غریب ایمان دار

کسی گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ وہ بہت ایماندار تھا۔ اس کی ایمانداری دور دور تک مشہور تھی۔ ایک دفعہ ایک شہزادے کا گزر اس گاؤں سے ہوا، جب وہ گاؤں سے گزر رہاتھا تو کسی نے اسے بتایا کہ یہاں ایک غریب آدمی رہتا ہے۔ وہ ایماندار بھی بہت ہے اور کسی سے کچھ مانگتا بھی نہیں، ہم گاؤں والے اس کی مدد کرناچاہتے ہیں لیکن وہ امداد لینے سے بھی انکار کردیتا ہے۔ یہ سن کر شہزادے نے کہا: ’’اچھا ٹھیک ہے، ہم اس کی مدد بھی کریں گے اور اسے آزما کر بھی دیکھیں۔‘‘

قافلے والوں نے کہا: ’’شہزادے حضور! ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اس کی آز مائش بھی کی جائے، اور مدد بھی کی جائے، اس تھوڑے سے وقت میں آپ اس کی صرف مدد کرسکتے ہیں کہ کچھ رقم وغیرہ اس کو دے دیں اور قافلہ آگے روانہ ہوجائے۔‘‘

لیکن شہزادے نے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ اب شہزادے نے ایک غلام کو بھیج کر اس غریب اور ایماندار شخص کو بلا بھیجا۔ جب وہ آدمی شہزادے کے پاس حاضر ہوا تو شہزادے نے اس سے پوچھا: ’’سنا ہے تم غریب ہو اور ایماندار بھی، اور یہ کہ تم کسی سے کوئی مدد بھی نہیں لینا چاہتے۔‘‘

یہ سن کر غریب آدمی نے کہا: ’’حضور میں اپنی ایمانداری کا چرچا نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کسی کے احسان کے بوجھ تلے دب کر رہنا چاہتا ہوں کیونکہ احسان کا بوجھ اٹھانے سے بہتر ہے کہ انسان تکلیف اٹھالے۔‘‘

اس کی زبان سے ایسی بات سن کر شہزادے کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے کہا کہ ایسے شخص کی مدد کرنا اب میرا فرض بنتا ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ اس کی مدد کیسے کی جائے، کیونکہ وہ امداد کو بھیک سمجھتا تھا اور اس کی خودداری اس کو ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔

شہزادے کو اچانک ایک ترکیب سوجھی، اس نے اعلان کیا کہ آگے راستہ خطرناک ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم کوڈاکوؤں کا سامنا کرنا پڑجائے لیکن ہمارے پاس واپسی کے لیے کوئی رقم نہیں بچی تو ہم مشکل میں پڑجائیں گے۔ یہ کہہ کر شہزادے نے وزیرِ مالیات کو حکم دیا کہ ہمارے پاس جو مختصر سی رقم اور قیمتی جواہرات ہیں وہ اس غریب ایماندار شخص کے پاس رکھوادیے جائیں تاکہ واپسی پر اپنی رقم اور قیمتی جواہرات اس شخص سے لے لیے جائیں۔

یہ سن کر وہ ایماندار شخص بہت گھبرایا اور کہنے لگا: ’’حضور میرے پاس اس قیمتی امانت کی حفاظت کا بندوبست نہیں ہے، میں آپ کے واپس آنے تک اس کی حفاظت کس طرح کرسکوں گا۔‘‘

شہزادے نے کہا: ’’اس کی تم فکر نہ کرو، اس کا انتظام ہمارے ذمے ہے۔‘‘

یہ سن کر وہ غریب آدمی خاموش ہوگیا۔ شہزادے نے ایک قیمتی تھیلا جس میں کچھ رقم اور جواہرات تھے، اس غریب آدمی کے سپرد کردیے اور تاکید کی کہ میرے واپس آنے تک اس کی حفاظت کرنا تاکہ میں اس کو واپسی پر تم سے واپس لے لوں۔ یہ کہہ کر شہزادہ اپنا قافلہ لے کر آگے چل دیا۔ کافی عرصہ گزرگیا مگر شہزادہ واپس نہ آیا۔ جوں جوں دن گزرتے جاتے اس غریب آدمی کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جاتا۔ ایک طرف اس قیمتی سامان کی حفاظت اس کے لیے مسئلہ بنی ہوئی تھی تو دوسری طرف اس کی طبیعت بھی بڑھاپے کی وجہ سے ٹھیک نہیں رہتی تھی، اس کو خدشہ تھا کہ کہیں شہزادے کے آنے سے قبل ہی اس کا انتقال نہ ہوجائے، اور اگر میں یہ امانت شہزادے کو واپس نہ کروں گا تو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور کیا منہ دکھاؤں گا۔

اب اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ خود محل میں جاکر اس امانت کو واپس کردے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے غریب خانے سے بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے درباریوں کو سارا قصہ کہہ سنایا۔ جب یہ سارا ماجرا بادشاہ کے کانوں تک پہنچا تو اس نے اس غریب آدمی کو دربار میں طلب کیا۔ بادشاہ بھی بہت حیران ہوا کہ ایک ایسا شخص جس کو پیسوں کی سخت ضرورت ہو وہ خود کسی کی امانت کو اس ایمانداری سے واپس کرنے چلا آئے! بادشاہ نے بھرے دربار میں اس شخص سے کہا کہ ’’ہم تیری ایمانداری سے بہت متاثر ہوئے، اب ہمارا حکم ہے کہ یہ رقم اور قیمتی جواہرات اب تیری ملکیت ہیں، ہم نے تجھ کو یہ سب انعام کے طور پر بخش دیا۔‘‘

اس پر اُس شخص نے عرض کیا: ’’حضور میرا دل تو نہیں چاہتا کہ میں یہ قیمتی اشیاء اپنے پاس رکھوں، مگر بادشاہ کا حکم بھی ٹالا نہیں جاسکتا۔‘

یہ کہہ کر اس نے بادشاہ سے رخصت ہونے کی اجازت چاہی اور روانہ ہوگیا۔ حقیقت میں وہ اس امتحان میں کامیاب ہوگیا تھا جو شہزادے نے اس کے لیے متعین کیا تھا اور اب ایمانداری کا پھل اس کے سامنے تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد حماد الدین ربانی

Leave a Reply