ہم جنس پرستی اور اس کا سدِ باب

ان دنوں ہندوستانی میڈیا اور سماج میں ہم جنس پرستی کا بڑا شور و غوغا ہے۔آزاد خیال حضرات زور و شور سے انسانی حقوق کے حوالے سے ہم جنس پرستی کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کچھ مذہب اور خدائی تعلیمات کے حوالے سے باتیں کررہے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی جو بھارتیہ سبھیتا اور سنسکرتی کی رکشا کرتے ہوئے اس کے خلاف پرتشدد انداز اختیار کیے ہوئے ہیں اور طاقت کے بل پر اس کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایسے لوگ جو برائی کا بہ جبر انسداد کر دینا چاہتے ہیں ، اِس بڑی حقیقت سے بے بہرہ ہوتے ہیں کہ خرابی یابرائی کو روکنے میں قانون اب تک ناکام ہی ثابت ہوا ہے۔ جب تک قانون کی پشت پر اخلاقی یا سماجی قوت نہ ہو ، قانون برائیوں پر قابو نہیں پا سکتا۔ قانون کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ وہ انسان پر باہر سے تھوپا یا نافذ کیا جاتا ہے۔ مگر اخلاق انسان کو اندر سے بدلتا ہے ۔اگر اخلاق اچھا ہوگا تو انسان اچھا ہوگا اور اگر اخلاق برا ہوگا تو انسان برا ہوگا۔ جس قانون کی پشت پراُس قانون سے ہم آہنگ اخلاقی قوت نہ ہو وہ قانون ناکام ہوکر رہتا ہے اور آخرکار بدل دیا جاتا ہے۔اچھا اخلاق اچھے قوانین رائج کرتا ہے اور برا اخلاق برے قوانین بناتا ہے۔

قانون عوام کے لیے ہوتا ہے ۔ اورقانون کی بنیاد عوام کے اخلاق پر ہے۔ اخلاق میں تبدیلی پہلے آتی ہے اور پھر اخلاق کی اس روش کو دیکھتے ہوئے قانون اپنے کو بدل دیتا ہے۔عوام کی مرضی کے خلاف جبراً کسی قانون کے بدل جانے سے عوام کا اخلاق نہیں بدل سکتا مگر اخلاق کے بدل جانے سے قانون کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہتی۔اخلاق کی یہ باضابطہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو قانون کی پابندی کرائے ، مگر قانون کی یہ باضابطہ ذمے داری نہیں کہ وہ لوگوں میں اخلاقی شعور بیدار کرے۔اور قانون چاہ کر بھی اخلاقی شعور بیدار نہیں کر سکتا کیوں کہ یہ اس کا دائرہ کار نہیں۔

ہم جنس پرستی کے سلسلے میں اصل مسئلہ قانون کا نہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ اخلاق کا ہے۔ ہندوستان میں ایسے لوگوں کی ایک تعداد بہر حال پائی جاتی ہے جو ہم جنس پرستی کی حمایت کرتے ہیں اوراس کا قانونی جواز نکالنا چاہتے ہیں تاکہ جو لوگ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہیں وہ آزادی کی کھلی فضامیں سانس لے سکیں۔

جب بھی کسی جمہوری ملک میں قانون میں ردو بدل کی بات آئے گی قانون کو عوام کے اخلاق سے رجوع کرنا پڑے گا ۔ پھر جیسا عوام کا اخلاق ہوگا اسی کے مطابق قانون میں ردو بدل کیا جائے گا۔ہم جنس پرستی کے سلسلے میں بھی قانون جو کچھ کرے گا وہ سراسر لوگوں کے اخلاقی تصور کے تابع ہوگا۔اور ہم جانتے ہیں کہ آج کل لوگوں کا اخلاقی تصور بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ہم جنس پرستی کے تئیں بھی لوگوں کا اخلاقی تصور بدلا ہے۔ یہ محض ’ ’ کچھ لوگ ‘‘نہیں ہیں جو شر اور فساد پھیلانا چاہتے ہیں بلکہ یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو ہم جنس پرستی کی آزادی کو انسانی حقوق کی پاسداری سمجھتے ہیں۔ اور ان کی پشت پر بیسیوں NGOsہیں جو انسانی حقوق اور ہم جنس پرستی کو ایک دوسرے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

