ماؤواد کا چیلنج

اپریل کے پہلے ہفتہ میں چھتیس گڑھ کے ضلع دنتے واڑہ میں آر پی ایف کے جوانوں کی ہلاکت نے پورے ملک کو دھلادیا۔ یہ اب تک کی مائووادیوں کی سب سے بڑی کارروائی تھی، جو انہوںنے سیکورٹی فورسز کے خلاف انجام دی۔

مائووادیوں کی خونی کارروائی بلکہ دہشت گردی کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، اس سے ایک بات تو یہ بہت واضح طورپر سامنے آئی ہے کہ مائووادیوں نے اس حملہ کو بہت منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا اور انہوںنے سیکورٹی دستے کو اس طرح گھیراتھا کہ اس سے بچ نکلنا ان کے لئے ناممکن تھا۔ ہر طرف سے گھیرنے کے ساتھ ہتھیار بند مائووادی درختوں کے اوپر بھی موجود تھے جن میں خاصی تعداد خواتین کی بھی شامل تھی۔ دوسری بات جو کافی سنگین ہے وہ یہ سامنے آئی ہے کہ ہمارے سیکورٹی فورسز کا خفیہ معلومات کانظام کافی کمزور ہے۔اگر سیکورٹی فورسز کے پاس ضروری اور مضبوط خفیہ معلومات ہوتیں تو شاید اس قسم کے حادثات سے بچاجاسکتاتھا۔

کہاجاتاہے اور کسی حد تک درست بھی ہے کہ مائووادی غریبوں کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ حالاں کہ غریبوں کے لئے لڑی جانے والی اس نام نہاد لڑائی کا طریقہ کسی بھی طورپر قابل قبول نہیںہے مگر یہ بات ضرور تسلیم کی جانی چاہئے کہ غربت اور مجبوری اپنے آپ میں ہزار خرابیوں کی جڑ ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ہزار روپیوں کے عوض مائووادیوں کو ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو ہتھیاراٹھاکراپنی زندگیوں کو دائو پر لگادیتے ہیں۔ اس میں جہاں ان کو گمراہ کرنے والی طاقتوں کااثر ہے وہیں اس غربت وافلاس کا بھی رول ہے جس کو حکومتیں نظرانداز کرتی رہی ہیں اور ان کے حقیقی مسائل کو حل کرنے سے پہلو تہی کرتی رہی ہیں۔

ترقی اور ڈیولپمنٹ ہرشہری کی خواہش ہے اور ہونی چاہئے مگر غیرمتوازن اور غیرمساوی ترقی کا عمل مسائل پیداکرتا ہے۔ غریبوں کے وسائل چھین کر سرمایہ داروں کے حوالہ کرنا اور انہیں اس کا مناسب متبادل نہ دینا ایک شدید ناانصافی ہے اور یہی چیز تشدد پر یقین رکھنے والوں کے لئے کامیابی کاذریعہ بنتی ہے… اور اس پورے عمل میں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثرہوتاہے وہ عوام ہیں۔ اگر وہ مائووادیوں کے خلاف بولیںیا سیکورٹی فورسز کا تعاون کریں تو انہیں ’’اوپر سے چھ انچ چھوٹا‘‘ کردیاجاتا ہے اور اگر وہ سیکورٹی فورسز کے خلاف آواز اٹھائیں توانہیں مائووادی ’’گھوشت‘‘ کردیاجاتا ہے۔ سماج کا درمیانی یا مالدار طبقہ ان طاقتوں کو ان کا ’’ٹیکس‘‘ دینے پر مجبور ہے۔ یہ عجیب کیفیت ہے، جس سے مائوواد سے متاثرہ علاقوں کے عوام دوچار ہیں۔

مائوواد حکومت اور حکومتی نظام کے خلاف کھلی بغاوت اور جنگ ہے اور اس جنگ سے نمٹنا اس سے زیادہ ضروری ہے جتنا دہشت گردی سے نبردآزما ہونا۔ دہشت گردی اور مائو واد کے خلاف جنگ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ یہ د ونوں مسئلے قومی مسئلے ہیں اور ان پراتفاق رائے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر شدید قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ یہ قوت ارادی ہی ہمیں کچھ تلخ حقائق کو تسلیم کرنے کے لائق بناسکتی ہے۔ اس جنگ کو سرحد پارکی جنگ کی طرح نہیں لڑاجاسکتا اور نہ لڑاجانا چاہئے۔ جیساکہ بعض لوگ سوچتے ہیں اور ہوائی حملوں جیسی احمقانہ تجاویز پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کی جذباتی کوششیں معاملہ کو مزیدپیچیدہ تو کرسکتی ہیں مگر حل نہیں کرسکتیں۔

