اسلام کے معنی

عربی میں ’’اسلام‘‘ کے معنی ہیں ’’تسلیم کرلینا، اپنا آپ سپردکردینا، سرافگندگی، کسی چیز کو مان کر قبول کرنا۔‘‘ دینی اصطلاح میں کہیے تو اسلام اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے یا منشائے خداوندی کے سامنے جھک جانے کا ہم معنی ہے۔ لگ بھگ ستر آیات میں قرآن نے یہ لفظ یا اس سے بننے والے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مختصراً کہاجاسکتا ہے کہ اسلام کے معنی ہیں اللہ کے سامنے خود سپردگی اور اس کی اطاعت۔

ذیل کی آیات میںاسلام کے معنی و مفہوم کو صاف طورپر بیان کیاگیاہے اور یہ بات واضح کی گئی ہے کہ سچا دین صرف اللہ ہی کا دیا ہوا دین ہے۔ اس کے علاوہ بعض آیات میں قرآن کا یہ نقطۂ نظر بھی بیان ہوا ہے کہ عالم طبیعی کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتی ہے۔ تمام مخلوقات اپنی زبانِ ہستی سے، محض اپنے ہونے سے ہی، اپنے خالق کی عظمت کامظاہرہ کررہی ہیںاور اس طرح وہ عمل سرانجام دے رہی ہیں جس سے ان پر اللہ کی حاکمیت کا اثبات ہورہاہے:

’’اب کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کچھ اور دین ڈھونڈتے ہیں؟ حالانکہ زمین و آسمان میں جو کوئی ہے، اسی کے حکم میں ہے، خوشی سے یازور سے، خواستہ یا ناخواستہ، اور اسی کی طرف لوٹ جائیںگے۔‘‘ (۸۳:۳)

’’تونے دیکھا نہیں کہ جو کوئی بھی ہیں آسمان و زمین میں اور پرکھولے ہوئے اڑتے جانور سب اللہ کی یاد کرتے ہیں۔‘‘ (۴۱:۲۴)

’’تونے دیکھانہیں کہ جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ، درخت ، جانور اور بہت سے آدمی بھی ، اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ (۱۸:۲۲)

غور فرمائیے کہ یہاں ذکر ہے ’’کثیرمن الناس‘‘ یعنی انسانوںمیں سے بہتیرے لوگوں کے سجدہ کرنے کا۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے لوگ اس کے سامنے نہیں جھکتے۔ ایک نقطۂ نظر سے دیکھئے توبنی نوع انسان بھی ’’ارض و سما‘‘ میں شامل ہیں، مخلوق خداوندی ہیں اور اس کے مطیع و فرمانبردار ہیں، جب کہ دوسرے اعتبار سے وہ بااختیار ہیں کہ اللہ کی اطاعت سے روگردانی کرلیں۔ یہ ایک بڑامعما ہے۔ اسی سے انسان کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ آدمی درخت اور پہاڑ کی مانند نہیںہوتا کہ امرخداوندی کو قبول کرلے اور اس کے بارے میںکچھ نہ سوچے۔ انسانوں کو ہر دم اپنی آزادیِ انتخاب اور اختیار کاسامنا کرنا ہوتاہے۔ انھیں اگر کوئی کسی بات کاحکم دیتا ہے تو وہ ماننے یا انکارکرنے کے مابین چنائو کرسکتے ہیں، خواہ حکم دینے والا رب کائنات ہو، والدین ہوں، حکومت وقت ہو یا کوئی اور۔ اگرانسان کے سامنے بساطِ احکامات میںسے انتخاب کی آزادی نہ ہوتی تو پھر سب سہل تھا کہ اس صورت میں کسی دوسری راہِ عمل کا تصور کرنے کی گنجائش ہی نہ رہتی۔

مذکورہ آیت میں قرآن نے ’’انسانوںمیں سے بہت سے لوگوں‘‘ کے اللہ کے سامنے جھک جانے کا ذکر کیاہے۔ انھیں قرآن نے اکثر ’’مسلم‘‘ کے لفظ سے یاد کیا ہے، یعنی وہ لوگ جو منشائے خداوندی کے سامنے جھک گئے۔ عام طورپر ’’مسلم ‘‘کے معنی اس شخص کے ہوتے ہیں جو قرآن کے لائے ہوئے دین کاپیروکار ہو، لیکن قرآن کے حوالے سے دیکھئے تو اس سے ان لوگوں کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے جو اللہ کے نبیوں،رسولوں میںسے کسی ایک کی پیروی کرتے ہیں۔ درج ذیل آیات دیکھئے:

’’جب اس کے رب نے اس سے کہا، فرمابردار ہوجائو۔وہ بولا ، میں پروردگار جہان کے حکم میں آیا۔‘‘ (۱۳۱:۲)

’’کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب کی موت سامنے آکھڑی ہوئی اور انھوںنے اپنے بیٹوںسے پوچھاکہ تم میرے بعد کس کی پرستش کروگے؟ وہ بولے کہ ہم بندگی کریںگے آپ کے رب کی اور آپ کے باپ دادوں، ابراہیم واسمٰعیل واسحق کے رب کی، وہی ایک رب ہے۔ ہم اس کے حکم پر ہیں۔‘‘(۱۳۳:۲)

’’اور جب میں نے حواریوںکے دل میںڈالاکہ مجھ پر اور میرے رسول پریقین کرو۔ بولے کہ ہم ایمان لائے اور توگواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘(۱۱۱:۵)

تمام انبیاء منشائے ایزدی کو تسلیم کرنے والے اور اللہ کے اطاعت گزار تھے اور اس لحاظ سے ’’مسلم‘‘ تھے۔ اسی طرح وہ تمام لوگ جو نبیوںاور رسولوںکے لائے ہوئے ادیان کو مانتے ہیںانھیں مسلمان ہی کہاجائے گا۔ اس کے یہ معنی البتہ نہیںہوسکتے کہ وہ سبھی قرآن کے بناکردہ اس دین کے پیروکار ہیں جو ساتویں صدی عیسوی میں سرزمین عرب میں ظہور پذیر ہوا۔ سو اگر اس لفظ کو اس کے خاص معنی میںلیں تو اس سے تاریخ کے اس مظہر کی طرف اشارہ مقصود ہوگا جو ہماری کتاب کاموضوع ہے، یعنی وہ دین جس کا عنوان ’’اسلام‘‘ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن میں آٹھ مقامات پر لفظ ’’اسلام‘‘ آیاہے۔ ان تمام آیات میں کہیں بھی اسلام کے لفظ سے کسی خاص دین کی طرف اشارہ نہیں کیاگیا۔ ہر جگہ اس قرآنی اصطلاح کا وسیع پس منظر ملحوظ رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اکثر مسلمان ان آیات سے تاریخی اسلام ہی مراد لیتے ہیں اور ان کی نظر اس لفظ کے وسیع تر معانی کی طرف منتقل نہیں ہوپاتی لیکن جونہی ان آیات کا قاری اس وسیع سیاق وسباق سے آگاہ ہوتاہے جو قرآن کامقصود ہے تو اس پر یہ بات کھلنے لگتی ہے کہ ان آیات کے ایک سے زیادہ معانی ہیں۔

’’دین جو ہے اللہ کے ہاں سو یہی مسلمانی، حکم برداری ہے‘‘ (۱۹:۳)

’’اور جو کوئی چاہے حکم برداری کے سوا اور کوئی دین اس کی طرف سے ہرگز قبول نہ کیاجائے گا۔‘‘(۸۵:۳)

ان دو آیات میںمذکور الفاظ ’’دین‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کو وسیع اور محدود ہر دو معنی میں لیاجاسکتا ہے۔

جن آیات میں ’’اسلام‘‘ کاذکر آیاہے، ان میں سے چند مقامات پر اسے صراحتاً دینِ محمدی ﷺ ہی کے مفہوم میں استعمال کیاگیاہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آیات میں آپ ﷺ کاذکر موجود ہے:

’’تم پراحسان رکھتے ہیں کہ یہ مسلمان ہوگئے۔ کہیے، مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت دھرو، بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی راہ دکھائی۔‘‘(۱۷:۴۹)

’’آج میںپورا دے چکا تم کو دین تمہارا، اور پوراکیا تم پر میں نے احسان اپنا، اور پسندکیا میں نے تمہارے لئے دین ، مسلمانی۔‘‘ (۳:۵)