دفعہ 377کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ہندوستانی نظامِ عدل کے پس پشت کارفرما اخلاقی تصور میں ایک باضابطہ اور بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور اس بات کی نشاندہی بھی باضابطہ طور پر کرتا ہے کہ ہندوستانی عوام کے ذی شعور اوربااثر طبقے کے تصور ِ اخلاق میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی ہے۔اور اسی وجہ سے حیات و کائنات اور اخلاقیات سے متعلق بنیادی نوعیت کے سوالات از سرِ نو پیدا ہو گئے ہیں۔

ہم جنس پرستی کے جواز پر دہلی ہائی کورٹ کے مثبت بیان سے بھارتی میڈیا میں جو بحث شروع ہوئی ہے اس بحث کا اثر صرف ہم جنس پرستی کے معاملے تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے دوسری بہت سی ناروا چیزوں کا قانونی جواز بھی نکل آئے گا۔مثال کے طور پر انسانی حقوق کے نام پر Incest یعنی خونی رشتوں (مثلاً، ماںبیٹا، بھائی بہن وغیرہ) کے درمیان جنسی تعلق اور شادی کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔ اور اس کے حمایتی کہہ سکتے ہیں کہ جب باپ اور بیٹی دونوں رضامند ہیں تو سماج کو اس میں بولنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو فرد کا انسانی حق ہے کہ وہ جس سے چاہے جسمانی تعلق قائم کرے ۔یعنی جب ہم ایک بار انسانی حقوق کا لا محدود مطالبہ تسلیم کر لیتے ہیں تو فرد کے لیے کچھ بھی جائز اور ناجائز نہیں رہ جاتا۔ اور نہ کوئی چیز اچھی اور بری رہ جاتی ہے۔حق اور سچ، اچھائی اور بھلائی، ایک لفظ میںکہیں تو ’’خیر‘‘ جمہوری طور پرانفرادی خواہشات کے تابع ہو جاتا ہے اور اخلاق کا کوئی متفق علیہ ماڈل نہیں رہ جاتا۔

ظاہر ہے یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ ’’خیر‘‘ اور’’ ستیم شوم سندرم‘‘ کا بنیادی تصورہی خطرے میں پڑ جائے۔ یہ تقریباً ہوش اڑا دینے والی بات ہے ۔ اس سے سماج میں طوائف الملوکی پھیل جائے گی ۔انسان کی جنسی زندگی میں آنے والے اس انقلاب سے انسانی زندگی کا کون کون سے گوشے متاثر ہوںگے اس وقت اس کا صحیح تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اس طوفان کا مقابلہ کرنے کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ ہم جنس پرستوں کے حمایتی حضرات کے ساتھ جذباتی اور متشدد بحثیں کی جائیں۔اور نہ ماننے پر انہیں قانونی طور پر مجبور کیا جائے۔جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ، قانون بنانے یا نہ بنانے سے ہم جنس پرستی کی اس لہرکو روکا نہیں جا سکتا۔ اس سے کوئی خاطر خواہ اثر نہ پڑے گا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جنس پرستی بنیادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بنیادی مسئلے کی ایک شاخ ہے جسے بھارتیہ سبھیتا اور سنسکرتی کے علمبردار نہیں سمجھ سکتے۔ بھارتیہ سبھیتا اور سنسکرتی ایک محدود چیز ہے اورانسانیت پر مبنی نقطہ نظر اس سے بہت وسیع ہے ۔ اس لیے ہمیں ہندوستانی روایات، مشرقی تہذیب، مشرقی روایات ، وغیرہ جیسی باتوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے۔ یہ سب محدود چیزیں ہیں اور انہیں ذہن میں رکھ کر ہم انسانی حقوق اور ہم جنس پرستی اور اس سے جڑے ہوئے دیگر مسائل کے حقیقت پسندانہ حل تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس لیے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو لوگ اس مسئلے میں صحیح موقف اپنانا چاہتے ہیں انہیں کلچرل نیشنلسٹوں کے سر میں سر ملا کر نہیں بولنا چاہیے۔ اس کی جگہ انہیں ہم جنس پرستوں سے گہرا مباحثہ اور افہام و تفہیم کی راہ اپنانی چاہیے۔

جب کہ میڈیا میں مسلمان اور کلچرل نیشنلسٹ دونوں قسم کے لوگ ہم جنس پرستی کے مخالف نظر آتے ہیں تو ہم جنسیت کے حامی اپنے ناکافی علم کے سبب مسلمانوں اور کلچرل نیشنلسٹوں کو’’ ایک جیسے‘‘ ہی سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔اور ایک طرف سے تمام لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ کلچرل نیشنلسٹوں کی شکایت ہم جنس پرستوں سے صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ’’ہومو‘‘ ہیں۔ لیکن ایک مسلمان بنیادی طور پر کسی’’ہومو‘‘ سے اس کے ہومو ہونے وجہ سے اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ایک مسلمان کی بنیادی شکایت کسی غیر مسلم کا ’’ہومو ہونا‘‘ نہیں ہے۔ وہ کسی ہومو کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا کہ یہ شخص ہم جنسیت جیسے قبیح فعل کی وکالت کر رہا ہے۔ حالانکہ مسلمان اپنی جگہ ہم جنس پرستی کو ایک قبیح فعل تصور کرے گا لیکن اس فعل قبیح میں مبتلا کسی غیر مسلم سے نفرت کا اظہار وہ نہیں کر سکتا۔نفرت تو اس سے کی جاتی ہے جو ’’حق ‘‘ کو سمجھتے ہوئے بھی محض اپنے نفس کا بندہ بن کر رہ جائے۔

موجودہ دور میں ہم جنس پرستی کے وکیل ’’حق‘‘ کیا ہے یہی نہیں سمجھتے۔ وہ بے خبری کے عالم میں ہیں ۔وہ ایک غلط کاری میں مبتلا ہیں لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔پھر وہ اسلام سے سرے سے ناواقف ہیں۔اچھائی اور برائی کا حقیقی علم نہ رکھنے کی صورت میں کسی شخص کے اچھے یا برے عمل کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی۔ ہم جنس پرست بھی دراصل اپنے فعل کی قباحت سے ناواقف ہیں۔ وہ واقعی یہ سمجھتے ہیںکہ ’’ہم جنس پرستی ‘‘ میں ہی خیر پوشیدہ ہے۔ اب جس گروہ کی بے خبری کا عالم یہ ہو ، اسے سب سے پہلے ’’حق‘‘ کی دعوت دینے کے بجائے آدرش بھونکنا اور اخلاق چنگھاڑنا ، اور تشدد پر آمادہ ہو جانا غیر دانشمندی ہے۔

ایک مسلمان کی دشمنی اور دوستی کی بنیاد کائنات کا وہ نظریہ ہے جسے مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ چونکہ مسلمان خدا ہی کو اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اپنے افعال کے سلسلے میں خود کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہے اور تہہ دل سے یہ سمجھتا ہے کہ اسے زندگی کے انتہائی بنیادی مسائل میں اپنی خواہشِ نفس کو اپنا رہنما نہیں بنانا ہے بلکہ اسے خدا کی رہنمائی میں اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔ اور خد ا کی نظروں میں ہم جنسیت ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔

ایک مسلمان اس بات کو بھی تسلیم کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس کی آزمائش کررہا ہے اور اس آزمائش کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کے سامنے خیر اور شردونوں پر چلنے کی راہیں کھلی ہوئی ہیں ، انسان دونوں میں سے جس راستے پر چاہے چل سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اسے بتادیتا ہے :

فالہمہا فجورہا و تقوٰہا

’’اور ہم نے اس کی نیکی اور اس کی بدی اس پر الہام کر دی۔‘‘ (القرآن)

اس لیے کسی مسلمان کے لیے ہم جنس پرستی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر اسے یقین نہ آ سکتا ہو۔ ایسا نہیں کہ اسے اس ناروا جذبے کی کوئی خبر ہی نہ ہو۔ بلکہ جب بھی اس کے اندر اس قسم کا کوئی داعیہ پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کی پناہ مانگتاہے اور ایسی تدبیریں کرتا ہے جس سے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔پھر مسلمان اپنے سماج میں ایسا صحتمند ماحول پید کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے کہ مردو خواتین کے درمیان صنفی دلچسپی برقرار رہے جو مغربی معاشرے میں عریانی اور بے حیائی کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ اسلامی حجاب کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے دونوں جنسوں کے درمیان دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ جس سماج میں’’ حجاب کا آدرش اسلامی ماڈل ‘‘ہو اس میں ہم جنس پرستی جیسی لعنت پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔

