محترمہ عالیہ اسٹرلنگ

مس سنڈرا اسٹرلنگ یعنی عالیہ اسٹرلنگ کی نانی قاہرہ میں امریکی سفارت خانے میں ملازم تھیں۔ وہاں سے انہوںنے عربی زبان اور قرآن پاک کے بارے میں انگریزی کتب خریدی تھیں اور وہ کتب عالیہ اسٹرلنگ کی والدہ کی تحویل میںتھیں۔ امریکہ کے اکثر ذہین طالب علموں کی طرح عالیہ کو بھی مطالعہ سے بڑاشغف تھا اور وہ مختلف موضوعات پر کتابوں کامطالعہ کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ انھوںنے جب اپنے گھر میں اس نوعیت کی کتب دیکھیں تو ان کامطالعہ شروع کردیا اور اس طرح عربی زبان اور قرآن سے ان کی دلچسپی کاآغاز ہوا۔ ان کاکہناہے کہ’’ان کتابوںمیں قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ بھی تھا۔ میں نے اسے پڑھنا شروع کردیا اور اگرچہ ترجمے کا رجحان اسلام کے خلاف تھا، پھر بھی اس سے خاصی متاثر ہوئی اور میں نے ارادہ کرلیاکہ اسلام کا مکمل تعارف حاصل کیاجائے۔‘‘

اس مقصد کی خاطرموصوفہ نے واشنگٹن کے اسلامک سنٹر سے رابطہ قائم کیا وہاں سے انہیں اسلام، تاریخ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں متعدد کتابچے دستیاب ہوگئے اور ان کے مطالعے نے ان پر اسلام کا دروازہ کھول دیا۔

اسکول کی تعلیم سے فارغ ہوکر مس سنڈرا اسٹرلنگ نے ایک مقامی یونیورسٹی میں میڈیسن کی اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ لے لیا اور ساتھ ہی اسی یونیورسٹی کی کچھ عربی کلاسزمیں داخلے کی درخواست دے دی۔ وہ لکھتی ہیں:

’’عربی زبان میں میری غیرمعمولی دلچسپی کایہ عالم تھا کہ کچھ عرصے کے بعد میں نے میڈیسن کی بجائے عربی زبان میں تخصص (specialization) کا ارادہ کرلیا۔ حسن اتفاق میری کلاس فیلوایک ایسی مسلمان لڑکی تھی جس کا تعلق کویت سے تھا۔ میری اس سے گہری دوستی ہوگئی، میں نے اس سے کویتی لہجے میں عربی بولناسیکھی، کویتی انداز کے کھانوں سے شناسائی ہوئی اور مجھے یہ اتنے پسند آئے کہ ہم اکٹھے کھانا پکاتے اور فرش پر بیٹھ کر چمچے کانٹے کی بجائے ہاتھ سے کھانا کھاتے۔‘‘

اسلام کے بارے میں سنڈرااسٹرلنگ کامطالعہ جوں جوں بڑھتا گیا، وہ اس کے بارے میں مطمئن ہوتی چلی گئیں۔ ان کے الفاظ ہیں ’’اسلام نے مجھے ان سب سوالات کے جواب فراہم کردیئے جو عرصے سے میرے ذہن میںکلبلارہے تھے۔ میں ذہنی طورپر ہمیشہ سے خدا کو ایک مانتی تھی اور میں نے دیکھاکہ اگرچہ دوسرے مذاہب بھی کہنے کی حد تک توحید کے دعوے دار ہیں لیکن اس حوالے سے اسلا م کا تصور توحید باقی سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ مثال کے طورپر یہودیت بھی توحید کی پرچارک ہے، لیکن پیروکار اعلانیہ کہتے ہیں کہ خدائے واحد نے اپنے تمام فضل وکرم صرف ایک قوم یعنی یہودیوں کے لئے وقف کردیئے ہیں اور اس پر میں اکثر حیران ہواکرتی تھی کہ سب انسانوں کے خالق نے یہ امتیازی رویہ کیوں اختیارکیاہے؟

