لالچ کی سزا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک فقیر کا کسی جنگل سے گزرہوا۔ راستے میں درختوں کے قریب اسے کوئی شے نظر آئی۔ اس نے قریب جاکر دیکھا تو وہاں ایک بت تھا۔ اس نے بت کو اس جگہ سے ہٹایا تو اس جگہ ایک چھوٹا سا سوراخ نظر آیا۔ اس نے سوراخ کو کھودا تو وہاں ایک بہت بڑا خزانہ تھا۔ فقیر اتنے بڑے خزانے کو اٹھا نہ سکا۔ چنانچہ وہ اسے چھوڑ کر اپنے راستے پر چل دیا۔ چند دنوں بعد اس کی ملاقات ایک سودا گر سے ہوئی، وہ کہیں سے اپنا مال فروخت کرکے آرہا تھا۔ اس کے ہمراہ آٹھ اونٹ تھے۔ فقیر نے سودا گر سے کہا: ’’میں نے جنگل میں بہت بڑا خزانہ دیکھا۔ میں تمہیں ایک شرط پر اس کا پتا بتاؤں گا۔‘‘ سودا گر نے کہا: ’’جلدی بتائیے، کیا شرط ہے؟‘‘ فقیر نے کہا: ’’تم جتنے اونٹ خزانے سے بھروگے، ان میں سے آدھے یا چوتھائی تمہیں مجھے دینا ہوں گے۔‘‘ سوداگر نے کہا: ’’میں آپ کو آدھے اونٹ دے دوں گا۔ آپ مجھے فوراً اس جگہ لے چلئے۔‘‘ سودا گر نے آٹھوں اونٹ خزانے سے بھردیے۔ اسی مقام سے ایک چھوٹی سی ڈبیا ملی، فقیر نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں قیمتی لعل تھا۔ اس نے اسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔

حسبِ وعدہ سوداگر نے خزانے کے چار اونٹ فقیر کے حوالے کردیے۔ کچھ دور جاکر اسے خیال آیاکہ فقیر تو چوتھائی حصہ پر راضی تھا۔ میں نے خواہ مخواہ اسے نصف حصہ دے دیا۔ اب بھی پوچھوں تو شاید وہ چوتھائی پر راضی ہوجائے۔ اگر آپ اس بات پر قائم رہیں تو دو اونٹ مجھے اور دے دیجیے۔ فقیر نے کہا: ’’میاں! تم چاہو تو دو اور اونٹ لے لو مجھے دو ہی کافی ہیں۔‘‘ سوداگر نے اپنے چار اونٹوں میں یہ دو بھی ملالیے مگر لالچ نے اسے چین نہ لینے دیا۔ اس نے ہمت کرکے کہا: ’’سائیںجی! آپ تو فقیر آدمی ہیں باقی دو اونٹ بھی مجھے دے دیجیے۔‘‘ فقیر نے کہا: ’’میرے بھائی! اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو یہ دو اونٹ بھی لے لو۔ مجھے دنیا کی دولت سے کیا واسطہ یہ سن کر سوداگر کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ آٹھوں اونٹ لے کر گھر کو چل پڑا۔ کافی دور جاکر اسے خیال آیا کہ فقیر کو قیمتی لعل بھی ملا تھا۔ اگر وہ بھی مل جائے توبڑا لطف آئے گا۔ اس نے آٹھوں اونٹ کو اپنے ملازمین کے ساتھ روانہ کردیا اور فقیر کی تلاش میں پڑگیا۔ اسی دوران اس کے اونٹ بہت دور نکل گئے۔ سورج غروب ہونے لگا تو سودا گر بہت گھبرایا۔ سوداگر نے جنگل سے نکلنے کی کوشش کی مگر رستہ بڑا دشوار تھا۔ اتنی دیر میں ہر طرف تاریکی چھا گئی۔ ارد گرد سے جنگلی درندوں کی آوازیں آنی لگیں۔ اتنے میں پاس کی جھاڑی سے ایک شیر نکل کر دہاڑنے لگا۔ سودا گر نے خوف کے مارے ایک طرف بھاگنا شروع کردیا۔ قدموں کی آہٹ سن کر شیر سوداگرکے سر پر آن پہنچا۔ اس نے چھلانگ لگا کر سودا گر کو دبوچ لیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے۔

سودا گر نے لالچ کیا۔ وہ سب کچھ حاصل کرلینا چاہتا تھا لیکن اس کی لالچ کی وجہ سے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کا سب مال و اسباب یہیں رہ گیا۔ اسی لیے کہتے ہیں ’’لالچ بری بلا ہے۔‘‘

——

شیئر کیجیے
Default image
عطاء نیاز، سعودی عرب

Leave a Reply