روزے کے احکام و مسائل

روزہ تمام سابق امتوں پر فرض تھا اور اس امت پر ہجرت کے دوسرے سال ماہ شعبان میں اسے فرض قرار دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یایہا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون۔ (البقرۃ: ۱۸۳)

’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردیے گئے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگاربن جاؤ۔‘‘

’’صوم‘‘ لغوی طور پر ’’روک لینے‘‘ کو کہا جاتا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں عبادت کی نیت سے طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔ اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کے تین ارکان ہیں:

(۱) نیت: فرض روزے کے لیے طلوعِ فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے۔ حدیث میں ہے:

من لم یجمع الصیام قبل طلوع الفجر فلا یصوم۔ (النسائی)

’’جو طلوع فجر سے پہلے روزہ رکھنے کی نیت نہیں کرتا وہ روزہ نہ رکھے۔‘‘

بعض روایات میں ہے کہ اگر ایک شخص نیت کے بغیر روزہ رکھ لیتا ہے تو اس کا کوئی روزہ نہیں۔ نیت کے لیے کوئی مخصوص الفاظ نہیں جن کو زبان سے ادا کرنا ضروری ہو، صرف دل سے عزم کرلینا ہی نیت ہے۔

(۲) امساک: کھانے پینے اور ایسی دیگر اشیا جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ان سے پرہیز کرنا بھی روزے کا رکن ہے۔

(۳) وقت: یہ بندش طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر ثم اتموا الصیام الی اللیل۔ (البقرۃ: ۱۸۷)

’’کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ سپیدۂ سحر رات کی تاریکی سے نمایاں ہوجائے، پھر رات تک اپنے روزے مکمل کرو۔‘‘

فضائل و برکات

رمضان المبارک کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں قرآن مجید کو نازل فرمایا، جو انسانوں کے لیے ایک ضابطۂ حیات اور سرچشمہ رشد و ہدایت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی اس مبارک مہینے کے فضائل سے ہمیں آگاہ کیا ہے جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

٭ من صام رمضان ایمانا و احتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ۔ (بخاری)

’’جس نے ایمان کے پیش نظر ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے:’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی حدود کا خیال کیا، اس کے سابقہ گناہ ختم کردیے جاتے ہیں۔‘‘

٭ الصیام جنۃ فلا یرفث ولا یجہل۔

’’روزہ ڈھال ہے (اس لیے روزہ دار کو چاہیے کہ) وہ فحش گوئی اور امور جاہلیت و نادانی سے پرہیز کرے۔‘‘

بعض روایات میں ہے: ’’روزہ آگ سے ڈھال ہے جیسا کہ تم جنگ کے موقع پر دفاع کے لیے ڈھال استعمال کرتے ہو۔‘‘

دوسری روایت میں کچھ مزید وضاحت ہے: ’’روزہ ڈھال کا کام دیتا ہے، جب تک اس میں غیبت سے شگاف نہ پڑجائے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ چغلی اور غیبت کرنے سے یہ ڈھال بے کار ہوجاتی ہے۔

٭ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری (مشک) کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔

٭ جنت کا ایک مستقل دروازہ صرف روزے داروں کے لیے مخصوص ہوگا۔ حدیث میں ہے: ’’جنت میں ایک ’’باب ریان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے داروں کو گزارا جائے گا۔ جب وہ داخل ہوجائیں گے تو اسے بند کردیا جائے گا تاکہ کوئی اوروہاں سے نہ گزرے۔‘‘

٭ ماہِ رمضان کی برکت سے جنت کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور جہنم کو بند کردیا جاتا ہے، نیز شیاطین کو پابندِ سلاسل کردیا جاتا ہے۔ جب رمضان آتا ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے،د وزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

ترکِ روزہ پر وعید

نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے روزے رکھنے کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے اور انہیں بلاوجہ ترک کرنے پر سنگین عذاب سے دوچار ہونے کی وعید سنائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے خواب میں ایک وحشت ناک منظر دکھاگیا، یعنی میں نے چند لوگوں کو دیکھا کہ انہیں ایڑیوں کے بل الٹا لٹکایا گیا ہے اور ان کی باچھیں چیری جارہی ہیں او ران سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ میرے دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھنے کے بعد اس کی حرمت کو یوں پامال کرتے تھے کہ وقت سے پہلے ہی افطار کرلیتے تھے۔