اسی طرح عیسائیت بلاشبہ ایک بین الاقوامی مذہب ہے، لیکن یہاں بھی توحید خداوندی کاجوحال ہے اس سے ذہن میں کتنے ہی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ میں یہ سوچ کر پریشان ہوگئی کہ حضرت عیسیٰؑ خدا کے بیٹے کس طرح ہوسکتے ہیں؟ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں ظاہر ہے وہ شرک کاارتکاب کرتے ہیں۔ پھریہ ظاہر ہے توحید کہاں رہی؟ اس دعوے میں صداقت کاعنصر کہاںموجود رہ سکتا ہے؟…… اس تناظر میں صرف اسلام ہی وہ مقدس دین ہے جو توحید خالص کاعلم بردار نظر آتاہے… اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر تمام بنی نوع انسان کو اپیل کرتا ہے۔‘‘

عربی کی اعلیٰ تعلیم نے مس سنڈرا اسٹرلنگ کو عرب تہذیب و ثقافت کو سمجھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ حسن اتفاق تعلیم کے دوسرے سال میں امریکی حکومت نے ایک تعلیمی سفر پر انہیں تیونس بھیجا جہاں انہوںنے بہت قریب سے عربوں کے کلچر کا مشاہدہ کیا۔ انہوںنے دیکھاکہ ’’عرب بہت خوش اخلاق، مہمان نواز اور وضع دار ہیں۔ زبان وہ آلہ ہے جس کے ذریعہ پوری قوم کے مزاج اور نفسیات کو سمجھاجاسکتا ہے اور عربی زبان تو دنیا کی وہ عدیم النظیرشاہکار زبان ہے جو چودہ سو سال سے اپنے سارے سرمائے سمیت زندہ وپائندہ ہے۔‘‘

اسلام کے بارے میں مکمل شرح صدر حاصل کرنے کے بعدمس سنڈرا اسٹرلنگ اپنی دوست کے ساتھ کویت آئیں اور وہاں انہوںنے باقاعدہ اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوںنے اسلامی نام عالیہ اسٹرلنگ اختیارکیا۔ عربی ادب کی ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد آج کل وہ واشنگٹن کی اسی یونیورسٹی میں عربی تدریس کافریضہ انجام دے رہی ہیں جہاںسے انہوںنے تعلیم حاصل کی تھی۔

محترمہ عالیہ اسٹرلنگ سے سوال کیاگیاکہ اسلام قبول کرنے کافیصلہ انہوںنے عجلت میں یکایک کرلیا یا اس میں کچھ وقت لگا؟ اس کا جواب انہوںنے دیا:

’’اگرچہ میرا دل اسلام کے بارے میںبالکل مطمئن ہوگیاتھا، لیکن میں نے حتمی فیصلہ کرنے میںجلدی نہیںکی۔ خاصے غورو فکر اور سوچ بچار کے بعدبالآخر میں نے مسلمان ہونے کاارادہ کرلیا اور بحمداللہ میںاس پر مطمئن و مسرور ہوں۔‘‘

اس سوال پر کہ اسلام قبول کرنے کے نتیجے میںانہیں کسی قسم کے مسائل کا سامنا تو نہیںکرنا پڑا؟ موصوفہ محترمہ نے پراعتماد لہجے میں فرمایا:

’’آغازمیںواقعی مجھے بعض مسائل کاسامنا کرناپڑا اور اس کا بنیادی سبب وہ نوع بہ نوع غلط فہمیاں ہیں جواسلام کے بارے میں امریکیوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکی ہیں بلکہ امریکہ ہی نہیں اسلام کے بارے میںپورے یورپ کا رویہ اسی نوعیت کا ہے۔ مثال کے طورپر یورپ کے لوگ جانتے ہی نہیں کہ اسلام اللہ کی وحدانیت کاعلم بردار ہے۔ نہ انہیں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی سیرت کاصحیح تعارف حاصل ہے اور یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پورے امریکہ میں ابتدائی اور ثانوی جماعتوںمیں سب طلبہ کوپڑھایاجاتاہے کہ اسلام ایک فرسودہ مذہب ہے جو تلوار کے زور پر پھیلایاگیااور اس کا بانی ایک امیرکبیر تاجر تھا۔ اسلام کے بارے میں اسی قسم کی خرافات یورپ میں بھی پڑھائی جاتی ہیں… اس تناظر میں میرے لئے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو اسلام کے بارے میں مطمئن کرنا بہت مشکل تھا۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ میں اسلام جیسے مذہب کو قبول کرسکتی ہوں۔ ان کاخیال تھا کہ میں نے غیرسنجیدگی میںاسلام کو قبول کرلیاہے اور جلدہی واپس لوٹ آئوںگی۔

