تعلیمی کیرئر میں ہدف کا تعین

انسانی زندگی میں ہدف (Goal) کی اہمیت مسلم ہے۔ کامیاب افراد کی زندگیوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے ان کا مقصد اور نصب العین واضح تھا۔ چاہے وہ اہلِ دولت اور دنیا کے بڑے بڑے تاجر ہوں یا وہ اہلِ علم جنھوں نے انسانیت کے لیے بڑی بڑی خدمات انجام دیں۔ سائنس داں اور علماء، پیشہ ور اعلیٰ درجے کے افراد ہوں اسپورٹ اسٹارس ہوں یا سماجی مصلحین اور انقلابی شخصیات۔ ان تمام کا معاملہ یہی تھا کہ ان کے سامنے ان کا مقصد، ہدف اور نصب العین بالکل واضح تھااور اس کے حصول کے لیے انھوں نے ان تھک جدوجہد بلا رکے اور بلا تھکے جاری رکھی اور بالآخر وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوئے۔

طالب علم کے لیے ہدف اور مقصد کا تعین اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ اس کے سامنے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ وہ پڑھ لکھ کر کیا بننا چاہتا ہے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کیوں بننا چاہتا ہے۔ تعلیمی کیریر میں یہ اس لیے ضروری ہے کہ اب علوم کی اتنی شاخیں پھوٹ چکی ہیں کہ کسی ایک میدان کی مہارت ہی اسے تعلیم کے میدان میں کامیاب بناسکتی ہے۔ جو طلبہ ہدف متعین کیے بنا کلاسز پاس کرتے جاتے ہیں وہ بارہویں کے بعد ایک ایسے دوراہے پر آکھڑے ہوتے ہیں جہاں پہنچ کر وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ کدھر جائیں؟ کبھی ساتھیوں کو دیکھ کر کبھی دوسروں کی باتوں سے متاثر ہوکر وہ جس راستے کا رخ کرتے ہیں اس میں کامیاب نہیں ہوپاتے کیونکہ پہلے انھوں نے اس کے لیے درکار محنت نہیں کی ہوتی ہے اور وہ ذہنی اور صلاحیتی اعتبار سے اس امتحان کو پاس کرنے کے اہل نہیں ہوپاتے ہیں۔ بعض اوقات ناکامی کی صورت میں ایسے طلبہ ذہنی پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں۔

۱۹۵۳ء میں ماہرینِ نفسیات کے ایک گروپ نے ہارورڈ بزنس اسکول میں گریجویشن کررہے طلبہ کے بارے میں مطالعہ کیا۔ ان ماہرین نے مطالعے کے دوران طلبہ سے پوچھا کہ وہ یہ تعلیم کیوں حاصل کررہے ہیں اور اس سے ان کا ہدف کیا ہے؟ ماہرین کو معلوم ہوا کہ صرف ۳؍فیصد طلبہ ہی ایسے تھے جن کا مقصد اور ہدف واضح تھا۔ پھر ۲۰؍سال بعد اسی گروپ نے انہی طلبہ کا پھر سے مطالعہ کیا کہ وہ معلوم کرسکیں اس بیچ کے طلبہ کیا کررہے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف وہی ۳؍فیصد طلبہ کامیاب ملے جن کا نصب العین ان پر واضح تھا۔

عام زندگی میں بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ طلبہ و طالبات زیادہ کامیاب رہتے ہیں جن کا گول واضح رہتا ہے اور وہ اس کے حصول کے لیے مکمل طور پر یکسو ہوکر جدوجہد کرتے ہیں، جبکہ اس کے برخلاف طلبہ کو نہ تو یکسوئی حاصل رہتی ہے اور نہ جہدوعمل پر ابھارنے والے عوامل ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

ایک مشہور کہاوت ہے ’’اگر تم نہیں جانتے کے تمہیں کہاں جانا ہے تو کوئی نہ کوئی راستہ تمہیں ضرور مل جائے گا۔‘‘

ہم یہ کہنا چاہتے کہ زندگی بڑی عظیم، قیمتی اور صرف ایک بار حاصل ہونے والی نعمت ہے۔ اس لیے اس کے سلسلے میں انتہائی سنجیدہ، حساس اور باشعور رہنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے سلسلے میں انسان جتنا سنجیدہ ہوگا اسی قدر بلند مقصد حیات متعین کرے گا اور مقصدِ حیات متعین ہوجانے کے بعد یہ طے کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر کیا کرے گا، کیا بنے گا، اور کیوں اور کیسے بنے گا؟

اس لیے آپ فیصلہ کیجیے کہ آپ زندگی کا مقصد کیا بناتے ہیں اور پھر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تعلیمی زندگی سے کون سے وسائل جمع کریں گے کہ اس مقصد کو پوراکرسکیں۔ بات کیونکہ تعلیمی کیرئر سے متعلق ہورہی ہے اس لیے تعلیمی کیئریر کا ہدف طے ہونا ضروری ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا یہ تعلیمی ہدف ہماری مسلمان کی زندگی اور مقصدِ زندگی کے تناظر میں ہو۔

تعلیمی کیریئر کے ہدف کے سلسلے میں درج چیزیں پیشِ نظر رہنی چاہئیں:

٭ وہ آپ کی طبیعت، مزاج اور شوق و صلاحیتوں کے مطابق ہو۔ مثلاً: ہومینٹیز اور سماجیات میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ انجینئر یا اکاؤنٹنٹس بننے کی کوشش نہ کریں۔

٭ ہدف ممکن الحصول ہو۔ مثلاً ایک پیر سے معذور شخص فٹ بال کی قوی ٹیم میں شمولیت کو اپنا ہدف بنائے تو یہ عام حالات میں ناممکن سا ہے۔ ہر فرد اپنی صلاحیتوں سے اور اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ کیا کرسکتا ہے، اس لیے نہ خود کو حقیقت سے زیادہ اور نہ حقیقت سے کم آنکے۔

ان چیزوں کو دیکھنے کے بعد آپ فیصلہ کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد اپنے ہدف کو کاغذ پر نوٹ کرلیں اور ممکن ہو تو اپنے کمرے میں یا اسٹڈی ٹیبل پر کسی نمایاں جگہ چسپاں کردیں کہ ہمیشہ آپ کی اس پر نظر پڑتی رہے۔ ہم نے دسویں کلاس کی لڑکی کو دیکھا جس نے اپنی ٹیبل کے سامنے دیوار پر بڑے حرف میں لکھ رکھا تھا ’’میں ڈاکٹر بنوں گی‘‘ یہ چیز آپ کے جذبۂ عمل کو ری چارج کرتی رہے گی۔

٭ اس کے بعد آپ اپنی تمام تر جدوجہد اسی کے حصول میں صرف کرنا شروع کردیں۔ آپ کے تعلقات، اٹھنا بیٹھنا، گفتگو و بحث اور تحقیق و تیاری اسی سے متعلق ہونی چاہیے۔

٭ مقصد کے حصول کے لیے جو ذرائع اور وسائل درکار ہیں ان کی فراہمی کی فکر کیجیے اور ان کا پوری طرح استعمال کیجیے۔

٭ مقصد اور ہدف کے حصول میں ہر طرف سے یکسو ہوکر پوری جدوجہد اور کوشش کے ساتھ لگ جائیے۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

——

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply