اداریہ

پیاری بہنو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

رمضان المبارک کا مہینہ آنے والاہے۔ یہ اگست کا شمارہ یقینا آپ کو ایک بار اور آگاہ کرے گا کہ آپ رمضان کے استقبال کے لیے تیار ہوجائیں۔ جی ہاں اگست کے آخری ہفتے میں رمضان شروع ہوجائے گا۔ اس لیے یہ شمارہ استقبالِ رمضان کا شمارہ تصور کریں۔

رمضان ایک نہایت بابرکت اور نیکیوں کا مہینوں ہے۔ اللہ کے رسول اس کا انتظار کرتے اور اس مہینے کی آمد سے پہلے ہی تیاریاں شروع کردیتے تھے۔ اور شعبان ہی سے لوگوں کو اس مہینے کی برکتوں کو سمیٹنے کا شوق دلانے لگتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ مسجد کے منبر پر کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اور اس مہینہ کی برکتوں لمبا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس مہینے میں ایک نفل عبادت کا اجر فرض کے برابر ہوجاتا ہے اور ایک فرض ادا کرنے کا اجر ستر فرائض کے برابر۔ پھر آپ نے لوگوں کو خوش خبری دی کہ جس نے رمضان کے روزے مکمل ایمانی اسپرٹ اور اپنا احتساب کرتے ہوئے رکھے اس کے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔

آپ اندازہ کیجیے یہ مہینہ کتنا بابرکت ہے اور اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالی کی کتنی بڑی نعمت۔ بھلا اس سے زیادہ بدنصیب کون مسلمان ہوگا جسے اپنے پچھلے گناہ معاف کرانے کے لیے ایک مہینہ کی مدت دی جائے اور وہ ٹال مٹول اور غفلت میں پڑا رہے یہاں تک کہ وہ مدت ختم ہوجائے۔

رمضان میں ہر طرف نیکیوں کا سماں بندھ جاتا ہے۔ مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں اور مسلم محلوں میں دکانیں دلہن کی طرح سج جاتی ہیں۔ چھوٹے بڑے سبھی لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ کہیں کہیں تو بہت چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھتے ہیں۔ جی ہاں، یہ ہمارے ایمان کی نشانی بھی تو ہے۔ اور اللہ کو خوش کرنے کا ذریعہ بھی۔

معلوم نہیں آپ تراویح باجماعت پڑھنے جاتی ہیں یا نہیں۔ ہم تو اپنی وردہ کو ساتھ لے کر پورے مہینے مسجد میں باجماعت تراویح پڑھتے ہیں۔ اگر آپ کے یہاں خواتین بھی مسجد جاتی ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ اپنی امی سے کہیے کہ وہ بھی چلیں مسجد۔ اور ہاں آپ جب مسجد جائیں تو دوسرے بچوں کی طرح شور ہنگامہ نہ کیجیے گا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض بھی ہوسکتا ہے۔ اور مسجد کے احترام کے خلاف تو یہ ہے ہی۔

والسلام

شیئر کیجیے
Default image
آپ کی بہن مریم جمال

Leave a Reply