مگر جیسا کہ ہم نے اوپر کہا کہ ایک مسلمان کسی ہم جنس پرست غیر مسلم سے اس بنا پر نفرت نہیں کرتا کہ وہ ہم جنس پرست ہے بلکہ اس بنا پر اس سے اختلاف رائے رکھتاہے کہ ’’میں کائنات کا جو نقطہ ٔ نظر رکھتاہوں ، یہ شخص اس سے اتفاق نہیں رکھتا۔میں جس خدا کو تسلیم کرتا ہوں اور جس کے آگے سرِاطاعت خم کرتا ہوں ،اُس خدا کی اِس شخص کو خبر ہی نہیں ہے، جب یہ حالت ہے تو پھر اس شخص سے خطاب کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ میں اسے سب سے پہلے یہ کہوں کہ ہم جنس پرستی ترک کر دو۔ بلکہ میں اس سے پہلے یہ کہوں گا کہ پہلے تم خدا پرستی اختیار کرو۔ پھر خدا پرستی اختیار کر لینے کے بعد ہم جنس پرستی کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟

جب اپنے اس اصولی موقف کو ایک مسلمان سمجھ لیتا ہے تو پھر اس کے لیے ہم جنس پرست اور غیر ہم جنس پرست دونوں مساوی ہو جاتے ہیں۔ بلکہ آج کے حالات میں جو لوگ ہم جنس پرستی کی کھلی تبلیغ کر رہے ہیں ، وہ ایک مسلمان کی نظر میں زیادہ قابل احترام ہو جاتے ہیںکیوں کہ ایسے لوگوں کے اندر بے پناہ قوت مزاحمت پائی جاتی ہے۔ جولوگ پورے ایک سماج، پوری ایک سبھیتا ، پورے ایک نظام ِ عدل اورپورے ایک متشدد گروہ کے سامنے جمے ہوئے ہوں، اور سب انہیں ’’ہومو‘ ‘ کی گالی دے کر تھو تھو کر رہے ہوں ، اوروہ تب بھی ڈٹے ہوئے ہوں ، اور وہی کہہ رہے ہوں جو ان کی سمجھ میں آ رہا ہے تو ایسے کسی شخص کی ہمت کی داد نہ دیں تو اور کیا کریں ؟غالب نے ٹھیک ہی کہا ہے:

وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے

مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

غالباً یہی سچی تحریکی اسپرٹ ہے جو ہم جنس پرستی جیسے غلط کام میں صرف ہورہی ہے۔دعوت حق کا معیار یہ ہے کہ ایسے لوگوںکے خلاف حلق پھاڑ کرچیخنے کے بجائے انہیں دل کی گہرائیوں سے حق کی طرف آواز دی جائے۔ اللہ کی پکار داعی کے حلق سے نہیں بلکہ اس کے دل سے نکلتی ہے۔