ہمارے نزدیک اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ حکومت حالات کاجائزہ لے، مسائل اور اسباب کی جڑوں میں اترکر منصوبہ بندی کرے خواہ اس دوران کتنی ہی تلخ اور بہ ظاہر ’’عجیب و غریب‘‘ چیزیں سامنے آئیں، انہیںتسلیم کرے اور انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ با ت چیت کا دروازہ کھولاجائے اور اس میں کسی بھی گروہ کی انا دخل انداز نہ ہو اور پھر حکومت ترقی اور ڈیولپمنٹ کے عمل کو تیزکرے۔ جوناانصافیاں اب تک ہوئی ہیں،انہیں تسلیم کرتے ہوئے رفع کرنے اور ان کی بھرپائی کرنے کی کوشش کرے۔ بات چیت، ترقی کے عمل کی تیزرفتاری اور ناانصافیوں کی بھرپائی اگر کی گئی تو عوام میں ان طاقتوںکا نفوذ ختم ہوجائے گا اور وہ الگ تھلگ پڑجائیںگے۔ اگر پھر بھی یہ عناصر باز نہیں آتے تو اس صورت میں گولی سے ان کا علاج کیاجانا چاہئے۔

موجودہ صورت حال جو کچھ ہے اس میں مسلح باغیوں کے گروہوں کوختم کرنا ہی اہم نہیںہے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ زندگی کے ٹوٹے تانوں بانوں کو پھر سے جوڑا جائے، اقتصادی نظام کو مضبوط کرکے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں اور استحصال کی ہر شکل کو ختم کیاجائے۔ یہ ساری کوششیں یکساں طورپر اور متوازی جاری رہیںگی تبھی بغاوت کاخاتمہ ہوسکے گا۔ اگر محض ہتھیار کے بل پربغاوت کو کچلنے کی کوشش کی گئی تو وقتی طورپر تو یہ دب سکتی ہے لیکن دوبارہ کسی بھی وقت ابھرنے کے امکانات رہتے ہیں۔ اس میں صرف حکومت مسلح فورسز کا ہی رول نہیںہونا چاہئے بلکہ تعلیم، صحت عامہ،,زراعت اور عوامی ذرائع ابلاغ کے شعبوں کو بھی اپنا اپنا رول ادا کرناہوگا۔

مائووادی طاقتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کے لئے لڑرہے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس پوری مہم میںحکومت عوام کا تعاون حاصل کرے اور انہیں اعتماد میں لے۔ اس طرح عوام کومسلح باغیوں سے کاٹ کر ترقی کی راہ پر گامزن کیاجاسکتا ہے۔ اور اگر ایسا ممکن ہوگیا تو ان طاقتوں کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا جواز ہی ختم ہوجائے گا۔ ——

مردم شماری ۲۰۱۱ء

۲۰۱۱ء کی مردم شماری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ مردم شماری ہمارے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک کے لئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی کے ذریعہ ملک اور اس کے عوام کی حقیقی صورت حال معلوم ہوتی ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی آبادی والی مملکت ہندوستان کے لئے یہ اس اعتبار سے کافی اہم ہے کہ یہاں جہاں آبادی کی کثرت ہے وہیں غربت، بے روزگاری، جہالت و ناخواندگی اور صحت عامہ سے متعلق سنگین صورت حال ہے اور کئی معاملوں میں ہمار ا ملک پسماندہ ممالک سے بھی گیا گزرا ہے۔ ایسے میں مردم شماری حکومت کی منصوبہ بندی میں بھی معاون ہوتی ہے اور ملک کے عوام اور سماج کی حقیقی تصویربھی پیش کرتی ہے۔ اسی طرح مردم شماری کے ذریعہ کئی ایسے ’سماجی امراض‘ اور مسائل کابھی پتہ چل جاتا ہے جو ملک کو پیش آنے والے ہیں۔ مثلاً گزشتہ مردم شماری میں مرد وخواتین کی تعداد کے توازن میں شدید بگاڑ کاپتہ چلا۔ پھرہم نے دیکھاکہ گزشتہ دس سالوں میں حکومتی اداروں کی یہ کوشش رہی کہ وہ مرد و خواتین کے اس بگڑتے تناسب پر کنٹرول کرے چنانچہ اس کے اسباب پر قابو پانے کے لئے بھی کوششیں کی گئیں۔ ہمارے یہاں خواتین کاتناسب کم ہونے میں لڑکیوں کارحم مادر میں قتل بڑا خاص سبب تھا اور ہے۔ چنانچہ حکومت نے گزشتہ دس سالوں میں لڑکیوں کی تعلیم، ان کی پرورش کے مسائل اور شادی وغیرہ کے اخراجات کے لئے مختلف اسکیمیں جاری کیں۔ ان میں تعلیم کے فروغ اور اس کے لئے حوصلہ افزائی کے لئے خاصی رقم مختص کی گئی۔ ان اداروں اور ڈائگناسٹک سنٹرس پر لگام لگائی گئی جو جنس کا پتہ لگاکر قتل میںمعاون ہوتے تھے۔ وغیرہ۔