نیز حدیث میں ہے: اسلام کی اساس اور دین کی بنیاد تین چیزیں ہیں۔ جو کوئی ان میں سے ایک بھی چھوڑ دے اور اس کا انکار کرے تو وہ دینِ اسلام سے خارج اوراس کا خون حلال ہے۔ اور یہ تین ہیں: کلمہ لاالہ الا اللہ کہنا،نماز پنجگانہ پڑھنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

نیز نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے ایک دن کا روزہ بلا وجہ ترک کردیا، پھر وہ تمام عمرروزے رکھتا رہے تو بھی اس جرم کی تلافی نہیں ہوسکے گی۔ (ترمذی و بخاری)

اس لیے مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ تندرست اور گھر میں موجود ہے تو رمضان کا روزہ رکھنے میں سستی سے کام نہ لے بلکہ ان ایام کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر کرے۔ اگر دانستہ ان سے پہلو تہی کی تو قیامت کے دن سنگین عذاب سے دوچار ہونے کا اندیشہ ہے۔

ممنوعاتِ صیام

روزے کے احترام و ادب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر اس کام سے پرہیز کرے جو روزہ میں رخنہ اندازی کاباعث ہو۔ بعض امور ایسے ہیں جو روزے کو باطل نہیں کرتے، البتہ انسان ان کے ارتکاب کے بعد اس کے ثواب سے ضرور محروم ہوجاتا ہے، ان کی تفصیل یہ ہے:

٭ حدیث میں ہے: روزے دار کو چاہیے کہ وہ فحش گوئی، بدزبانی اور جہالت و نادانی کی باتوں سے اجتناب کرے۔

نیز بخاری کی ایک روایت میں آتا ہے ولا یصخب یعنی فضول شور وغل نہ کرے اور ایک روایت میں ’’لا یجادل‘‘ (لڑائی جھگڑا نہ کرے) کے الفاظ بھی ہیں۔ (فتح الباری)

٭ اگر کوئی انسان روزہ دار کو گالی دیتا ہے تو اسے جوابی کارروائی کرنے کی اجازت نہیں۔ حدیث میں ہے: ’’اگر کوئی شخص روزہ دار کو گالی دے کر جہالت کا ثبوت دیتا ہے تو اسے چاہیے کہ خاموش رہے، اسے برا بھلا نہ کہے ، نہ گالی دے بلکہ روایات میں ہے کہ گالی دینے والے کو شائستگی سے جواب دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔

٭ حدیث میں ہے: ’’جو انسان روزے کے باوجود کذب بیانی، جھوٹی باتوں اور غلط کاموں سے باز نہیں رہتا، اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ خواہ مخواہ بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے۔

٭ غیبت اور عیب جوئی سے (جیسا کہ دارمی کی حدیث میں ہے) روزہ کارآمد نہیں رہتا بلکہ وہ اس ڈھال کی طرح ہے جس میں شگاف پڑچکے ہوں اور لڑائی میں بچاؤ کا کام نہ دے سکتی ہو۔

قیام اللیل

رمضان کی راتوں میں قیام کرنا بہترین عبادت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے متعلق احادیث میں ہے: آپ رمضان کی راتوں کو زندہ رکھتے تھے، یعنی اکثر حصے میں قیام کرتے تھے۔ نیز آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے ایمان کے پیش نظر اور اللہ سے ثواب لینے کی نیت سے رمضان میں قیام کیا، اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔‘‘

عمرہ کرنے کی بہت فضیلت ہے۔ اگر کوئی رمضان میں عمرے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کا اللہ کے ہاں بہت مقام ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: عمرۃ فی رمضان تقضی حجتہ معی۔ (بخاری) رمضان میں عمرہ کرنا میرے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہے۔‘‘ اس لیے اگر وقت اور سرمایہ کی گنجائش ہو تو رمضان میں عمرہ کی سعادت سے ضرور بہرہ ور ہونا چاہیے۔