ہم جب بھی کسی مسئلے پر بات کریں تو اس کی ابتدا متشددانہ لہجے میں نہ کریں۔اگر ہم کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیںتو اس کو غلط ضرور کہیں اور ہم اپنی بات سخت لہجے میں بھی کہہ سکتے ہیں ، لیکن تشدد کی زبان نہ بولیں۔ تشدد کی زبان کا مطلب یہ ہے کہ’’ ہم جو کہہ رہے ہیں تم کو وہی کرنا ہوگا۔ اگر تم نہ کروگے تو ہم تمہاری ایسی تیسی کردیں گے۔‘‘ ہم جنس پرستی کے سلسلے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ متشددانہ لہجے میں چنگھاڑنے سے ہم جنس پرستی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔اس وقت انٹر نیٹ پر ہم جنس پرستوں کی بن آئی ہے۔ یہ ہوا تو بہت پہلے سے بہہ رہی تھی ، لیکن دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ کن بیان کے چند ہی ہفتوں کے بعد نہ جانے کتنے لوگ ہم جنس پرستی کی زد میں آ چکے ہیں۔ آرکُٹ ، فیس بک جیسی ویب سائٹوں پر جا کر دیکھیں یا ، یاہو چاٹ پر جا ئیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایسے لوگوں کی خاصی تعداد ہے جو ہم جنسی پر مبنی جسمانی تعلق قائم کرنے کے لیے ہمہ تن رضامند ہیں۔ لوگ نقلی نام کے ساتھ انٹرنیٹ پر چاٹ کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کی نیت جان لینے کے بعدملاقاتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح ہم جنس جوڑے وجود میں آ جاتے ہیں۔یقینی طور پر یہ مسئلہ جتنا کھل کر ہمارے سامنے آیا ہے اس سے زیادہ پوشیدہ ہے اور اتنا گمبھیر ہے کہ متشددانہ کارروائیوں اور بیان بازیوں کے ذریعے اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی اہم مسئلے میں بات کرنے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ پہلے مسئلے کو پوری طرح سمجھا جائے۔ نہ صرف اس مسئلے کو پوری طرح سمجھا جائے بلکہ وہ مسئلہ بجائے خود کیوں پیدا ہو رہا ہے ، اس کی وجہ پر بھی غور کیا جائے۔ جب ایک بار مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گا تو پھر اس کا حل نکالنے میں کامیابی بھی مل سکتی ہے۔

ہم جنس پرستی جیسے کسی ایشو پر غور کرتے وقت یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس طرح کے لوگ ہیں جو ہندوستان میں ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔اس سلسلے میں جب ہم غور کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم جنس پرستی کی وکالت کرنے والے لوگ 6قسم کے ہیں:

پہلی قسم

پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو محض اپنی مغرب زدگی کے باعث، اور انسانی حقوق اور فرد کی آزادی کے زبردست وکیل ہونے کی وجہ سے اس کے حامی ہیں حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ وہ خود بھی ہم جنس پرستی میں مبتلا ہوں۔

دوسری قسم

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہیں جنسی تشفی کے لیے جنس مخالف کا کوئی فرد دستیاب نہیں۔ اور پوری پوری کوشش کے باوجود جنس مخالف کا کوئی فرد انھیں حاصل نہیں ہو رہا تب وہ مجبوراً کسی ہم جنس سے تعلق قائم کرنے کے بار ے میں سوچتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔اگر انہیں جنس مخالف کا کوئی فرد مل جائے تو وہ اپنے اس فعل سے فوراً تائب ہو جائیں گے۔

تیسری قسم

تیسری قسم کے لوگ وہ ہیںجنہیں مر د اور عورت دونوں کے جسموں میں جنسی کشش محسوس ہوتی ہے۔اور وہ دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی تعلق بنانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔

چوتھی قسم

چوتھی قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جنہیں اپنے جنس مخالف سے ملنے جلنے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور جنسی تعلق قائم کرنے کا موقع اس کثرت سے ملتا ہے کہ ایک حد کے بعد وہ جنس مخالف کے بدن سے اکتا کر ہم جنسوں میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ایسے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ ہم جنس پرستی کو قانونی جواز ملے قبول کر لے تاکہ وہ شرمندگی اور خوف سے بچ جائیں ۔

پانچویں قسم

پانچویں قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف جنس مخالف سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی کسی ہم جنس کے حسن یا جمال سے اتنا زیادہ متاثر ہوجاتے ہیں کہ ان سے جنسی تعلق قائم کر بیٹھتے ہیں۔

چھٹی قسم

چھٹی قسم کے لوگ وہ ہیں جن کی نگاہ واقعی اپنے جنس مخالف کی طرف نہیں اٹھ پاتی کیوںکہ وہ فطری طور پر اس سے معذور ہوتے ہیں۔ جنس مخالف کو شہوت کی نظرسے نہ دیکھ سکنے کی یہی معذوری اصل مسئلہ ہے جس کو ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہے۔

ہمارے خیال میں ہم جنس پرستی کی وکالت کرنے والوں کی یہی چھ قسمیں ہیں۔اگر اوپر کی چھ قسموں میں سے پہلی قسم کو خارج کر دیا جائے تو قسم نمبر دو سے قسم نمبر پانچ تک کل پانچ طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جوہم جنس پرستی کا رجحان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی درجے، کیفیت اور عمر کے کسی نہ کسی حصے میںہم جنسوں سے جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں۔

ہم جنس پرستوں کی یہ 5 قسمیں جامد نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قسم کے لوگوں کا جنسی رجحان عمر، وقت ، حالات اور ماحول کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ دوسری ، تیسری ، چوتھی اور پانچویں بلکہ چھٹی قسم کے لوگوں کا جنسی رجحان بھی بدلتا ہے۔مثال کے طور پر کل تک کوئی شخص ہم جنس تھا، پھر معلوم ہوا کہ اس کا رجحان بدل گیا اور اب وہ جنس مخالف کا پرستار بن گیا۔ اب اس کے جنسی رجحان کی کجروی دور ہوگئی۔

عمر اور سماجی حالات کے لحاظ سے جنسی رجحان کا بدل جانا ایک حقیقت ہے۔ جب کسی سماج میں ہم جنسی کو فروغ حاصل ہوگا تو اس سے نارمل لوگوں کی زندگی بھی متاثر ہوگی اور وہ بھی ہم جنسی اختیار کریں گے۔ لذت کا حصول ایک ایسی ترغیب ہے جس سے ہر غیر محتاط شخص متاثر ہوسکتا ہے۔

جس طرح کسی ہم جنس پرست معاشرے میںصحیح جنسی رجحان رکھنے والا جنسی کجروی کا شکار ہوسکتا ہے، اسی طرح کسی ایسے معاشرے میں ،جس میں ہم جنسی پر پابندی عائد ہو، ہم جنس پرستوں کا جنسی رجحان بھی بدل کر درست ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی ہم جنس پرست معاشرے میں ایک نارمل شخص کا جنسی رجحان بدل سکتا ہے تو ایک ایب نارمل شخص کا جنسی رجحان کیوں نہیں بدل سکتا؟جنسی رجحان ایسی چیز نہیں جس میں کوئی تغیر واقع نہ ہو۔ یہی حرکت پذیری اس بات کی دلیل ہے کہ اس فاسدرویے کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

مگر ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ ’’ انسانی طبیعت ہم جنسوں کی طرف (بھی) مائل ہوتی؍رہتی ہے اس لیے ہم جنس پرستی ایک طبعی اور فطری چیز ہے‘‘ وہ لوگ دراصل لفظ ’’فطرت‘‘کی آڑ میں لذت پرستی اور عیاشی کوسماجی قبولیت کا درجہ دلانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ’’ چونکہ ہم جنس پرستی ایک فطری چیز ہے ، اور ایسے لوگ بھی ہیں جو بچپن سے ہم جنسوں کے لیے کشش محسوس کرتے ہیں اور جنس مخالف سے ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں رکھتے تو پھر انہیں کیوں منع کیا جائے کہ وہ اپنی اس ’’فطری‘‘ خواہش پر قابو پائیں؟

ایسے لوگ فطری خواہش یا فطرت کی ایک بالکل ہی دوسری تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ فطرت کے رائج مفہوم کو چھوڑ کر اس کا ایسا مطلب نکالتے ہیںجس کو اگر مان لیا جائے تو پھر انسانیت نام کی چیز اس دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ ’’انسانی فطرت‘‘ کی بنیاد اگر ’’خواہش‘‘ کو مان لیا جائے تو پھر ہم دنیاکی کسی برائی پر قابو نہ پاسکیں گے۔اس کے بعد تو نشہ خوری، خودکشی، زنا بالجبر ، اذیت رسانی ، اذیت پسندی ، ان سب کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر بدکار شخص ، مثال کے طور پرزنا بالجبر کا مرتکب یہ کہے گا کہ یہ تو میری فطرت میں داخل ہے۔ مجھے ایسی خواہش ہوئی اس لیے میں نے فطری طور پر ایسا کیا۔ ایک اذیت رساں جیلر یا پولیس افسر یہ کہے گا مجھے مجرموں کو اذیت (Torture)دینے کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔ اور کوئی مجرم یہ کہے گا کہ مجھے جرم کرنے بعد چابک سے پیٹے جانے میں بڑی لذت ملتی ہے۔حالیہ دور میں نہ جانے کتنے ایسے سیریل کلرس(Serial Killers) ہیں جو محض لذت کے حصول کے لیے لوگوں کو بلاوجہ قتل کر ڈالتے ہیں۔ ان کا صاف جواب یہ ہوتا ہے کہ میری خواہش ہوئی اس لیے میں نے ایسا کیا۔

