نابینا جو نامور ہوئے

بصارت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے اور اس سے محرومی بظاہر انسان کو معذوری کے مقام پر لاکھڑا کرتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ یہ محرومی کسی شخص کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کی دوسری صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کی خاصی تعداد ملتی ہے، جنھوں نے اس معذوری کے باوجود اپنی دیگر صلاحیتوں کے بل بوتے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور دنیا میں ناموری حاصل کی۔ ایسے باکمال انسانوں کا تعارف دلچسپی کا حامل ہے۔

٭ ایران کا مشہور شاعر رودکی (۸۷۳ء – ۹۴۰ء) پیدائشی نابینا تھا۔ اس کا فارسی کلام اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی بہت سی جلدیں ہیں۔ صرف شاعری کی خاص صنف خمریات میں اس کے تیرہ لاکھ اشعار ہیں۔اس کے علاوہ چھ مثنویاں ہیں۔ رباعی پہلی مرتبہ رودکی ہی کے ہاں نظر آتی ہے۔ اس نے خاصی طویل عمر پائی اور اس کی صحت بھی مثالی رہی۔ ایک عجیب اتفاق یہ ہوا کہ وہ ایک ہی دن میں چار بچوں کا باپ، تینوں بچوں کا دادا اور دو بچوں کا پردادا بنا۔

٭ جاپانی نابینا عالم ہوناواہو کیچی (۱۷۲۲ء- ۱۸۲۳ء) سات سال کی عمر میں بینائی کھوبیٹھا۔ عمر کے بقیہ چورانوے سال اس نے پڑھانے اور تصنیف و تالیف میں گزارے۔ اس نے چار لاکھ کتابیں اپنی یادداشت میں محفوظ کررکھی تھیں جو اس کی عمر بھر کی کاوش تھی۔ اس نے ۲۸۴۰ جلدوں میں ایک کتاب تصنیف کی، جو ۱۹۱۰ء میں دوبارہ چھپی اور جاپانی طالب علموں اور تاریخ دانوں کے لیے پشتوں تک حوالہ جاتی مقصد پورا کرتی رہے گی۔ اس نے ایک درسگاہ قائم کی جس کا نام واگاکوسو اسکول تھا، جہاں وہ عمر بھر پڑھاتا رہا۔

٭ ہنگری کا بادشاہ بیلا ثانی (۱۱۳۱-۱۱۴۱ء) جو دس برس حکمراں رہا نابینا تھا۔ اس کے چچا نے اسے اندھا کردیا تھا تاکہ وہ بادشاہ نہ بن سکے، مگر قدرت نے اس کا ساتھ دیا۔

٭ مشہور انگریز سائنسداں ڈالٹن (۱۷۶۶-۱۸۴۴ء) جو ایٹمی نظریے کا موجد شمار ہوتا ہے، موسمیات کا ماہر تھا۔ اس نے بعض عناصر کے ایٹمی اوزان کی پہلی فہرست مرتب کی۔ گیسوں کی خاصیت کے بارے میں اس کا قانون سائنس کی دنیا میں آج تک مسلمہ ہے۔ گو وہ دیکھ سکتا تھا لیکن رنگوں کی تمیز کرنے سے معذور یعنی کلر بلائنڈ تھا۔

٭ حکیم نابینا دہلی کے مشہور طبیب تھے۔ ان کا نام عبدالوہاب انصاری تھا۔ وہ مشہور کانگریسی لیڈر ڈاکٹر مختار احمد انصاری کے بڑے بھائی تھے۔ نظام حیدرآباد دکن میر محبوب علی خان کے شاہی معالج رہے۔ ان کے جانشین نظام عثمان علی خان سے نہ بن سکی اور واپس چلے آئے۔ پہلے پونا، پھر بمبئی اور آخر کار دہلی میں مطب جاری کیا۔ خواجہ حسن نظامی نے بتایا کہ وہ مریض کی حالت نہیں پوچھتے تھے بلکہ نبض دیکھ کر خود بتاتے جاتے۔ مریض حیران رہ جاتے تھے۔ حکیم نابینا ایک دفعہ مہاراجہ سرکشن پرشاد، وزیر اعظم حیدرآباد دکن کے ہاں تشریف لے گئے اور ان کی رانیوں، بیگمات اور بچوں کی نبضیں دیکھیں۔ کسی سے حال نہیں پوچھا، خود ہی مریض کی کیفیت بیان کرتے جاتے اور بیمار تصدیق کرتا جاتا۔ مہاراجہ نے اس روز کا ماجرا یوں بیان کیا: ’’میں نے ان کا امتحان لینے کے لیے یہ کیا کہ بیماروں کی قطار میں، جو سب خواتین تھیں، چوڑیاں پہن کر بیٹھ گیا تاکہ حکیم صاحب مجھے واقعی رانی سمجھیں۔ حکیم صاحب نے میری نبض پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر فرمایا: یہ نبض تو مہاراج کی ہے۔‘‘

ان کا حافظہ بے حد قوی تھا۔ برسوں کے بعد بھی صرف نبض ٹٹول کر مریض کو پہچان لیتے تھے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ انھوں نے کسی جن کو مسخر کیا ہوا تھا۔ علامہ اقبال آخری بیماری میںان کے زیرِعلاج رہے۔ ان کی دوا ’’روح الذہب‘‘ کے بارے میں علامہ نے قطعہ لکھا تھا ؎

ہے دو روحوں کا نشیمن پیکر خاکی مرا

رکھتا ہے بیتاب دونوں کو مرا ذوق طلب

ایک جو اللہ نے بخشی مجھے صبح ازل

دوسری ہے آپ کی بخشی ہوئی روح الذہب

حکیم صاحب نے کناٹ پلیس میں جو جائیداد بنائی تھی، اس کی آمدنی کاوافر حصہ مدینہ منورہ کے مساکین کے لیے وقف کردیا تھا۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں اس مکان کو بھی لوٹ لیا گیا۔ حکیم صاحب کی دینی غیرت کا ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مختار احمد انصاری طبی وفد لے کر ترکی گئے تھے۔ واپسی پر ان کا شاندار استقبال ہوا۔ کانگریس نے ڈاکٹر انصاری کی وفات کے بعد ان کا مجسمہ بنواکر نصب کرنا چاہا۔ ایک وفد اس سلسلے میں حکیم صاحب کے پاس گیا۔ انھوں نے صرف اتنا دریافت کیا کہ یہ مجسمہ کہاں نصب کیا جائے گا۔ جائے تنصیب کا پتہ چلنے پر فرمایا: ’’آپ مجسمہ نصیب کریں، میں جاکر اپنے ہاتھوں سے اسے توڑدوں گا۔‘‘ چنانچہ مجسمہ نصب نہ کیا جاسکا۔

٭ جان ملٹن (۱۶۷۴-۱۶۰۸ء) انگریزی کے عظیم شعراء میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے شہری آزادی اور پارلیمانی جمہوریت کے حق میں نظمیں اور مضامین لکھے۔ وہ کرامویل کاسکریٹری مقرر ہوا۔ اسی زمانے میں اس کی بینائی متاثر ہونے لگی حتیٰ کہ ۱۶۶۲ء میں وہ بالکل اندھا ہوگیا۔ ۱۶۵۸ء میں اس نے اپنی شہرہ آفاق رزمیہ نظم پیراڈائز لاسٹ (فردوس گم شدہ) لکھنی شروع کی جو ۱۶۶۷ء میں تکمیل کو پہنچی۔ ۱۶۷۱ء میں اس نے ’’فردوس بازیافتہ‘ لکھی۔

٭ ڈاکٹر طٰہٰ حسین، مصر کی تحریک جدیدیت کی نمایاں شخصیت اور ادیب تھے۔ ان کی تصنیفات میں جو عربی میں ہیں، ناول، افسانے، تنقید اور سماجی و سیاسی مضامین شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری ’’الایام‘‘ بہت مشہور ہوئی۔

وہ دو سال کی عمر میں ایک بیماری سے بینائی کھو بیٹھے تھے۔ انھوںنے جامع ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور ۱۹۱۴ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مزید تعلیم ساربون یونیورسٹی، پیرس میں حاصل کی اور مغربی ثقافت سے آشنا ہوئے۔

ڈاکٹر طٰہٰ حسین حافظ قرآن بھی تھے۔ یہ کارنامہ انھوں نے صرف نو سال کی عمر میں سر انجام دیا تھا۔ پیرس میں قیام کے دوران انھوں نے ایک فرانسیسی عورت سے شادی کی جس نے کمال محبت اور دلسوزی سے ان کی خدمت کی۔ وہ اپنی اہلیہ کو محبت اور شکر گزاری کے جذبے سے ’’میری چھڑی‘‘ (My Walking Stick) کہا کرتے تھے۔

ڈاکٹر طٰہٰ حسین ۱۹۲۵ء میں تاریخ ادب العربی کے پروفیسر مقرر کیے گئے۔ پھر آرٹس کالج کے پرنسپل رہے۔ ۱۹۳۹ء میں وزارتِ معارف کے فنی مشیر اور تین برس بعد اسکندریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوئے۔ ۱۹۶۰ء میں وزیرِ تعلیم بنے۔ انھوں نے اپنے زمانے میں مصر بھر میں ثانوی تعلیم مفت اور عام کردی۔ ۱۹۵۱ء میں انہیں پاشا کا خطاب ملا۔ ۱۹۵۲ء کے فوجی انقلاب کے بعد وہ گوشہ نشین ہوگئے۔ میڈرڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں نے انہیں ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگریاں دیں۔