قضا اور فدیہ

شریعت نے ہمیں احکام و فرائض کو بروقت ادا کرنے کی تلقین کی ہے، لیکن اگر شرعی عذر ہو تو وقت کے بعد بھی ادا کرسکتے ہیں۔ کسی فرض کو وقت کے بعد بجالانا قضا کہلاتا ہے۔ روزے کے متعلق بعض عذر ایسے ہیں جو قضا کا باعث ہیںاور بعض فدیہ کا موجب۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:

٭سفر: دورانِ سفر روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے۔ جتنے روزے رہ جائیں وہ بعد میں رکھ لیے جائیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فمن کان منکم مریضا او علیٰ سفر فعدۃ من ایام اخر۔ (البقرۃ: ۱۸۴)

’’پس جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو، اسے دوسرے ایام میں گنتی پوری کرنی ہوگی۔‘‘

لیکن اگر دورانِ سفر روزہ رکھنے میں مشقت نہیں تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ بصورتِ دیگر افطار کرنا افضل ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رمضان میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوتے۔ ہم میں سے کچھ روزے سے ہوتے اور بعض روزہ افطار کرلیتے مگر کوئی ایک دوسرے پر عیب نہ لگاتا تھا۔ (مسلم کتاب الصوم)

٭ مرض: اگر معمولی بیماری ہے اور روزہ رکھنے میں کوئی دقت نہیں تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ اگر روزہ رکھنے سے مشقت ہوتی ہو یا بیماری کے بگڑنے کا اندیشہ ہو تو افطار کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اجازت دی ہے کہ دورانِ بیماری جتنے روزے رہ جائیں انہیں بعد میں رکھ لیا جائے۔ اگر دائمی مریض ہے تو قضا کے بجائے فدیہ ادا کرے، یعنی کسی دوسرے شخص کو کھانا کھلادے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین۔ (البقرۃ: ۱۸۴)

’’اور جو لوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ کے طور پر ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔‘‘

٭ بڑھاپا: اگر کوئی آدمی اتنا بوڑھا ہوگیا ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتا تو وہ بھی فدیہ دے جیسا کہ عبداللہ ابن عباسؓ کا فتویٰ ہے۔ فرماتے ہیں: ’’بہت بوڑھے کے لیے رخصت ہے کہ خود روزہ رکھنے کے بجائے وہ ہر دن ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلا دے اور اس پر روزے کی قضا نہیں۔‘‘

٭ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی یا بچے کی صحت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے بھی روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ عذر ختم ہونے کے بعد قضا رکھنا ضروری ہے۔ حدیث میں ہے:

ان اللّٰہ وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلوٰۃ وعن الحبلی والمرضع الصوم۔

(ابوداؤد)

’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصف نماز معاف کردی ہے۔ اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے کی رخصت دی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ صحت خراب ہونے کا اندیشہ کسی تجربہ کار اور سمجھ دار ڈاکٹر یا طبیب کی رپورٹ پر موقوف ہے۔

چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:

سارعوا الی مغفرۃ من ربکم۔

(آل عمران: ۱۳۳)

’’اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔‘‘

اگر کوئی عذرِ شرعی ہو تو تاخیر ہوسکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

یکون علی الصوم من رمضان فما استطیع ان اقضیہ الا فی شعبان۔ (مسلم)

’’مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی لیکن میں شعبان سے پہلے ان روزو ںکو نہ رکھ سکتی تھی۔‘‘

قضا کے روزے مسلسل رکھنے چاہئیں۔ حدیث میں ہے:’’ جس کے ذمے رمضان کے روزے بقایا ہوں، وہ متفرق طور پر نہیں بلکہ مسلسل رکھے۔‘‘

اگر کوئی شرعی عذر ہو تو متفرق بھی رکھے جاسکتے ہیں جیسا کہ آپؐ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ’’مسلسل رکھو یا متفرق۔‘‘

روزے کا کفارہ

رمضان میں بحالت روزہ بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے ارتکاب پر قضا کے علاوہ کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ کفارہ یہ ہے کہ ایک روزے کے بدلے ایک غلام آزاد کیا جائے۔ اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں۔ اگر روزے رکھنے کی ہمت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ اگر بیوی کی رضا اور رغبت بھی شامل تھی تو اسے بھی کفارہ ادا کرنا ہوگا بصورتِ دیگر صرف خاوند ہی اپنی طرف سے کفارہ ادا کرے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
حافظ عبدالستار حماد

Leave a Reply