اس لیے اگر صرف خواہش کو فطرت کی بنیاد سمجھا جائے گا تو اس سے بڑی حماقت اور جہالت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ فطرت کی آڑ لے کر کج بحثی کا یہی سلسلہ جاری رہتا ہے تو پھر دنیا کی کسی بھی برائی کو برائی ثابت نہ کیا جا سکے گا اور لامحدود خواہشوں کا یہ طوفان دنیا کو لے ڈوبے گا اور انسان انسانیت کے بجائے حیوانیت اختیار کرتا نظر آئے گا۔

ہم جنس پرستی کو قانونی جواز عطا کر دیے جانے کے بعدبعد چوپایوں اوربندروں سے جنسی تعلق قائم کرنے دینے کی آزادی کا نمبر آتا ہے۔ فی زمانہ مغرب میں Animal Sex بڑے زور و شور سے چل رہا ہے۔ ہندوستان میں انٹر نیٹ پر ایسی بلیو فلمیں کثرت سے ڈ اون لوڈ کی جارہی ہیں جن میں Animal Sexکے نظارے ہوتے ہہیں۔ اس لیے کچھ بعید نہیں کہ آئندہ چند دہائیوں میںAnimal Sex کے حامیوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد پیدا ہو جائے جو اپنی اس ’’فطری خواہش‘‘ کو بنیاد بنا کر اس کی قانونی اور اخلاقی آزادی دیے جانے کا مطالبہ بھی کرنے لگیں۔اگر ایسا ہوا تو پھر جانوروں کے حقوق کے لیے لڑنے والے لوگ بھی ان کے خلاف میدان میں کود پڑیں گے۔ ان کی دلیل یہ ہوگی کہ چونکہ چوپائے (گائے ،بکری)اور دوپائے جانور (بندر ، لنگور) بے زبان ہیں اس لیے کسی انسان کے ساتھ جنسی عمل میں شریک ہونے کی جانوروں کی رضامندی ثابت نہیں کی جا سکتی۔ یہ جانوروں کو اذیت دینا ہے۔ اس لیے عدالت سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس فعلِ قبیح پر پابندی لگائی جائے۔مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک کوئی ایسا آلہ ایجاد کر لیا جائے جو جانوروں کی مرضی معلوم کرلے اور پھر اس طرح Animal Sex بھی رائج ہو جائے۔ یہ خیال مضحکہ خیز ضرور ہے مگرجیسے آثار نظر آرہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میںیہ بھی ضرور برپا ہو کر رہے گی۔اور بالفرض محال جانوروں کی رضامندی معلوم کرنے والا کوئی آلہ نہ بنایا جاسکا تو اس تحریک کے علمبرداروں کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہوگی کہ’’ اگر ہم قانونی طور پر جانوروں کو ان کی مرضی کے خلاف مار کر کھا سکتے ہیں تو قانونی طور پر ان سے ان کی مرضی کے خلاف جنسی تعلق کیوں قائم نہیں کر سکتے؟‘‘پھر تو بن آئے گی بھارتیہ سبھیتا اور سنسکرتی کے ٹھیکے داروں کی ۔ وہ بھی یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑیں گے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ مانساہار بھارتیہ سبھیتا اور سنسکرتی پر کلنک ہے۔ گو ہتیا بندہو۔ جئے ماتا دی۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ’خواہش ‘‘ کو فطرت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔لیکن ہم جنس پرستی کے حامی فطرت کی بنیاد خواہش پر سمجھتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ فطرت کی بنیاد’’ حق‘‘ پر ہوتی ہے۔ انسان کی سرشت میں نیکی اور بدی ، حق اور باطل، اچھی اور بری دونوں طرح کی چیزیں پائی جا سکتی ہیں۔ اب یہ انسان کے ذوقِ انتخاب پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کیا پسند کرتاہے۔ (جاری)

——

شیئر کیجیے
Default image
طارق احمد صدیقی

Leave a Reply