اس بار کی مردم شماری اس حیثیت سے بھی اہم ہے کہ حکومت اب ہر شہری کو ایک منفرد شناخت دینے کے منصوبہ پر کام کررہی ہے اور اس کے لئے باضابطہ نندن نیلیکانی کی قیادت میں ایک شعبہ ’یونک آئی ڈنٹیٹی‘ کے لئے قائم کیاگیا ہے۔ یہ ادارہ ہر شہری کو ایک منفردنمبر دے گا جس میں اس کی جملہ تفصیلات ہوںگی۔ یہ ایک طرح سے شہریت کا شناختی کارڈ بھی ہوگا۔ یہ شناخت نامہ اس بار کی مردم شماری کی بنیا دپر ہی ملے گا۔ یہ مردم شماری اس مرتبہ ایک خاص رجسٹر تیارکرے گی جسے این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر) کانام دیاگیا ہے۔ اس این پی آر میں اگر کسی کا اندراج ہونے سے رہ گیایا غلط معلومات درج ہوگئیںتو بڑی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس لئے یہ ہر شہری کی ضرورت بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی کہ وہ مردم شماری کے دوران اپنی اور اپنے اہل خانہ کی درست اور مکمل معلومات فراہم کرے۔

ہمارے یہاں مردم شماری کے عمل میں کئی مسائل ہیں۔ ان میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اس کام میں جن افراد کو استعمال کرتی ہے وہ اپنی ذمہ داری کو اخلاص اور جذبۂ خدمت و ذمہ داری سے انجام نہیںدیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معلومات جمع کرنے میں جو محنت اور باریکی ہونی چاہئے وہ نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے علاقے کاکام مکمل کرکے آرام کریں۔ کئی بار ایسا ہوتاہے کہ وہ لوگ گھروںپر آتے ہیں اور رسمی سی معلومات جمع کرکے چلے جاتے ہیں اور بقیہ چیزیںوہ خود ہی اپنے گھروں پر جاکر الٹے سیدھے بھرلیتے ہیں، جس کا نقصان شہریوں کو ہوتاہے کہ ان کی صحیح معلومات درج نہیں ہوپاتیں۔ ان میں بعض لوگ تو کوتاہی اور کاہلی کے سبب ایساکرتے ہیں اور بعض تعصب کے سبب بھی۔

مردم شماری میں افراد خانہ کی تعداد،تعلیمی لیاقت، روزگار اورآمدنی، مذہب، مادری زبان اور دوسری و تیسری زبان کے علاوہ بھی بہت سے خانے ہوتے ہیں جن کو پُرکیاجانا چاہئے۔ شمالی ہند میں اکثر مسلمانوں کی مادری زبان اُردو ہے مگر مردم شماری میں عدم واقفیت کے سبب لوگ یہ بات درج نہیں کراپاتے یا درج نہیں کی جاتیں۔ اسی طرح مذہب اور تعلیم کے خانے میںبھی درست معلومات اکثر نہیں درج ہوپاتیں۔

اس مہم میں جہاں مردم شماری کے اسٹاف کی کوتاہی اور کاہلی کا دخل ہوتا ہے وہیں مسلمانوں کی جہالت و ناخواندگی اور عدم واقفیت کا بھی خاصا رول ہوتا ہے۔ ان حالات میںہر باشعورمسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ان حقائق سے واقف کرائے جن سے واقف کرانا ضروری ہے تاکہ ہرفرد کاصحیح اندراج ہوسکے۔

اس موقع پر سماجی خدمت کرنے والے افراد کا خاص رول ہوسکتا ہے۔ ایک طرف تو وہ عوام کے درمیان اس سلسلہ میں بیداری کی مہم چلاسکتے ہیں دوسری طرف متعلقہ اسٹاف کے ساتھ جاکر اپنے علاقے کے گھروں کے افراد کی صحیح معلومات اپنی نگرانی میں درج کرانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ کوئی بیداری کی مہم چلے یا نہ چلے، کوئی ذمہ دار اور سماجی خدمت گار آئے یا نہ آئے، سماج کا ہر فرد خود اتنا باشعور ہوکہ وہ اپنے اہل خانہ کی درست معلومات خود اپنی نگرانی میں اپنے سامنے رجسٹر میں درج کرائے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply