2

ایک انوکھی مچھلی

سمندر کی عجیب و غریب مچھلیوں میں سے ایک اوڈوبینوسیٹوز (Odobenocetos) بھی ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانی کی لہروں سے اپنے دشمن کا پتہ لگا لیتی ہے۔ اگر کبھی کوئی دشمن اس کے سامنے آجائے تو بڑی سبک رفتاری سے نکل بھاگتی ہے۔ اس کے جسم میں لچک ہوتی ہے کہ بھاگتے ہوئے صرف ۹۰ ڈگری پر مڑ کر اپنارخ بدل لیتی ہے۔ اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے کوئی بھی اس کو پکڑ نہیں سکتا۔ لیکن سمندر کی دنیا میں ایک ایسا جانور بھی ہے جو اس کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا ہے، جو میگالڈون وہیل مچھلی کی ایک قسم ہے۔ یہ ہر وقت اس کی تلاش میں رہتی ہے اور جہاں بھی اوڈوبینوسٹیوز نظر آجائے، اسے اپنا شکار بنالیتی ہے۔ اس کے اسی دشمن میگالڈون نے اس کی پوری کی پوری نسل کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

اوڈوبینوسٹیوز کی گردن کے پچھلے حصے میں دو بڑے پنکھ ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک بڑی اور دوسری قدرے چھوٹی ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مادہ کے دونوں پنکھ اور نر کے پنکھ مساوی نہیں ہوتے، نر کی ایک پنکھ دوسرے سے بڑی ہوتی ہے، جبکہ مادہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ پنکھ غذا کی تلاش میں ان کی معاون ہوتی ہیں۔ پنکھوں سے غذا تلاش کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جب انہیں بھوگ لگتی ہے تو سمندری پہاڑوں میں جاکر ان کے پتھروں پر جمی کائی کو پہلے وہ اپنی زبان سے چکھتی ہیں۔ اگر وہ کھانے کے قابل ہو تو اپنی پنکھوں سے چھڑاتی ہیں اور پھر اپنا پیٹ بھرتی ہے۔ کائی نہ ملے تو سمندری جھاگ کو چاٹ کر کام چلا لیتی ہے۔

نر کا وزن مادہ سے قدرے زائد ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کا وزن ۱۵۰ کلو گرام سے لے کر ۶۵۰ کلو گرام تک ہوتا ہے۔ اس کے دانت نوکیلے اور انتہائی تیز ہوتے ہیں۔ دانتوں کی لمبائی عام طور پر ۲۵؍سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ لڑائی کے اوقات میں اوڈوبینوسٹیوز اپنی دم کا استعمال کثرت سے کرتی ہے۔

یہ بات مشہور ہے کہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو اپنی غذا بناتی ہیں مگر اوڈوبینوسٹیوز کے بارے میں آتا ہے کہ یہ کبھی بھی مچھلیوں کا شکار نہیں کرتی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ڈولفن کی نسل میں سے ہے اور اس کے مزاج میں ہمدردی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ کبھی کسی چھوٹے جانور کو زخمی دیکھتی ہے تو اس کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے مزاج میں امن اور صلح کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں باہمی لڑائیاں بہت کم ہوتی ہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: نبیلہ کوثر

تبصرہ کیجیے