BOOST

غزل

عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے

آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے

آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن

یہ نصیب کیا کم ہے، کوئی آزماتا ہے

عمر جتنی بڑھتی ہے اور گھٹتی جاتی ہے

سانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہے

آبلوں کا شکوہ کیا ٹھوکروں کا غم کیسا

آدمی محبت میں سب کو بھول جاتا ہے

کارزارِ ہستی میں عزّوجاہ کی دولت

بھیک میں نہیں ملتی آدمی کماتا ہے

اپنی قبر میں تنہا آج تک گیا ہے کون

دفترِ عمل عامرؔ ساتھ ساتھ جاتا ہے

شیئر کیجیے
Default image
عامرؔ عثمانی

تبصرہ کیجیے