اسی طرح اور بھی کئی آیات ہیں جن میں ’’اسلام‘‘ یا’’مسلم‘‘ کے الفاظ سے اشارہ اسلامِ تاریخی ہی کی طرف مقصود ہے۔ ایک آیت میں تو اس لفظ سے مراد ایک اورمفہوم ہے جو دیگر مفاہیم سے بھی محدود تر اور ایک خاص پس منظر کی طرف اشارہ کناں ہے۔ صحرا نشیںبدو قبائل کے افراد میں سے ایک گروہ نے یہ جان لیاتھا کہ نیا دین ان کے علاقے کی روزافزوں قوت بنتاجارہا ہے اور اس سے سازگاری پیداکرکے وہ بہت سے فوائد سمیٹ سکتے ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عربوں کے قدیمی انداز میں عہدِ اطاعت کااعلان کردیا۔ اب اسلام اپنے ماننے والوں سے کچھ ایسے تقاضے کرتاتھا جو ان بادیہ نشینوں کے لئے سراسرا نامانوس تھے۔ ان پانچ ارکان کاذکر حدیثِ جبریل میں آچکاہے۔ آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے کاایک حصہ یہ بھی تھا کہ عہدِ اطاعت کرنے والا ان عبادات کی پابندی کا وعدہ بھی کررہاہے۔ بیعت ہوچکی تو یہ مردانِ صحرا آپ ﷺ سے کہنے لگے کہ وہ اسلام پر ایمان لے آئے ہیں ۔ بات یہاں تک پہنچتے ہی گفتگو میں ایک سمت سے روک آجاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آرہی ہے:

’’یہ اعرابی کہتے ہیںکہ ہم ایمان لائے۔ کہئے تم ایمان نہیں لائے۔ ہاں یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے۔ رہا ایمان تو اس کاابھی تمہارے دلوںمیںگزر بھی نہیں ہوا۔ اور اگرتم اللہ اوراس کے رسول کے حکم پر چلوگے تو وہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کم نہیں کرے گا۔‘‘ (۱۴:۴۹)

اس آیت سے بالکل واضح ہے کہ اسلام اور ایمان ایک ہی چیز نہیں ہے۔ تسلیم واطاعت تو خدا اور اس کے نبی کی فرمانبرداری کا نام ہے،لیکن ایمان اس سے گہری بات ہے، کیونکہ اس کاتعلق علم اور اخلاص عمل سے ہے۔ خدا اور اس کے رسول کاحکم ماننا دائرہ ٔ عمل سے متعلق ہے، آنحضرت ﷺ لوگوں کے لئے اللہ کی متعین کردہ ہدایات و احکامات لے کر آئے تھے۔ اگر وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ کا حکم بجالاتے ہیں۔

’’جس نے حکم مانا رسول کا، اس نے حکم مانا اللہ کا اور اللہ انہیں اس اطاعت کا اجر دے گا۔‘‘ (۸۰:۴)

لفظ ’’اسلام‘‘ کا یہ مفہوم جو عمل اور اخلاص سے متعلق ہے احادیث میںبہت وضاحت سے موجود ہے۔ حدیثِ جبرئیل جب ’’اسلام‘‘ کی تعریف متعین کرتی ہے تو اس میں اعمال کی ایک فہرست سامنے آتی ہے، اگرانسان کو اللہ کا حکم بجالانا ہے تو اُس کے لئے ان اعمال کو انجام دینا لازمی ہے۔حضرت جبرئیل کے مطابق :

’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر وہاں جانے کی استطاعت ہوتو حج بیت اللہ کرو۔‘‘

خلاصہ یہ کہ ’’اسلام‘‘ کے لفظ کے وسیع اور محدود ہر دو صورتوں میں چار بنیادی مفاہیم ہیں:

۱) تمام مخلوقات کااپنے خالق کے سامنے سرجھکادینا و اطاعت۔

۲)انسان کاانبیا کے وسیلے سے نازل کردہ ہدایت خدواندی قبول کرنا۔

۳) رسولِ خدا کے ذریعے ہمیں جو ہدایت ِ خداوندی نصیب ہوئی اسے تسلیم کرنا۔

۴) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا اللہ کے نازل کردہ عملی احکام بجالانا۔

——

شیئر کیجیے
Default image
محمد سہیل عمر

Leave a Reply