طٰہٰ حسین قدیم اور جدید ادب کے مطالعے اور وسعت معلومات کے لحاظ سے اپنے معاصر ادباء پر فوقیت رکھتے تھے۔ وہ عامی زبان کو قومی زبان بنانے کے مخالف اور فصیح عربی کے زبردست حامی اور قرآنی خط کے داعی اور نقیب تھے۔ وہ ایک طرزِ نگارش کے بانی تھے۔ موجودہ دور میںان سے زیادہ سلیس اور شگفتہ عربی لکھنے والا عربی دنیا میں اور کوئی نہیں۔ انھوں نے اپنی پچپن سالہ ادبی زندگی کا ہر لمحہ عربی زبان اور ادب کی خدمت میں گزار ا اور بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کی خود نوشت ’’مذاکرات‘‘ ۱۹۶۷ء میں چھپی۔ انھوں نے ۲۸؍اکتوبر ۱۹۷۳ء کو وفات پائی۔

٭ اردو کے مشہور شاعر جرأت کا اصل نام یحییٰ امان تھا،مگر شیخ قلندر بخش کے نام سے مشہور ہوئے۔ جرأت تخلص تھا۔ دہلی کے رہنے والے اور میاں جعفرعلی حسرت کے شاگرد تھے۔ جوانی ہی میں آنکھو ںسے معذور ہوگئے تھے۔ غزل ان کا خاص مضمون تھا۔ جرأت نے ۱۸۰۹ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔ ڈاکٹر اقتدا حسین استاد نیپلز یونیورسٹی نے ۱۹۷۰ء-۱۹۶۵ء کے دوران ’’کلیاتِ جرأت‘‘ تین جلدوں میں مرتب کی جو اٹلی سے شائع ہوئی۔

٭ سورداس (۱۴۸۳-۱۵۶۳ء) نابینا ہندو شاعر تھا جس کا کلام ہندی میں ہے۔ سور داس نے بے شمار بھجن لکھے جو کرشن اور رادھا کی تعریف میں ہیں اور جن کا مجموعہ ’’سور ساگر‘‘ ہے۔

٭ جوزف پلٹزر (۱۸۴۷ء-۱۹۱۱ء) ہنگری نـژاد صحافی نے امریکہ میں متعدد عمدہ اخبار خریدے اور جاری کیے۔ آخری عمر میں وہ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود لائق اور محنتی سیکریٹریوں کی مدد سے کئی اخبار چلاتا تھا۔ اس کا قائم کیا ہوا پلٹزر انعام صحافتی کارناموں پر ہر سال مختلف لوگوں کو دیا جاتا ہے۔

٭ شیخ عبدالعزیز بن باز مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر رہے۔ نابینا ہونے کے باوجود سعودی عرب کے بڑے علما میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ وہ سعودی عرب کے مفتی اعظم اور وزارت کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔

٭ ہومر قدیم یونان کا مشہور نابینا شاعر تھا، جسے مشہور رزمیہ نظموں ایلیڈ اور اوڈیسی کا مصنف خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا زمانہ ۱۲۰۰ اور ۸۰۰ قبل مسیح کے درمیان تھا۔ اس کی ولادت کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ یونان کے سات شہر مدعی ہیں کہ ہومر وہیں پیدا ہوا تھا۔ وہ مفلس اور نادار تھا اور ایک لڑکے کی انگلی پکڑ کرقریہ قریہ، شہر شہر گھومتا گاتا پھرتا تھا۔

٭بغداد کا طبیب ابوالحسن اپنی عمر کے آخری بیس برسوں (۹۷۳-۱۰۰۳ء) میں نابینا ہوگیا تھا لیکن وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا طبیب شمار ہوتا تھا۔

٭ ڈاکٹر جان بورگیس (۱۶۱۸-۱۶۸۲ء) ریاضی کا پروفیسر تھا۔ وہ ہالینڈ کی گروننجن یونیورسٹی میں دس سال تک پڑھاتا رہا۔ وہ مکمل طور پر نابینا تھا۔

٭حافظ فتح محمد، امرتسر کے رہنے والے تھے۔ وہ بچپن میں بینائی کھوبیٹھے۔مکہ مکرمہ میں اہلِ حدیث عالم کے طور پر بہت شہرت پائی۔ اہلِ علم میں ان کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔ شریعت کالج سعودی عرب سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انھوں نے ایک عمدہ دینی لائبریری قائم کی تھی۔ ان کی اچانک وفات کے بعد لائبریری ضائع ہوگئی۔ انھوں نے عمر کا بیشتر حصہ مکہ مکرمہ میں گزارا۔ اردو میں انکا ترجمۂ قرآن ہندوپاک میں بہت مقبول ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
محمود فیضانی

Leave a Reply