لیکن دو سال گزرگئے اور میں اپنے موقف پر ڈٹی رہی، بلکہ جوںجوں میں نے اسلام کے بارے میںمطالعہ کیا، میرے ایمان میں پختگی آتی چلی گئی… اور اب میرے اعزّ ا اور جاننے والوں نے اسلام کے بارے میں سنجیدہ قسم کے سوال شروع کردئے ہیں۔۔۔ اس سے میرے یقین مزید استحکام پیداہوا ہے۔‘‘

’’اسلام کے خلاف مغرب کے اس تعصب اور تنگ نظریہ سے نپٹنے کا آپ کے خیال میں صحیح طریقہ کیا ہے؟‘‘ اس سوال کا جواب موصوفہ نے یوں دیا:

’’اسلام کے بار ے میں امریکیوں کی منفی سوچ کو بدلنے کاپہلا طریقہ تو یہ ہے کہ امریکہ میں عرب اور غیرعرب جتنے مسلمان بھی مقیم ہیں وہ اسلام کے سلسلے میںسنجیدگی اوراخلاص کارویہ اختیارکریں۔ امریکہ اور یورپ میں آج لاکھوں مسلمان مقیم ہیں، انہیں عملی طورپر اسلام کا چلتاپھرتا اسلامی نمونہ بن جانا چاہئے۔ ان کی یہ تعمیری روش ہی یورپ اور امریکہ میںاسلام کے بارے میں ساری غلط فہمیوں کو بھی دور کرے گی اور اسلامی تبلیغ کا بھی موثر ذریعہ بن جائے گی۔

امریکہ میں لاکھوں عرب اور غیرعرب مسلمان بستے ہیں، لیکن ان کے غیرموثر ہونے کی ایک مثال دیتی ہوں۔ امریکہ میں ذرائع ابلاغ عوامی رائے بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیںاوراس حوالے سے یہودیوں کی تنظیمیں بے حد فعال ہیں۔

فرض کیجئے کوئی اخبار ایسا مضمون شائع کردے یا ریڈیو اور ٹی وی پر ایسا پروگرام دکھادیاجائے جو یہودی مفادات کے خلاف ہو، تو اس کے ردعمل میں تو ٹیلی فون کالوں کا تانتا بندھ جاتا ہے اور ذمہ دار حضرات کو پورے امریکہ سے خطوط اور ٹیلی گراموں کا ایک لامتناہی سلسلہ موصول ہوجاتا ہے… یہ اس جوابی الزام تراشی کے علاوہ ہے جومتعلقہ اخبار اور اسٹیشن کو جھنجھوڑکر رکھ دیتا ہے اور اس کا وجود تک خطرے میں پڑجاتاہے… لیکن افسوس کہ اسلام کے بارے میںاخبارات جو چاہیں چھاپتے رہیں اور ٹی وی ریڈیوسے جس طرح کی چاہیں غلط فہمیاں پھیلاتے رہیں، مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کی کوئی لہر نہیں اٹھتی… اکادکاانفرادی مثالیںمستثنیات میںسے ہیں… نتیجہ یہ ہے کہ اسلام اورعالم اسلام کے بارے میںبے بنیاد غلط فہمیاں پھیلتی جارہی ہیں اور ان کا سدباب کرنے والا کوئی نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عبدالغنی فاروق

Leave a Reply