؐ کی سنت دونوں سے مل کر شریعت بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں ارشاد فرماتا ہے۔

’’جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کریں ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں۔‘‘

حضرت محمدؐ کا فرمان ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس شریعت کے تابع نہ ہوجائے۔ جسے میں لے کر آیا ہوں۔‘‘ (حدیث)

حقیقت یہ ہے کہ جہیز کی رسم نے ہمارے معاشرے میں جو صورت اختیار کرلی ہے، وہ بے شمار مفاسد اور دینی و دنیاوی خرابیوں پرمشتمل ہے، جس کے نتیجہ میں بے شمار معصوم لڑکیاں نکاح کے بغیر بیٹھی رہتی ہیں اور بے شمار وہ لوگ ہیں جو اس کا م کے لئے سودی قرضے لے کر دین و دنیا کو تباہ وبربادکرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقوں سے مت کھائو۔‘‘

جہیزکی رسم کو رواج دینے اور پروان چڑھانے میں علمائے دین اور دانشوروں کا بھی رول رہاہے۔ یہ حضرات جہیز کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، اس کی برائیاں بیان کرتے ہیں اور دوسری ہی سانس میں اس کو سنت ثابت کرنے لگتے ہیں اور دلیل میں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے نکاح کی مثال پیش کی جاتی ہے کہ آپؐ نے نکاح کے وقت یہ جہیز دیاتھا اور اس کی تفصیلات یہ بتائی جاتی ہیں کہ ’’چادر‘‘ تکیہ ،مشک، بستر، چکی وغیرہ۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں جہیز میں دی ہیں تووہ سنت رسول اور شریعت اسلامی کاایک جز بن گئیں۔ اب اس کے خلاف سوال ہی پیدا نہیں ہوتابلکہ اس بات کو عام کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ واقعہ بیان کرکے ایک جاہلانہ رسم کو کمالِ حکمت سے سنت رسولؐ بنادیاگیا ہے۔

حقیقت:

رسول کریم ؐ کی چار صاحب زادیاں ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بطن سے تھیں۔ چاروں کا نکاح رسول خدا ؐ نے کیا ہے۔ سب سے پہلی اور بڑی صاحب زادی زینبؓہیں۔ جن کی شادی مکہ مکرمہ میں ام المومنین حضرت خدیجہ کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص ابن ربیع کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان کی شادی حضرت خدیجہؓ کی حیات میں ہوئی تھی۔ نکاح کے وقت کہیں مذکور نہیں کہ ان کو کچھ دیاگیاتھا، اُن کے بعد دوسری صاحب زادی رقیہ اور ان کی وفات کے بعد تیسری صاحب زادی اُم کلثومؓ کا نکاح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنّی سے کیاتھا۔ ان دونوں کے متعلق کہیں مذکورنہیں کہ ان کو جہیز میں کوئی چیز دی گئی تھی۔

آخر میں سب سے چھوٹی صاحب زادی فاطمہ زہراؓ تھیں۔ جب آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کانکاح حضرت علیؓ سے کرنے کا فیصلہ کیا تو حضرت علیؓ سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایاکہ گھوڑا اور زرہ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زرّہ بیچ دو۔ حضرت علیؓ نے یہ زرّہ ۴۸۰ درہم میں بیچ دی اور اس سے وہ چیزیں خریدیں جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ کہ ’’ایک بستر، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں روئی کے بجائے گھاس بھری تھی، دو چکیاں اور مشک وغیرہ۔‘‘

لیکن اس کو ہم جہیز نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ یہ سامان حضورؐ نے حضرت علیؓکی زرّہ بیچ کر خریداتھا۔ بقیہ رقم مہر اور ولیمہ وغیرہ میں استعمال کی گئی۔ اگر نبیؐ یہ چیزیںاپنے پاس سے دیتے بھی تو اسکی حیثیت جہیز کی نہ ہوئی کیونکہ حضرت علیؓ خود نبیؐ کے زیر پرورش تھے۔

افسوس اس بات کاہے کہ ایک گروہ نے حضرت علیؓ اور فاطمہؓ اور ان کی اولاد کو مرکز دین بناکر سارا نظام دین الٰہی کے گرد گھمادیاہے۔ اس کے لئے نبیؐ کی دیگر صاحب زادیوںکو بھلادیاگیا۔ یا ان کاذکر نہیں آتاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کیا دیایا کیا نہیں دیا۔ خود حضرت محمدؐ اور صحابہؓ ، خلفائے راشدین، تابعین، قرون اولیٰ اور وسطیٰ میں کہیں دور دور تک یہ رسمِ جاہلانہ نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس ہمارے زمانے میںجہیز کو جس طرح نکاح کالازمی جز قرار دے دیاگیا ہے کہ جس طرح اس کے بغیر لڑکی کی شادی کوناک کٹوانے کا مترادف سمجھ لیاگیا ، وہ افسوس ناک اور دین کی تعلیمات کوفراموش کرنے کے مترادف ہے۔

کاش مسلمان حضورؐ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ’’نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔‘‘ جو کہ فرض ہے ہر بالغ مرد اور عورت پر جو مسلمان ہو۔ اس کی پابندی کرتے اور پانچوں وقت کی نماز پڑھتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہیز جیسی لعنت کو اپناکر اور حضورؐ کی صاحبزادیوں سے اس کا تعلق جوڑکر معاشرے میں بُرائی پھیلارہے ہیں۔ مسلمانوں کو سمجھناچاہئے کہ نماز فرض ہے۔ جب کہ قرآن و حدیث میں جہیز کی کوئی حقیقت بیان نہیں کی گئی ہے جس پر مسلمان اتنی شدت کے ساتھ عمل کررہے ہیں کہ جیسے نماز سے بھی بڑی چیز جہیز ہوگئی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد امین الدین،بتیا

Leave a Reply